جمعرات - 23 - ستمبر - 2021
اہم تحاریر

تحقیقاتِ حمیات

ہومیوپیتھی اور بخار

ہومیوپیتھی میں امراض کا تصور ہی نہیں ہےاس لئے ہومیوپیتھی میں بخار کا تصور بالکل نہیں ہوناچاہیے بلکہ اس کی جگہ جسم میں حرارت کی زیادتی کو بطورِ علامت بیان کرنا چاہیے کیونکہ بخار خاص قسم کی حرارت ہے جو تمام جسمانی حرارت سے جداہے جب ہومیوپیتھی حرارت بخار کی کہیں تصریح نہیں کرتی تو پھر اس کوبخارکاذکر کرنا ان کے اپنے  فطری اور قانون علامت کے خلاف ہے جہاں تک بخارکا تعلق ہے وہ ایک خاص قسم کی حرارت ہےہم اس کو علامت کہیں گےلیکن جب اس کی اقسام کا ذکر ہوگا تو مرض کہلائے گا کیونکہ مرض کی تعریف میں جہاں یہ حقیقت ہے کہ مرض جسم کی اس حالت کانام ہے جب کہ اعضاء جسم اپنے صحیح افعال انجام نہ دے رہے ہوں وہاں یہ صورت بھی اس میں شامل ہے کہ مرض علامات کے مجموعہ کا نام ہے کیونکہ ہر عضو کے افعال میں کمی بیشی سے اس میں چند علامات پیداہوتی ہیں جو اس عضو کی خرابی کی طرف دلالت کرتی ہے چونکہ بخاروں کی تمام اقسام اپنے اندر مختلف علامات کے مجموعے رکھتی ہیں جن کی دلالت کسی نہ کسی عضو کی خرابی کی طرف ہوا کرتی ہے اس لئے بخار کی ہر قسم ایک بخار ہے اس کو علامت کہنا درست نہیں ہے۔

ہومیوپیتھی میں بخاروں کا ذکر نہیں ہے

حیرت کی بات ہے کہ ہومیوپیتھی نے نہ صرف بخار کوحرارت کی زیادتی کو ایک علامت کے طورپراستعمال کیا ہےبلکہ بخاروں کی تمام اقسام کو علامت کے طورپرظاہرکیاہے بلکہ ہر بخار کی متعدد علامات لکھ کران کا علاج کتب میں لکھ دیا ہے۔ یہ سب کچھ نہ صرف بالکل غلط ہے بلکہ ہومیوپیتھی کے قانون اس امر کی کبھی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی ایسی علامت بیان کردی جائے جو بالکل مختلف علامات کے مجموعہ ہوں ایسی مجموعی علامت یقیناً مرض کہلائیں گی۔ تمام ہومیوپیتھی میں کوئی ایسی دوا نہیں ہے جو ایسے علاماتی مجموعے بیان کرے جیساکہ ہم بخاروں کی مختلف اقسام میں  دیکھتے ہیں۔ اگر ایسی دوائیں پائی جاتی تو ہم اپنی ادویات کے ناموں پر بخاروں کے نام رکھ دیتے ہیں یہاں تک کونین (چائنا) میں بھی ملیریا کی پوری علامت نہیں پائی جاتیں۔ اگر ایسا ہوتاتو ہم ملیریا کا نام ہومیوپیتھی میں (چائنا) رکھ دیتے ۔ "چائنا” کی چند مخصوص علامات ہیں جو ملیریا بخارمیں پائی جاتی ہیں ان کے علاوہ اور بھی ملیریا کی علامات ہیں جو چائنا میں نہیں ملتیں۔ یہی صورت دیگر بخاروں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ہومیوپیتھی میں بخار کوحرارت کی جگہ علامات لکھنے کا اس وقت تک حق نہیں ہے جب تک وہ بخار کی حرارت کی اصلیت کی تشریح نہ کردیں اور بخاروں کی اقسام کو وہ کبھی بھی علامات میں شمار نہیں کرسکتے کیونکہ وہ سب مرکب اور مجموعی علامات کے نام ہیں جو امراض کہلاتے ہیں۔ان بخارو ں تک کیا منحصر ہے ہومیوپیتھی میں بے شمار علاماتی مجموعوں ، مرکب علامات اور امراض کو اپنی مفرد علامات میں شریک کرلیا ہے جن میں نزلہ زکام، بخار، ورم، درد سر اور دیگر تمام اعضاء کے درد، بھوک و پیاس، قبض و اسہال، کھانسی و دمہ، پھوڑا پھنسی، بدہضمی، پیچش، طاقت و کمزوری، خسرہ، چیچک، دق و سل ، سرطان اور خنازیروغیرہ شامل ہیں۔

ہومیوپیتھی کی کامیابی کا راز

ہومیوپیتھی کی کامیابی کا راز اس میں ہے کہ وہ ادویات کو مفرد علامات کو اپنانے کی کوشش کریں۔ اپنی طرف سے مرکب علامات ختم کرنے کی کوشش کریں اور مفرد ومرکب علامات کا فرق کریں مثلاً جسم میں حرارت، حرکت اور رطوبات کی کمی بیشی، بھوک پیاس نہیں بلکہ کھانے پینے کا احساس، بدبواورخوشبو، تکان یا نشان، ابھار، درد، ٹیس، بے چینی، اضطراب، مختلف موسم اور اوقات کا اثر، علامات میں کمی بیشی کا پیداہونا۔ اسی طرح نفسیاتی اثرات اور جذباتی تحریکات مثلاً غم و غصہ اور خوف، مسرت و لذت اور ندامت وغیرہ اگرچہ آخری دونوں علامات مرکب ہیں۔ بہرحال ان کو بھی استعمال کیاجاسکتا ہے۔ افعال کے لحاظ سے دل و جگر اور دماغ کے افعال کی کمی بیشی بھی مفردعلامات ہیں۔

بخار کی تشخیص میں صرف حرارت کی زیادتی بخار کی علامت قرار دے دی جائے یعنی حرارت کی اعتدال سے زیادتی کا نام بخار ہے۔ لیکن باقی بخاروں کی اقسام کو علامت نہ سمجھاجائے بلکہ مرض خیال کیاجائے۔ بخارکی تشخیص کی صورت حرارت کی کمی بیشی دائم یاباری اور عضوی تعلق کے بعد مندرجہ بالا تمام علامات کوذہن میں رکھتے ہوئے بخارمیں دیکھاجائے جوجوعلامات اکٹھی ہوں ان کے مطابق ادویات کو اخذ کرکے علاج کیاجائے لیکن ان علامات کو اخذکرنے سے قبل اول تمام جسم کو سیکوسس، سورا اور سفلس کی تین علامات کو تسلیم کرلینا چاہیے تاکہ صحیح ادویات تجویز کرنے میں سہولت ہوجائے۔

بائیوکیمک اور بخار

بائیو کیمک نے چونکہ بہت حدتک ہومیوپیتھی کی نقل کی ہے اس لئے اس کو بھی بعینہ اسی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ بائیو کیمک دراصل ایک جدانظریہ کے ماتحت ایک مفید طریق علاج تھا مگر ہومیوپیتھی کی بغیر تحقیق نقل کرنے سے اس کی اہمیت کو ختم کودیاہے۔

طب جدید شاہدروی

طب جدید شاہدروی جس کے موجد استاذالاطباء حکیم احمددین تھے۔ انہوں نے امراض کی پیدائش کو اعضاء کی کمی بیشی ماناہے۔ انہوں نے کیفیات و نفسیات مادہ و جراثیم کو اسباب واصلہ وفاعلہ نہیں تسلیم کیامگران کوچونکہ نظریہ مفرداعضاء کے نظریہ کا علم نہیں تھااس لئے انہوں نے تعین مرض میں بہت خوفناک غلطیاں کی ہیں۔ اول توان کی تمام تحقیق میں کوئی ایک مرض بھی ایسا بیان نہیں کیا گیاجس کو باعضاء بیان کیاہواور اگر کوئی ایک مرض بیان کرنے کی کوشش کی ہے تو اعضاء کے افعال سے لاعلمی کی وجہ سے غلط راہ پرچلے گئے ہیں۔مثلاً انہوں نے بخاروں میں زیادہ ترملیریاکا ذکر کیاہے اوراس کوکبدی ومعدی اورامعائی تینوں صورتوں میں بیان کیا ہے جو صحیح نہیں ہےملیریا فقط کبدی ، غدی بخار ہے۔اسی طرح انہوں نے غشائے مخاطی کے جو امراض بیان کئے ہیں وہ سب کے سب عضلاتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے ان کی تحقیقات کا مطالعہ فرنگی طب کی طرح گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ حقیقت میں طب جدید شاہدروی کو نظریہ مفرداعضاء کے تحت مطالعہ کیاجائے تو وہ الف تا ب غلط ہوگی اس میں ایورویدک اور طب پر جو تنقید کی گئی ہےبالکل غلط اور بے معنی ہے کیونکہ اس میں کیفیات، مزاج اور اخلاط دونوں کو بغیر سمجھےغلط قرار دیا جارہاہے۔ جن کی حقیقت بالکل صحیح ہے جس کسی کو شک ہو وہ آکراپنی تسلی کرلیں یا نظریہ مفرد اعضاء سمجھ کر خوداصل حقیقت کا پتا چلالیں ۔ گویا طب جدید کوئی طریق علاج نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی گمراہی ہے۔

ڈاکٹر ششلر نے جب یہ دیکھا کہ امراض پر نہ ایلوپیتھک کا قابو ہے اور نہ ہی ہومیوپیتھی کا تو انہوں نے اپنے انداز پرجسم انسان کے کیمیائی اجزاء پر غوروخوض کیا وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ جب انسانی جسم کے ان اجزاء میں کمی اور خرابی واقع ہوجاتی ہے تو امراض پیداہوتے ہیں۔جس کا علاج ان ہی کیمیائی اجزاء کا پورا کرنا تحقیق کیا ہے یہ نظریہ بھی درست ہے لیکن ان سے یہ غلطی ہوگئی کہ نظریہ تو اپنا تحقیق کیا اور جب علم العلاج کی تدوین کی توہومیوپیتھی ادویات اور علاج کی نقل کرلی گئی۔ جس کانتیجہ یہ نکلاکہ ان کا نظریہ ختم ہوگیا اور بائیوکیمک ہومیوپیتھی میں غرق ہوگیا۔اسی طرح کئی نظریات نکلے اور انہوں نے اپنی جگہ فن علاج کو سمجھنے کی کوشش کی۔ مگرمجموعی طورپرتمام علم و فن علاج کی اصلاح کو مدنظر نہیں رکھاگیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر نظریہ ایک جدا طریق علاج بن کررہ گیا لیکن حقیقت یہ ہےکہ یہ تمام مختلف طریق علاج نہیں ہیں بلکہ فن علاج کو سمجھنے کےلئے مختلف طریق کار ہیں۔

موجد طبِ جدید شاہدروی نے ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے کہ تمام طریق علاج اپنی جگہ تو صحیح ہیں لیکن ان میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ یہ اختلاف کیوں پایا جاتاہےا نہوں نے اپنی تحقیقات میں ثابت کیا ہے کہ طریقِ علاج سے کسی نہ کسی طریق پراعضاء کے افعال درست ہوجاتے ہیں اس لئے امراض کی پیدائش کااصل سبب افعال اعضاء کی خرابی اور ان میں افراط وتفریط ہے۔اس لئے انہوں نے اپنا جو نیا نظریہ پیش کیا اس کا نام "نظریہ افعال الاعضاء ” رکھا۔ یعنی جب تک جسم کےکسی عضو میں خرابی واقع نہ ہو جو اس کے فعل میں کمی بیشی سے واقع ہوتی ہے، مرض پیدانہیں ہوتا اور اعضاء کے افعال اگر صحیح ہوں تو پھر نہ دوش و اخلاط مرض پیداکرسکتے ہیں اور نہ جراثیم وغیرہ۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ تمام طریق علاج اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں اس لئے ان سب کی اچھی اچھی معلومات نظریہ افعال الاعضاء کے تحت قبول کرلینی چاہیئں۔ ان کے اس اصول کانام تھا—–خذر ماصفا و دع ماکدر۔

جہاں تک ان کا نظریہ اتحاد اور اصلاح ہے قابلِ تعریف تھا ۔تاریخِ طب میں پہلی آواز تھی جس نے مختلف طبوں میں اتحاد اورایک دوسرے سے اصلاح کا اصول پیش کیا چونکہ یہ معقول باتیں تھیں اس لئے ان کےزمانے میں فرنگی طب کے حاملین اور متعصب اطباء اور ویدوں کے باقیوں نے اچھی نگا ہ سے دیکھااوراپنایا اور اس سے مستفید ہوتے رہے۔لیکن افسوس موجب طب جدید نے اس نظریہ افعال الاعضاء پر اپنی زندگی میں نہ کسی ایک مرض پراور نہ ہی کسی ایک دوا پر روشنی ڈالی اور جو کچھ کام کیا گیا ان میں یہ اصول کارفرما نہ تھا دوسرےنظریہ افعال الاعضاء میں بڑی خرابی یہ تھی کہ طب کے وہ امراض اس میں سے خارج ہوجاتے ہیں جو مزاج سادہ سے پیداہوتے ہیں۔ موجد طب جدید کیفیات اور مزاج بلکہ چار اخلاط کے قائل نہ تھے وہ اپنی تحقیقات میں بہت حد تک فرنگی طب کی پیروی کرتے تھے اور ان کی تحقیقات کو باقی طبوں سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔جہاں تک امراض کی پیدائش کا تعلق بالاعضاء ہے ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی کیونکہ طب قدیم بھی یہی تسلیم کرتی ہے اور شیخ بو علی سینانے قانون میں مرض کی یہی تعریف کی ہے۔ جیساکہ ہم پیچھےبیان کرآئے ہیں مگر کیفیات میں گرمی سردی اور خشکی تری سے انکار نہیں ہوسکتا اورامراض سو مزاج سادہ اپنے اندر بےحد اہمیت رکھتے تھے۔ اور ان کے بغیر نتائج درست نہ آتے تھے۔ میں نے بارہا ان کی زندگی میں موجد طب سے بحث و تمحیص سے اس مسئلہ پر اور اسی طرح دیگرمسائل کو حل کرنےکی کوششیں کی تھیں مگر وہ ان کا کچھ جواب نہ دے سکتے تھے اور آخر عمر میں رفتہ رفتہ ان کاطریق علاج ہومیوپیتھی ہو گیا تھا۔

موجد طب کی وفات کے بعد میں نے کچھ عرصہ تک ان مسائل پر غورکیا مگرکچھ سمجھ میں نہ آیامیں بے امید ہوگیاآخر یہی فیصلہ کیاکہ غیر تسلی بخش علاج کرنے سے بہتر ہےکہ فن علاج کو خیرباد کہہ کرکوئی کاروبار کرلیناچاہیے۔ اس وقت تک مجھ کوکم و بیش پندرہ سال کام کرتے ہوگئے تھے۔ اسی دوران ہیضہ کے ایک مریض کا علاج کرنے کے دوران مجھے دورکچھ روشنی نظر آئی اس پر غوروفکر اور کام کرناشروع کیا، جلدہی کامیابی کی صورتیں نظرآنے لگیں اور ایک نیا نظریہ سامنے آگیا۔ یہ "نظریہ مفرداعضاء” تھا۔ اس نظریہ کی پیدائش کا اصل سبب امراض سوء مزاج سادہ ہی تھا پھر مسلسل بیس پچیس سال تحقیقات کرنے کے بعد اس کوہرطرح سے ہر مرض اور ہر دوا پرپرکھ لیا، پھر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی جرات کی گئی۔ اب یہ نظریہ مفرداعضاء اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے بڑی تیزی کے ساتھ عوام اور خواص میں مقبول ہو رہا ہے۔ اس ساری داستان اور واقعات کو بیان کرنے کامقصد صرف یہ ہےکہ دنیا میں مختلف طبیں نہیں ہیں بلکہ صرف ایک ہی طب ہے اور یہ جواختلاف نظر آتا ہے۔ صرف نظریاتی اور اصولی اختلاف ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ دنیا بھر کی تمام طبیں اور نظریات تمام کے تمام نظریہ  مفرد اعضاء سے حل ہوتے ہیں۔

کے متعلق: Zubair Hashmi

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

تحقیقات المجربات

 ﷽ تحقیقات المجربات خداوندِ حکیم آور ہادئ برحق کا ہزار ہزار شکر ہے کہ جس …

تحقیقاتِ علم الادویہ

﷽ علم الادویہ پیش لفظ علم خواص الاشیا خداوند علیم و حکیم کا انسانیت پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!