جمعرات - 23 - ستمبر - 2021
اہم تحاریر

تحقیقاتِ الامراض و العلامات

ماہیت الامراض

اس علم کی تعریف تقریباً ہر طریقِ علاج کے علماء نے ایک ہی طریق پر کی ہے۔ یعنی وہ علم ہے جو بدنی اعضاء کی غیر طبعی تشریح اور افعال سے بحث کرتاہے۔ اس تعریف کے ساتھ ہی بیان کیاجاتاہے کہ مختلف امراض کیسے پیداہوتے ہیں اور ان کی شکل و صورت کیاہوتی ہے۔ اس علم پرپوری طرح حاوی ہونے کے لئے ضروری ہے کہ علم تشریح الابدان، علم افعال الاعضاء اور علم اسباب و علامات پر کسی قدر عبور ضروری ہے۔ کیونکہ جب تک بدن انسان کے اعضاء کی صحیح شکل و صورت اور ان کے صحیح افعال کامشاہدہ اور تجربہ نہ ہوتومرض کی حالت میں صحت کی حالت سے دونوں کافرق کیسے کیاجاسکتاہے۔ اسی علم اسباب کے تحت کائنات کی ہرشے کے خواص کے علم کا پتا چلتا ہے جوانسانی زندگی پراثرانداز ہوتے ہیں۔ یہ اثرات کیفیاتی ہوں یا نفسیاتی یامادی بہرحال ان میں سے کوئی نہ کوئی سبب ضرورہوگا جوبدنِ انسان اور اعضائے انسانی کے افعال میں موثر کاباعث ہوگا۔ جہاں تک علم العلامات کا تعلق ہے یہ وہ کش مکش ہے جو موثرومتاثر فعل و انفعال اور کسرو انکسار سے پیدا ہوتی ہے۔یعنی جب کوئی سبب اعضائے جسم پر اثرانداز ہوتاہےتو ردقبول اور دفع و جذب میں حالات اور صورتیں پیداہوتی ہیں۔ان کا نام علامات ہے۔ انہی علامات سے صحت کے تغیرات کاعلم ہوتاہے جس کومرض کہتے ہیں اور اس مرض کی پوری واقفیت و حقیقت حاصل کرنےکانام ماہیت الامراض ہے۔ جس کو انگریزی میں (Pathology)کہتے ہیں۔

علم الامراض و علامات

علاماتِ نزلہ پر سیر حاصل بحث کرنے کے بعد اب سوزش کی علامات کی حقیقت اور پیدائش کو بیان کرتے ہیں تاکہ اس سے امرا ض کی جو شکلیں اور صورتیں پیداہوتی ہیں وہ ذہن نشین ہوجائیں۔ سوزش پر بحث کرنے سے قبل جناب کرنل بھولاناتھ کے ایک مضمون کا اقتباس جو ماہیتِ مرض اور اعضاء باہمی کا تعلق کے متعلق ہے پیش کر تے ہیں۔ یہ بھی صرف اس لئے کہ انہوں نے اس مضمون میں شیخ الرئیس بو علی سینا کی اس تعریف کو قبول کیاہے۔جو انہوں نے مرض کے متعلق کی ہے۔ بعض لوگ یہ اعتراض کرسکتے ہیں کہ کرنل بھولاناتھ نصف صدی پہلے کے فرنگی ڈاکٹر ہیں ۔ ان پر طبِ یونانی کا گہرا اثرہوگا۔ یہ بات نہیں ہے بلکہ انہوں نے طب یونانی پر بے حد اعتراض کئے ہیں جن کے جوابات انشاء اللہ تعالیٰ پھر کبھی ہم دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور کاکوئی فرنگی ڈاکٹراگر کرنل بھولاناتھ کی اس تعریف کوجوانہوں نے شیخ الرئیس بوعلی سیناسے نقل کی ہے غلط ثابت کرے توہم جواب دینے کو تیار ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ” عام طورپر کہاجاسکتاہے کہ مرض کسی خاص معین چیزکانام نہیں ۔ یہ ایک غیر طبعی حالت کانام ہے جوبدن انسان میں عارض ہوجاتی ہے۔”بو علی سینا نے صحت اور مرض کی تعریف قانون میں یوں لکھی ہے۔

الصحت حالتہ البدن الانسان معھا تجری افعالہ علی المجری الطبعی و العرض حالتہ خارج عن المجری الطبعی۔

"جس کے معنی یہ ہیں کہ جب تک بدن کے افعال طبعی حالت میں سرانجام پاتے رہتے ہیں تو اس حالت کانام صحت ہے اور اگریہ اعتدال قائم نہیں رہتا تو افعالِ بدن بھی طبعی حالت سے انحراف کرجائیں گے۔ اس حالت کومرض کہیں گے”

صحت اور مرض کی یہ نہایت ہی عمدہ اور بہترین تعریف ہے۔ اس سے پایاجاتاہےکہ کیفیت اور ماہیت ِ مریض کے سمجھنے کے لئے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ صحت کیا چیز ہے اور وہ کس طور پر قائم رہ سکتی ہے۔بصورتِ دیگر پہلے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس مشین میں کون کون سے پرزے ہیں، کہاں کہاں پر ہیں، ایک دوسرے سے ان کا کیا ربط اور لگاؤ ہے ۔ اس کے ہر پرزے کے جداجداافعال ہیں اور وہ ایک دوسرے کو کس طرح مدد دیتے ہیں۔اس مشین کے پرزوں کو صحت کی حالت میں فرداًفرداً اور بحیثیت مجموعہ کام کرتاہوا دیکھ کرہم اپنے دل میں ایک قیاسی معیار بناکرمقرر کرلیتے ہیں اور مرض کے تجاوز اور انحرافات کا اس معیار کے ساتھ موازنہ اور مقابلہ کرتے ہیں۔ اس کا نام تشخیص مرض ہے۔ اگرچہ افراد انسان ایک ہی نمونہ اور ایک ہی ماڈل پر بنائے گئے ہیں مگر ہر ایک میں شخصی اور فردی اختلافات ضرور ہوتے ہیں۔

بعض میں یہ اختلافات موروثی اور خاندانی ہوتے ہیں۔ دوسروں میں عادات، اطوار، آب وہوا، حرفت و پیشہ پر موقوف ہوتے ہیں۔ یہ شخصی خصوصیتیں افراد انسان کے لئے لوازمہ صحت ہوجاتے ہیں۔جب ان کو ان خصوصتیوں سے علیحدہ کردیاجاتاہے تو ان کی صحت میں خلل واقع ہوجاتاہے۔لہذا ان اختلافات کے لحاظ سے اشخاص کی صحت کا معیار بھی جدا ہوتاہے۔ مگر وسیع مشاہدہ سے ہم جملہ افراد انسان کی یہ ہیت مجموعی دیکھ کر ایک اوسط فرض کر لیتے ہیں اوراس اوسط کو اپنا معیار بنالیتے ہیں اور انحرافات طبائع کا اس اوسط سے موازنہ کرتے ہیں۔ صحت کی قیاسی اوسط کی تحقیق اور تلاش کے لئے سب سے مقدم بدن انسان کی ترکیب اور شناخت کاعلم ضروری ہے۔ اس کی تشریح سے کامل طورپر واقفیت ہونی چاہیے اور معلوم ہونا چاہیے کہ بدن کے اعضاء کے مقام کیا ہیں۔ ان کا علیحدہ علیحدہ حجم کیاہے؟۔ ان کی حدود کیاہے؟ اور یہ اعضاء کن کن علامات سے پہچانے جاتے ہیں؟ زیادہ تر بیماریاں اس قسم کی ہوا کرتی ہیں جو اعضاء کے مقامی مقداری اور حدودی انحرافات سے پیداہوتی ہیں۔ اعضاء کی تشریح کا علم ہوئے کے بغیر ان امراض کا اندازہ ہونا ممکن نہیں۔

اعضاء جب اپنی طبی مقامات و حدود کے اندر رہتے ہیں تو ان کے افعال بھی عام طورپر اپنی طبعی صورت میں رہتے ہیں۔ اعضاء کے طبعی افعال سے پوری طرح واقفیت ہونی بھی علم مرض کے لئے ضروری ہے کیونکہ طبعی افعال کا ہمیں قیاس کسی صورت میں نہیں ہوسکتا۔ تشریح اعضاء(اناٹومی) اور افعال الاعضاء(فزیالوجی)کا علم تشخیص و علاج مرض کا مقدم لوازمہ ہے۔ بلکہ کہ سکتے ہیں کہ علم مرض(پیتھالوجی) غیر طبعی تشریح اور غیر طبعی افعال الاعضاء کانام ہے۔ صحت کا معیار نہ صرف افراد انسان میں علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے بلکہ اسی شخص میں مختلف اوقات اور مختلف حالتوں میں یہ معیار بدلتا رہتاہے۔ مثلاً کسی روز ہمیں بھوک لگتی ہے، کسی دن بھوک نہیں لگتی، کسی روز نیند آتی ہے اور کسی دن نیند نہیں آتی، کبھی قبض ہوجاتی ہے، کبھی معمول سے زیادہ اجابت ہوتی ہے۔ لیکن اس قسم کے انحرافات کو مرض نہیں کہتے۔مگر جونہی عارضی اور اتفاقی انحرافات دائمی طورپر مستقل ہوجائیں یا معممولی درجہ سے بعید تجاوز کرجائیں تو فوراً مرض کی فہرست میں داخل کردئیے جاتے ہیں۔ جس وقت مرض حادث ہوتاہے تو ایک تو تمام جسم کے اعضاء ایک دوسرے کے ساتھ اعصاب کے ذریعہ وابستہ ہوتے ہیں اور جن اعضاء کا ایک دوسرے کےساتھ افعالی تعلق و انحصار زیادہ ہوتاہے ان میں وابستگی بھی زیادہ پائی جاتی ہے۔ دوسرا ایک ہی عضو کے کئی فعل ہوا کرتے ہیں۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ایک ہی علامت کئی کئی مرضوں میں پائی جاتی ہے مثلاً کھانسی نہ صرف امراض شش مثل برانکاٹیس، ذات اجنب، سل اور ذات الریہ میں پائی جاتی ہے بلکہ امراض قلب، امراض معدہ، امراض گردہ اور دوسرے دوردراز کے اعضاء کی بیماریوں میں بھی پیداہوجاتی ہے تو اگرچہ کھانسی سینے اور شش میں پیداہوتی ہے مگر کھانسی فی نفسہ اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتی کہ مرض شش کے اندر ہے اور کہیں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علاماتی علاج ہمیشہ ناقص اورناقابلِ اعتبار ہوا کرتاہے۔ اس قسم کی واحد علامات بہت ہی کم ہیں جو فقط ایک ہی مرض میں دیکھنے میں آئیں اور کسی دوسرے مرض میں نہ پائی جائیں۔ اس قسم کی علامات کو مخصوصہ علامات کہتے ہیں۔

کیسہ اور عضو کافرق

سوزش کو سمجھنے کے لئے ایک نہایت اہم رمز یہ ہے کہ حیوانی ذرہ(کیسہ) کے افعال اور عضوکے افعال میں مماثلت اور ان کے افعال میں جو اختلاف ہے ان کا جاننا بھی نہایت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ اس امر پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اعضاء کے افعال اپنے انسجہ(ٹشوز) کے ماتحت ہیں یاان سے جداہیں یا انسجہ کے افعال اپنے عضو کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ ان تمام اہم باتوں کا فرنگی طب(ڈاکٹری)علم ہی نہیں رکھتی۔ ان کی کتب میں ان کاکوئی ذکر نہیں ہے۔ اور اگر کسی قسم کاذکر پایا جاتاہے تو وہ غلط، بے معنی اور ناکارہ ہے۔ جب تک کیسہ کے افعال کوعضو کے افعال کے ساتھ تطابق نہیں دیا جائے گا اس وقت تک سوزش تو رہی ایک طرف دیگر امراض کی بھی ماہیت پورے طورپر سامنے نہیں آسکتی جب کیسہ جسم انسان میں ایک ابتدائی زندگی(First Unit)ہے اور یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اس میں زندگی ہے۔ اس کے افعال ہیں، اس میں نشوونما ہے، اس میں تولیدہےاور اس میں موت بھی واقع ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ وہ غذا لیتا ہے۔ اپنی غذا کے فضلات کو صاف کرتا ہے اور باقاعدہ سانس لیتا ہے گویا ان کا تغذیہ ، تصفیہ اور تسنیم بالکل ایسے ہے جیسے انسانی جسم کا ہے جو مرکب اعضاء ان سے بنے ہوئے ہیں۔ مرکب اعضاء مفرداعضاء سے ترتیب پائے ہوئے ہیں۔ مفرداعضاء کی بناوٹ انسجہ(ٹشوز) سے ہے اور انسجہ حیوانی ذرات(کیسہ جات)سے ترکیب پاتے ہیں۔ ایک طرف حیوانی ذرہ میں بھی یہ سب کچھ نظر آتا ہے تو باقی درمیانی کڑیوں کو کیوں نظر انداز کردیاجائے اور پھر ان کے باہمی تعلق کوکیوں نہ سمجھا جائے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان سب کے افعال کو بالمقابل سمجھا جائے۔ اگر کیسہ اور انسانی زندگی کے افعال میں تطابق پایاجاتا ہے تو کیسہ کوجوانسان کی ابتدائی ترکیب(فرسٹ یونٹ) ہے کو سامنے رکھ کر صحت اور مرض کا تعین کیاجائے اور ان سے جو افعال الاعضاء پر اثر پڑتاہے ان کو ذہن نشین کرلیاجائے۔

ظاہری تقسیم جسمِ انسانی بانظریہ و طب مفرد اعضاء

جسم انسان کو ہم نے اعضائے رئیسہ یا دوسرے الفاظ میں انسجہ(ٹشوز) میں تقسیم کردیاہے جن کے مرکز یہی اعضائے رئیسہ دل جگر اور دماغ ہیں۔ جیساکہ گزشتہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں۔ یہ انسجہ تمام جسم میں اس طرح اوپر تلے پھیلے ہوئے ہیں کہ جسم کاکوئی ایسا مقام نہیں کہ جہاں پر صرف ایک یا دو اقسام کے انسجہ ہوں یاان کا آپس میں تعلق نہ ہو اس لئے امراض کی صورتیں جداجدا ہوتی ہیں ۔ جیساکہ لکھا جاچکاہے کہ ہر عضو کی زیادہ سے زیادہ تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔جیسا کہ بیان ہوچکا ہےکہ ہر عضو کی زیادہ سے زیادہ تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔1 ۔تحریک۔2۔تسکین۔3۔تحلیل۔ جب کسی میں ایک حالت پائی جاتی ہے توباقی دو حالتیں دوسرے مفرد اعضاء(انسجہ، ٹشوز) میں پائی جاتی ہیں۔ ایسا صرف اس لئے ہوتا ہے کہ دورانِ خون کی گردش ہی قدرت نے فطری طورپر ایسی بنائی ہے۔ اگر معالج دورانِ خون کو پوری طور پر ذہن نشین کرلے تو امراض کی ماہیت کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔تفصیل درج ذیل ہے۔

دورانِ خون اور نظریہ مفرداعضاء

نظریہ مفرداعضاء کے تحت دورانِ خون دل (عضلاتی انسجہ) سے جسم میں دھکیلا جاتا ہے، پھر شریانوں کی وساطت سے جگر (غدی انسجہ) سے جسم میں دھکیلاجاتاہے، پھر شریانوں کی وساطت سےجگر (غدی انسجہ) سے گرتاہوا دماغ (اعصابی انسجہ) پر گرتاہے۔ تمام جسم کی غذا بننے کے بعد پھر باقی رطوبت(غدد جاذبہ) کے ذریعے جو طحال کے ماتحت غدد کی وساطت سے کام کرتے ہیں۔ جذب ہوکر پھر خون میں شامل ہوکر دل (عضلات) کے فعل کو تیز کرتاہے اور جوخون غدد سے چھننے سے رہ جاتا ہے وہ بھی اوردہ کے ذریعے واپس قلب میں چلا جاتا ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

قدیم طب کی حقیقت کی تصدیق

یہاں پر سمجھنے والی بات وہ حقیقت ہے جو طب قدیم نے ہزاروں سال قبل لکھی ہیں کہ دورانِ خون میں جب تک جگر  (غدد) سے نہ گزرے وہ جسم میں نہیں پھیلتا یا ترشہ نہیں پاتا۔ اسی طرح ترشہ پانے کے بعد جب بقایا رطوبت طحال (غدد جاذبہ) میں جذب ہوکر کیمیائی طورپر تبدیلی حاصل نہ کرلیں یعنی ان میں کھاری پن ترشی میں تبدیل نہ ہودل (عضلات) پر نہیں گرتیں  اور ان کو تیز نہیں کرسکتیں۔ صرف سمجھانے کے لئے دل و جگر اور دماغ و طحال کے اعضاء کے نام لکھے گئے ہیں۔ ورنہ  جسم میں ہر جگہ عضلات و غدد و اعصاب و غدد جاذبہ اپنے اپنے علاقہ اور حدود میں وہی کام انجام دے رہے ہیں جو اعضائے رئیسہ ادا کررہے ہیں۔ خون اور دورانِ خون کی ان چار تبدیلیوں کو طب قدیم میں خون و صفرا اور بلغم و سودا کے امتیازی نام دئیے ہیں۔ جہاں جہاں یہ کیمیائی تبدیلیاں ہوتی ہیں انہی جگہوں کوان کا مقام قرار دے دیاہے۔ خون کا مقام دل، صفراکامقام جگر اوربلغم کامقام دماغ اور سودا کا مقام طحال۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ باقی جسم میں یہ تبدیلیاں نہیں ہوتیں۔ بلکہ ہرجگہ جسم میں تمام انسجہ (ٹشوز)دل، جگر اور دماغ و طحال کے کام انجام دے رہے ہیں۔ دلیل و تصدیق اور ثبوت کے طورپر ہم ان اعضاء کا مزاج پیش کرسکتے ہیں جہاں ہر دو رطوبات کیمیائی تبدیلیاں حاصل کرتی ہیں۔ دونوں کی کیفیاتی و خلطی اور کیمیائی مزاجوں میں ذرا بھر کوئی فرق نہیں ہے۔ کیا اب فرنگی طب اندھی ہے؟۔ اگر اس کے سائنسدان نہیں سمجھ سکتے تو ہم ان کو سمجھانے کا چیلنج کرتے ہیں۔

تحقیقاتِ امراض

امراض کی تحقیقات کو ذہن نشین کرنے کے لئے اس راز کو سمجھ لیں کہ دورانِ خون دل (عضلات) سے شروع ہوکر جگر (غدد) و دماغ (اعصاب) اور طحال (غدد جاذبہ) میں سے گزرتے ہوئے دل (عضلات) کی طرف واپس لوٹتا ہوا جسم کے کسی حصہ کے مجرا مفرد اعضاء (ٹشوز) میں افراط و تفریط اور تحلیل پید کر دیتا ہے، بس وہیں مرض پیداہوتا ہے اور اس کی علامات انہی مفرد اعضاء (انسجہ، ٹشوز) کی وساطت سے تمام جسم میں ظاہر ہوتی ہیں اور خون میں بھی کیمیائی طورپروہی تغیر ہوتے ہیں اور انہی مشینی اور کیمیائی علامات کودیکھ کر تشخیص مرض کیا جاتا ہے اور پھر جس مفرد عضو (ٹشوز، انسجہ)میں سکون ہوتاہے اس کو تیز کردینے سے فوراً صحت ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

جسمِ انسان کی بالمفرد اعضاء تقسیم

امراض کی تشخیص کے لئے نبض و قارورہ اور براز دیکھنے کافی ہیں۔ ایک قابل معالج ان کی مدد سے مریض کے جسم میں جو کیفیاتی و خلطی اور کیمیائی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ مفرد اعضاء (ٹشوز، انسجہ) کے افعال کی خرابی کو سمجھ سکتاہے اور ان کے علاوہ دیگر رطوباتِ جسم جن کا ذکر نزلہ کے بیان میں کیاگیاہے۔ ان کے افعال کو سمجھ کر امراض کا تعین کرسکتا ہے مگر ہم نے زیادہ سہولت اور آسانی کے لئے جسم انسان کو چھ حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے تاکہ مریض اپنے جس حصہ جسم پر ہاتھ رکھے معالج فوراً متعلقہ مفرد اعضاء کی خرابیوں کوجان جائے اور اپنا علاج یقین کے ساتھ کرے تاکہ قدرت کی قوتوں کے تحت فطری طورپر شرطیہ آرام ہوجائے۔ یاد رکھیں اللہ تعالی کی فطرت نہیں بدلتی۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ فطرت اللہ کا صحیح علم رکھے تا کہ نتیجہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق نکلے۔ اسی اللہ تعالیٰ کی فطرت کے مطابق علاج کانام شرطیہ علاج ہے۔ قرآنِ حکیم نے کئی بار تاکید کی ہے۔

لن تجد لسنت اللہ تبدیلہ

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے نظامِ فطرت میں ہر گز ہرگز تبدیلی نہیں آتی۔

جیسے آگ اپنی حرارت سے جدا نہیں اور پانی اپنی برودت سے الگ نہیں کیاجاسکتا وغیرہ۔
جاننا  چاہیے کہ ہم نے جسمِ انسان کوسر لے کر پاؤں تک دو حصوں میں تقسیم کردیاہے۔ پھر ہر حصے کو تین تین مقاموں میں تقسیم کردیاہے۔ اس طرح کل چھ مقام بن جاتے ہیں۔ اس طرح ان میں سے جس مقام پر بھی کوئی تکلیف ہوگی وہ ایک ہی قسم کےمفرد اعضاء (ٹشوز، انسجہ)کے تحت ہوگی اور ان کی علاج بھی ایک ہی قسم کی مشینی اور کیمیائی تبدیلی سے کیاجاسکتا ہے۔یہ فطرت کا ایک عظیم راز ہے۔جسم ِ انسان کے دو حصوں کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے کہ سر کے درمیان میں جہاں پر مانگ نکلتی ہے وہاں سے ایک سیدھا فرضی خط لے کر بالکل ناک کے اوپر سے سیدھی منہ تھوڑی اورسینہ اور پیٹ سے نکلتی ہوئی مقعد کی لکیر تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح پشت کی طرف سے ریڑھ کی ہڈی پر سے گزرتی ہوئی پہلی لکیر سے مل جاتی ہے۔ اس طرح انسان کے دو حصے ہوجاتے ہیں۔یہ تقسیم اس لئے کی گئی ہے کہ سالہا سال کے تجربات نے بتایا ہے کہ قدرت نے جسمِ انسان کواس طرح بنایا ہےکہ وہ بیک وقت تمام جسم کو کسی مرض سے نقصان پہنچنے سے روکتی ہے بلکہ کسی ایک حصہ جسم میں ہر تحریک سے تکلیف ہورہی ہوتی ہے کسی دوسرے حصے میں تقویت (ابتدائی تحلیل) اور کسی تیسرے حصہ میں تسکین ، رطوبات (غذائیت) پہنچا رہی ہوتی ہیں۔اور یہ کوشش اسی لئے جاری رہتی ہے کہ انسان کو تکلیف اور مرض سے اسی طاقت کے مطابق بچایا جائے اور یہ کوشش اس وقت تک جاری رہتی ہے جب کوئی حصہ جسم بالکل بیکار، ناکارہ ہوکر دوسروں سے تعلق نہ توڑ دے اور موت واقع ہوجائے۔مثلاً اگر جگر و غدد کے فعل میں تیزی اور تحریک ہو تو دورانِ خون دل و عضلات کی طرف سے وہاں جاکر اس کی پوری حفاظت کرتا ہے اور دماغ و اعصاب کی طرف رطوبت و سکون پیداکردیتا ہے۔تاکہ تمام جسم صرف جگر و غدد کی بے چینی سے محفوظ رہے اور قوتیں اس کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص ربوبیت اور رحمت ہوتی ہے۔

مرض کی ابتدا ہمیشہ ایک طرف ہوتی ہے

اسی طرح جن جسم ِ انسان کے دائیں یا بائیں حصہ میں کوئی تکلیف یا مرض ہوتوطبعیت مدبرہ بدن دوسرے حصے کو محفوظ رکھتی ہے اور یہ اوپر والے قانون بالمفر اعضاء کے تحت ہوتا ہےمثلاً درد سر کبھی بائیں طرف ہوتا ہے تو کبھی دائیں طرف،  کبھی سر کی پچھلی جانب ہوتا ہے تو کبھی پھیل کرسارے سر میں معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح کبھی دائیں آنکھ میں تکلیف ہوتی ہے اور کبھی بائیں آنکھ میں پھر دونوں میں پھیل جاتی ہے۔ لیکن کمی و بیشی ضرور قائم رہتی ہے۔ اسی طرح ناک میں کبھی دائیں طرف مرض ہوتا ہے اور کبھی بائیں طرف مرض ظاہر ہوتاہے اور بہت کم دونوں میں ایک ہی سی حالت ہوتی ہے۔ یہی صورتِ کانوں، دانتوں اور منہ کے باقی حصوں کی ہوتی ہے۔ اسی صورت کو اگر پھیلاتے جائے توصاف پتا چلتا ہے کہ گردن کے دونوں طرف دونوں شانے ، دونوں بازو، سینہ و معدہ اور امعاء کے ساتھ ساتھ جگر طحال اور دونوں گردے یہاں تک کہ مثانہ و خصیے اور دونوں ٹانگیں اپنی اپنی تکلیف میں جداجدا صورتیں رکھتی ہیں۔یہ تقریباً ناممکن ہے کہ دونوں طرف بیک وقت تکلیف شروع ہو۔ البتہ رفتہ رفتہ دوسری کے وہی مفرداعضاء (انسجہ۔ ٹشوز) متاثر ہوکر کم وبیش اثر قبول کرلیتے ہیں۔یہ وہ راز ہے جو اللہ تعالیٰ نے نظریہ مفرد اعضاء کے تحت دنیائے طب پر ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل دنیائے طب میں اس کا کسی کو علم نہیں تھا۔ فرنگی طب اور ماڈرن سائنس جو اپنے کمالات کا دعویٰ کرتی ہیں اس علم سے بالکل خالی ہیں۔

مفرد اعضاء کی ظاہری تقسیم کی تشریح

ان دونوں حصوں کو ہم نے تین تین مقامات میں اس طرح تقسیم کیا ہے۔

پہلا مقام (اعصابی عضلاتی)

اس مقام میں سر کا دایاں حصہ، دایاں کان، دائیں آنکھ، دائیں ناک، دایاں چہرہ مع دائیں طرف کے دانت اورمسوڑھےاور زبان، دائیں طرف کی گردن شامل ہیں۔ گویا سر کے دائیں طرف سے دائیں شانہ تک جس میں شانہ شریک نہیں ہے۔ جب بھی ان مقامات پر کہیں تیزی ہوگی تو اعصابی عضلاتی تحریک ہوگی۔

دوسرا مقام (عضلاتی اعصابی)

اس مقام میں دایاں شانہ، دایاں بازو، دایاں سینہ، دایاں پھیپھڑہ اور دیاں معدہ شریک ہیں۔ یعنی دائیں شانہ سے لے کرجگر تک۔ اس میں جگر شامل نہیں ہے۔ جب کبھی ان مقامات میں سے کسی میں تیزی ہوگی تو عضلاتی اعصابی تحریک ہوگی۔

تیسرا مقام (عضلاتی غدی)

اس مقام میں جگر ، دائیں طرف کی آنتیں، دائیں طرف کا مثانہ، دایاں خصیہ، دائیں طرف کا مقعد اور دائیں ساری ٹانگ کوہلے سے لے کرپاؤں کی انگلیوں تک شامل ہیں۔ گویا جگر سے لے کر دائیں ٹانگ پیر اور انگلیوں تک سب شامل ہیں۔ جب بھی کبھی ان مقامات پر کسی میں تیزی ہوگی تو عضلاتی غدی تحریک ہوگی۔ دایاں نصف حصہ ختم ہوگیا۔

چوتھا مقام (غدی عضلاتی)

بایاں نصف حصہ، اس میں سر کا بایاں حصہ، بایاں کان، بائیں آنکھ، بایاں ناک، بایاں چہرہ مع بائیں طرف کے دانت ومسوڑھے اور زبان اور بائیں طرف کی گردن شامل ہیں۔ گویا بائیں جانب سر سے لے کر بائیں شانہ تک جس میں شانہ شامل نہیں ہے۔جب کبھی ان مقامات پر کہیں تیزی ہوگی تو غدی عضلاتی تحریک ہوگی۔

پانچواں مقام (غدی اعصابی)

اس مقام میں بایاں شانہ، بایاں بازو، بایاں سینہ، بایاں پھیپھڑہ اور بایاں معدہ شریک ہیں۔ گویا بائیں شانہ سے لے کر طحال تک جس میں طحال شریک نہیں ہے۔ جب کبھی ان مقامات میں سے کسی میں تیزی ہوگی تو غدی اعصابی تحریک ہوگی۔

چھٹا مقام (اعصابی غدی)

اس مقام میں طحال، لبلبہ، بائیں طرف کی آنتیں، بائیں طرف کا مثانہ، بایاں خصیہ، بائیں طرف کا مقعد اور بائیں ساری ٹانگ، کوہلے سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک شریک ہیں۔

تاکید: یہ تقسیم دورانِ خون کی گردش کے مطابق ہے جو دل (عضلات) سے شروع ہوکر جگر (غدد) سے گزرتے ہوئے دماغ (اعصاب) اور طحال(غدد جاذبہ) سے گزر کر پھر دل (عضلات) میں شامل ہوتا ہے۔ اس کا بین عضلاتی غدی سے شروع ہوکر ترتیب وار چھ مقام بیان کئے جاتے ہیں جو عضلاتی اعصابی پر ختم ہوتے ہیں۔ لیکن ہم نے ایک سرے کو مدنظر رکھتے ہوئے دائیں طرف سے شروع کرکے بائیں طرف کی ٹانگ پر ختم کردیاہے تاکہ سمجھنے میں آسانی رہے۔

یہ چھ مقام صرف تحریک کے ہیں لیکن اس امر کو نہ بھولیں کہ یہ چھ مقام در اصل تین مفرد اعضاء کے تعلقات اور تشخیص کو سمجھنے کے لئے ہیں کہ جسم اور خون کی تحریکات کس طرف چل رہی ہیں۔ اس لئے اس امر کو یاد رکھیں کہ جس ایک مفرد عضو میں تحریک ہے ، باقی دو میں تحلیل اور تسکین کی ترتیب ساتھ ہوں گی اوران کا دیگر مفرد عضو پر وہی اثر ہوگا۔

خوبیاں

طب مفرداعضاء کے تحت تقسیم ِامراض اور علامات میں بہت سی خوبیاں ہیں اور ذیل کی خوبیاں قابلِ تعریف ہیں۔

1۔یقینی تشخیص۔2۔بے خطا علاج۔3۔ امراضِ کی ماہیت پر یقین۔4۔تجویزِ علاج میں سہولت۔5۔ ہر مرض کا صرف ایک بار ہی بیان ہونا۔6۔مختلف امراض میں شک و شبہ نہ پیداہونا۔7۔ دنیا بھر کے تمام طریقہ ہائے علاج کی صحیح تشخیص اور درست تجویز کا اس کے مطابق ہونا، گویا طب مفرداعضاء صحیح تشخیص اور درست تجویز کے لئے ایک کسوٹی ہے۔8۔ اس نظریہ کے تحت تقسیمِ امراض سمجھنے کے بعد ہر غلط طریقِ علاج کو معالج چھوڑ دیتا ہےاور مشکل تشخیص اور دشوار تجویز کے علاجوں سے دور ہوجاتاہے۔9۔ امراض کی تعداد مقرر کردی گئی ہےاس کے بعد نئے امراض کی تحقیقات ختم ہو گئیں ہیں، جیسا کہ فرنگی طب اہلِ فن و صاحبِ علم اور عوام کو روزنہ نئے امراض کے نام سے دھوکا دیتی رہتی ہے۔10۔کسی مرض کےمختلف بے معنی اسباب ختم کرکے صحیح اسباب مقرر کردئیے گئے ہیں۔11۔ طویل علامات کو مقررہ علامات میں محدود کردیاگیاہےتاکہ تشخیص میں کوئی تکلیف نہ ہو۔12۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے طریقہ علاج میں جو ماہیتِ امراض بیان کی گئی ہیں، چاہے وہ اخلاط و دوشوں کے تحت ہوں چاہے جراثیم اور روح کی بیماری کو مدنظر رکھاگیاہے یا عناصر انسانی اور جذباتِ انسانی کو مدنظر رکھاگیاہے سب کے حسن و قبح کی حقیقت کھل جاتی ہے اور یہ تمام باتیں بیک وقت معالج کے ذہن کے سامنے آجاتی ہے۔13. تقسیمِ امراض کا کمال یہ ہے کہ اس سے تقسیم کی ابتدا واحد خلیہ اصل حیوانی ذرہ سے شروع ہوتی ہے جس سے نسیج(ٹشوز)بنا ہے اور پھر یہی مختلف انسجہ(ٹشوز) اعضاء کی صورت اختیار کرتے ہیں۔14۔ اس تقسیمِ امراض کی انتہا یہ ہے کہ اس میں حیوانی ذرہ کا بھی دل و دماغ اور جگر چیرتے ہوئے اس کے ایٹمی اثرات تک پہنچ کراس کی انرجی و پاور اور فورس کا پتا چلاتےہیں۔گویا یہ طب مفرداعضاء ایٹمی دور کی مکمل تصویر ہےاورلطف یہ ہے کہ اس سے دقیق تشخیص اور تقسیم ناممکن ہے اور اگر کوئی اور طریقِ علاج کسی ایسے نظریہ یاطب کا دعویٰ کرے تو ہم چیلنج کرتے ہیں۔

طب مفرد اعضاء کي مزید خوبياں

ايلوپيتھی طريقہ علاج بالجرم طريقہ علاج ہے-ہوميوپيتھی علاج بالمثل طريقہ علاج ہے- طبِ يونانی بالضد طريقہ علاج ہے-
جبکہ طب مفرداعضاء بالفطرت طريقہ علاج ہے۔

1۔یقینی تشخیص۔2۔بے خطا علاج۔

3۔ امراضِ کی
ماہیت پر یقین

۔4۔تجویزِ علاج میں سہولت۔

5۔ ہر مرض کا صرف ایک بار ہی بیان ہونا۔

6۔مختلف امراض میں شک و شبہ نہ پیداہونا۔
7۔ دنیا بھر کے تمام طریقہ ہائے علاج کی صحیح تشخیص اور درست تجویز کا اس کے مطابق ہونا، گویا طب مفرداعضاء صحیح تشخیص اور درست تجویز کے لئے ایک کسوٹی ہے۔8۔ اس نظریہ کے تحت تقسیمِ امراض سمجھنے کے بعد ہر غلط طریقِ علاج کومعالج چھوڑ دیتا ہےاور مشکل تشخیص اور دشوار تجویز کے علاجوں سے دور ہوجاتاہے۔9۔ امراض کی تعداد مقرر کردی گئی ہےاس کے بعد نئے امراض کی تحقیقات ختم ہو گئیں ہیں، جیسا کہ فرنگی طب اہلِ فن و صاحبِ علم اورعوام کو روزانہ نئے امراض کے نام سے دھوکا دیتی رہتی ہے۔

10۔کسی مرض کےمختلف بے معنی اسباب ختم کرکے صحیح اسباب مقرر کردئیے گئے ہیں۔11۔ طویل علامات کو مقررہ علامات میں محدود کردیاگیاہےتاکہ تشخیص میں کوئی تکلیف نہ ہو۔

12۔ سب سےبڑا فائدہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے طریقہ علاج میں جو ماہیتِ امراض بیان کی گئی ہیں، چاہے وہ اخلاط و دوشوں کے تحت ہوں چاہے جراثیم اور روح کی بیماریکو مدنظر رکھاگیاہے یا عناصر انسانی اور جذباتِ انسانی کو مدنظر رکھاگیاہے سب کے حسن و قبح کی حقیقت کھل جاتی ہےاور یہ تمام باتیں بیک وقت معالج کے ذہن کے سامنے آجاتی ہے۔

13. تقسیمِ امراض کا کمال یہ ہے کہ اس سے تقسیم کی ابتدا واحد خلیہ اصل حیوانی ذرہ سے شروع ہوتی ہے جس سے نسیج(ٹشوز)بنا ہے اور پھر یہی مختلف انسجہ(ٹشوز) اعضاء کی صورت اختیار کرتے ہیں۔

14۔اس تقسیمِ امراض کی انتہا یہ ہے کہ اس میں حیوانی ذرہ کا بھی دل و دماغ اور جگر چیرتے ہوئے اس کے ایٹمی اثرات تک پہنچ کراس کیانرجی و پاور اور فورس کا پتا چلاتےہیں۔گویا یہ طب مفرداعضاء ایٹمی دور کی مکمل تصویر ہےاورلطف یہ ہے
کہ اس سے دقیق تشخیص اور تقسیم ناممکن ہے اور اگر کوئی اور طریقِ علاج کسی ایسے نظریہ یاطب کا دعویٰ کرے تو ہم چیلنج کرتے ہیں۔-

طب مفرد اعضاء کي انفراديت

1- تين اخلاط- جبکہ طب يونانی چار اخلاط کی قائل ہے-

2- تين حياتی اعضاء – جبکہ طب يونانی کئی حياتی اعضاء تسليم کرتي ہے-

3-تحريکات ثلاثہ کامنفرد اصول- جبکہ طب يونا نی ميں يہ سرے سے ہے ہی نہيں-

4-جسمِ انسانی کی چھ حصوں ميں تقسيم– جبکہ طب يونانی ميں کوئي تقسيم نہيں ہے-
5- ٹشوز کي اخلاط کے ساتھ تطبيق– جبکہ طب يونا نی ميں يہ تطبيق نہيں ہے-

6- اخلاط کي مفرد اعضاء سے تطبيق– جبکہ يہ بھي طب يونانی کے نصابتعليم ميں نہيں ہے-

7- مفرد اعضاء کي مرکب اعضاء سے تطبيق– جبکہ طب يونانی ميں اس کااشارہ تک نہيں-

8-کيميائي اور مشينی تحريکات کااصولي مؤقف– جبکہ طب يونانی يہاں بھي خاموش ہے-

9- جسمِ انسانی کي کائنات سے تطبيق– جبکہ طب يونانی کے محقق يہ اصول پيش نہيں کرسکے-

10- بدنی نفسيات بمطابق اخلاط– جبکہ طب يونانی اس کي بھي تطبيق نہيں کرسکے-

11- تحريک، تحليل اور تسکين کا فطري اشارہ-اس کااشارہ بھي طب يونانی ميں نہيں آيا-

12- مذکرومونث کے عليحدہ عليحدہ مزاج– يہاں بھي طب يونانی خاموش ہے-

13- مفردات کے مزاج بالحاظ رنگ وبو، ذائقہ و قوام– جبکہ اس کے ذکر سے طب يونانی خالي ہے-

14- مزاجِ انسانی بالحاظ ذائقہ- جبکہ طب يونانی ميں يہ تحقيق نہيں پائي جاتي-

15- مزاجِ انسانی بالحاظ رنگ– جبکہ طب يونانی آج تک يہ مطابقت پيش نہيں کرسکي-

16- مزاج انسانی بالحاظِ قارورہ و براز-
17- مزاجِ انسانی بالحاظِ خواب-

18- مزاج انسانی بالحاظِ جريانِ رطوبت-

19- مزاجِ انسانی بالحاظِ جريانِ خون-

20– نظامِ حيض بالحاظِ مزاج
21-ليکوريا کي تين اقسام بالحاظِ مزاج-

22- امراضِ جنسيات بالحاظِ مزاج-

23- دن اور رات کي تقسيم بالحاظِ مزاج-

24- سال بھر ميںبارہ ماہ کي تقسيم بالحاظِ مزاج-

25- قانون مفرداعضاء علاج بالفطرت جبکہ طب يونانی علاج بالضد ہے-

26-طب مفرداعضاء کي منفرد طبي اصطلاحات جبکہ طب يونانیکي اور ہيں-

27- چھ نبضوں کا فطري نظام جبکہ طب يونانی ميں سينکڑوں نبضيں ہيں اور وہ بھي غير اصولي ہيں-

28-مفرداعضاء کے تعلق کي چھ صورتيں

29- تين انسانی زہربالحاظ مزاج

30- نفس کي اقسام بالحاظ تحريکات

31- حميات کي تقسيم بالخاظ اخلاط-
32-دورانِ خون کا چکر بمطابق مفرداعضاء-

33- درديں بالحاظ تحريکات جبکہ طب يونانی ميں يہ تقسيم بھي نہيں ہے-

34-بجلي بالحاظ تحريکات– جبکہ طب يونانی ميں يہ تحقيق ابھي نہيں ہوئي-

35- علاج بالغزا کو فوقيت- جبکہ طب يونانی ادويات کو ترجيح ديتي ہے-

36- تسکين والے عضوکو تحريک دينے سے امراض کاخاتمہ– جبکہ طب يونانی ميں اس کا تصورتک نہيں ہے-

37- سوزش ، ورم اور ضعف کاحقيقي انکشاف- جبکہ طبيونانی آج تک ايسا اصول نہيں دے سکي-

38- بلغمي امراض کا علاج ترشي اور ترشہ پيداکرنے والي اغذيہ و ادويہ سے- جبکہ طب يونانی ميں اس کے
الٹ بتايا جاتاہے-

39- سوداوي امراض کا علاج نمکيات پيداکرنے والي اغذيہ و ادويہ سے- جبکہ طب يونانی ميں ايسا نہيں ہے-

40-صفراوي امراض کا علاج کھار يعنی الکلائن پيداکرنے والي اغذيہ وادويہ سے- جبکہ طب يونانی اس کے برعکس علاج بيان کرتي ہے-

41- طب مفرداعضاءکامکمل منفرد فارماکوپيا- جبکہ طب يونانیآج تک اپنا مکمل فارماکوپيا پيش نہيں کرسکي-

42- طب مفرداعضاء کے مرکبات بالحاظ مزاج
43- مرکبات مصدقہ بالحاظ ليبارٹريز– جبکہ طب يونانی کے پاس اس قسم کا کوئي دعوی نہيں ہے-

44- محرکات قلب وعضلات اغذيہ و ادويہ-
45- محرکات جگر وغدد اغذيہ و ادويہ-

46- محرکات دماغ و اعصاب اغذيہ و ادويہ-

47-مقويات قلب و عضلات اغذيہ و ادويہ-
48- مقويات جگروغدد اغذيہ وادويہ-

49- مقوياتِ دماغ واعصاب اغذيہ وادويہ-

50- ملنيات و مسہلات بالحاظ اخلاط

51- حياتی اعضاءپرچڑھے پردوں کی تشريح– جبکہ طب يونانی اس ميدان ميں ابھی بہت پیچھےہے-

مفرد اعضاء کی تقسیم

ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ ہم نے جسمِ انسانی کو تین حصوں میں تقسیم کیاہے1۔ بنیادی اعضاء۔2۔ حیاتی اعضاء۔3۔ خون۔ پھر ان میں سے ہر حصہ تین حصوں میں تقسیم ہوتاہے۔1۔ بنیادی اعضاء میں 1۔ہڈیاں۔2۔رباط۔3اوتار۔ جو تینوں نسیج الحاقی کے بنے ہوئے ہیں اور انسانی جسم کی بنیاد بناتے ہیں۔2۔حیاتی اعضاء میں ۔1۔ اعصاب جن کا مرکز دماغ ہے اور یہ نسیج اعصابی سے تیار ہوتے ہیں اور احساس کا ذریعہ اور مرکز ہیں۔2۔ عضلاتی اعضاء جن کا مرکز دل ہے یہ نسیج عضلاتی سے بنتے ہیں اور جسمِ انسان میں حرکت کا ذریعہ اور مرکز ہیں۔3۔غدی اعضاء جن کا مرکز جگر ہے، یہ نسیج قشری سے پیداہوتے ہیں اور جسمِ انسان میں غذا کاذریعہ اور مرکز ہیں۔

خون

یہ کیمیائی مرکب ہے جس میں ۔1۔ حرارت، رطوبت اور ریاح پائی جاتی ہیں۔اس میں چار اقسام کے انسجہ کےلئے غذائیت پائی جاتی ہے جو غذا ہم کھاتے ہیں اور آب و ہوا ہمیشہ انسانیِ جسم میں حرارت، رطوبت اور ریاح تیار کرتے رہتے ہیں۔ جب ہمارے جسم میں مناسب اجزاء داخل نہیں ہوتے یاکیفیاتی و نفسیاتی طورپر ہماراخون یااعضاء متاثرہوتے ہیں تو ان کے افعال میں خرابیاں واقع ہوجاتی ہیں، جن کانام امراض ہے اور ان کے افعال کی خرابی سے جواثرات باقی جسم پرپیداہوتے ہیں ان کے نام علامات ہیں۔ گویا جسمِ انسان کے تمام امراض اور علامات انہی تین حیاتی اعضاء کے تحت بیان کرنا ہے۔ یہ ہے مفردااعضاء کی تقسیم اور ان سے پیدائش امراض اور علامات کی صورت۔ جوانسان بھی اس پر حاوی ہوجائے گا وہ اپنے وقت اور زمانے کابہترین معالج ہوگا۔ بس یہی مفید طبابت ہے۔

مفرد اعضاء کے افعال

ہم پہلے ہی لکھ چکے ہیں کہ ہر حیاتی عضو کے تین افعال ہیں۔1۔تحریک :یعنی عضو کے فعل میں تیزی جو ریاح کی زیادتی سے پیداہوتی ہے۔2۔ تسکین: عضو کے فعل میں سستی جو رطوبت اوربلغم کی زیادتی سے پیداہوتی ہے۔3۔ تحلیل: یعنی کسی عضو میں ضعف جو حرارت کی زیادتی سے پیداہوتاہے۔

جاننا چاہیے کہ قدرت نے اعضاء کو اس طرح بنایا ہے کہ اعصاب باہر کی جانب ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ غدد کا تعلق ہے۔ پھر ان کے بعد عضلات متعلق ہیں اور عضلات کا تعلق اعصاب کے ساتھ ہے۔ گویا تینوں حیاتی اعضاء آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح متعلق ہیں جیسے کیفیات باہم متعلق ہیں۔

مفرد اعضاء کا باہمی تعلق

مفرداعضاء کا باہمی تعلق بھی ہے۔ اسی تعلق سے جسم انسانی میں تحریکات ایک عضو سے دوسرے عضو کی طرف منتقل ہوتی ہیں مثلاً جب غدد میں تحریک ہوتی ہے تو اس امرکو ضرور جاننا پڑے گا کہ اس تحریک کا تعلق عضلات کے ساتھ ہے یااعصاب کے ساتھ ہے کیونکہ اس تحریک کا تعلق کاکسی نہ کسی عضو کے ساتھ ہونا ضروری ہے کیونکہ مزاجاً بھی کبھی کوئی کیفیت مفرد نہیں ہوا کرتی ۔ جیسے اس کاتعلق بھی کسی نہ کسی دوسری کیفیت سے ضرور ہوتاہے جیسے گرمی یاسردی کبھی تنہا نہیں پائی جائے گی وہ ہمیشہ گرمی تری یا گرمی خشکی، سردی تری یا سردی خشکی وغیرہ کی شکل میں پائی جائے گی۔ یہی صورت اعضاء میں بھی قائم ہے یعنی تحریک غدی عضلاتی (گرم خشک) ہو گی یا غدی اعصابی( گرمی تری) ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ۔

البتہ اس بات میں اس امرکوذہن نشین کرلیں کہ تحریک میں جس مفرد عضواعضاء کا نام پہلے بولا جائے گا وہ مشین (Mechanically) کہلائے گی اور جس مفرد عضو کانام بعد میں لیاجائے گا وہ خلطی یاکیمیائی (Chemically)ہو گی۔ یعنی دوسرے مفرد اعضاء کےنام کے یہ معنی ہیں کہ خون میں کیفیاتی و خلطی اور کیمیائی طورپر اس کااثر یقینی طورپر پایا جاتا ہے۔ یہ مواد تحریک کی وجہ سے عضومیں ضرورت سے زیادہ ہوتاہے اور طبیعت مدبرہ بدن نے اسے اعتدال پرلانے کے لئے دوسرے عضو کے فعل کو تیزکردیاہے اور جس عضو میں مشینی اثر تیز ہورہا ہے، طبیعت مدبرہ بدن اس کو تیز کرکے خون کے کیفیاتی و خلطی اور کیمیائی اثرات کو اعتدال پر لارہی ہے مثلاً غدی عضلاتی تحریک ہے توخون میں کیفیاتی و خلطی اور کیمیائی طورپر گرمی خشکی و صفرااور گندھک کی زیادتی ہوگی۔ اسی طرح جب غدی اعصابی تحریک پائی جائے گی تو خون میں کیفیاتی و خلطی اور کیمیائی طورپر گرمی تری و حمرت اور ملاحت کی زیادتی ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ یہی سلسلہ تمام مفرداعضاء میں قائم رہے گا۔ جیسے باہمی تعلق قائم رہتاہے۔

مفردااعضاء کے تعلق کی چھ صورتیں

مفرداعضاء حیاتی تین ہیں لیکن ان کے باہمی تعلق سے چھ صورتیں بن جاتی ہیں۔1۔ اعصابی غدی۔2۔اعصابی عضلاتی۔3۔عضلاتی اعصابی ۔4۔عضلاتی غدی۔5۔ غدی عضلاتی۔6۔ غدی اعصابی۔

یاد رکھنا چاہیے کہ جو لفظ مقدم ہوگا وہ عضو کی تحریک ہے اور لفظ مؤخر ہوگا وہ کیفیاتی و خلطی اور کیمیائی تحریک کہلائے گی۔ چونکہ صحت کا دارومدار کیفیات و اخلاط اور خون کے کیمیائی اعتدال پر قائم ہے اس لئے یہ اعتدال ہر صورت قائم رکھنا ضروری ہے۔ جومسکن مفردعضو کے افعال کو تیزتر کردینے سے خون کااعتدال درست ہوجاتاہے، بس اسی کانام شفاہے۔ ہومیوپیتھی میں جوبالمثل ادویات دی جاتی ہیں ا ن کامقصد بھی جسم انسان کے ردعمل(Reaction) کی علامات کو بڑھایاجاتاہے جو طبیعت مدبرہ بدن نے تیز کردی ہیں۔ اس سے قلیل سے قلیل بلکہ اقل مقدار میں دی گئی دوا نہ صرف مفید ہوتی ہے بلکہ اکسیر اور تریاق کاکام دیتی ہے۔

نوٹ: اگر بخار بطور(Reaction)علامات رکھے تو بخار کو گرم ادویات سے تیز کیاجائے۔

عارضی اور مستقل علاج کا فرق

جاننا چاہیے کہ عارضی علاج اور مستقل علاج کا فرق بھی ایک بہت بڑے اسرارورموز میں داخل ہے۔ طب قدیم کے معدودے چند اطباء نےاس طرف اشارے کئے ہیں مگر فرنگی طب نہ صرف اس کی حقیقت سے بے خبر ہے بلکہ ان کا طریقِ علاج جواکثر عارضی ہے، مریضوں کے لئے مقتل بن گیاہے۔ مرض کاوقتی طورپر روک دینا علاج نہیں ہے بلکہ مرض کی حقیقت سمجھ کراس کو دور کرنے کی کوشش کرنا ہی صحیح علاج الامراض ہے۔طب قدیم میں مرض کی صورت میں خون کیفیاتی و خلطی اور کیمیائی طورپرجو زیادتی ہوتی ہے اس کو بالضد کیفیات و اخلاط اور کیمیائی اثرات پیداکرکے اعتدال پرلایاجاتاہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوسکتاہے جب خون میں یہ تبدیلی پیداہواور اعضاء ان کے مطابق خون پیداکرنا شروع کریں۔ یہ تبدیلی فوراً پیدانہیں ہوتی اس کےلئے ایک مدت درکار ہے لیکن جوفوری طور پر مرض کو روکنا چاہتے ہیں وہ بالضد کیفیات و اخلاط اور کیمیائی اثرات شدید اور بے حد تیز بلکہ زہر کی حد تک ادویات استعمال کرکے ان کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اکثر شدید تبریدات و مسکنیات اور مخدرات استعمال کرکے پٹھے سن کردیتے ہیں یا دل کی حرکت کو کمزورکردیتے ہیں۔ جس سے مریض وقتی طورپرآرام محسوس کرتاہے جس کانتیجہ دل ودماغ کی مسلسل کمزوری سے موت واقع ہوجاناہے۔ اگر مرض وقتی علاج سے روکاجاتاہے توجب مرض کودبا دیاجاتاہے تو اس کے بعد جب طبیعت مدبرہ بدن دوبارہ اس تکلیف کو زندہ کرے گی تو مرض پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ ظاہرہوگا۔پھر دوبارہ مرض پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ حملہ آورہوکرحالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوجاتی ہے۔یہی صورت فرنگی طریقِ علاج میں پائی جاتی ہے۔ اگر وہ جراثیم کش ادویات استعمال کرتے ہیں تو وہ بھی متعفن مواد کو ختم ہونے اور جلنے سے پہلے غیر متعفن کرکے اس کو اپنے عمل سے روک دیتاہے۔ لیکن مواد اپنی جگہ قائم رہتا ہے مگر جسم کی حرارت ختم ہوجاتی ہے۔ جس مرض کا فطرت اپنی قدرت سے خود علاج کررہی تھی۔ وہ اس صورت میں ختم ہوجاتا ہے کہ مریض کے جسم میں مادہ باقی رہ کرمستقل اور مزمن مرض بن جاتاہے یا کبھی فوری علاج سے جسم کا کوئی عضو بے کار ہوجاتاہے اور پھرجب بھی طبیعت مدبرہ بدن کو موقعہ ملتا ہے۔وہ شفا دینے کی خاطر پھراس مرض کوقائم کردیتی ہے مگر جسم میں حرارت بہت حد تک کم ہوچکی ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں موت واقع ہوجاتی ہے یا وہ مریض ہمیشہ کے لئے بے کارہوکررہ جاتاہے۔

اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد اب مفرداعضاء کی تحریکات کی طرف آئیں جودوا کی صورت میں بولی جاتی ہیں۔ جیسے غدی عضلاتی (گرم خشک) اس میں پہلا لفظ مشینی فعل ہے اور دوسرا لفظ کیمیائی فعل ہے۔ گویا جسم میں صفرا بڑھ رہا ہے اور ا س کی زیادتی کے سبب جسم میں گرمی کے ساتھ خشکی کی زیادتی ہے اور انہی اعضاء پر اثر ہے جن پر صفرا اثرانداز ہوتا ہے اس میں دوسرا لفظ عضلاتی اثر "خشکی” کیمیائی اثر ہے جب ہم اس کیمیائی اثر یعنی خشکی کوتری میں بدل دیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ مزاج میں گرمی تری پیداہونی شروع ہوجائے گی اس کی صورت یہ ہوگی کہ ہم غدی عضلاتی تحریک کو غدی اعصابی کردیں گے۔جس کے ساتھ حرارت کے ساتھ رطوبت کیمیائی طورپر بڑھنا شروع ہوجائے گی جس سے خشکی ختم ہوجائے گی اور تری بڑھ جائے گی پھر صفرا کی تمام تکالیف جن اعضاء پر ہوں ختم ہوجائیں گی اور رفتہ رفتہ طبیعت مستقل صحت کی طرف آجائے گی۔

اس حقیقت کو اس طرح سمجھ لیں کہ جسم میں امراض کی جو صورت ہے جو خون میں کیفیاتی و اخلاطی اور کیمیائی اثرات کی زیادتی ہے جو خاص مفرداعضاء کے تحت پیداہورہی ہے اور قائم ہے اور جن مفرداعضاء نے خون کے ان اثرات کو اعتدال پر رکھنا ہے ان میں سکون پیداہوگیاہے۔ اس میں جراثیم کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اطباء اور حکماء بالضد ادویات اور تدابیر سے خون کے ان اثرات کو اعتدال پرلاتے ہیں۔ اطباء اور حکماء کا طریق بھی درست ہے لیکن اس میں یقینی ادویات کا تعین نہ کرسکنے سے علاج یقینی نہیں بن سکتا لیکن مسکن اور سست اعضاء کو تیزتر کردینے سے نہ صرف علاج یقینی بن جاتاہے بلکہ شرطیہ کیاجاسکتاہے۔ جیسے بجلی کابٹن دبانے سے کبھی اپنی مرضی سے بلب جلالیتے ہیں ،کبھی پنکھا چلالیتے ہیں، کبھی پانی کی نالی کھول لیتے ہیں۔ اسی طرح جب مسکن اور سست اعضاء میں تحریک ہوتی ہے تووہاں پر تمام رطوبات اور بلغم ختم ہوجاتی ہےجس سے وہاں اگر جراثیم ہوں تووہ بھی مرجاتے ہیں پھر جب سکون کے مقام پرتحریک ہوجاتی ہے تو گزشتہ تحریک کے مقام پر تحلیل ہوکر سوزش ختم ہوجاتی ہے اور جہاں پر تحلیل تھی وہاں رطوبت پہنچ کرتحلیل کو روک دیتی ہے۔ بس یہی صحیح طریقِ علاج ہے اور یہی اس کی مستقل صورت ہے۔

فوری علاج

وہ معالج بھی غلطی پر ہیں جو اعضاء کے افعال خصوصاً مرکب اعضاء کی تیزی کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تبریدات و مسکنیات اور مخدرات کو استعمال کرکے فوری فائدے کی خاطر مریضوں کو زہر دے کر موت کی طرف دھکیلتے ہیں اور اس طرح باربار کرنے سے اعضاء کواعتدال پرتو نہیں لاسکتے البتہ ان کوکمزورضرور کردیتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ فوری علاج بھی وہی علاج ہے جو صحیح علاج ہویعنی مسکن اور سست مفرداعضاء کو تحریک دے کر تیزکردیں۔ جتنی جلدی آپ کرسکیں گے اتنی جلدی آرام ہوگا۔ اس سے فوراً ہی خون کی کیمیائی اور اخلاطی اور کیمیائی اثرات اعتدال پر آنا شروع ہوجائیں گے۔ یقین جانیئےاس طرح کے صحیح علاج سے بعض وقت پانچ منٹ کے اندر تحریک بدل جاتی ہے جس کے ساتھ ہی آرام آنا شروع ہوجاتاہے۔ اگر دنیا بھی میں کوئی اس سے بہتر علاج پیش کردے جو صحیح ہونے کے ساتھ فوری بھی ہوتو ہم چیلنج کرتے ہیں اور یہ بھی ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ دنیا کی کوئی طاقت اس مفرد اعضاء کے طریقِ علاج کوکامیاب ہونے اور پھیلنے سے نہیں روک سکتی بلکہ اس طرح جیسے کوئی طاقت اللہ تعالیٰ کی اس ایٹمی طاقت کو اپنے کام سے روک نہیں سکتی ، اور اس کا پھیلنا اور عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ انشا اللہ تعالیٰ ایک وقت آئے گا کہ ایٹمی طاقت اور نظریہ و طب مفرد اعضاء بالکل ایک ہوجائیں گے۔ یہی دنیا کی کامیابی کا راز ہے۔

علاج میں کامیابی کا راز

ہر قسم کے علاج چاہے وہ نئے ہوں یا پرانے(حادیا مزمن) ان میں کیفیاتی و خلطی اور کیمیائی تحریک کو مدنظر رکھیں جس کا اظہار جسم میں علامات اور دوسری مفرد تحریک سے ہوتاہے۔ بس یہی مرض ہے کیونکہ ان علامات سے ظاہرہوتا ہے کہ خون میں کس قسم کی کیفیات و اخلاط اور کیمیائی اثرات کا اضافہ ہوگیاہےاور اس اضافہ میں دیگر کیفیاتی و اخلاطی اور کیمیائی اثرات میں کمی واقع ہوگئی ہے۔ اس کا اظہار وہی اعضاء کرتے ہیں جو جسم میں تیز یاسست ہیں۔ جیسا کہ شیخ الرئیس بو علی سینا نے کہا ہے کہ مرض اس حالت کانام ہے جب مجرا جسم کے افعال اعتدال پر نہیں ہوتے ۔ بس اس کا آسان علاج یہ ہے کہ جن اعضاء اور مجرا کے افعال میں سکون اور سستی ہوان کو تیز کردیں۔ جس کے نتیجہ میں ایک طرف خون میں جن کیفیات و اخلاط اور کیمیائی اثرات کی زیادتی ہوگی وہ کم ہونا شروع ہوجائے گی اور دوسری طرف اس کی تیزی سے جن ضروری عناصر اور اثرات کی ضرورت ہوگی وہ پورے ہونا شروع ہوجائیں گی۔اس میں جراثیم کش ادویات کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اگر وہاں پرجراثیم ہوں بھی تو ان اعضاء کی تیزی ان کوہلاک کرکے خارج از بدن کردے گی۔ اسی وجہ سے غیر جراثیم کش ادویات سے جراثیمی امراض میں شفا آجاتی ہے جس کے ثبوت میں ایسی غیر جراثیم کش ادویات جو شیرہ وشربت اور عرقیات کی صورت میں دی جاتی ہیں ، کامیابی سے جراثیمی امراض کا علاج کردیتی ہیں۔ جراثیم کے متعلق صرف اتنا یاد رکھیں کہ جن مقامات پر رطوبات یا مواد رک جاتی ہیں۔ وہاں پر متعفن ہوکر جراثیم کو پیداکردیتی ہیں، جب اعضاء کی تیزی وہاں رطوبت کوخشک یا خارج کردیتی ہے تو ساتھ ہی جراثیم بھی مرکر ہلاک ہوجاتے ہیں اس کی مثال اس طرح سمجھ لیں کہ مکان میں اگر گندگی اور غلاظت پڑی ہواور اس میں متعفن شدید ہوتو اگر اس پر دافع تعفن دوا ڈال دی جائے تو فوراً تعفن رک جائے گا لیک چنددنوں بلکہ چند پہروں میں تعفن پھر شروع ہوجائے گا لیکن اگر وہ گندگی اور غلاظت اٹھاکر باہر پھینک دی جائے اور وہ جگہ خشک کردی جائے تووہاں پرنہ صرف گندگی و تعفن ختم ہوجائے گا بلکہ ساتھ ہی جراثیم بھی دور ہوجائیں گے۔ یہ ہے وہ علاج جس کا جواب فرنگی طب کے پاس نہیں ہے اور وہ اب تک اپنے طریقِ علاج میں ناکام ہے اور غلطی میں مبتلا ہے۔

تحقیقات الامراض بالمفرد اعضاء

اس بات کو پھر ذہن میں تازہ کرلیں کہ طب یونانی میں امراض کے بیان کو سر سے شروع کرکے پھر ناک اور آنکھوں کے امراض اور پھر کان اور منہ کے امراض کے بعد پاؤں تک ذکر کر دیا گیا ہے۔البتہ ہر مرض کو کیفیات و اخلاط کے مطابق واضح کردیاگیاہے۔ ایورویدک میں پھر بھی امراض کوسر سے بیان کرکے پاؤں تک پہنچایا گیاہے۔البتہ ہر مرض کی دوشوں اور پرکرتوں کے مطابق تشریح کردی گئی ہے۔اس طرح فرنگی طب میں بھی امراض کو سر سے پاؤں کی طرف بیان کیاگیا ہے۔البتہ ان کو متعدی اور غیر متعدی میں تقسم کرکے پھر جراثیمی اور کیمیائی تغیرات کی تفصیل لکھ دی گئی ہے۔ لیکن اسی طرح امراض کے بیان اور تعین میں جو خرابیاں پیداہوتی ہیں ان کا ذکر گزشتہ صفحات میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیاہے۔

امراض کے بیان میں خرابیاں

ان تمام خرابیوں سے بچنے کے لئے ہم نے امراض کو مفرد اعضاء (ٹشوز۔ انسجہ)کے تحت تقسیم کیا ہے۔اور ان کے بیان میں سے سر سے لے کر پاؤں تک دیگر طریقِ علاج کو مدنظر نہیں رکھاگیا۔ کیونکہ تقریباً ہر عضو مختلف مفرد اعضاء (انسجہ)سے مرکب ہے۔ جیسے سر میں اعصاب کےعلاوہ عضلات اور غدد بھی شریک ہیں اور ہر مفرد (نسیج) کے نقص سے ایک مختلف قسم کا مرض نمودار ہوجاتا ہے۔ جس کو طب یونانی میں کیفیات و اخلاط کے تحت بیان کیاگیاہے۔ ایورویدک نے دوشوں اور پرکرتوں کے تحت تشریح کی ہے اور فرنگی طب نے جراثیم اور کیمیائی تبدیلیوں کے تحت واضح کیا ہے ان سے بھی زیادہ چند بڑی خرابیاں اور ہیں جو تعین امراض کے باعث خرابی ہیں۔

اول

سر کے بیان میں اعصابی امراض الگ بیان کئے ہیں حالانکہ تمام اعصابی امراض سر کے تحت آنے چاہئیں۔ کیونکہ سر کو اعصاب کا مرکز تسلیم کیا گیاہے۔

دوم

اعصاب کے امراض تو بیان کئے گئے ہیں لیکن کسی طب نے عضلاتی و غدی امراض کا اعصابی امراض کی طرح کہیں ذکر نہیں کیا۔ گویا عضلات و غدد جسم میں کوئی نظام نہیں ہیں۔ ان کا کسی نظام کے تحت باہمی کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یونہی اِدھر اُدھر پھیلے ہوئے ہیں۔اس طرح جسم کے دو حصے امراض کو آج تک بیان ہی نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ فرنگی طب نے جس طب کو پیش کیاہے وہ ناکارہ اور نکمی ہے۔ جب یہ حقیقت ہے کہ اعصابی انسجہ(Nervous Tissues)کی طرح عضلاتی انسجہ(Muscular Tissues) اور انسجہ قشری(Epithelial Tissues) بھی جسم میں اپنے اپنے نظام رکھتے ہیں۔ تو پھر اعصابی امراض کی طرح عضلاتی اور غدی امراض کا ذکر ان کی کتب میں کیوں نہیں ہے۔ گویا فرنگی طب اور ماڈرن سائنس کو ان کاآج تک علم بھی نہیں ہے۔

سوم

فرنگی طب اور ماڈرن سائنس نے دموی امراض کو صرف کیمیائی تغیرات کے تحت بیان کیا ہے۔ ان کا تعلق کسی عضو(Organ) سے قائم نہیں کیا گیامثلاً دموی امراض اور جلدی امراض کو الگ الگ بیان کیا گیاہے۔

چہارم

جہاں جسم کی کمزوریوں کا ذکر کیاگیاہے وہاں صرف اعصابی کمزوری کوتوبیان کیا گیاہے لیکن جسم میں عضلاتی اور غدی کمزوریوں کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا۔ گویا سوائے اعصابی کمزوری کے کسی عضو میں اور کسی قسم کی کمزوری پیداہی نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اعصابی کمزوری کے علاوہ عضلاتی اور غدی کمزوریوں کے مریض فرنگی طب میں کبھی اچھے نہیں ہوئے اور ان کو ہمیشہ نقصان پہنچتا رہا ہے۔

پنجم

بعض قویٰ کو امراض سمجھ لیا گیاہےجیسے قوتِ باہ اور قوتِ اشتہا اور قوت دماغ وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام قوتیں مختلف اعضاء کے تحت پیداہوتی ہیں۔ ان میں کوئی ایک مفرد عضو خراب ہوتاہے۔ تمام بیک وقت بے کار نہیں ہوتے ہیں۔

ششم

بعض امراض کے نام علامات کے تحت رکھ دئیے گئے ہیں جیسے صرع و نزلہ اور کھانسی و دمہ وغیرہ۔ چونکہ اکثر علامات کا تعلق مختلف اعضاء (انسجہ) کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لئے ان کاعلاج تقریباً بالکل مختلف ہوتاہے۔

ہفتم

بعض امراض کے نام اسباب کے تحت رکھے گئے ہیں۔ جیسے موسمی امراض، جنسی امراض، کیفیاتی امراض اور نفسیاتی امراض وغیرہ لیکن ان امراض کاتعلق بھی کسی نہ کسی مفردعضو کے ساتھ ہے۔ یہ سب امراض جسم میں صرف کیمیائی تغیرات سے پیدانہیں ہوتے، یہ صرف اسباب تک محدود نہیں ہیں۔

ہشتم

بعض امراض کو دیگر اعضاء کی شرکت سے بیان کیا گیاہے۔ جیسے نزلہ ، ضعف دماغ، ضیق النفس قلبی، ضعف باہ کلوی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان میں شرکی اعضاء کی اہمیت وتعلق کی کوئی حقیقت بیان نہیں کی گئی۔ خاص طور پران کے فرق پر روشنی نہیں ڈالی گئی۔

نہم

زہر خورانی اور زہریلے جانوروں سے پیداہونے والی تکالیف کو انہی نام کے تحت امراض قائم کر دئیے گئے ہیں۔مارگزیدہ اور سگ گزیدہ۔ اور ان کا علاج بھی خون کے کیمیائی تغیرات سے کیاجاتاہے۔ ان کا تعلق کسی مفرداعضاء (نسیج) سے نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایک مرض میں کئی کئی اقسام کی ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔

دہم

یہی صورت وبائی امراض میں بھی بیان کی گئی ہیں۔ ہر وبائی مرض میں علاج کے لئے خاص کیمیائی تغیرات یامجربات کو سامنے رکھا گیاہے۔ ان کا تعلق کس مفرد عضو کے ساتھ ہے۔ آج تک فرنگی طب اور ماڈرن سائنس واضح نہیں کر سکی۔ اگر ایسا کرلیتی تو ان کے یقینی تریاق مقرر کرلئے جاتے۔یہ چند نمونے پیش کئے گئے ہیں جس سے فرنگی طب اور ماڈرن سائنس کی کمزوریاں اور خرابیاں واضح ہیں جن پر وہ صدیوں قابو پاسکی۔ مگر طب یونانی اور ایورویدک میں ہزاروں سال پہلے کیفیات و اخلاط اور پرکرتوں اور دوشوں کے تحت بیان کر دئیے گئے ہیں۔ ہم انشاء اللہ تعالیٰ ان کو مفرد اعضاء کے تحت بیان کر کے فن علاج کو مکمل کردیں گے۔

بالمفرد اعضاء امراض کا تعین

امراض کاتعین صرف مفرد اعضاء (انسجہ۔ ٹشوز) سے ہوسکتا ہےجو تمام جسم میں پھیلے ہوئے ہیں اور تمام جسم کے اعضاء انہی سے مل کربنے ہوئے ہیں۔ قانونِ فطرت یہ ہے کہ جسم کے جس مفرد عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کا اثر تمام جسم کے اسی مفرد عضو میں پھیل جاتا ہے۔ جس جگہ پر تکلیف ہوتی ہے اس جگہ کو مفرد عضو کے اثرات کو علامات کانام دے دیتے ہیں۔اور باقی جسم میں اسی مفرد عضو کے اثرات کو علامات کانام دے دیتے ہیں۔ یہ تمام اثرات مرض کے مطابق ہوتے ہیں۔ البتہ دیگر دو مفرد اعضاء (انسجہ) پر جو مختلف اثرات ہوتے ہیں۔ وہ بھی علامات میں شریک کرلئے جاتے ہیں مثلاً جگر میں جب سوزش پیداہوجاتی ہے تو تمام نظامِ غدد میں اس کااثر نمودارہوجاتاہے۔ غدد امعاء پر اس کا نمایاں اثر ہوتاہے۔ اس طرح جسم میں سر سے لے کر پاؤں تک تمام غشائے مخاطی خصوصاً پھیپھڑوں اور معدہ اور دماغی غشائے مخاطی فوراً متاثر ہوجاتی ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے صفراکی زیادتی سے آنتوں میں جلن، مروڑ، پیٹ میں تناؤ ، پھیپھڑوں کی جھلی میں سوزش اور دماغی غشائے مخاطی میں نزلہ کی کیفیت پیداہوتی جاتی ہے۔گویا وہ سب سوزش جگر یاصفرا کی علامات ہیں جو سب جگر کی سوزش کے مطابق ہیں۔ مخالف علامات کی صورت میں تمام عضلات کے افعال میں تحلیل (ضعف) ہوگا اور تمام اعصاب کے افعال میں سکون (سن ہوجانا) پایا جائے گا۔گویا جگر کی ایک تکلیف سے تمام جسم متاثر ہوتاہے۔ یہ سب کچھ مدنظر ہونا چاہیے۔ صرف جگر (غدد) کے فعل کاسامنے رکھنا کافی نہیں ہے۔نوٹ: اعصابی تحریک سے بھی اعضاء سن ہوجاتے ہیں۔مثلاً تخدیر۔

علامات کی حقیقت

علامات ایسے نشانات ہیں جن سے حالتِ صحت یا حالتِ مرض کا پتا چلتا ہے۔ یہ طبی اصطلاح میں علامات تکالیف کی ان کیفیات کو کہتے ہیں جو مرض کے ساتھ جسم کے مختلف مقامات پر ظاہر ہوا کرتی ہیں۔ یہ علامات اکثر امراض کو سمجھنے، ان کے فروق اور تشخیص کےلئے دلائل بنائے جاتے ہیں اور انہی کی راہنمائی میں امراض کی ماہیت و نام امراض اور تقسیم امراض کئے جاتے ہیں، چونکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مرض اس حالت کانام ہے۔ جب اعضاء کے افعال میں اعتدال نہ ہو یعنی ان میں افراط و تفریط اور ضعف پایاجائے۔ اس لئے اعضاء کے افعال کی خرابیوں کو جاننے کےلئے ان علامات کو دیکھیں گے جوان پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ اس وقت ہوسکتا ہے کہ ہم امراض اور ان کے علامات کو الگ الگ ذہن نشین کر لیں ایسا نہ ہونا چاہیے کہ اول ہم امراض اور علامات کا فرق ہی نہ سمجھ سکیں اور ہر علامت کو مرض اور ہر مرض کو علامت کہہ دیں جیسا کہ فرنگی طب میں درج ہیں مثلاً چیچک بھی مرض، ہچکی بھی مرض اور شدید پیاس بھی مرض سمجھاگیاہے۔ یہ بھی ابھی معمولی علامات ہیں۔ وہ بڑی بڑی علامات کو بھی مرض کہتے ہیں اور لکھتے ہیں جیسے نزلہ و زکام، سوزش و ورم اور بخار و ضعف وغیرہ گویا ان کے ہاں امراض و علامات میں کوئی فرق نہیں ہے۔

اہم علامات

علامات نزلہ زکام جن کا ذکر گزشتہ صفحات میں تفصیل سے کیا گیاہے۔ چند اور علامات بھی قابل ذکر ہیں۔ اگر ان علامات کو ذہن نشین کرلیا جائے توایک طرف نزلہ کی طرح جن مفرد اعضاء (انسجہ) سے ان کا تعلق ہوگا ان کے ساتھ ہی وہ ایک مرض کی شکل اختیار کرلیں گی اور اس کی مناسبت سے نام قرار پالیں گی ورنہ تنہا ہی ان علامات کو امراض کانام نہیں دیاجاسکتا اور دوسری طرف بہت سی چھوٹی چھوٹی علامات جو ان سے متعلق ہیں یا ان کے کم و بیش درجے ہیں۔ ذہن ان کو اچھی طرح قبول کر لے گا وہ یہ ہیں۔1۔ سوزش۔2۔ورم ۔3۔ بخار۔4۔ ضعف۔5۔ تخدیروغیرہ یہی وہ علامات ہیں جو باربار عضو میں پیداہوکرنئے امراض کی صورت میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں ۔ اگر ان کو ایک ہی مقام پر سمجھ لیا جائے توتین چوتھائی امراض ختم ہوجاتے ہیں۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہیں۔

سوزش

ایک ایسی جلن ہے جو کیفیاتی ، نفسیاتی اور مادی تحریکات سے جسم کے کسی مفرد عضو میں پیدا ہوجاتی ہے۔ سوزش میں حرارت کی پیدائش، سرخی اور درد لازم ہیں اور تحریک سے سوزش تک چند منزلیں پائی جاتی ہیں جیسے حبس، قبض، لذت، بے چینی، خارش اور جوش خون وغیرہ۔ انہی علامات میں سے کسی پر جب طبعیت مدبرہ بدن رک جاتی ہے تو اس کواس عضو کی علامت کا مرض کہاجاتا ہے۔

ورم

ورم کی علامت سوزش کے بعد پیداہوتی ہے۔ اس میں سوزش کی تمام علامات کے ابھار اور سوجن بھی ہوتی ہے اور جب شدت اختیار کرجائے تو حرارت اور بخار بھی لازم ہوجاتے ہیں۔

بخار

بخار ایک ایسی عارضی اور غیر معمولی حرارت ہے جس کو حرارتِ غریبہ(بیرونی) بھی کہتے ہیں۔ جو خون کے ذریعہ قلب سے تمام بدن میں پھیل جاتی ہے۔ جس سے بدن کے اعضاء میں تحلیل اور ان کے افعال نقصان واقع ہوتا ہے۔ غصہ اور تکان کی معمولی حرارت دراصل بخار کی حدود سے باہر ہے۔ کیونکہ اس سے کوئی غیر معمولی تبدیلی بدنِ انسان میں واقع نہیں ہوتی۔ اس کو عربی میں حمیٰ (جمع حمیات) فارسی میں تپ اور فرنگی طب میں (Fever)کہتے ہیں۔ بخار پر ہماری کتاب "تحقیقات حمیات” کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔

ضعف

جسم کی ایسی حالت کا نام ہے جس میں گرمی کی زیادتی سے کسی مفرد عضو میں تحلیل ہوجائے۔ ضعف کے مقابلے میں طاقت کاتصور کیاجاسکتاہے۔ ضعف کوسمجھنے کے لئے "تحقیقاتِ اعادہ شباب” کا مطالعہ کریں۔

تخدیر

کسی مفرد عضو کا سن ہوجانا۔ اس علامت میں احساسات ِاعضاء ختم ہوجاتے ہیں۔ تسکین و تبرید اسی میں شامل ہیں۔ تخدیر کی صورت جسم میں بلغم اور رطوبت کی زیادتی سے پیداہوتی ہے۔ فرنگی طب صرف اعصاب کی تخدیر کو سمجھتی ہے لیکن وہ عضلات اور غدد کی تخدیر سے بالکل ناواقف ہے۔

استرخا (فالج)

کسی مفرد عضوکا ڈھیلاہوجانا۔ یہ استرخا تحلیل سے واقع ہوتاہے۔ لقوہ اور فالج اس میں شریک ہیں۔ تحلیل تینوں مفرد اعضاء میں ہوسکتی ہے۔ اس لئے استرخا صرف عصبی مرض نہیں ہے۔بلکہ یہ عضلات اور غدد میں بھی پیداہوتا ہے۔ اس لئے لقوہ اور دیگر کسی عضو کے استرخا کے ساتھ عرضاًاور طولاً(کبھی دائیں اور کبھی بائیں) استرخا ہوجاتا ہے۔ جس کو فالج بھی کہتے ہیں۔

تشنج

کسی مفرد عضوکا ایک طرف یا دونوں طرف سکڑ جانا۔اس کی وجہ حرارت رطوبت کا ختم ہوجانا اور سردی اور خشکی کا بڑھ جانا ہے۔ کبھی ریاح اور کبھی سوزش اور شدت و برودت سے یہ حالت پیداہوجاتی ہے۔ یہ بھی عصبی نسیج کے علاوہ عضلاتی اور غدی انسجہ میں ہوتا ہے۔

اختلاج

کسی مفرد عضو کا پھڑکنا۔ کسی مواد یا ریاح یا سوزش سے اس عضو کے فعل میں تیزی آجاتی ہے۔ بعض دفعہ معمولی اعضاء پھڑکنے سے بڑی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

خون آنا

جسم کے کسی مخرج آنکھ، ناک، کان، منہ، مقعد اور احلیل سے خون خارج ہویا کسی پھوڑے پھنسی یا ورم و زخم سے خون دفعتاًیا رفتہ رفتہ آئے اس کی وجہ عضلاتی انسجہ میں تحریک ہوتی ہے۔ اس کی دوصورتیں ہوتی ہیں۔ اگر معدہ سے اوپر کی طرف سر تک کسی مخرج سے خارج ہوتو یہ عضلاتی اعصابی(سردی خشکی) تحریک ہوتی ہے اور اگر جگر سے لے کر پاؤں تک کسی مخرج یا مجرا سے خارج ہوتو یہ عضلاتی غدی(خشکی گرمی) تحریک ہوتی ہے۔

رطوبات کا گرنا

رطوبات یا رطوبتی موادیا بلغم کااخراج پانا۔ اس کا ذکر نزلہ زکام میں تفصیل سے کرچکے ہیں۔ البتہ یہ نکتہ ذہن نشین کرلیں کہ جب کسی حصہ جسم سے رطوبات اخراج پا رہی ہوں تو وہاں سے خون کااخراج نہیں ہوتا اورجب خون کااخراج ہورہا ہوتو رطوبات بند ہوتی ہیں۔ گویا دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اس لئے ایک دوسرے کاعلاج سمجھنا چاہیے۔ جسم کے کسی مخرج یا مجرا سے کسی قسم کی بوکا ہونا مثلاً ناک، منہ، بغل، کنج ران یا کسی مادہ کے اخراج کے ساتھ اس کی زیادتی کااحساس ہوتو یہ وہاں کی رطوبات کے رکنے اور متعفن ہونے سے ہوا کرتا ہے۔ رطوبات کا رکنا تسکین کی علامت ہے۔

شقاق

کسی حصہ کاپھٹنا، یہ انتہائی سردی خشکی کی علامت ہے۔یہ عضلاتی اعصابی تحریک ہوتی ہے اور ہر قسم کی سردی خشکی اس کے تحت شامل ہے۔

عظیم الاعضاء

کسی عضو جسم کااپنے حجم میں بڑا ہوجانا مثلاً دماغ و دل کا بڑاہوجانا، یا جگر و طحال کا عظیم ہوجانا، معدہ وجوڑ کابیٹھ جانا اور گلوں کا پڑ جانا وغیرہ۔ یہ رطوبات کی زیادتی کی وجہ سے ہوتا ہے اور تسکینِ اعضاء کی علامت ہے، کبھی ریاح سے بھی پیٹ پھول جاتا ہے۔یہ عارض ہوتا ہے اور ہوا کے خارج ہوجانے پر پیٹ اپنی اصلی جگہ آجاتا ہے۔ اور یہ بھی جاننا چاہیے۔کہ ریاح پیٹ کو سکیڑتی ہے اور پھیلاتی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاح سے پیٹ یا کسی اور عضو میں درد ہوتا ہے۔ مگر عظیم میں درد نہیں ہوتا۔ یاد رکھیں کہ اس عضو کا علاج تحریک سے کرنا چاہیے۔ تحلیل سے ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔

صغیر الاعضاء

عظیم الاعضاء کے برعکس کسی عضو کا چھوٹا ہوجانا۔ یہ وہاں پر ریاح کی پیدائش اور سوزش سے ہوتا ہے۔ یہ کسی عضو کی تحریک ہے۔ اس کا علاج وہاں پر رطوبات پیداکرنا نہیں ہے بلکہ وہاں پر تحلیل پیداکرنا چاہیے تاکہ وہاں سے ریاح دور ہوجائیں اور سوزش ختم ہوجائے۔ کسی مخرج یا مجاری میں سدہ پیداہوجانا۔ سردی خشکی کی علامت ہے۔ یہ عضو میں عضلاتی اعصابی تحریک ہے جس سے وہاں کامواد سدہ کی شکل اختیارکر لیتا ہے۔

استسقاء

جسم کے کسی خلامیں پانی کا پڑ جانا۔ اس کا تعلق صرف پیٹ سے نہیں ہے بلکہ دل و دماغ اور سینہ و پیٹ ، ہر خلا میں پانی بھر جاتا ہے۔ بلکہ جگر اور طحال کے پردوں کی خلاؤں میں بھی یہ رطوبت بھر جاتی ہے۔ اسی طرح خصیتین میں بھی پانی بھرجاتا ہے۔ اس کے متعلق یہ راز سمجھ لینا چاہیے کہ فرنگی طب اس کو رطوبتِ دمویہ خیال کرتی ہے، جو بالکل غلط ہے بلکہ یہ اس عضوکی رطوبت ہے جو تحلیل ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی انسان میں استسقا پیداہوجاتا ہے تو اس کے متعلق کہاجاتا ہے کہ اس کی زندگی بہت مشکل ہے۔ اس کی تین اقسام بیان کی گئی ہیں۔

1۔ زقی

اصل استسقاء یہی ہے کہ اس قسم میں مریض کا پیٹ مشک کی طرح پھولاہوا اور کھچا ہوا ہوتا ہے۔ دائیں بائیں حرکت کرنے سے پانی چھلکنے کی آواز پیداہوتی ہے۔ یہ پانی پیٹ کے پردوں صفاق اور خرب کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کا پانی زرد رنگ کا ہوتا ہے۔ یہ غدی عضلاتی تحریک ہے۔

2۔ خمی

دراصل یہ استسقاء نہیں ہےبلکہ استسقاء سے بالکل برعکس علامت ہے۔ البتہ اس میں بھی پانی ہوتا ہے۔ لیکن یہ پانی پردوں کی بجائے نسیج عضلاتی(Muscular Tissues) کے خلیات(Cells) میں ہوتا ہے۔ اس میں جسم کے عضلات خصوصاً پیٹ کے عضلات پھولے اور بڑھے ہوتے ہیں۔ یہ قسم زقی کی طرح خطرناک نہیں ہے۔ یہ اعصابی عضلاتی تحریک ہے۔

3۔ طبلی

یہ قسم بھی استسقاء نہیں ہے اس میں پانی وغیرہ نہیں ہوتا۔ بلکہ نسیج عضلاتی کے خلیات میں ضروری رطوبات کی نسبت ریاح زیادہ ہوجاتی ہیں۔ یہ ریاح وہاں کے رطوبات میں تبخیر کی صورت قائم ہوجانے سے پیداہوجاتی ہے۔ بعض اطباء میں اس قسم میں اسی محل پر جہاں زقی میں پانی بھرا ہوتا ہے۔ کسی قدر رطوبت کے ساتھ بدشواری تحلیل ہونے والی ریاح کا ہونا قرار دیا ہے۔ مگر یہ غلط ہے اس لئے کہ صفراوی رطوبت میں اول تبخیر پیداہونا مشکل ہے۔ کیونکہ وہ دافع تعفن ہے۔ دوسرے اگر وہاں ریاح پیداہوجائے تو وہ استسقاء کے لئے باعثِ شفا ہوسکتی ہے۔ یہ دراصل عضلاتی غدی تحریک ہے۔

کیڑے اور جراثیم

جسم میں اندر یاباہر جہاں پر رطوبت یا بلغم متعفن ہوجائے وہاں پر کیڑے یا جراثیم پیداہوجاتے ہیں جو اپنے مقام یا مادہ کی وجہ سے شکلوں میں مختلف ہوتے ہیں۔ مثلاً ناک، کان، دانت، مسوڑھے، پھیپھڑے، ہوا کی نالی، پیٹ، امعاء اور اندرونی بیرونی زخم اور ورم وغیرہ۔ جراثیم ایسے کیڑے ہیں جو آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے۔ البتہ جس مقام پر تعفن ظاہر ہو وہاں پر خوردبینی کیڑوں اور جراثیم کا پیداہوجانا ضروری ہے لیکن ان کیڑوں اور جراثیم کو علاج میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جس مقام پر کیڑے اور جراثیم ہوں وہاں کے مفر اعضاء کو تحریک دینے سے یہ کیڑے اور جراثیم نہ صرف خود بخود مر جاتے ہیں بلکہ خود بخود اخراج بھی پا جاتے ہیں۔ ان کو مارنے کے لئے جدا قسم کی ادویات کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کیڑوں میں پیٹ کے اور امعاء کے کیڑوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ پیٹ میں جو کیڑے پیدا ہوتے ہیں اکثر قے سے خارج ہوتے ہیں۔ آنتوں میں تین قسم کے کیڑے پیداہوتے ہیں۔ اول: کیچوے جولمبے لمبے سانپ کی شکل کے ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹی آنتوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ دوسرے: کدو دانے جو کدو دانوں کی شکل کے ہوتے ہیں۔ یہ بڑی آنتوں میں پیداہوتے ہیں۔ تیسرے: چنچے جو باریک اورچھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ مقعد کے اندر رہتے ہیں۔ اقسام کے لحاظ سے ان کی تحریکات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ اگر چھوٹی آنتوں میں کیڑے ہوں تو عضلاتی اعصابی تحریک ہوتی ہے اور بڑی آنتوں میں ہوں تو عضلاتی غدی تحریک ہوتی ہے اور مقعد میں ہوں تو غدی عضلاتی تحریک ہوا کرتی ہے۔ باقی جسم میں جہاں میں کیڑے اور جراثیم ہوں تو اپنے اپنے مقام کی صورت میں ان تحریکات کو سمجھا جاسکتا ہے۔

پتھری

مختلف جوف دار اعضاء میں جہاں پر رطوبات کا اخراج ہوتا ہے وہاں پر راستوں کی تنگی اور مواد کے لیسدار ہونے کی وجہ سے وہاں پر مواد کے باربار گرنے سےرفتہ فتہ وہاں پر خشک اور سخت ہوکر پتھرکی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اگر مواد لیسدار کم ہوتو ریگ کی صورت میں خراج ہوتا ہے۔ یہ پتھریاں خاص طورپرجگر، گردہ، حالبین، و مثانہ میں پائی جاتی ہیں۔ ان کی تحریک عضلاتی غدی اور غدی عضلاتی ہوتی ہیں۔

غشی اور بے ہوشی

غشی اور بے ہوشی دو ایسی علامات ہیں جن کا تعلق تو قویٰ اور حواس کے ساتھ ہے۔ مگر امراض کی صورت میں تمام جسم کے ساتھ ہے۔ یعنی جسم میں کسی مرض اور علامات میں شدت پیداہوجائے تو غشی اور بے ہوشی کی نوبت آجاتی ہے۔فرنگی ڈاکٹروں نے غشی اوربے ہوشی کو ایک ہی چیز لکھا ہے۔ صرف کمی بیشی کا فرق لکھا ہے۔ یعنی اگر تکلیف خفیف ہوتو غشی اور اگر تکلیف زیادہ ہوتو پھر بے ہوشی ہوجاتی ہے لیکن بالکل غلط ہے۔ جاننا چاہیےکہ غشی ضعف عضلات اور قلب کانام ہے۔ اور بے ہوشی اعصاب و دماغ کے شدید ضعف کانام ہےجو انتہائی تحلیل سے پیداہوتی ہےچائے یہ تحلیل رفتہ رفتہ پیداہویاوقتی طورپر کسی شدید تکلیف یا حادثہ میں واقع ہوجائے مثلاً استفراغات کی کثرت، بھوک کی شدت، ناقابلِ برداشت درد، بخار کابڑھ جانا، زہر یا کسی زہریلے مادہ کے اثرات، کیفیات کی تیزی، نفسیاتی اثرات کی شدت، جیسے غم، غصہ اور خوف و خوشی کے ناقابلِ برداشت حالات، جن کے بعد بعض دفعہ موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ اسی طرح زہریلے جانوروں کا ڈسنا یا وحشی جانوروں کا حملہ کرنا وغیرہ۔

حرکاتِ جسم کی زیادتی سے تکلیف

جسم کے بعض امراض و علاما ت میں ذرا بھی اِدھر اُدھر حرکت کی جائے تو ان میں تکلیف پیداہوجاتی ہے یاشدت ہوجاتی ہے۔ ایسی صورت میں عضلات و قلب میں سوزش ہوتی ہے۔ حرکت سے جسم میں خشکی پیداہوتی ہے۔

آرام کی صورت میں تکلیف

مندرجہ بالا علامات کے خلاف جب آرام کیا جائے تو تکلیف بڑھ جاتی ہے اور طبیعت حرکت کرنے سے آرام پاتی ہے۔ ایسی صورت میں اعصاب و دماغ میں سوزش اور تیزی ہوتی ہے۔ آرام سے جسم میں رطوبات کی زیادتی ہو جاتی ہے۔

خلطی کیفیاتی اثرات

جسم میں کیفیاتی اثرات کی زیادتی بھی امراض و علامات میں شدت پیداکردیتی ہے۔ ان کا مفرد اعضاء (انسجہ۔ ٹشوز) پر مندرجہ ذیل صورت میں اثر پیداہوتا ہے۔

1۔ گرمی خشکی (غدی عضلاتی)یہ صفرا کا مزاج ہے۔

2۔ گرمی تری (غدی اعصابی) یہ خون کا مزاج ہے۔

3۔ سردی تری (اعصابی عضلاتی) یہ بلغم کا مزاج ہے۔

4۔ سردی خشکی (عضلاتی اعصابی) یہ سودا کا مزاج ہے۔

نفسیاتی اثرات

جذبات کا بھی نفسیاتی طورپر جسم میں گہرا تعلق ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کم و بیش انسان ہر وقت کسی نہ کسی جذبہ سے سرشار رہتا ہے۔ اس طرح انسان کے کسی نہ کسی عضو پر اثر پڑتا رہتا ہےیا کسی نہ کسی عضو کی تیزی سے کوئی نہ کوئی جذبہ بیدار ہوتا رہتا ہے یا شدت اختیار کرتا رہتا ہے۔ اس طرح معالج مرض کے راز اور خفیہ حالات سے واقف ہوسکتا ہے۔ اس علم کا نام نفسیاتی منافع الاعضاء(Psychology) ہے۔ لیکن جس طرح فرنگی طب غلط ہے۔ اس طرح وہ اس علم سے بھی پورے طورپرواقف نہیں ہے۔ یہ شرف تحریک تجدید طب کو ہے کہ وہی پہلی بار دنیائے طب میں فن کو علمی طورپر (Scientifically) پیش کر رہا ہے۔یہ مبالغہ نہیں ہے۔ فرنگی طب اور ماڈرن سائنس نظریہ مفرداعضاء سے واقف نہیں ہے۔ اس لئے وہ اس علم کی مبادیات سے بھی آگاہ نہیں ہے۔ جو کچھ علم اس کے پاس ہے وہ عطائیانہ ہے۔ اثرات درج ذیل ہیں۔

1۔ مسرت (عضلاتی غدی)۔2۔لذت (عضلاتی اعصابی)۔3۔غصہ (غدی عضلاتی)۔4۔غم (غدی اعصابی)۔5۔ ندامت (اعصابی غدی)۔6۔ خوف (اعصابی عضلاتی)۔

تحریکات کبھی بیک وقت پیداہوتی ہیں اور کبھی رفتہ رفتہ عمل میں آتی ہیں۔ جذبات نفسیاتی طورپرایک قسم کا انسانی مزاج بن جاتے ہیں۔اگر نفسیاتی طورپر انسان کے جذبہ کو بدل دیا جائے تو بھی انسان کا علاج ہوجاتا ہے۔یہ تبدیلی بھی نظریہ مفرد اعضاء کے قانون کے تحت ہوجاتی ہے۔ قدیم اخلاقی کتب میں اس کو روحانی علاج لکھا ہے۔

علاماتِ خاص

اوپر جو علامات بیان کی گئی ہیں یہ علامات عامہ ہیں۔ جن کا تعلق تمام جسم کے ساتھ ہے۔ ذیل میں علاماتِ خاصہ بیان کی جاتی ہیں۔ جن کا تعلق جسم کے مختلف حصوں کے ساتھ ہے۔

شقیقہ

آدھا سیسی ، وہ دردجو آدھے سر میں ہوتا ہے۔ فرنگی طب تسلیم کرتی ہے کہ یہ درد سر کے نصف طول (لمبائی) میں دائیں یا بائیں طرف لاحق ہوا کرتا ہے اور اکثر دوری ہوتا ہے۔ لیکن یہ غلط ہے۔ شقیقہ وہ درد سر ہےجو نصف طول میں صرف بائیں طرف ہوتا ہے۔ یہ درد سر غدی عضلاتی ہے، گویا گرمی خشکی سے لاحق ہوتا ہے۔

عصابہ

درد ابرو، وہ درد سر جوسر اور ابرو میں ہوتا ہے۔ عصابہ کے معنی پٹی کے ہیں۔ جیسے کسی نے دونوں ابرؤں کے اوپر پٹی باندھ دی ہو۔ جالینوس کا قول نقل کرتے ہیں کہ وہ بیان کرتا ہے کہ شقیقہ سر کے طولانی حصہ میں لاحق ہوتا ہے۔ مگر عصابہ کا احساس عرض میں ہوا کرتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ عصابی سر کے دائیں طرف کا درد ہے۔ چونکہ یہ عصبی درد ہے اس لئے اس کااحساس باہر کی طرف ہوتا ہے اور شدت کے وقت دوسرے ابرو تک پھیل جاتا ہے۔ بلکہ بعض وقت تمام سر کے گرد پٹی معلوم ہوتی ہے اور بعض اوقات سارا سر درد کرتا ہے۔ یہ درد سر (اعصابی عضلاتی) ہے۔ دائیں طرف سے اس کی ابتدا ہوتی ہے اور یہ سردی تری سے ہوتا ہے۔ اس لئےعصابہ اور شقیقہ میں سردی اور گرمی کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے شقیقہ طلوع آفتاب کے بعد بڑھتا ہے اور غروبِ آفتاب کے بعد بند ہوجاتا ہے۔ لیکن عصابہ رات کو بھی قائم رہتا ہے۔

سدردوار

سر چکرانا، چونکہ چکروں کا تعلق سر کے ساتھ ہے اس لئے اس کو سر کے تحت لکھ دیاگیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ چکروں کا تعلق حرکت سےہے۔ گویا عضلات کو قابو نہیں ہے۔ اس لئے اس کو دل و عضلات میں ہونا چاہیے۔ کبھی عضلات میں تحلیل ہوتی ہے اور کبھی عضلات میں تحریک ہوکراعصاب میں تحلیل ہوتی ہے۔ اس صورت کو غشی اور بے ہوشی کی ابتدائی صورت کو سمجھ لینا چاہیے لیکن تکلیف زیادہ تر دماغی عضلات میں ہوتی ہے۔

سرسام

دماغ یا پردہ۔ دماغ کے اورام کا نام ہے۔

سبات و سہر

نیند اور بیداری، ان علامات کو بھی سر کے ساتھ متعلق کرنا صرف اس لئے ہے کہ سوزش و تحریک یا مادہ کا تعلق دماغ اور اس کے پردوں کے ساتھ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں علامات عضلات کے تحت آنی چاہئیں کیونکہ ان میں حرکات میں افراط و تفریط پیدا ہوجاتی ہے۔

نسیان

بھول جانا یا یاد داشت کا ختم ہوجانا۔ اس کا اصل سبب دماغ اور اس کے پردوں پر بلغم اور رطوبات کی زیادتی ہے۔ اس میں کبھی اعصابی غدی تحریک ہوتی ہے اور کبھی اعصابی عضلاتی ہوتی ہے۔

مالیخولیا اور جنون

چونکہ ان علامات کا تعلق بھی دماغ اور اس کے پردوں کے ساتھ ہے۔ جس کے برعکس ان کی رطوبات خشک ہوجاتی ہیں لیکن حقیقت میں اس کا تعلق عضلات کے ساتھ ہے۔ اس میں انسانی حرکات بے چینی اور اکثر شدت اختیار کرلیتی ہیں۔ اس کی دو صورتیں ہیں عضلاتی اعصابی (سوداوی) اور غدی عضلاتی (صفراوی)۔ پہلی صورت کو مالیخولیا اور دوسری صورت کوجنون کہتے ہیں۔

صرع ، مرگی

صرع کے معنی ہیں گرنا، اس کو دماغی اور اعصابی مرض کہا گیا ہے اگرچہ اس مرض میں گرنا اور دورہ کے وقت غیر معمولی اور تشنج کی حرکات کا ہونا عضلاتی علامات ہیں۔ لیکن یہ علامات ردعمل کی ہیں اس لئے اس کو خالص دماغی مرض کہنا چاہیے ۔ اس کی تین صورتیں بیان کی ہیں۔

 اول: دماغ جس میں زہریلا مادہ دماغ میں ہوتا ہے۔

 دوسرے: معدی جس میں زہریلا مواد معدہ میں تیار ہوتا ہے۔

تیسرے: اطرافی جس میں زہریلا مواد اطراف میں تیار ہوتا ہے۔

لیکن حقیقت میں یہ صرف اعصابی مرض ہے۔ اس کی اول تحریک اعصابی عضلاتی ہوتی ہے۔ دوسری تحریک اعصابی غدی ہوتی ہے اور جب دونوں تحریکوں میں رطوبت خشک ہوجاتی ہیں۔ لیکن زہریلا مواد باقی رہتا ہے تو پھر یہ تحریک عضلاتی اعصابی ہوجاتی ہے۔ اس کو صرع سوداوی کہتے ہیں۔ نسیان کواس کی ابتداخیال کرنا چاہیے۔ بلغم کی زیادتی اور اس میں زہرپیداہوجانے سے اعصاب میں تحریکات پورے طورپر قائم نہیں رہ سکتیں۔ مریض گر جاتا ہے پھر رد عمل کی حرکات سے ان میں تحریکات جاری ہوجاتی ہیں۔ مرگی کے دورے اس وقت زیادہ پڑنے لگتے ہیں جب پانی یا آگ یا کسی اور چمک کا مریض پر اثر پڑتا ہے جس سے رطوبات اور بلغم میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

ام الصبیان

بچوں کی مرگی، اس کی ماہیت بالکل صرع کی سی ہے۔ بچوں میں چونکہ رطوبت زیادہ ہوتی ہے اس لئے ان میں یہ علامت زیادہ پائی جاتی ہیں۔ اس لئے ام الصبیان کے نام سے اس علامت کو جدا قائم کیاگیاہے۔ البتہ اس امر کو ذہن نشین کرلیں کہ بچوں میں ایک علامت "پسلی چلنا” بھی ہوتا ہے۔ جو دراصل ذات الجنب ہے اور صفرا سے ہوتی ہے۔ جس کی تحریک غدی عضلاتی ہے لیکن ام الصبیان سردی سے ہوتا ہے۔ اس کی تحریک اعصابی عضلاتی یا اعصابی غدی ہوتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ ام الصبیان میں تشنج ہوتا ہے مگر پسلی نہیں چلتی اور نہ درد ہوتا ہے۔ ذات الجنب کی تشریح اپنے مقام پر دیکھیں۔

سکتہ

جسم انسان میں حس و حرکت دونوں کا بند ہوجانا،اس علامت میں دفعۃًحس و حرکت دونوں بند ہوجاتی ہیں۔ دراصل یہ دماغی علامت ہے۔ اس میں حرکت کے اعصاب میں تحریکات رک جاتی ہیں۔ جس کا سبب دماغ بطون شریفہ میں سدہ تامہ کاواقع ہونا یا بلغم اور خون کااس میں زیادہ بہہ کر ان کے افعال کو معطل کردینا ہے۔ بلغم کی صورت میں تحریک اعصابی عضلاتی ہوتی ہے اور خون کی صورت میں عضلاتی اعصابی تحریک ہوتی ہے۔ ان اندرونی صورتوں میں پرانے امراض یا جسم میں کسی قسم کا زہروں کا پیداہونا ہے۔ ان کے علاوہ بیرونی طورپرضربہ و سکتہ اور صدمہ و ایذا سے بھی یہی کیفیت پیداہوجاتی ہے۔ گویا ایک قسم کی موت ہوتی ہے لیکن یہ حقیقی موت نہیں ہوتی اس لئے مریض کی پوری تسلی کرکے اس کو دفن کرنا چاہیے۔ پوری تسلی کے لئے دل کی حرکت اور آنکھوں کی پتلیوں کا پورا معائنہ کرلینا چاہیے کیونکہ نبض ختم ہوچکی ہوتی ہے۔

کابوس

نیند کی حالت میں تمام جسم خصوصاً سینہ پر بوجھ معلوم ہونا۔ بعض وقت کسی انسان یا غیر انسان کا جسم پر بیٹھے ہوئی معلوم ہونا۔ نیند میں شور کرنا، مگر آواز کانہ نکلنا اور نہ حرکت کر سکنا، یہ دراصل سکتہ کی ابتدائی حالت ہے جس میں بلغم اور ریاح کی زیادتی سے سینہ اور دماغ پر دباؤ پڑجاتا ہے اور تحریک رکتی معلوم ہوتی ہے۔ بعض دفعہ اس طرح موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔

رعشہ

جسم کے کسی حصہ خصوصاً ہاتھ پاؤں کا کانپنا، بعض لوگوں کے ابرو میں بھی یہی حرکت دیکھی گئی ہے۔ دراصل یہ سکتہ کا ابتدائی درجہ ہے۔ اس میں حرکات کی مکمل طورپر حس خراب نہیں ہوتی۔ کچھ حس کی خرابی سے عمل اور ردعمل جاری  رہتا ہے۔ اس لئے رعشہ کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔جسم میں سردی زیادہ ہوتی ہے اور اکثر نفع بھی ہوتا ہے۔ اس کی تحریک عضلاتی اعصابی ہوتی ہے۔

رمد

آنکھ دکھنا، آنکھ کا پردہ ملتحمہ کا ورم ہوتاہے۔ اس کی ابتدا اگر دائیں طرف سے ہوتو اعصابی عضلاتی ہے اور اگر بائیں طرف سے ہوتو غدی عضلاتی ہوتا ہے۔

سلاق

اس مرض میں پپوٹوں کے کنارے سرخ اور موٹے ہوجاتے ہیں اور پلکیں گرنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس مرض کو بامنی بھی کہتے ہیں۔ یہ پپوٹوں کی سوزش ہے جس طرف ہو گی اس کی تحریک جداہوگی لیکن جب دونوں طرف ہوتو ایک ہی تحریک اسی مفرد عضو میں پھیل جاتی ہے۔

شترہ

پپوٹوں کا چھوٹا ہوجانا۔ اس کا تشنج ہے ۔ عضلاتی اعصابی تحریک ہے۔

پڑبال

پلکوں میں زائد بال پیداہوجانا یا ان کا اندرکی طرف مڑ جانا، جسم میں بالوں کے مواد کا زیادہ ہونا اور پلکوں میں اندر کی تحریکات کاپیداہوجانا، جس سے زائد بالوں کی پیدائش شروع ہوجاتی ہے۔ یہ عضلاتی اعصابی (سوداوی) تحریک ہوتی ہے۔

شب کوری

اس کورتوندی بھی کہتے ہیں۔ اس علامت میں مریض رات کے وقت نہیں دیکھ سکتا۔ یہ علامت سردی تری سے پیداہوتی ہے۔ اعصابی عضلاتی تحریک ہےجو رطوبات کی زیادتی سے پیداہوتی ہے۔ اس کا اثر اعصاب (دماغ)پر اثر کرکے ان کی تحریکات کو روک دیتا ہے۔ جس میں سے روشنی اندر پورے طورپر داخل نہیں ہوسکتی۔ اندھیرا جسم میں اعصابی تحریک کو بھی بڑھادیتا ہے۔

روزکوری

اس علامت میں دن کے وقت کم دکھائی دیتا ہے یا آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ یہ علامت بالکل شب کوری کے برعکس ہے۔ اس میں روشنی کی برداشت کم ہوجاتی ہے اور دیکھنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ اس میں ایک صورت یہ ہے کہ پردہ شبکیہ میں کچھ سیاہی کی کمی بھی واقع ہوجاتی ہے جو روشنی کوبرداشت کرتی ہے۔

دھند

آنکھ پر غبار کا ایک پردہ سامعلوم ہوتا ہےگویااس میں آنکھ کی شفائیت پر گندلا پن چھایا رہتا ہے اور ظلمت ِ بصر لاحق ہوجایا کرتی ہے۔ اس علامت میں کبھی کبھی رطوبات کا اخراج بھی ہوتا ہے۔ دراصل یہ رطوبات کی زیادتی ہےجو آنکھوں میں بھری رہتی ہے۔ یہ نزلہ زکام کی علامت ہے۔

سبل

اس علامت میں آنکھوں کی رگیں پھول کر ایک سرخ پردہ سا بن جاتا ہے۔ ساتھ ہی آنکھوں سے پانی بھی بہتا ہے۔ عضلاتی اعصابی تحریک ہے۔ "سبل” کے معنی آنسو بہنے کے ہیں۔

ظفرہ اور ناخونہ

ناخونہ ایک سخت جھلی سی ہوتی ہے جو اندرونِ گوشہ چشم سے کبھی بیرونی گوشہ چشم سے اور کبھی دونوں گوشوں سے شروع ہوکر تمام آنکھ پر پھیل جاتی ہے لیکن اکثر صرف سفیدی چشم تک رہتی ہے۔ بہت کم ساری چشم کو پوشیدہ کرتی ہے۔ دراصل یہ ایک زیادتی ہے جو طبقہ ملتحمہ کے قریب واقع ہوجاتی ہے۔ اس کو ناخونہ اس لئے کہتے ہیں۔ کہ یہ زائدجھلی ناخون کی قبیل سے ہے اور اسی کی طرح سخت ہوتی ہے۔ بعض نے ظفرہ اور سبل کو ایک ہی چیز لکھا ہے اور فرق یہ ہے کہ ظفرہ گوشہ چشم تک محدود ہے لیکن سبل تمام آنکھ پر پھیل جاتا ہے۔ لیکن یہ غلط ہے۔ کیونکہ سبل کوئی زائد جھلی نہیں ہوتی بلکہ آنکھوں کی رگیں ہی خون کے دباؤ سے پھول کر سرخ ہوجاتی ہیں۔

طرفہ

یہ ایک سرخ یا سیاہ یا نیلے رنگ کا نقطہ ہوتا ہے جو چوٹ لکگنے سے آنکھ کی سفیدی پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ گاہے قے کی شدت، حرکت یا جوش خون سے کسی رگ کامنہ کھل جانے سے واقع ہوتاہے۔

غرب

یہ ناسور ہے جو اندرونی گوشہ چشم میں پیداہوجاتا ہے۔ اس میں اکثر زرد پانی یا پیپ بہتی رہتی ہے۔

بردہ

آنکھ کے پپوٹے میں سخت و سفید ابھار یا دانے کا پیداہوجانا اور کبھی اندر ہوتا ہے اور کبھی باہر ہوتاہے۔

شعیرہ

گوہانجنی ، جو پلک کے کنارے ایک لمبوتری شکل کا ورم ہے۔

نزول الماء

موتیا بند ایک رطوبت غریبہ ہے جو نزلہ کی شکل میں بتدریج یا کبھی یک بارگی ان قصبہ غبیہ میں ٹھہر جاتی ہے۔ جب یہ رطوبت زیادہ غلیظ ہواور پردہ کے تمام سوراخ پر چھا جائے تو نظر بند ہوجاتی ہے۔ اگر کچھ خالی رہے تو کم و بیش بینائی باقی رہتی ہے لیکن رطوبت اگر رقیق ہوتو بھی اس سے روشنی آفتاب یا چراغ کا پتا چلتا رہتا ہے۔ اس کا صحیح علاج دستکاری ہے۔ لیکن جب تک بینائی مکمل بند نہ ہوجائے دستکاری(Operation) مفید نہیں ہے۔

رعاف

نکسیر (رعاف) ناک سے خون جاری ہونے کو کہتے ہیں۔

بواسیر الانف

ناک کی بواسیر: ناک کے اندر زائد گوشت کا پیداہوجاناہے۔ چونکہ ناک کی اندرونی رگوں میں تیزی اور دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے اس کی شکل بواسیر کے مسوں کی طرح ہوتی ہے۔ اس لئے اس کوناک کی بواسیر کہتے ہیں۔ عضلاتی اعصابی تحریک ہے۔

عطاس

زیادہ چھینکیں آنا اعصابی عضلاتی تحریک ہے اور کبھی عضلاتی اعصابی بھی ہوتی ہے۔

بواسیر الشفت

لب کی بواسیر: اس کی صورت بھی بالکل بواسیر کے مسوں کی ہے۔ اکثر زیریں لب اور کبھی دونوں لب موٹے ہوکر پھٹ جاتے ہیں اور ان پر توت کی مانند مسوں کے ابھار نمایاں ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے کبھی خون اور کبھی رطوبت کااخراج ہوتا ہے۔ عضلاتی اعصابی (سرد خشک)تحریک ہے۔ اس علامت میں مسے اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ لب لٹک جاتے ہیں۔

دانتوں کی آب کا زائل ہوجانا

دانتوں کے اوپر ایک چمک دار مادہ ہوتا ہےجو اتر جاتاہے۔جس سے دانتوں کی آب ختم ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں ان میں گرم سرداشیاء برداشت کرنے کی طاقت نہیں رہتی۔ ان کو سردی گرمی پہنچنے سے تکلیف ہوتی ہے بلکہ سخت اشیاء کوچبانا مشکل ہوجاتا ہے۔اس کی تحریک عضلاتی غدی یا غدی عضلاتی ہوتی ہے۔ جس سے جسم میں چونے (Calcium)کے اجزاء ختم ہوجاتے ہیں۔

دانتوں کا ٹوٹنا اور ریزہ ریزہ ہونا

دانتوں کی آب زائل ہوجانے کے بعد دانتوں میں قوتِ برداشت ختم ہوجاتی ہے اور روزبروز کمزورہوکر ٹوٹنا اور ریزہ ریزہ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

دانتوں کا بڑھنا

خون میں حیوانی مادہ(Phosphors) کی زیادتی سے دانتوں کے زیادہ بڑھنے اور باہر کی طرف پھیلنے کی حالت پیداہوجاتی ہے۔ اس میں اعصابی غدی تحریک ہوتی ہے۔

دانتوں کا پیسنا

بعض لوگ خاص طورپر بچے اور عورتیں نیند میں دانت پیستی ہیں۔اس کی جڑوں کے عضلات میں تشنج ہوتا ہے۔ جو ریاح کی زیادتی سے پیداہوجاتا ہے۔

خناق

حلق کا ورم عضلاتی اعصابی تحریک شدید ہے۔

بحت الصوت

آواز کا بیٹھ جانا۔ یہ عضلاتی غدی تحریک سے ہوتا ہے۔

دمہ

تنگی تنفس پھیپھڑوں کی علامت ہے۔ کبھی یہ علامت اعصابی ہوتی ہے تو کبھی عضلاتی اور کبھی غدی ہوتی ہے۔ اس میں سانس میں تنگی آجاتی ہے۔

کھانسی

پھیپھڑوں کی غیر طبعی حالت ہے جس میں ان کو تکلیف کی وجہ سے دفعتاً ایسی بے چینی پیداہوتی ہے جس سے گلے میں آواز پیداہوتی ہے جیسے اچانک چھینک پیداہوتی ہے۔ یہ دمہ کی ابتدائی صورت ہے۔

منہ سے خون آنا

یہ خون منہ میں مسوڑھوں سے لے کر حلق، پھیپھڑوں اور معدہ میں سے کسی مقام سے آسکتا ہے۔ عام طورپر پھیپھڑوں کے مقام پر دلالت کرتا ہے۔یہ عضلاتی اعصابی تحریک ہے۔

سل

عام طورپر پھیپھڑوں کے زخم کو کہتے ہیں۔ لیکن ہر اندرونی زخم جس میں پیپ پڑ جائے سل کہا جاتا ہے۔ غدی عضلاتی تحریک ہوتی ہے۔

پہلو کا درد (ذات الجنب)

سینہ کی اندرونی جھلی غشائے مخاطی میں سوزش ہوتی ہے۔غدی عضلاتی تحریک ہے۔ یہ درد کبھی پھیپھڑوں میں نہیں ہوتا۔ یہ ہمیشہ بائیں طرف سے شروع ہوتا ہے۔اس کے برعکس پھیپھڑوں کا ورم عضلاتی اعصابی ہے اور ہمیشہ دائیں طرف سے شروع ہوتا ہے۔

خفقان

دل دھڑکنا۔ عضلاتی اعصابی تحریک ہے۔

جوع البقر

(بیل کی بھوک ) یہ وہ مرض ہے کہ جس میں باوجودیہ کہ اعضاء کو غذا کی ضرورت ہوتی ہے مگر معدہ بالکل بھوک محسوس نہیں کرتا۔ بھوک بالکل جاتی رہتی ہےاور کھانے کی بالکل خواہش نہیں ہوتی۔ انسان کمزور ہوجاتا ہے۔ اعصابی عضلاتی تحریک ہوتی ہے۔

جوع الکلب

اس مرض میں اس قدر سختی سے بھوک لگتی ہے کہ بہتیری غذا کھانے کے بعد پیٹ نہیں بھرتابلکہ خواہش باقی رہتی ہے۔ گویامثل کتے کے اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی۔ چاہے کتنا ہی کھائے اس کی حرص ختم نہیں ہوتی۔ یہ عضلاتی اعصابی تحریک ہے۔

قے

معدہ کی وہ حرکت ہے جس کے ساتھ منہ سے غذایا کوئی مادہ خارج ہو جب حرکت توہو مگر کچھ خارج نہ ہواس کو ابکائی کہتے ہیں۔ اور جب حرکت بھی نہ ہو یوں ہی طبیعت بے چین ہوتو اس کا متلی کہتے ہیں۔ یہ اعصابی عضلاتی تحریک ہوتی ہے صرف کمی بیشی کا فرق ہے۔

ہچکی

(فواق): ایک ایسی علامت ہے جس میں یکبارگی منہ سے ایک آواز پیداہوتی ہےجو معدہ سے اٹھتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ یہ معدہ میں اچانک حرکت سے ہوتی ہے۔یہ علامت معدہ کے عضلات اور حجاب معدہ میں تشنج سے پیداہوتی ہے۔ اس تشنج کاسبب سوزشِ عضلات ہوتا ہے جو کبھی ورم اور زخم کی صورت بھی اختیار کر لیتا ہے۔ معدہ کی یہ حرکت گویا کسی ایذا (تکلیف) کو رفع کرنا مقصود ہوتاہے۔ شدید امراض میں ہچکی کاپیدا ہوجانا اکثر خطرناک ہواکرتا ہے۔

پیاس

(العطش): پیاس کے متعلق یہ ذہن نشین کرلیں کہ پیاس کبھی اس چیز سے نہیں بجھتی جو کچھ کہ پیاجاتا ہے بلکہ اس رطوبت سے بجھتی ہے جو خون سے معدہ میں ترشہ پاتی ہے۔ اس طرح جسم میں کسی مقام کی جلن بھی اسی رطوبت سے دورہوتی ہے۔ پانی یا شربت دیگر پینے کی اشیاء تو صرف اس رطوبت کے اخراج کا باعث بن جاتی ہیں۔ اگر ضرورت پانی کی پیاس ہوتی ہےتو فوراً وہ بجھ جاتی ہے۔اگر کوئی تکلیف ہوتی ہے تو وہ پیاس پانی سے نہیں بجھتی ۔ اس کو پیاس کاذب یا مرض کی علامت کہتے ہیں۔یہ اعصابی غدی یا اعصابی عضلاتی تحریک ہوتی ہے۔

ہیضہ

معدہ و امعاء کی ایسی حرکت ہے جس میں پیٹ کے درد یا بغیر درد کے قے کبھی اسہال شروع ہوجاتے ہیں۔ اکثر دونوں شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ اول سادہ جواعصاب کی تحریک سے عمل میں آتی ہے اور دوسرے متعفنہ جو اعصابی تسکین میں تعفن پیداہونے سے ہوتی ہے۔جس کو عام طورپر وبائی کہتے ہیں۔ لیکن ضروری نہیں کہ یہ صورت صرف وبا میں پیداہو۔ ہر زمانے میں بغیر وبائی ایام کے بھی پیداہوسکتی ہے۔ اس کی وبائی صورت اس وقت تسلیم کرتے ہیں جب موسم و ماحول اور آب و ہوا میں ایسے اثرات پیداہوچکے ہوں جو اعصابی تحریک میں فوراً تعفن پیداکر دیں۔ اس کو فوراً روکنے کی کوشش نہ کریں جب تک زہریلے مواد اخراج نہ پا لیں ۔ یعنی ایک تحریک کومکمل کرلیں پھر دوسری تحریک کی طرف رجوع کریں۔ ہیضہ میں اعصابی غدی یا اعصابی عضلاتی تحریکیں ہوتی ہیں۔

قےالدم

(خون کی قے) یہ قے صرف مری اور معدہ تک محدود ہے۔

یرقان

استسقاء کی ابتدائی صورت ہے۔ جس میں جگر سے صفرا کا اخراج رک جاتا ہے۔ اس کو زرد یرقان (Hepatitis B)کہتے ہیں۔اور جب طحال اپنی رطوبات کو کیمیائی طورپر اخراج کرنابند کردیتی ہے تو جسم میں سیاہ رنگ کا یرقان (یرقان اسود)(Hepatitis C)کہتے ہیں۔اور جب دماغ اپنی رطوبات(Phylum)کو اخراج کرنابند کردیتا تو جسم میں سفیدی غالب آجاتی ہےجس کو یرقان ابیض (Hepatitis A)کہتے ہیں۔

مسہل

امعاء کے فعل کو تیز کرکے شکم کے مواد کو خارج کرنا، شکم میں معدہ و امعاء اور جگر و طحال دونوں شامل ہیں۔ آنتیں چونکہ مرکب عضو ہیں۔ اور اس میں اعصاب، غدد اور عضلات تمام شریک ہیں۔ اس لئے جو مفرد عضو(نسیج) تیز ہوجاتا ہے پاخانے شروع ہوجاتے ہیں۔ اس لئے پاخانہ لانے کے لئے یا قبض کرنے کے لئے ان کی تحریکات کو تیز اور سست کرنا چاہیے۔ ہم نے تین مفرد اعضاء کی چھ(6) مرکب صورتوں کے لئے چھ عدد مسہلات لکھے ہیں۔ دیکھیں "تحقیقات فارماکوپیا”۔

زحیر

(پیچش): آنتوں کی شدید سوزش ہے۔ جس میں غدی عضلاتی تحریک ہوتی ہے۔

قولنج

ایسی علامت ہے جس میں امعاء قولون کے اندر درد ہوتا ہے۔ فرنگی طب نے اس کو زحیر لکھا ہے جوغلط ہے۔ جاننا چاہیے کہ امعاء قولون مرکب عضو ہے اس میں بھی کبھی درداعصابی، کبھی غدی اور کبھی عضلاتی ہوتا ہے۔ ہر ایک کی علامات ان کے مطابق ہوتی ہیں۔

کانچ نکلنا

مقعد کا ڈھیلا ہونا۔ ضعف عضلاتِ مقعد ہے۔

بواسیرِ مقعد

بواسیر مقعد پر ریاح کا غیر معمولی دباؤ ہوتا ہے۔ دباؤ کی وجہ سے مقعد کی وریدوں کے سرے بڑھ کر مسے بن جاتے ہیں۔ جاننا چاہیے کہ وریدوں کے سروں پر غدد لگے ہوتے ہیں یہ خون کی رطوبات اور ریاح(Gasses)جہاں سے اخراج پاتی ہیں جب عضلات میں تحریک ہوتی ہے تو خون کا دباؤ اس طرف بڑھا جاتا ہے۔ جس سے ریاح کا اخراج رک جاتا ہے اور ساتھ ہی رطوبات رک جاتی ہیں۔ نتیجہ کے طورپر وریدوں کے سروں پر دباؤ بڑھ کر اکثر باریک وریدں پھٹ جاتی ہیں۔ جس سے وریدی خون اخراج پاتا ہے۔ اس کو بواسیر مقعدی کہتے ہیں۔ یہ عضلاتی غدی تحریک ہوتی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسے بن جاتے ہیں لیکن خون نہیں آتا۔ یہ عضلاتی اعصابی تحریک ہوتی ہے۔ جسم میں جہاں بھی کہیں بواسیرکی صورت ہو ہمیشہ یہی شکل ہوتی ہے۔

ذیابیطس

پیشاب میں شکر آنا فرنگی طب تسلیم کرتی ہےکہ جگر کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ لبلبہ کی رطوبت کی مدد سےشکر کو ہضم کرتا ہے اور جب وہ ہضم نہیں کر سکتا تو طبعیت اس کو خون کے لئے خرچ کر دیتی ہے۔ یہ اس کی ماہیت بالکل غلط ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اعصاب میں تحریک پیداہوتی ہے اور اس تحریک کا مرکز خاص طورپر جگر کے ملحقہ اعصاب یا اس کا دماغی مرکز ہوتا ہے۔ جب اعصاب مرکز خاص طورپر جگر کے ملحقہ اعصاب جو اس کا دماغی مرکز ہوتا ہے۔ جب اعصاب میں تحریک ہوجاتی ہے تو غدد میں تحلیل (ضعف) اور عضلات میں سکون ہوجاتا ہے۔اس سے ایک طرف رطوبات خصوصاً پیشاب کا اخراج بڑھ جاتا ہے جب پیشاب کی مقداربڑھ جاتی ہےتو اس میں شکر کااخراج بھی زیادہ ہونا چاہیے۔ دوسری طرف غدد خصوصاً جگر اور لبلبہ کے افعال میں تحلیل (ضعف) واقع ہوجاتا ہے۔جس سے ایک طرف رطوبتِ لبلبہ کی پیدائش بہت کم ہوجاتی ہے تو دوسری طرف جگر کی تحلیل (ضعف) سے وہ شکر کو پورے طورپر ہضم نہیں کرسکتا اورپھریہی غیر منہضم شکر اعصاب میں مزید تحریک بڑھاتی رہتی ہے۔اس طرح پیشاب اور شکر کی زیادتی بڑھتی رہتی ہے۔چونکہ اعصاب میں تحریک قائم ہوتی ہے اس لئے پیاس بھی قائم رہتی ہے۔دراصل ذیابیطس کی حقیقت اور ماہیت یہ ہے جس کو فرنگی طب بالکل نہیں جانتی۔ جاننا چاہیےکہ ایک ذیا بیطس غیر شکری بھی ہوتی ہے اس کی وجہ گردوں کے اعصابی مرکز میں تحریک ہوا کرتی ہے۔ یہی صورت مثانہ کے اعصابی مرکز کی تحریک سے بھی پیداہوتی ہے۔ لیکن ذیابیطس غیر شکری بھی باقاعدہ علاج نہ کرنے پر ذیابیطس میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

بول فی الفراش

نیند میں بستر میں پیشاب کا نکل جانا، اس علامت میں مثانہ کے عضلہ میں سکون سے ڈھیلا پن پیداہوجاتا ہے۔ یہ علامت اکثر بچوں کو ان کے مزاج میں رطوبت کی وجہ سے لاحق ہوجاتی ہے۔۔ اعصابی غدی تحریک ہے۔ پیشاب کا بلا ارادہ نکل بھی تحریک ہوتی ہے۔

بول الدم

پیشاب میں خون آنا۔ یہ غدی عضلاتی تحریک ہے۔

ضعفِ باہ

قوتِ باہ اس قوت کو کہتے ہیں جس کا تعلق مردانہ جنسی قوت کے ساتھ ہے۔ اس میں ضعف واقع ہوجاتا ہے۔ اس کے متعلق فرنگی طب یہ تحقیق ہے کہ اس میں مرد کے اعصاب خصوصاً جنسی اعصاب کمزور ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہ تحقیق غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ضعف کبھی اعصاب ، کبھی غدد اور کبھی عضلات کے ضعف کی وجہ سے ہوتا ہے جو تحلیل سے پیداہوتا ہے۔ کیونکہ جنسی اعضاء صرف اعصاب سے بنے ہوئے نہیں بلکہ اس میں غدد اور عضلات بھی شریک ہیں۔

کجی

(جنسی عضو کاٹیڑھا ہوجانا)۔ اس علامت میں عضو دبلا اور ٹیڑھا ہوجاتا ہے۔ اس میں عضلاتی اعصابی تحریک ہوتی ہے جس سے اعصاب میں ضعف اور غدد میں سکون ہوجاتا ہے۔

فتق

(فوطوں میں آنت کا اتر آنا)۔ اس علامت میں پردہ صفاق کا پھٹ جانا۔ خصیوں میں آنت اتر آتی ہے اور بعض وقت اس میں اتری ہوئی آنت میں ہوا بھر جاتی ہے۔

اختناق الرحم

رحم کا گھٹ جانا۔ یہ ایک ایسی علامت ہے جس میں مریضہ کو ایک دورہ سا پڑتا ہے اور دم گھٹ کر غشی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔جب مریضہ کو ہوش آتی ہے تو وہ کہتی ہے کہ اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی گولا سا گلے کی طرف چڑتا ہے۔اس کے متعلق فرنگی طب کی تحقیق ہےکہ یہ عصبی مرض ہے یا پیٹ میں ہوا کاگولا بن جاتا ہےیا منی کی زیادتی سے شہوانی جذبات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ رحم کے عضلات میں تحریک ہوجاتی ہے۔ اس تحریک شدید سے رحم کے عضلات میں تشنج پیدا ہوتا ہےجس کااثر معدہ، قلب اور پھیپھڑوں کے ساتھ گلے تک پہنچتا ہے۔جس سے سانس کی آمد میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہےاور پھر ایسا معلوم ہوتا ہےکہ کوئی گولا سا گلے کی طرف چڑھ کر پھنس رہا ہے۔ مریضہ میں غشی کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ اختناق کا مطلب گھٹنا ہے اور طبی اصطلاح میں سانس کا گھٹنا ہےجو عضلات میں گھٹن سے پیدا ہوتا ہے۔ چونکہ یہ رحم کے عضلات میں تحریک شدید ہے اس لئے جنسی جذبات میں بھی تحریک پیدا ہو جاتی ہےیا جنسی جذبات میں تحریک سے اختناق الرحم کا مرض پیدا ہوجاتا ہے۔چونکہ عضلاتی تحریک میں شدت ہوتی ہے اس لئے پیٹ میں ریاح کی کثرت ، قلب میں تیزی اور پھیپھڑوں میں خشکی کی وجہ سے اکثر سانس چڑھتی رہتی ہے۔ غیر شادی شدہ عورتوں میں تحریک عضلاتی اعصابی اور شادی شدہ عورتوں میں عضلاتی غدی ہوتی ہے۔ جاننا چاہیئے کہ عورت کی تخلیقی اہمیت کے تحت عورتوں میں عضلاتی تحریک نہیں ہونی چاہیئےاس کی تحریک صرف اعصابی عضلاتی یا غدی عضلاتی تک رہنی چاہیئے لیکن جب ان میں اغذیہ، حرکات یا جذبات کے اثرات سے عضلاتی تحریک شروع ہوجائے تو اکثر اختناق الرحم کی علامت پیدا ہوجاتی ہے۔

نتوء الرحم

رحم کا باہر نکل پڑنا یا کسی قدر نیچے اتر آنا۔عضلات رحم میں رطوبات کے بڑھ جانے سے اس کا جسم پھول جاتا ہے یا وہ کچھ نیچے کی طرف اتر جاتا ہے۔ یہ اعصابی غدی تحریک ہے۔

صلابتِ رحم

رحم کی سختی۔رحم کے عضلات میں مزمن سوزش یا ورم مزمن کا پیدا ہوجانا ہوتا ہے۔ اس میں عضلاتی اعصابی تحریک ہوتی ہے۔کبھی عضلاتی غدی بن جاتی ہے۔ اس علامت میں اختناق الرحم بھی لازم ہوتا ہے اس کا فرق ورم خصیۃ الرحم سے ضرور کرنا چاہیئے، علامت میں غدی تحریک ہوتی ہے۔

ملزف رحم

رحم سے خون بہنا۔ ماہواری یا زچہ کے خون کے علاوہ خون آنا، یہ رحم کی غدی عضلاتی تحریک ہوتی ہےجس میں خون کے دباؤ سے کوئی شریان پھٹ جاتی ہے۔اس کے علاوہ ا ندر زخم ہوجانے سے بھی خون آتا ہے۔ اس تحریک سے خصیۃ الرحم میں سوزش ہو کر بھی خون آنا شروع ہوجاتا ہے، کبھی ماہواری کے خون میں شدت ہوجاتی ہے اور وہ جاری رہتا ہے۔

بانجھ پن

عورتوں میں اولاد کا نہ ہونا۔ اگر یہ مرض عورتوں میں ہو تو اس میں صلابت رحم یا سوزشِ رحم یا ورم رحم ہوتا ہے جو رحم کے مختلف اعضاء میں ہوسکتا ہے۔

اسقاطِ حمل

حمل کا گر جانا۔بعض عورتوں میں حمل تو قرار پا جاتا ہے لیکن ضعف عضلات کی وجہ سے اکثر حمل گر جاتا ہے۔ یہ غدی عضلاتی تحریک ہوتی ہے۔

دقتِ ولادت

بچہ مشکل سے پیدا ہونا۔بعض دفعہ اعصاب میں سکون کی وجہ سے بچے کا رحم میں زیادہ پل جانے کی وجہ سے یا عورت کے نازک مزاج ہونے کی وجہ سے یا بچہ کا ٹیڑھاہونے اور پھنس جانے کی وجہ سے بچہ کی ولادت مشکل ہو جاتی ہے۔یہ غدی اعصابی تحریک ہوتی ہے اور کبھی اسی تحریک کی وجہ سے انول کا اخراج رک جاتا ہے۔

فم رحم کی فراخی

رطوبات کی زیادتی سے فم رحم کی فراخی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ اعصابی غدی تحریک ہوتی ہے۔

حدبہ

کوب۔پیٹھ کے مہروں کا اپنی جگہ سے اکھڑ جانا۔ان کا میلان اگر آگے کی طرف ہوتو اس کو حدبہ مقدم اور اگر پیچھے کی طرف ہو تو اس کو حدبہ مؤخر کہتے ہیں۔ اس علامت میں ریڑھ کے اوپر کی جھلی میں سوزش ہوجاتی ہے جس سے ہڈیوںمیں چونے کے اجزاءپورے طور پر جذب نہیں ہوتے اور وہاں عضلات میں تحلیل ہوجاتی ہے، کبھی سوزش ورم کی صورت بھی اختیار کر لیتی ہے تو اس کو ریاح فراسہ کہتے ہیں۔ یہ تحریک عضلاتی غدی ہوتی ہے۔

وجع المفاصل

جوڑوں کا درد۔ اس علامت میں جوڑوں میں سوجن زیادہو تی ہے اور درد کم ہوتا ہے، عام طور پر بڑے جوڑوں میں ہوتا ہے۔ اس کی تحریک جوڑوں میں اعصابی غدی ہوتی ہے۔

نقرس

جوڑوں کا شدید درد۔ اس علامت میں جوڑوں میں سوجن نہیں ہوتی اور دردشدید ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر چھوٹے جوڑوں سے شروع ہو کر بڑے جوڑوں میں پھیل جاتا ہے ۔ یہ عضلاتی غدی تحریک ہوتی ہے۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ وجع المفاصل بڑے جوڑوں میں ہوتا ہے او ر نقرس چھوٹے جوڑوں میں ہوتا ہے تو یہ غلط ہے۔ در حقیقت بڑے جوڑوں میں رطوبات کی زیادتی باعث تکلیف بن جاتی ہے اور چھوٹے جوڑوں میں رطوبت کی کمی تکلیف کا بن جاتی ہے۔ پھر دونوں علامات چھوٹے بڑے جوڑوں میں پھیل جاتی ہے۔ صرف ابتدا میں یہ فرق معلوم ہوتا ہے یہ تشخیص میں مدد دیتا ہے۔

تحجر المفاصل

جوڑوں کا پتھراجانا۔ بلغم اوررطوبت میں  سردی کی شدت کی وجہ سے جوڑ پتھرا جاتے ہیں اور اکثر اعضاء آپس میں جڑ جاتے ہیں۔ یہ عضلاتی اعصابی تحریک شدید ہوتی ہے۔

عرق النساء

لنگڑی کا درد۔ یہ درد کولہے کے جوڑ سے شروع ہو کر ٹانگ کے بیرونی رُخ پاؤں کی انگلی تک چلاجاتا ہے۔ فرنگی طب میں اس درد کو وجع المفاصل کا درد کہتے ہیں۔ حقیقت میں یہ گردوں کے نقص کی وجہ سے ہوتا ہے اور ہر دو طرف مختلف صورت ہوتی ہے۔ دائیں طرف اس کی تحریک عضلاتی غدی ہوتی ہے اور بائیں طرف اعصابی غدی ہوتی ہے۔

داء الفیل

دوالی۔اس علامت میں پنڈلی کی رگیں فراخ ہو جاتی ہیں، ساتھ ہی رفتہ رفتہ پنڈلی ہاتھی کے پاؤں کی طرح موٹی ہو جاتی ہے۔ اس کو اسی لئے ہاتھی کی بیماری بھی کہتے ہیں۔ اس کی تحریک اعصابی غدی ہوتی ہے۔ یہ اول بائیں پنڈلی سے شروع ہوتی ہے اور پھر دائیں میں پھیل جاتی ہے۔

طاعون

ایک قسم کا غدی ورم ہے۔جو زبان کی جڑ، بغل ، پسِ گوش اور کنج ران وغیرہ مقامات میں ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر وبائی صورت میں ہوتا ہے، جب کہ آب و ہوا  میں خرابی اور عفونت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا اثر چوہوں پر بہت شدت سے ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ بخار بھی لاحق ہوتا ہے۔ اس کی حقیقت یہ کہ غدد جاذبہ کے اندر جو رطوبت ہوتی ہے اس میں تعفن ہو کر ورم پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی تحریک اعصابی غدی ہوتی ہے۔

خنازیر

کنٹھ مالا۔ اس علامت میں گردن کے غدد جاذبہ پھول جاتے ہیں۔ بعض دفعہ ان میں سوزش پیدا ہو کر پھٹ جاتے ہیں اور زخموں کی صورت بن جاتی ہے۔ اس کی تحریک اعصابی غدی ہوتی ہے۔

شریٰ

پتی اچھلنا۔ جسم پر مختلف شکلوں میں دودڑے نکل آتے ہیں۔ جو عام طور پر سرخی مائل ہوتے ہیں ۔ان میں خارش بھی ہوتی ہے۔کبھی یہ پھنسیوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اس کی تحریک غدی اعصابی ہوتی ہے۔

خراج

بڑا پھوڑا۔ عضلاتی ورم ہے۔ اس کا رنگ سرخ اور تحریک عضلاتی غدی ہوتی ہے۔

دبیلہ

بڑا پھوڑا۔ یہ بھی عضلاتی ورم ہے۔ اس کی تحریک عضلاتی اعصابی ہے اور اس کا رنگ سفید ہوتا ہے۔

دمل

پھوڑا۔ یہ غدی ورم ہے۔ اس کا رنگ زرد اور تحریک غدی عضلاتی ہوتی ہے۔

پھنسیاں

اگر باریک ہو ں اور رنگ سفید ہوتو اعصابی سوزش،   یعنی اعصابی غدی تحریک ہوتی ہے، اگر بڑی ہوں اور رنگ زرد ہوتو غدی ہوتی ہیں ، یعنی غدی عضلاتی ہوتی ہے۔

نملہ

یہ ایک قسم کی پھنسی ہے جس میں چیونٹی کے کاٹنے کی تکلیف ہوتی ہے، نملہ چیونٹی کو کہتے ہیں۔ بعض دفعہ بے حد تیز او ر پُر سوزش ہوتی ہے اور ارد گرد پھیل جاتی ہے۔ کبھی بدن کا بہت سا حصہ گھیر لیتی ہے، کبھی کبھی اپنی تیزی کی وجہ سے گوشت کو کھاتی ہے۔یہ تحریک غدی اعصابی ہوتی ہے۔

جمرہ

سرخ رنگ کی چوڑی چوڑی جلن دار پھنسیاں ہیں جو سرخ زردی مائل ہوتی  ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا آگ کے انگارے رکھےہوئے ہیں۔ نار فارسی بھی اسی قسم کی پھنسی ہوتی ہےجو جمرہ سے بھی تیز  ہوتی ہے۔ اس کی تحریک غدی عضلاتی ہوتی ہے۔

آتشک

جسم پر سرخ سفیدی مائل چٹاخ قسم کے زخم ہوتے  ہیں جن میں آگ کی سی جلن بھی ہوتی ہےاس کو آبلہ فرنگ بھی کہتے ہیں۔ بعض اس کو جمرہ نار فارسی کہتے ہیں۔بعض اس کو سوداوی مادہ بھی کہتے ہیں۔ لیکن دراصل یہ اعصابی شدید سوزش ہوتی ہے۔ اس کی صورت مرد میں جنسی اعضاء سے شروع ہوتی ہے۔ اس کی تحریک اعصابی عضلاتی ہوتی ہے۔

خسرہ اور چیچک

چیچک کےدانے مسور کے برابر یا ان سے بھی بڑے ہوتے ہیں، جب وہ پختہ ہوجاتے ہیں تو ان میں پیپ پڑ جاتی ہے۔ مادہ کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔ البتہ تحریک کے اعتبار سے خسرہ غدی عضلاتی تحریک سے ہوتا ہے اور چیچک غدی اعصابی تحریک سے ہوتی ہے۔ دراصل خسرہ و چیچک کے دانے اس وقت نمودار ہوتے ہیں جب عصبی تسکین میں فساد پیدا ہو کر تعفن کی صورت ظاہر ہوتی ہے او ر ساتھ ہی بخار قائم ہوجاتا ہے۔ ان دونوں علامات کو دراصل بخار میں شریک کرتے ہیں۔

کیل مہاسے

بثورلبنیہ۔ ابتدائے جوانی میں چہرے پر سرخ یا سفید رنگ کے دانے  نکل آتے ہیں۔ ان کو دبانے سے روغن زرد کی سی منجمد رطوبت نکلتی ہے۔ یہ غدی عضلاتی تحریک ہوتی ہے۔

داد

قوبا۔ یہ جلدپر کھردرےپن کے ابھار ہیں جن کے کنارے موٹے ہوتے  ہیں، رنگ اکثرسرخی مائل اور کبھی سیاہی مائل ہوتا ہے، ان میں  خارش رہتی ہےاور اوپر سےمچھلی کے چھلکوں کی طرح ریشے اترتے ہیں۔ یہ عضلاتی اعصابی شدید تحریک ہے۔ جب کبھی ان میں شدت اختیار کر جائے تو پھیل کر چنبل کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔

ناروا

رشتہ۔ جلد پر آبلہ نما دانہ نمودار ہوتا ہے۔ البتہ پہلے اس مقام پر سخت خارش اور سوزش ہوتی ہے۔اس دانے میں سوراخ ہو کر اس مین سے رگ کی شکل میں ایک مادہ کبھی سفید سرخی مائل یا سیاہی مائل نکلتا ہے جو رفتہ رفتہ لمبا ہوتا جاتا ہے۔ یہ علامت اکثر پاؤں میں یا ناف کے نیچے اور کبھی ہاتھوں اور پہلوؤں میں بھی ظاہر ہوا کرتی ہے۔ بعض دفعہ رگ جلا کر نیچے جاندار کیڑے کی طرح حرکت کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ زیادہ تر گرم خشک ممالک  میں پائی جاتی ہے، زیادہ تر مدینہ منورہ میں پائی جاتی ہے۔اس کو عرق مدنی بھی کہتے ہیں۔

دراصل یہ غدی فضلات ہوتے ہیں جو کسی غدد میں فساد اور تعفن کے بعد یہ شکل اختیار کرلیتے ہیں اور طبیعت مدبرہ بدن ان کو دفع عضلات کے لئے یہ طریقہ اختیار کر لیتی ہے۔ اس سی رگ کی صورت میں خارج ہونے کی وجہ غدد کا لیسدار مادہ ہوتا ہے۔ بعض حکماء اس کو کیڑا تصور کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ لیسدار متعفن مادہ ہے۔ اگر متعفن مادہ میں کیڑے کی طرح حرکات پیداہوجائیں تو بعید از قیاس نہیں ہے۔ یہ غدی عضلاتی شدیدہوتی ہے۔

جذام

کوڑھ۔ یہ دراصل آتشک کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ جس میں شدت پیداہوجاتی ہے۔ اس میں اعضاءکے اندر اور باہر تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔ مرض کی تیزی سے اعضاء جھڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔ آنکھیں گول، چہرہ خوفناک اور بدن کا رنگ سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔ بال بھی جھڑجاتے ہیں۔ اس علامت کے خوفناک اثر سے اس کو داء الاسد(شیر کی بیماری) بھی کہتے ہیں۔گویا یہ بیماری شیر کو ہوتی ہے اور شیر کی طرح خوفناک ہوتی ہے۔

بالچر

داء الثعلب۔ اس علامت میں جسم خصوصاً سر کے بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ داء الثعلب کے معنی لومڑی کی بیماری ہے۔ گویا یہ بیماری لومڑی کو ہوتی ہے یا شکل میں ان کے بالوں سے مناسبت ہوجاتی ہے یعنی موٹے ہو کر گرنا شروع ہوجاتے ہیں، اس علامت کا اثر کچھ ایسا ہوتا ہےکہ بالوں کی جڑوں میں کوئی ایسا مادہ پیداہوگیا ہے جو اس کو کھائے جا تا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہےکہ بالوں کے ساتھ جسم کی جلد بھی اترنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کو داء الحیہ (سانپ کا مرض) کہتے ہیں۔ اس میں عضلاتی اعصابی تحریک ہوتی ہے۔ بعض دفعہ مادہ شدید نہیں ہوتا، سر کے با ل گرتے نہیں بلکہ پھٹ جاتے ہیں یا گھونگھریالے بن جاتے ہیں، کبھی رنگت میں سرخی پیدا ہوجاتی ہے اور کبھی گنج ہو جاتا ہے۔

بالوں کا سفید ہونا

بالوں کی جڑوں میں رطوبت اور بلغم زیادہ پیداہوجاتی ہےیا خون میں سرخی بہت کم ہوجاتی ہے۔ عام طور پرنزلہ زکام مزمن میں یہ حالت پیدا ہو جاتی ہے۔اس کی تحریک اعصابی عضلاتی ہوتی ہے۔جاننا چاہیئے کہ بالوں کی پیدائش اور رنگت طبعی سودا سے ہے جو خون کا تلچھٹ ہوتا ہے۔ اگر سودا غیر طبعی ہوجائے تو بالوں کے امراض پیداہوجاتے ہیں۔اگر سودا طبعی پیدا بھی نہ ہو تو بال سفید ہوجاتے ہیں۔ اگر سودا غیر طبعی میں فساد اور تعفن ہوجائے تو بال چر وغیر ہ علامات پیدا ہوجاتی ہیں۔

برص

جلد کے نیچے رطوبت اور بلغم میں تعفن پیدا ہو جانے سے جسم پر سفید داغ  پیداہوجاتے ہیں۔ جب ان میں شدت ہوتی ہے تو سفید دانوں کے کناروں پرسرخی یا سیاہی پیدا ہوجاتی ہے۔ جب مادہ بہت کم ہوتو ہلکے سفید داغ ہوتے ہیں ، ان کو بہق یا چھیپ کہتے ہیں۔ اگر مادہ میں فساد اور تعفن نہ ہو اور وہ کافی عرصہ سے جلد کے نیچے رکا رہےتو چھائیاں اور ساہیاں پیداہوجاتی ہے۔یہ راز یاد رکھیں کہ دودھ اور مچھلی کے اکٹھا کھانے سے اکثر برص پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ مچھلی کا گوشت دودھ میں بہت جلد فساد اور تعفن پیداکر دیتا ہے اور باسی مچھلی کا گوشت تو یقیناً فساد اور تعفن پیدا کر دیتا ہے۔ یہ اعصابی عضلاتی تحریک کی شدت سے ہوا کرتی ہے۔

موٹاپا

زیادہ موٹاپا بھی ایک علامت میں شریک ہے۔ اس سے نہ صرف حرکات و سکنات میں تکلیف ہوتی ہے بلکہ زندگی کے لئے خطرات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس علامت سے دل و دماغ پر معمولی اثر پڑتا ہے۔ موٹاپا دو قسم کا ہے ایک میں جسم کے اندر رطوبات اور بلغم پڑ جاتی ہے اور دوسرے میں جسم میں چربی زیادہ ہوجاتی ہے۔اول صورت میں اعصابی عضلاتی ہوتی ہے اور دوسری اعصابی غدی ہوتی ہے۔

دبلا پن

یہ بھی ایک علامت ہےجس میں جسم کے اندر رطوبات و خون اور گوشت و چربی کی غیر معمولی کمی ہوجاتی ہے اور اس سے اس قدر کمزوری ہو جاتی ہے کہ انسان اپنی ضروریاتِ زندگی کو نہ آسانی سے حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی ان کوانجام دےسکتا ہےاور سب سے زیادہ یہ ہے کہ امراض کا مرکز  بنا رہتاہے، ساتھ ہی اس کے جذبات قابو میں نہیں رہتے۔ یہ عضلاتی اعصابی تحریک ہوتی ہے۔

خرابئ خون

مرض کی تعریف

عام طور پر جب جسم پر پھوڑے پھنسیاں اور خارش سے دانے نکل آتے ہیں تواس  کو خرابئ خون کہہ دیتے  ہیں۔ اکثرموسمِ بہارمیں یا بارش  کے موسم میں یہ علامتیں خاص طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔ان علامات میں اعصابی غدی یا اعصابی عضلاتی تحریکیں ہوتی ہیں۔خون کی خرابی کا لفظ  یہاں کثرت علامت کی وجہ سے استعمال کیا گیا ہے ورنہ ہر تحریک میں افراط و تفریط اور ضعف سے خرابئ خون ہو جاتا ہے۔

تحقیقات الامراض با نظریہ مفرد اعضاء

 

کے متعلق: Zubair Hashmi

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

تحقیقات المجربات

 ﷽ تحقیقات المجربات خداوندِ حکیم آور ہادئ برحق کا ہزار ہزار شکر ہے کہ جس …

تحقیقاتِ علم الادویہ

﷽ علم الادویہ پیش لفظ علم خواص الاشیا خداوند علیم و حکیم کا انسانیت پر …

2 comments

  1. کافی معلوماتی اور مفید مضمون ہے۔ مزید تحقیقات سے مزید اسرارِ منکشف ہونگے۔ اور انسان کی آسائش اور آرام میں اضافہ ہو گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!