جمعرات - 23 - ستمبر - 2021
اہم تحاریر

مبادیاتِ طب

طب عملی

علم حفظانِ صحت

یہ ایک ایسا علم ہے جس کے ذریعے ہم اپنی صحت کو قائم رکھ سکتے ہیں اور امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں جانناچاہیے کہ علم کی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہیں۔

1۔جبلی علم

یہ وہ علم ہےجو حکیمِ مطلق ہر جاندارکو جبلی طورپر عطا فرماتے ہیں جیسے چوہا بلی کی آواز سنتے ہی بھاگ جاتا ہےاور اسی طرح بلی کتے کودیکھتے ہی راہِ فرار اختیار کرلیتی ہے۔ کیونکہ جبلی طورپرچوہابلی کواور بلی کتے کو اپنا دشمن خیال کرتے ہیں۔ اسی طرح سبزی خور جانورپیداہوتے ہی اپنی غذا کے لئے سبزی کھانا شروع کرلیتے ہیں لیکن گوشت خور جانورصرف گوشت ہی کھائیں گے۔ دونوں جانور کبھی بھی ایک دوسرے کی غذا نہیں کھائیں گے۔وغیرہ وغیرہ۔ قدرت نے انسان میں بھی اسی قسم کا ایک جبلی شعور پیدا کیا ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی فوراً اپنی ماں کے سینے کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کواپنی کی گود میں آکر سکون ملتا ہے۔ بڑے ہونے تک تمام عمر اس کو یہ جبلی علم ملتا رہتا ہے کہ فلاں چیز میرے لیے مضر ہے یا نافع۔

2۔ اکتسابی علم

یہ وہ علم ہے جو انسان کو خالقِ دو جہاں نے تجربات و مشاہدات اور عقل کی روشنی سے عطا فرمایاہے۔ یعنی جب وہ کسی چیزکواپنے تجربات و مشاہدات کے بعد مفید یا مضرپاتا ہے تو اس کواختیاریا اس سے اجتناب برتتا ہے۔ اسی طرح جب اس کی عقل اُن چیزوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کی مثل اس نے مفید یا مضر چیزیں تجربہ و مشاہدہ کی ہوں تو ان کو بھی وہ اپنے استعمال میں ضرورت کے مطابق اپناتا یا پرہیز کرتا ہے۔

3۔ وہبی علم

یہ وہ علم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذہن میں ادراک کے ذریعے پیدا کردیتا ہے۔ کہ فلاں چیز تمہارے لئے مفید ہے یا مضر۔ اس علم کو وجدانی بھی کہتے ہیں کیونکہ قوتِ واہمہ اس میں خاص طورپر کام کرتی ہے۔ یہاں یہ سمجھ لینا ضروری ہےکہ قوتِ وجدانی قوتِ واہمہ کی انتہائی ترقی یافتہ صورت ہے۔ یہ وہبی علم کہیں تو ضرورت کے مطابق عام انسانوں کو حاصل ہوتا رہتا ہے۔ لیکن اہلِ علم اور حکماٰء پر اس کا القاء و انکشاف اور فیضان خصوصی طورپر ہوتا رہتا ہے اور اپنی ضرورت کے مطابق اس کو علم اور عقل کی روشنی میں پرکھتے رہتے ہیں اور جب وہ تجربہ و مشاہدہ میں اوار عقلاً صحیح ثابت ہوتا ہے تو اس کو عوام کی خدمت کے لئے پیش کردیتے ہیں۔

جاننا چاہیے کہ یہاں پر ہم جس علم سے بحث کررہے ہیں وہ اکتسابی ہوگا۔ کیونکہ ہماراجبلی اور وہبی علم بھی تجربات ومشاہدات اور نتائج کے بعد اکتسابی ہی ہوجاتا ہے۔ لیکن ہم اکتسابی اس علم کو کہیں گے جو ہمارے تجربات ومشاہدات اور عقل کی روشنی میں صحیح ثابت ہو۔ صحیح ہونے کا معیار یہ ہے کہ ہم جب کھی بھی تجربات و مشاہدات کے بعد نتیجہ دیکھیں تو وہی نکلنا چاہیے یا جب کبھی اس کے متعلق دلائل دئیے جائیں تو وہی نتائج برآمد ہوں ۔ اور اسی کو آج کل سائنس بھی کہتے ہیں۔

حرارت و رطوبتِ غریزی

علم حفظانِ صحت کا جہاں تک انسان کے جسم سے تعلق ہے اس کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ انسان کے اعضائے جسم اور ان کے افعال کا پوری طرح علم ہو۔ یہ علم اُسی وقت شروع ہوجاتا ہے جب انسان کانطفہ قرار پاتا ہے۔ کیونکہ اگراس دوران میں بھی س نطفے کی نگرانی نہ کی جائے تو اس کے ضائع ہوجانے کا احتمال ہے۔ جس چیز کی انسان کے حفظانِ صحت میں نگرانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اس کا مزاج ، طبیعت اور طاقت کا اعتدال ہے۔اور یہی چیز قرارِ نطفہ سے انسان کی موت تک مدِنظر رہتی ہے۔ سوال یہ پیداہوتا ہےکہ یہ مزاج، طبیعت اور طاقت کیا شے ہے اور ان کی نگرانی کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے اور صحت کے قیام کےلئے اس کا ذہن نشین کرنا سب سے پہلی بات ہے۔

جاننا چاہیےکہ نطفہ قرار پاتے وقت کِرمِ منی، حرارتِ غریزی اور رطوبتِ غریزی کا مجموعہ ہوتاہے۔ یہ نطفہ ایک جسم ہےجس کی پرورش رطوبتِ غریزی اورحرارتِ غریزی سے عمل میں آتی ہےانہی دونوں چیزوں سے اس کو غذا ملتی ہے اور اس میں نشوارتقاء اور تصفیہ کا عمل جاری رہتا ہےیہ دونوں چیزیں اگراعتدال سے اپنا عمل جاری رکھیں تو نطفہ صحت کے ساتھ نشوارتقاء کے مراحل طے کرلیتا ہے اور اگر ان کا توازن قائم نہ رہےتو نطفہ کے ضائع ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ جس کی صورت یہ ہے کہ اگر ان میں کوئی ایک بڑھ جائے تو دوسری کو فنا کر دے گی جس سے نطفہ کی غذائیت یا تصفیہ و پرورش میں خلل واقع ہوجائے گااور نطفہ ضائع ہوجائے گامثلاً اگر حرارت بڑھ جائے تو وہ رطوبت کو جلادے گی اور رطوبت کی زیادتی حرارت کو ختم کردے گی۔ اسی توازن سے جسم انسان زندہ رہتا ہے اوراگر اس میں نمایاں فرق واقع ہو جائے تو انسان کی صحت نہ صرف خراب بلکہ بعض اوقات تباہ ہوجاتی ہے۔

بدلِ مایتحلل

نطفہ کی حرارت و رطوبت اس قدر قلیل ہوتی ہےکہ انہی سے انسان کے جسم کا کم و بیش ساٹھ ستر سال تک زندہ رہنا محال ہے۔ اس لئے قدرت نے ان دونوں کے قیام ، تقویت اور امداد کے لئےبیرونی طورپر بھی رطوبت وحرارت کا انتظام کردیا ہےجو اس حرارتِ غریزی کا معاون ہوتا ہےاور اس تھوڑی بہت حرارت و رطوبتِ غریزی کو جو نطفہ قرار پانے کے بعد خرچ ہونا شروع ہوجاتی ہے پورا کرتا رہتا ہے اور انسان کی ضرورت کو پوراکرتا رہتا ہے اس رطوبت اور حرارتِ غریزی کو جو انسان کی ضرورت پورا کرتی رہتی ہے۔ بدلِ مایتحلل کہتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بدلِ مایتحلل حرارتِ غریزی اور رطوبتِ غریزی کی کمی کو پورا کرتا ہے یا خود دماغ پر خرچ ہوکران دونوں کاقائم مقام بن جاتا ہے۔

اعتراض

یہاں پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر بدلِ مایتحلل خود حرارتِ و رطوبتِ غریزی کی کمی کوپورا کرتا رہتا ہے ۔ یعنی خود حرارت و رطوبتِ غریزی بن جاتا ہے تو پھر حرارتِ غریزی اور رطوبتِ غریزی جن کو حرارتِ اصلی اور رطوبتِ اصلیہ بھی کہتے ہیں اور جن سے اعضائے اصلیہ تیار ہوتے ہیں ان کی کوئی ہستی نہ رہی کیونکہ ہم ان کو مصنوعی طورپر تیار کرسکتے ہیں اور اگر وہ حرارت اور رطوبت جو ان کا بدلِ مایتحلل بنتی ہے وہی کام انجام دے سکتی ہے جوحرارتِ غریزی اور رطوبتِ غریزی انجام دیتی ہے تو پھر بڑھاپا کیوں آتا اہے؟ اور موت کیوں واقع ہوتی ہے؟

جواب

اس کا جواب یہ ہے کہ حرارتِ غریزی اور رطوبتِ غریزی کا بدلِ مایتحلل نہیں بن سکتا۔ جو رطوبت اور حرارت بدلِ مایتحلل کے طورپرخرچ ہوتی ہے وہ صرف ایک ضرورت ہے جو پوری کی جاتی ہے اور اس سے رطوبت و حرارتِ غریزی کی مدد کی جاتی ہے۔ جس کی روشنی، بتی اور تیل تینوں بیک وقت کام کرتی ہیں۔ چراغ کی روشنی حرارتِ غریزی ہے، رطوبت غریزی اور تیل بدلِ مایتحلل ہے۔ یہ بدلِ مایتحلل جہاں ایک طرف چراغ کی روشنی کو قائم رکھتا ہے تو دوسری طرف اس کی بتی کی بھی جلنے نہیں دیتا۔

صحت کی حفاظت کے لئے یہ ضروری ہے کہ حرارتِ غریزی چراغ کی روشنی کی طرح اعتدال سے جلتی رہے اور اس کی رطوبتِ غریزی بھی ایک دم فنا نہ ہو جائے۔ یہ وہ اعتدال ہےجو دونوں میں رکھا جاتا ہے۔ اگر رطوبات بڑھ جائیں تو حرارت کا ختم ہونا اغلب ہے اور حرارت کی زیادتی سے رطوبات کا جل جانا لازمی ہے۔

خون

نطفہ جب تک علقہ نہیں بنتا اس وقت تک وہ اپنی غذااپنے اندر کی رطوبت سے حاصل کرتا ہے اور جب علقہ بن جاتا ہے تو اس کا تعلق رحم سے پیدا ہوجاتا ہے اور وہ اپنی غذاماں کے رحم سے حاصل کرتا ہے۔ پیدائش کے بعد اول اس کو غذا ماں کے دودھ سے اور پھر دنیاوی اغذیہ و اشربہ سے حاصل ہوتی رہتی ہے جن سے اس کا بدلِ مایتحلل پورا ہوتا رہتا ہے۔

ان امور سے ثابت ہوا کہ طبیب انسانی صحت کی حفاظت تو کر سکتا ہے لیکن اس پر یہ فرض عائد نہیں ہوتا کہ وہ انسان کا شباب برقرار رکھے یا اس کو ایک طویل عمر تک زندگی دے سکے۔ موت کو روک دینا تو اس کے بس کا باکل روگ نہیں۔ کیونکہ نطفہ کے قرار پانے کے بعد حرارتِ غریزی اور رطوبتِ غریزی کچھ نہ کچھ ضرور خرچ ہوتی رہتی ہے اور عمر کے ساتھ ساتھ ان میں ایک خاص قسم کی کمی واقع ہوتی رہتی ہے۔ جس طرح چراغ کے جلنے سے اس کی بتی کے تھوڑا تھوڑا جلنے سے وہ کم ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ختم ہوجاتی ہے یہی صورت انسانی زندگی کی بھی ہے کہ وہ آخرمیں حرارتِ غریزی اور رطوبتِ غریزی کے ختم ہونے کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ ہمیشہ کے لئے شباب اور زندگی ناممکنات میں سے ہے۔

اطباء کے فرائض صرف حفظانِ صحت کے اصولوں کا ذہن نشین کراناہے تاکہ صحت قائم رہے۔ البتہ جب مرض پیداہوجائے تو اس کو صحت کی طرف لوٹانااُس کاکام ہے۔ صحت کے قیام کے لئے اہم چیز حرارتِ غریزی اور رطوبتِ غریزی کی پوری نگرانی اور ان کے بدلِ مایتحلل کو صحیح طریقوں پر پورا کرنا ہے اور یہ کوشش بھی جاری رہے کہ رطوبتِ اصلیہ میں کوئی فساد یا تعفن پیدا نہ ہونے دے۔ اگر وہ اپنے ان مقاصد میں کامیاب رہا تو انسان اپنی طبعی عمر کوپہنچے گا اور اس کی قوت و صحت ایک صحیح حالت پر قائم رہے گی۔

موت

موت کی دو اقسام ہیں۔1۔ طبعی۔2۔ غیر طبعی۔ طبعی موت وہ موت ہے جو حرارت ورطوبتِ غریزی کے پورے طورپرخرچ ہونے کے بعد واقع ہو، جس کے متعلق اطباء کا خیال ہے کہ وہ سو ا سوسال سے ڈیڑھ سو سال تک ہونی چاہیے۔ کیونکہ ان کا اندازہ ہے کہ انسان پچیس تیس سال تک اپنی جوانی کو پہنچتا ہے اور اس کو اس کے بعد پانچ گنا عرصہ تک زندہ رہنا چاہیے اور اگر اس کے دوران وہ کسی مرض کا شکار ہوجاتا ہے یا ڈوب جاتا ہےیا پھانسی لگ جاتا ہے یا کسی بھی وجہ سے مرجاتا ہے تو یہ اس کی غیر طبعی موت ہوگی۔

حفظانِ صحت کے اہم عناصر

اس کے مندرجہ ذیل تین عناصرہیں۔

1۔ صحت کے قیام کے لئے بدلِ مایتحلل کی جو ضرورت ہے وہ ایک مسلمہ امر ہے اور بدلِ مایتحلل ہمیشہ اغذیہ و اشربہ سے حاصل کیاجاتا ہے اس لئے حفظانِ صحت کے مطابق صحیح اصولوں پر استعمال کرے اور ان سے بدلِ مایتحلل حاصل کرے۔2۔ غذا کے بعد دوسری اہم چیز یہ ہے کہ انسان کے جسم میں غذاکھانے کے بعد جو فضلات اکٹھے ہوتے ہیں ان کوباقاعدگی کے ساتھ اخراج کرنے کی کوشش کرتا رہے اس کی صورت جسم کو اعتدال کے ساتھ حرکت دینے اور کام میں لگانے سے عمل میں آتی ہے جس میں ورزش بھی شریک ہے۔کیونکہ سکون محض جسم میں فضلات کو روک دیتا ہے۔3۔ انسان اپنی قوتوں کوضرورت سے زائد خرچ ہونے سے بچاتا ہے ۔ ضرورت سے زیادہ جسمانی اور دماغی محنت اور حرکت سے یہ قوتیں ضائع ہونے لگتی ہیں۔

یہ تینوں امور اگر اعتدال پر قائم رہیں تو صحتِ انسانی کی حفاظت اچھے طریق پر ہوسکتی ہے۔ اس مقصد کے لئے اسبابِ ستہ ضروریہ جن کا گزشتہ قرطاس پر گزرچکا ہےبہت حد تک کافی ہیں۔ لیکن بعض اہم باتوں کا ذکر مندرجہ بالا تین اصولوں کے متعلق کیا جاتا ہے جو صحت کےلئے بے حد مفید اور ضروری ہیں۔

1۔ اغذیہ و اشربہ

غذا کی مقدار میں اعتدال کو قائم رکھنااور غذاکے استعمال کے بعد کچھ سکون کرنا ضروری ہے۔

یادداشت

غذاکھانے سے قبل یہ ضروری ہے کہ بھوک شدت سے لگی ہوئی ہو، بغیر بھوک کے کبھی غذاکی طرف ہاتھ نہیں بڑھانا چاہیے، بھوک میں بھی اس امر کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے کہ وہ دو قسم کی ہوتی ہے۔ اشتہائے کاذب اور اشتہائے صادق۔ اشتہائے صادق کی علامات یہ ہیں ۔1۔ جسم میں فرحت ہوگی اور وہ ہلکا ہوگااور گرم معلوم ہوگا، غذاکھاتے وقت لذت و فرحت محسوس ہوگی۔ اشتہائے کاذب میں یہ باتیں نہیں ہوں گی بلکہ کمزوری محسوس ہوگی، دل گھٹنے کی سی حالت پائی جائے گی اور کھانے میں بے دلی سی قائم رہے گی، کھانا کھانے کے بعد جسم بے حد سست اور بوجھل رہے گا بلکہ بعض اوقات حرکت کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ ہر غذاپہلی غذاکے ہضم ہونے کے بعد کھانی چاہیے۔ اگر چہ بھوک بھی کیوں نہ لگی ہو اور اشتہائے صادق کی تمام علامات پائی جاتی ہوں کیونکہ ہر غذا جو ہم کھاتے ہیں اس کے ہضم ہونے میں کم از کم چھ سات گھنٹے خرچ ہوتے ہیں اور اس کے بعد وہ غذا معدہ اور چھوٹی آنتوں سے اُتر کر بڑی آنتوں میں چلی جاتی ہے۔ اگر چھ سات گھنٹے سے قبل کھا لیا جائے تو طبیعت پہلی غذا کی طرف مصروف ہوتی ہے اور اگر اس کو ہضم کئے بغیرچھوڑ دے اور دوسری غذاکی طرف مصروف ہوجائے تو پہلی غذا میں تعفن اور فسادپیدا ہوجائے گا اور اگر دوسری کی طرف توجہ نہ دے تو پہلی غذا میں بھی فساد و تعفن پیداہونا ضروری ہے۔ ایک وقت میں مختلف غذاؤں کا اکٹھا کرنا درست نہیں۔

یادداشت

مختلف اغذیہ میں بعض لطیف اور بعض ثقیل ہوتی ہیں اور طبیعت لطیف اغذیہ کو جلدی ہضم کرلیتی ہے اور ثقیل اغذیہ دیر تک اندر پڑی رہتی ہیں نیز بعض اغذیہ ایک دوسرے کی مخالف ہوتی ہیں مثلاً مچھلی اور دودھ، ترشی اور دودھ، ستو اوردودھ، انگو اور سری کا گوشت، انار اور ہریسہ، چاول اور سرکہ۔ ان کو اکٹھا کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر غذاچرب ہوتو اس کے ساتھ نمکین یا چرپری چیزیں کھائی جائیں اور اسی طرح اس کے برعکس بہتر یہ ہے کہ ہمیشہ ایک ہی غذانہ کھائی جائے بلکہ تبدیلی کے ساتھ کھائی جائے، بھوک کو روکنا درست و مناسب نہیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے معدہ کی طرف خراب مواد گرتے ہیں ۔ غذادن کے معتدل وقت میں کھانی چاہیے۔ موسمِ سرما میں دوپہر کے وقت اور موسمِ گرما میں صبح شام کھانا مناسب ہے۔کھانے سے مرادیہاں پیٹ بھر کرکھانا اور پورا کھانا مراد ہے۔

یادداشت

ایک ہی قسم کےکھانے باربار کھانے سے اور ایک ہی ذائقہ باربار استعمال کرنے سے جسم میں نقصان پیدا ہوتا ہے مثلاً ترش غذاؤں کے بکثرتِ اور متواتراستعمال سے بڑھاپا جلد آتا ہے، نزلہ زکام اکثر رہتا ہے، اعضاء میں خشکی پیدا ہوجاتی ہے، اعصاب کمزور ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح نمکین چیزیں بدن کو لاغر اور دل میں ضعف پیداکرتی ہیں۔ میٹھی اشیاء بھوک کوضعیف اور بدن کو گرم کرتی ہیں۔ ان کی مضرت کوترش اشیاء و غذاسے اور ترش غذاکی مضرت کومیٹھی غذا سے دفع کرنا چاہیے۔پھیکا اکثر کھانے سے بھوک جاتی رہتی ہے اور بدن میں سستی پیداہوجاتی ہے۔ اس لئے اس کی مضرت کونمکین اوار چرپری چیزوں کے استعمال سے دور کرنا چاہیے۔

مشروبات

مشروبات میں تین چیزیں خاص طورپر شریک ہیں۔1۔ پانی۔2۔ دودھ۔3۔ شراب

پانی

پانی اکثر پیاس کے وقت پیا جاتا ہے اور یہ پیاس کھانے کے دوران بھی لگتی ہے اور بعد بھی اور بغیرکھانے کے بھی۔ پانی پینے کاوقت پیاس ہے خواہ غذاکے ساتھ یا اس کے بعد یا کسی وقت بھی محسوس ہو۔

یادداشت

جاننا چاہیے کہ پیاس دو قسم کی ہے۔ صادق و کاذب۔ صادق پیاس: اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ معدہ میں پڑی ہوئی غذاکو رقیق بنائے اور اس کو باریک شریانوں سے گزار نے کے لئے ذریعہ بنے۔ غذاکے دوران بھی جب پیاس لگتی ہے تواس کی دوصورتیں ہوتی ہیں۔ اول معدے میں تیز اور سوزش پیداکرنے والی اغذیہ کی بے چینی اور دوسرے معدہ میں انتہائی خشکی جو غذاکھانے کے ساتھ اکثر بڑھ جاتی ہے اور طبیعت اس کو رقیق کرنے کے لئے پانی طلب کرتی ہے۔ کاذب پیاس: اس کی پہچان یہ ہے کہ اگرپیٹ بھر کر تسلی کے ساتھ بھی پانی پیا جائے اور پھر بھی پیاس نہ بجھے۔ اس کی وجہ عام طورپر شوربلغم اور لیسدار مواد کی معدہ میں زیادتی ہوتی ہے جس کو طبیعت رفع کرنا چاہتی ہے لیکن ٹھنڈا پانی پینے سے بلغم اور بھی جم جاتی ہے اورشورمادہ میں زیادتی واقع ہوجاتی ہے۔ اس طرح تخمہ اور ہیضہ میں بھی پیاس کی شدت ہوتی ہے۔جس کی وجہ غذاکا کچا ہونا اور معدہ میں سوزش اور متعفن مواد کی موجودگی ہوتی ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ پانی پینے میں کچھ توقف کیا جائے اور اگر توقف ممکن نہ ہوتو گرم پانی تھوڑا تھوڑا دیا جائے یا بغیر دودھ کی چائے دی جائے۔ مرض میں شدت ہوتو مناسب علاج کیا جائے۔ بعض دفعہ دماغی اوراعصابی سوزش میں بھی شدید پیاس لگتی ہے اس کا مناسب علاج کیاجائے بعض اوقات ترمیوؤں کے استعمال سخت ورزش ، محنت، حمام اور جماع کے بعد جب پیاس لگے تو پانی سے روکنا چاہیے۔ جہاں تک ممکن ہونہار منہ پانی نہیں پینا چاہیے۔

دودھ

دودھ غذامیں شامل ہے اور اس کوغذاکے طورپر یا غذاکے ہمراہ استعمال کرنا چاہیے۔ یہ ہرگز نہ کیا جائے کہ اس کو پانی کے قائم مقام اور بغیر غذاکے استعمال کیا جائے۔ دودھ استعمال کرنے کا بہترین وقت صبح کا ناشتہ ہے۔ ناشتے کے ہمراہ اس کو استعمال کرنے سے صحت پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔ دودھ ہمیشہ نیم گرم ہو اور اس کو ہلکا شیریں بھی کرلینا چاہیے۔ اسی طرح بعض لوگ دودھ میں پانی ملاکراس کی لسی بھی پیاس کے وقت پیتے ہیں۔ اس کے متعلق یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کے اثرات اپنے اندربالکل دودھ کی طرح غذائیت کے ہیں۔ البتہ اس میں برودت زیادہ پیداہو جاتی ہے اور اس کے اکثر استعمال سے معدہ ٹھنڈااور سوئے مزاج بارد کے امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ اول تو اس کا استعمال ہی نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن جب استعمال کی جائے تو غذا اور دودھ کے درمیان کافی وقفہ ہونا چاہیے۔

دہی کی لسی

دہی کی لسی بھی غذا میں شامل ہے اور اس کو بھی ہمیشہ غذاکے مقام یا اس کے ہمراہ استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے بکثرت استعمال سے حرارتِ غریزی کم ہوجاتی ہے اور نفخِ شکم کی شکایت پیداہوجاتی ہے۔ اس کا استعمال دوپہر کو غذاکے ہمراہ کرنا چاہیے۔

شراب

شراب کا استعمال بغیر طبیب کی مرض کے کبھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس میں نقصان بہت زیادہ اور فوائد بہت ہی کم ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کے استعمال سے خواہشاتِ نفسانی بھڑک اٹھتی ہیں جو کسی صورت بھی نہیں بجھتیں جس سے طبیعت انتہائی منقبض ہو کر دل کے لئے بے حد نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ جہاں تک فوائد کا تعلق ہے اس کو اکثر اعتدال سے قلیل مقدار میں ضرورت کے مطابق طبیب حاذق کے مشورہ سے استعمال کیا جائے تو یہ تمام جسم کے اعضاء میں نشوو ارتقاء اور قوت کی صلاحیت پیداکرتی ہے اور ساتھ ہی گندے فضلات کو چھانٹ دیتی ہے اور جسم میں صالح مواد کو جذب کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ لیکن ان فوائد کے ساتھ ساتھ جب اس کے اثرات بڑھتے جاتے ہیں تو انہی چیزوں کے لئے سخت نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے اثرات بڑھنے کاسبب یہ ہوتاہے کہ اس کو ایک دفعہ شروع کرنے کے بعد خواہ وہ دواً ہی کیوں نہ کیا جائے چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔ گویا یہ تھوڑے عرصہ میں ایک ایسی عادت بن جاتی ہے جس کا چھوڑنا تقریباًناممکن ہے ۔ اس کو چھوڑنا بھی بجائے فوائد کے باعثِ صد نقصان ہے۔

2۔ حرکت وعمل

اس میں تین چیزیں شامل ہیں۔

یادداشت

جاننا چاہیے کہ یہ تین چیزیں اس لئے اہم ہیں کہ جسمِ انسان پر ان کے اثرات سے فضلات اندر نہیں رکتے اور اخراج پا جاتے ہیں۔ ان کی ضرورت اس لئے اوربھی زیادہ ہے کہ دنیا میں کوئی غذا بھی ایسی نہیں جس کا فضلہ نہ بنےاور اسی طرح کوئی دوا بھی ایسی نہیں جو ان فضلات کو پوری طرح جسم سے خارج کردے اور اس کا نقصان طبیعت کو نہ پہنچے۔ اس لئے اس مقصد کے حصو ل کے لئے ایک ہی صورت ہے کہ جسم کو حرکت و عمل کی عادت ڈالی جائے ۔ اس میں ورزش ایک ایسی چیز ہے جس میں بغیر کسی اور تدبیر اور خرچ کے انسان اپنا مقصد حاصل کرسکتا ہے مگر مالش اور حمام میں ایک خاص اہتمام کی ضرورت ہے ۔ بہرحال ضرورت کے و قت ان کا استعمال لازمی اور مفید ہے۔ کیونکہ اگر یہ فضلات جسم کے اندر چھوڑ دئیے جائیں تو اکٹھے ہوکرتین قسم کا نقصان پیدا کرتے ہیں۔1۔ان میں تعفن پیدا ہوکرجسم کی رطوبات برباد ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔2۔ رطوبات کی زیادتی حرارتِ غریزی کو ضائع کرنا شروع ہوجاتی ہیں۔3۔ مادے کی رکاوٹ رگوں یا آنتوں میں سدے پیدا کرنےکا باعث ہوتی ہے۔ ان فضلات کا اخراج جس احسن طریقہ پر ورزش، مالش اور حمام سے ہو سکتا ہے وہ کسی اور دوا و تدبیر سے ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ ورزش ، مالش اور حمام کے بعد جسم اکثر ہلکا اور خوشی محسوس کرتا ہے۔ بھوک بڑھ جاتی ہے۔ جسم مضبوط ہونا شروع ہوجاتا ہے اور روزبروز زیادہ طاقت کا احساس ہونے لگتا ہے۔

1۔ ورزش

ورزش ایک ایسی حرکت ارادیہ ہے جس میں بڑے بڑے سانس لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ورزش مادی امراض کو رفع کرتی ہے۔ حرارتِ غریزیہ کو برانگیختہ کرتی ہے۔ جوڑوں کو سخت بناتی، فضلات کو تحلیل کرتی اور مسامات کو کھولتی ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں۔ 1۔ وہ جو تمام جسم کے لئے عام ہو یعنی اس کااثر تمام بدن پر پڑےمثلاً دوڑنا، سیرکرنا، گھوڑا دوڑانا، کشتی کھیلنا اور کشتی لڑنا وغیرہ۔2۔ وہ جوصرف بعض اعضاء کے ساتھ مخصوص ہیں مثلاً اونچی آوازسے پڑھنا جس سے سینہ و سر اور آلاتِ تنفس سے فضلات پاک اور غذاکو قبول کر نے کے لئے مستعد ہوتے ہیں۔ بھاری پتھر اُٹھانا، سخت کمان کا کھینچنا،کرکٹ کھیلنا ۔ ان سے دونوں ہاتھوں ، گردن، سینہ دونوں شانوں اور پشت کا تنقیہ ہوتا ہے۔ تیز چلنابھی خاص ورزش ہے اس سے دونوں سرین، دونوں رانوں اور دونوں پنڈلیوں کا تنقیہ ہوتا ہے۔

یادداشت

ورزش کا وقت وہ ہوتا ہےجب بدن غلط فضلات اور براز سے پاک ہو اور غذاہضم ہو چکی ہواس کے لئے بہتر وقت صبح یا تیسرا پہر ہے ورزش عام طورپر معتدل ہونی چاہیے ۔ زیادہ شدید قسم کی ورزش بعض اوقات نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ معتدل ورزش میں تھکن کم ہوتی ہے۔ دورانِ خون جلدکی طرف آکر اس کر سرخ کردیتا اور پھلا دیتا ہے اور ہلکا ہلکا پسینہ آجاتا ہے۔ جب پسینے میں شدت اور جسم میں تھکن کی زیادتی محسوس ہوتو فوراً ورزش چھوڑ دینی چاہیے۔ بعض ورزشیں جسمانی اثر کے ساتھ روحانی اثرات بھی رکھتی ہیں۔ مثلاً مقابلے کی دوڑ، گھوڑ دوڑ، کرکٹ وغیرہ جن میں ورزش کے ساتھ جیتنے ہارنے کی مسرت اور افسوسبھی شامل ہوتا ہے ۔ جس سے نفس میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔

بعض ورزشوں کے فوائد

کشتی کی سیر اخلاط میں تحریک و ہیجان پیداکرتی ہے اور اس سے جذام، استسقاء اور سکتہ کو اکثرفائدہ ہوجاتا ہے۔ رات کے وقت کشتی کی سیر مقوی قلب ہے۔ لیکن اس میں چاند کی تیز روشنی لازمی ہے۔ تیرنے سے معدہ بہت زیادہ مقوی ہوجاتا ہے۔ تیز تیز چلنا گردوں کو صاف کرتا اور ضعفِ جگر کے لئے بہت مفید ہے۔ باغات کی سیرباعثِ فرحتِ قلب اور دماغ میں سرور لاتی ہے۔شدید قسم کی ورزشیں جیسے کشتی کھینا، پتھر اٹھانا جسم سے بلغم کو خارج کرتی ہیں۔

2۔ مالش

مالش سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے شخص کے جسم کو تیل یابغیر تیل کے ملے۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ مثلاً صلب جو اعضاء کو مضبوط بناتی ہے۔ لین جو جسم کو ڈھیلا کرتی ہے۔ کثیر جو متواتر کی جائے یہ جسم کو پتلاو دبلا کرتی ہے۔ معتدل یہ جسم کوموٹا کرتی ہے۔ کھردری (جو کھردرے کپڑے یا ہاتھ سے کی جائے) یہ خون کوظاہربدن کی طرف جذب کرتی ہے اور نرم مالش جو نرم ہتھیلی یانرم کپڑے سے کی جائے ، خون کو بند کرتی ہے یعنی اُس عضوکی طرف کھینچ کروہاں جمع کردیتی ہے۔

یادداشت

مالش کا طریقہ یہ ہے کہ ابتدامیں قوت کے ساتھ شروع کی جائے اور پھر آہستہ آہستہ نرم کردی جائےاگر تیل لگانا ہوتو شروع ہی میں لگا لیا جائے۔

3۔ حمام

حمام سے مراد بند کمرے میں گرم پانی یا گر م بخارات سے غسل کرناہے یااس میں اس وقت رک ٹھہرناہے کہ جس سے جسم کے فضلات پسینہ کے ذریعے اخراج پا جائیں۔ حمام کے اندر سردپانی سے غسل کرنے کو حمام نہیں کہتے بلکہ حمام میں گرم پانی یا گرم بخارات کا استعمال لازمی ہے۔ حمام کے تین کمرے ہونے چاہئیں۔ پہلا کمرہ معتدل، دوسرا گرم تر اور تیسرا گرم خشک اور ہرکمرے میں معتدل پانی یا معتدل کمرے میں بہت تیز گرم پانی نہ استعمال کیا جائے۔ کیونکہ یہ پھریری پیدا کرتا ہے۔ اچھا حمام وہ ہےجوعرصہ دراز کا بنا ہوا ہو۔ اس کے کمروں کی فضاکشادہ اورہوا پاک و صاف ہو، پانی شیریں ہواور اس میں اس قسم کا ایندھن نہ جلایا جائے جس میں کسی خاص قسم کی بُو پائی جائے۔ حمام کو بہت زیادہ گرم نہیں ہونا چاہیےکیونکہ زیادہ وہ زیادہ تحلیل کاباعث ہوتا ہے اور اعضاء کو ڈھیلا بنا دیتا ہے۔ اور نہ ہی پانی گنگنا ہونا چاہیے کیونکہ وہ پسینہ نہیں لاتا اور حمام کا ایسا ہونا ضروری ہے کہ جسم پر پسینہ آجائے اور ہلکی سی حرارت حاصل کرلے۔

حمام کاطریقہ اورفوائد

نہار منہ غسل کرنابدن کو خشک کرتا ہےاور پیٹ بھراہوا تو موٹا کرتا ہے۔غذاکو ظاہربدن کی طرف جذب کرتا ہے لیکن ایسا حمام سدے پیدا کرتا ہے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ حمام نہ تو نہار منہ کیا جائے اور نہ ہی سیر شکم کی حالت میں۔ حمام میں کسی چیز کے کھانے پینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کیونکہ ایسا کرنے سےوہ ہضم ہونے سے قبل ہی راستوں کے کشادہ ہونے کی وجہ سےدور کے اعضاء تک پہنچ جاتی ہے۔ حمام میں زیادہ دیر تک بیٹھنے سے ضیعف اعضاء کی طرف فضلات گرنے لگتے ہیں۔ جسم سست پڑ جاتا ہے۔ اعصاب کو ضرر پہنچتا ہے۔ حرارتِ غریزی تحلیل ہو جاتی ہے اور غذاکی خواہش اور قوتِ باہ ساقط ہوجاتی ہے۔ یہ باتیں اور مضرتیں صرف حمام میں زیادہ دیر تک بیٹھنے پرہی موقوف نہیں بلکہ خود حمام بھی ان تمام مضرتوں کو پیدا کرتا ہے۔

یادداشت

جب تک جسم اعتدال پر نہ آجائے اس وقت تک حمام کے پہلے کمرے میں رہنا چاہیے اور جب باہر نکلنے کا ارادہ ہو تو بدن کو خوب ڈھانپ لینا چاہیے تاکہ ہوانہ لگ جائے۔ جن لوگوں میں صفرا کی زیادتی ہوان کوگرم حمام نہیں کرنا چاہیے۔ عام طورپر خالی شکم (جب بھوک لگی ہو) حمام کرنے سے لاغری اور خشکی پیدا ہوتی ہے۔ لوگ ریاضت کم کرتے ہیں ان کو اکثر ایسا حمام کرنا چاپیے جس سے پسینہ آجائے۔ آبِ سرد سے غسل کرنا بدن کو قوی کرتا ہےمگرسردی کے وقت سرد پانی سے غسل نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ بچوں، بوڑھوں اور مریضوں کو سرد پانی کے غسل سے روکنا چاہیے۔

جسم و قوت کی کثرتِ تحلیل اور شدید محنت

اس کی ذیل میں تین صورتیں ہیں۔

1۔ جسمانی اور دماغی محنت

جسمانی اور دماغی محنت کی کثرت جسم میں بہت زیادہ تحلیل پیدا کرتی ہے۔ جس کو بدلِ مایتحلل پورا نہیں کرسکتااور ضعف واقع ہوجاتا ہے۔ عام طورپر جسمانی محنت زیادہ سے زیادہ ایک وقت میں چارگھنٹے اور پھر ایک گھنٹہ وقفہ کے بعد دو گھنٹہ سے زیادہ نہیں کرنی چاہیے۔ جسمانی محنت کرنے والوں کے لئے لازمی ہے کہ وہ غذا پیٹ بھر کر کھائیں اور اس میں گوشت کی مقدار کافی ہونی چاہیے۔ دماغی محنت کرنے والوں کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک وقت میں تین گھنٹے اور پھر ایک گھنٹہ کے وقفہ کے بعد ڈیڑھ گھنٹہ سے زیادہ دماغی کام نہیں کرنا چاہیے اس سے زیادہ دماغی محنت اعصاب میں تحلیل اور اعضائے رئیسہ میں ضعف پیدا کرتی ہے۔ دماغی محنت کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی غذامیں غلہ کم اور دودھ گھی، پھل اورمیوہ جات کا استعمال زیادہ کریں۔ گوشت کااستعمال ان کے دل چاہنے کے مطابق کرنا چاہیے اور نہ چاہے تونہ بھی کریں۔ البتہ مچھلی کا استعمال ان کے لئے بہت مفید ہے۔ جسمانی اور دماغی محنت کرنے والوں کے لئے لازمی ہے کہ وہ کبھی کبھار اپنے کام سے چھٹی کر لیں اور وہ وقت تفریح میں گزاریں۔

2۔ جذبات کی زیادتی

جذبات کی شدت نہ صرف جسم میں امراض پیداکرتی ہے بلکہ جسم کو کثرت سے تحلیل کرتی ہے۔ زیادہ کثرت زیادہ تحلیل کا باعث ہے۔ زیادہ غصہ اور غم سے دل میں تحلیل پیدا ہوتی ہے۔ غصے کی حالت میں ٹھنڈا پانی پینا چاہیےیا لیٹ جانا چاہیے۔ غم کی حالت میں مسرت کے ایام اور خدائے رحیم کی رحمت کا تصور ذہن میں تازہ کرنا چاہیے۔ خوف کی حالت میں اعصاب تحلیل ہوتے ہیں اور بعض اوقات بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے ایسے وقت خوف زدہ آدمی میں غصہ پیدا کرنا چاہیےتاکہ خوف رفع ہوجائے۔ مسرت و لذت کے جذبات کی کثرت سے ضعفِ جگر پیدا ہوتا ہےاور بعض اوقات جگر اس قدر تحلیل ہوجاتاہے کہ صحت خطرے میں پڑجاتی ہے۔اعتدال سے زیادہ لذت و مسرت میں گرفتار نہیں رہنا چاہیے اور زیادہ قہقے بھی لگانے چاہئیں۔ اس سے بھی اکثر جسم میں تحلیل کی صورت پیداہوجاتی ہے

3۔ مباشرت

اس امر میں مندرجہ ذیل باتوں پر شدت سے عمل کرنا چاہیے۔

1۔ خالی پیٹ مباشرت نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی شکم سیری کی حالت میں، یہ دونوں حالتیں نقصان رساں ہیں۔2۔ بیماری کی حالت میں مباشرت سے قطعاً پرہیز کی جائے۔3۔ جسم میں اگر کسی کیفیت کی زیادتی (گرمی، سردی، خشکی، تری) کا شدید احساس ہوتو اس وقت بھی مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیے۔4۔ غم، غصہ اور خوف کی حالت میں بھی اس سے دور رہنا چاہیے۔5۔ حیض اور نفاس کے ایام میں مباشرت سے پرہیز کریں۔6۔ کم سن لڑکیوں سے پرہیز کرنا بہت ضروری ہےکیونکہ اس سے عضو مخصوص میں تحلیل پیدا ہوتی ہے اور ہمیشہ کنواری لڑکیوں کے پاس جانا بھی یہی کیفیت پیدا کرتا ہے۔7۔ بڑھیا اور بدصورت عورتوں کے ساتھ مباشرت نہ کی جائے۔8۔ اغلام بازی کے قریب بھی نہیں پھٹکنا چاہیے اس سے اعضائے رئیسہ میں بے حد ضعف اور خرابی پیدا ہوتی ہے۔9۔ کثرتِ جماع سے پرہیز کیا جائے اس سے اعصاب کو سخت نقصان پہنچتا ہےاور عام طورپر اس سے رعشہ، فالج اور تشنج کے امراض پیدا ہوجاتے ہیں اور قلب و بینائی میں ضعف واقع ہوجاتا ہے۔ ذیل کی صورتوں میں مباشرت مفید ثابت ہوتی ہے اور صحت کو تقویت ملتی ہے۔

1۔ جب اس کی شدیدخواہش پیداہو یعنی بغیر کسی بیرونی تحریک کے شہوت کا غلبہ ہو۔2۔ مکمل تنہائی ہو کیونکہ دوسرے کا خوف ضعفِ قلب پیدا کرتا ہے۔3۔ جب جسم میں فرحت و انبساط اور ایک خاص قسم کاسرور پایاجائے۔مباشرت سے پرہیز کرنے سے دورانِ سر، گرانئ بدن، تاریکئ چشم، ورم خصیہ اور ورم کنج ران جیسے تکلیف دہ امراض پیدا ہوجاتے ہیں اور عورتوں میں اختناق الرحم، دورانِ سر ضعفِ قلب اور اکثر غشی کے دورے شروع ہوجاتے ہیں۔

ذیل کی چیزیں شہوت کو بڑھانے والی ہیں ۔1۔ پیڑو کےبالوں کو مونڈنا۔2۔لذیذ اغذیہ کا استعمال۔3۔ عشق و محبت کے قصے اور افسانے پڑھنا۔ 4۔ سریلی آوازوں اور نغموں کا سننا۔5۔ رقص و سرود کا دیکھنا وغیرہ۔

یادداشت

مباشرت کے روز نہانا دھونا، خوشبو لگانا، عمدہ کپڑے پہنناضروری ہے، متعفن اور گندے مقام سے دور رہنا چاہیے۔ مباشرت کی تمام شکلوں میں بدترین شکل یہ ہے کہ عورت مرد کے اوپر آئے۔ اس طرح مرد کے اعصاب اور اعضائے مخصوصہ میں نقصاں واقع ہوتاہے۔ صحیح صورت یہ ہے کہ مرداوپر ہو۔ مباشرت سے قبل پہلے آپس میں خوشی و مسرت کی باتیں کرنا چاہئیں اور جسم کے مخصوس حصوں میں مساج کرنا چاہیے اور جب تک جسم میں جوش اور لذت کی شدت پیدانہ ہواس وقت تک مباشرت نہیں کرن چاہیے۔ اس سے میاں بیوی دونوں کے انزال میں سہولت ہوتی ہے اور دونوں کا انزال ضروری ہے۔ اگر یہ صورت نہ ہوتو اعضائے رئیسہ میں نقصان واقع ہوتا ہے اور اوپر مذکور خراب امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ مباشرت اگر ضرورت کے مطابق کی جائے تو اس سے جسم ہلکا پھلکا محسوس ہوتا ہے، تھکن دور ہوجاتی ہے، اس کے بعد اچھی تسلی بخش نیند آتی ہے۔ بھوک بڑھ جاتی ہے اور جسمانی و دماغی محنت کرنے کو جی چاہتا ہے اور اگر اس کے بعد تھکن، سستی اور کمزوری واقع ہوتو یہ جان لیں کہ مواصلت ضرورت کے مطابق نہ تھی بلکہ لذت و شوق کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ صورت نقصان دہ ہے اور اس سے ضعفِ اعضائے رئیسہ پیدا ہوتا اور بڑھاپا جلد آتا ہے۔

مباشرت کے بعد تھوری دیر سونا لازمی ہے۔بعض لوگ اس کے بعد دودھ، حلوہ یا کوئی اورمقوی غذا یا دوا استعمال کرنے کے عادی ہوتے ہیں تاکہ مواصلت کا بدلِ مایتحلل ہوجائےلیکن یہ عادت بجائے فائدہ کے نقصان دہ ہے کیونکہ اس وقت دورانِ خون میں تیزی ہوتی ہےاور وہ دور دور سے اپنے فضلات کا اخراج کررہا ہوتا ہے اور ایسے وقت کھانے سے ان کا ایک طرف اخراج رک جاتا ہےاور دوسری طرف طبیعت نئی کھائی ہوئی چیز کی طرف پوری طرح توجہ نہیں دیتی اور اس میں فساد پیداہوجاتا ہے۔ کم از کم گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعدجب بدن اعتدال پر آ جائےتو اول غسل کیا جائے اور بعد میں کچھ کھایاجائے اور ایسی عادت پڑ گئی تو ایسے موقع پر جو چیز مفید ہوسکتی ہے وہ پان ہے اور اگر خوشبو ہوتو اور زیادہ بہتر ہے۔

عورتوں کو ایامِ حمل اور زمانۂ رضاعت میں جب تک بچہ دودھ نہ چھوڑے۔ مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے بچہ کی صحت پر بہت بُرا اثر پڑتا ہےاور اس کو اکثر اسہال ، پیچش اور بخار کی شکایت رہتی ہے اور بعض اوقات دق الاطفال اور ام الصبیان جیسے امراض پید ا ہوتے ہیں جس سے بچہ سوکھ کر کانٹا ہوجاتا ہے بچہ کو دوسال تک دودھ پلانا ضروری ہے۔

تندرست آدمی کو محض شوق کی خاطر مقوی باہ یا ممسک ادویہ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ وہ کن اعضاء کے لئے مفید ہیں اور اکثر اوقات کسی عضو کوزیادہ تیز کرنے سے بھی اس میں ضعف پیداہ وجاتا ہے اور اسی طرح طلاء وغیرہ کا استعمال بھی بجائے فائدہ کے نقصان دہ ہے۔ یہ سب چیزیں مریضوں کے لئے ہونی چاہئیں۔

تاکید

بعض لوگ حمل کی روک تھام کے لئے ایسی صورتیں عمل میں لاتے ہیں جس سے قرار حمل میں رکاوٹ ہو مثلاً عزل(انزال کے وقت عضوِ مخصوص کو باہر نکال لینا)، عضو مخصوص پر باریک کپڑا یا ربڑ کی تھیلی یعنی ساتھی یا عورتوں کے جسم میں مواصلت کے بعد ایسی ادویا رکھنا جن سے نطفہ ضائع ہوجائے۔ یہ تمام اشکال مردو عورت دونوں کے لئے ضرر رساں ہیں ۔ ان سے دل ودماغ دونوں پر بُرا اثر پڑتا ہے اور منی کے صحیح اخراج نہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات مردوں کو جنون، مالیخولیا اور دورانِ سر کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے اور عورتوں میں اختناق الرحم اور سیلان الرح وغیرہ کے امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ اسقاطِ حمل بھی عورتوں کی صحت پر بہت بُرا اثر ڈالتا ہے۔ ایک اسقاط دس بچوں کی پیدائش کے برابر اثرات رکھتاہے اور حقیقت یہ ہے کہ بچہ کی پیدائش سے عورت کی صحت پر بُرا اثر نہیں پڑتا بلکہ اس کے لئے توانائی کا اثر رکھتا ہے۔ ہر بچہ جو ماں کے پیٹ میں پرورش ، نشوونما پاتا ہے اور اس میں زندگی کے نئے آثار پیدا ہوتے ہیں تو اس کی اس نموکا اثر ماں پر بھی پڑتا ہے اور اس میں نئی زندگی اور حرارت پیدا کردیتا ہے۔

تدابیر ِ موسم

موسم بھی انسان پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کے غیر معمولی اثرات سے بچنے کی تدابیر کرنی چاہئیں۔ خصوصاً ان کوگوں کو جن کے مزاج کے لئے تکلیف دہ ہوں۔ علاج کے دوران موسم کا خیال بھی رکھنا چاہیے کیونکہ بعض امراض بعض موسموں میں مشکل العلاج ہوتے ہیں۔ اور بعض موسموں میں مشکل العلاج ہوتے ہیں اور بعض موسموں میں تیز اورتندادویہ استعمال نہیں کی جاسکتی۔ چند ضروری باتیں جن پر عمل لازمی ہے وہ یہ ہیں۔

1۔ موسمِ بہارکے اوائل میں جلدی فصد اور اسہال کرائیں اور تمام گرم تر چیزوں سے پرہیز کیا جائے۔2۔ موسمِ گرما میں غذا، شراب اور ورزش میں کمی کردی جائے، سایہ میں بیٹھنا، جسم کودھوپ سے بچانا، آرام و آسائش سے رہنا، گرمی بجھانے والی اشیاء کا استعمال اس موسم میں لازمی ہے۔ عادی لوگوں کو قے کرانے میں بھی تاخیر وتساہل نہ کریں۔3۔ خزاں میں خشکی پیداکرنے والی باتوں، جماع، سردپانی، سرد مکان میں سونے ، دوپہر کی دھوپ، صبح اور رات کی سردی، ترمیوؤں کے کھانے سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔نیز اس کے ااوائل میں استفراغ کیا جائے۔ تمام ایسی چیزیں کھائی جائیں جو کسی قدر تر اور گرم ہوں ۔4۔ موسم ِ سرمامیں فصداور قےسے پرہیز لازمی ہے مگر بقدرِ ضرورت اسہال کی اجازت ہے۔ اس موسم میں غذاکی بکثرت مگر بقدرِ ہضم استعمال کریں۔ کیونکہ اس موسم میں ہضم اچھا ہوتا ہے۔

یادداشت

حاملہ عورت کو فصد، سنگیاں ، اسہال اور قے سے پرہیز لازمی ہےالبتہ اشد ضرورت کے وقت اجازت ہے۔ اسی طرح حمل کے دوران شدید خوف، غصہ، ہولناک آوازوں اور تیز تیز خوشبوؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

علم العلاج

طبِ یونانی میں جس طریق سے علاج کیا جاتا ہےاس کا نام علاج بالضد ہے یعنی ہرعلامت ، صورت اور کیفیت کا علاج اُس کی ضد ادویات کے ساتھ مثلاً اگر اسہال اور قے آرہی ہوتو بندکردئیے جائیں درداور ورم کی صورت ہوتو اُن کو دور کر دیا جائے اور اگر گرمی ہوتو سرد ادویات استعمال کرائی جائیں اور اگر سردی ہوتو گرم ادویہ دی جائیں وغیرہ ۔ مگر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ علاج بالمثل پر عمل درآمد کرنے والے معالجین بھی کامیابی سے علاج کررہے ہیں اور اگر ان کو نظرانداز بھی کردیا جائے تو خود ہمارے اطباءجو علاج بالضدکے قائل ہیں ۔ بارہاعلاج بالمثل کے اصول سے کام لیتے ہیں۔ مثلاقولنج کا علاج افیون سے کرتے ہیں حالانکہ دونوں سرد ہیں ۔ حمیٰ صفروای کا علاج سقمونیا سے کرتے ہیں حالانکہ صفرااور سقمونیا دونوں گرم ہیں۔ اسی طرح بارہاقے کا علاج قے سے اور اسہال کا علاج اسہال سے کیا جاتا ہے پھر ہم اس طریقہ علاج کو علاج بالضد کیوں کہتے ہیں۔اس کے جواب میں جاننا چاہیے کہ ہر طریقہ علاج عقل، تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہوتا ہےمثلاً تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ سردی گرمی سے دور ہوجاتی ہے اور گرمی سردی سے، اسی طرح ترشی کھاری پن سےٹوٹ جاتی ہے اور کھاری پن ترشی سے رفع ہوجاتا ہے اور جسم کا ضعف طاقت ور ادویات سےدور ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ہمارا روز کا مشاہدہ ہے کہ جو چیزیں ایک دوسرے کی ضد ہوتی ہیں ان میں سے ہرایک کا یہ طبعی تقاضا ہوتاہے کہ دوسری کو توڑ کراس کی جگہ لے لے اور اس جدوجہد میں جو غالب ہوتی ہے اسی کا اثر ہوتاہے۔ آگ پانی میں یہی قدرتی مشاہدہ نظر آتا ہے۔ عقلاً بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اگر گرم امراض میں گرم ادویہ و اغذیہ، سرد امراض میں سرد اغذیہ وادویہ اور اسی طرح سرداوار تر امراض میں سرد اور تر اغذیہ و اشربہ کا استعمال کیا جائے تو مرض میں اضافہ ہوتا ہے نہ کہ کمی۔ تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم ہر علامت ، صورت اور کیفیت کا بالضد علاج نہ کریں۔

رہا قولنج کاعلاج افیون سے کرنا تو یہ دراصل قولنج کا علاج نہیں بلکہ قولنج کی حالت میں شدید درد کو روکنے کی صورت ہے۔ کیونکہ قولنج اس سدّے کا نام ہےجو سردی کی وجہ سے آنتوں میں پھنس جاتا ہےاوریہ افیون سے کبھی دور نہیں ہو سکتا لیکن چونکہ سدّے کے اخراج پر اتنا وقت صرف ہوتا ہےکہ اس وقت تک مریض درد کی شدت میں مبتلا رنا برداشت نہیں کرسکتا، اس لئے وقتی طورپر افیون کا استعمال کیاجاتا ہے وہ قولنج کا نہیں بلکہ درد کا احساس کا علاج ہے اور اس کا علاج افیون سے کرنا صحیح معنوں میں علاج بالضد ہے۔ اسی طرح حمیٰ صفراوی سقمونیا سے دور نہیں ہوتا بلکہ صفراکی ضرورت کے مطابق کمی کی وجہ سے بخارکا قیام ہوتا ہےاس اس کمی کوسقمونیا کے استعمال سے پورا کیا جاتا ہے جس سے صفراوی مادوں کا اخراج ہوتا ہے۔ اسی لحاظ سے سقمونیا کا عمل بھی بالضد ہے۔ ایسے ہی قے و اسہال کا علاج قے اور اسہال سے بھی قے اوراسہال نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس قوت کا علاج ہوتا ہے۔ جس کی کمی کی وجہ سے طبیعت قے اور اسہال کے ذریعہ فاسد موادکوپوری طرح خارج نہیں کر سکتی ۔ اس لئے قے اور اسہال کی کمی کو قے و اسہال کی ادویات سے تیز کیا جاتا ہے تاکہ فاسد مواد کا اخراج ہوجائے اور اس کے بعد اکثر خود ہی قے و اسہال بند ہوجاتے ہیں یاان کو بالضد ادویات سے بند کر دیا جاتا ہے۔علاج بالمثل بھی دراصل علاج بالضدہی ہے۔

طبِ یونانی علاج کی تین صورتیں ہیں۔1۔علاج بالتدبیر۔2۔ علاج بالدوا۔3۔ علاج بالیدیا دستکاری۔

1۔ علاج بالتدبیر

طریقہ علاج اسبابِ ستہ ضروریہ یعنی غذاپانی وغیرہ میں مناسب تصرف کرنے سے کیا جاتا ہےجس کا ذکر اعلم الاسباب میں ہوچکاہے۔

یادداشت

اسبابِ ستہ ضررویہ کے ساتھ ساتھ کیفیات کوبھی مدِ نظر رکھاجاتاہے۔ یعنی گرم کیفیات کے مریضوں کی گرم کیفیات کو سردماحول اور سرد اغذیہ وادویہ اور دیگر تدابیرسے بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے اوراسی طرح سرد خشک اور ترکیفیات کے مریضوں کی کیفیات کو بدلنے کے لئے ان کے برعکس تدابیر اختیارکی جاتی ہیں۔

2۔ علاج بالدوا

علاج بالدوا میں ہر قسم کی ادویہ اغذیہ اندرونی و بیرونی طورپر استعمال کرائی جاتی ہیں اور ان کے بالضد کا خیال رکھاجاتا ہے۔

یادداشت

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جس ملک کا علاج ہو اس ملک کی ادویہ استعمال کرنی چاہئیں اور باہر سے نہ منگائی جائیں۔ یہ اعتراض بہت حد تک صحیح ہے کیونکہ ہر ملک کی ادویات وہاں کے رہنے والوں کے زیادہ مناسب اور مزاج کے زیادہ قریب ہوتی ہیں لیکن جو ادویہ اپنے ملک میں دستیاب نہ ہوں ان کو باہر سے منگواناکوئی برُی بات نہیں ہے۔لیکن اُن ادویات کے مزاج، کیفیات اور خواص و فوائد سے پوری آگاہی ہونی چاہیے۔ اس وقت بھی یونانی طب میں بے شمار ادویہ ایسی ہیں جو غیر ممالک سے منگوائی جاتی ہیں جیسے ثناء مکی جو مکہ سے آتی ہے جو دیگر اقسام سناء سے بہتر ہے۔ ثعلب مصری مصر سے اور صبر ثقوطری جوترکی کے علاقہ ثقوطر سے درآمد کی جاتی تھی۔

3۔ علاج بالیدیادستکاری

اس صورتِ علاج میں اعضائے جسم کوضرورت کے مطابق چیرناپھاڑنا، جوڑوں کا درست کرنا اور بٹھانا۔ بعض امراض میں حصہ جسم کو داغنا، فصدو حجامت، امالہ مرض اورٹوٹی ہوئی ہڈی کاجوڑنا وغیرہ شامل ہیں۔

یادداشت

دوا سے علاج کرنے میں اس امرکو ضرورملحوظ رکھیں کہ اگر کیفیات اور مزاج کے مطابق دواکی بجائے صرف غذایاغذائے دواسے علاج ہوسکتا ہو سکتا ہوتو زیادہ افضل اوربہتر ہے۔ پھر اگر یہ ممکن نہ ہوتو پہلے ہلکی مزاج کی ادویہ سے علاج شروع کیا جائے اور مرض کی انتہائی اور شدید حالت میں تیز قسم کی شدید ادویات برتنی چاہئیں۔

علاج کُلی

مندرجہ بالا طریقہ ہائے علاج کا ہم ذیل میں صرف اس قدر ذکرکریں گے جس سے ان کے کلی اصول بیان ہوجائیں تاکہ دورانِ علاج یہ اہم اور ضروری باتیں مدِ نظر رہیں۔ کیونکہ جب تک علاج کے کلی اصول ذہن نشین نہ ہوں تو علاج صحیح طورپرنہیں ہوسکتا۔ علاج میں صرف یہ جاننا کافی نہیں ہوتا کہ فلاں مرض می فلاں دوا ہے بلکہ چند احکام بھی مدِنظر رکھنے پڑتے ہیں اور ان کے تحت بعض اوقات ادویات میں کمی بیشی، کبھی غذامیں تغیر وتبدل، کہیں ماحول میں تبدیلی اور بعض اوقات مریض کے نفسانی اور کیفیاتی اثرات کودور کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس لئے کسی مرض کی دوا استعمال کر دینا علاج کے لئے کافی نہیں بلکہ علاج کے امورِ کلی کو ذہن نشین کرنا بہت اہم ہے بلکہ ہر مرض کے اصولِ کلی ذہن نشین رکھنے چاہئیں۔ ذیل میں ہم علاج کے جن اصول کلی پر بحث کریں گے جو یہ ہیں۔

1۔احکامِ غذا

غذاکے متعلق سب سے اہم بات یہ ہے کہ بغیر شدید بھوک کے مریض کو غذابالکل نہ دیں اور جب بھوک سے غذاکے لئے اصرارکرے تو اول اس کو لطیف اغذیہ مثلاً دودھ کاپانی، پھلوں کو رس، چائے کا پانی یا چائے، رقیق شوربہ، انڈے کی سفیدی یاانڈےکی زردی کا شوربہ وغیر ہ استعمال کرائیں اور جب ان کے باربار کھانے سے بھی بھوک رفع نہ ہوتو انہی لطیف اغذیہ میں گھی کا اضافہ کردیں مثلاً دودھ یاگھی ملاہوا دودھ یا گھی والی چائےاورشوربے وغیرہ۔ اور اگر اس کے بعد بھی مریض بھوک کی شکایت کرےتودلیا، چاول، خشکہ، ڈبل روٹی اور چپاتی کا چھلکا وغیرہ دیں مگر ترکاری کے ساتھ ان کواستعمال کرائیں۔ ان میں گھی بہت زیادہ ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ذہن نشین رکھیں کہ ہرغذاکا وقفہ کم از کم چھ گھنٹے ضرورہونا چاہیے تاکہ طبیب کو تسلی ہوجائےکہ پہلے کھائی ہوئی غذاضرورہضم ہوگئی ہے۔

یادداشت

یاد رہے کہ غذاکو ہضم کرنے کے لئے حرارت کی ضرورت ہے اور جسم میں حرارت کی کمی کے وقت جو غذامریض یاتندرست آدمی کھاتا ہے وہ ہضم نہ ہونے کی صورت میں اندر متعفن ہوکر باعثِ فسادہوتی ہے۔ اس لئے اگر جسم میں حرارت کی کمی ہوتو ثقیل اغذیہ مثلاً چپاتی، نیم پختہ گوشت اور روغنِ دار اغذیہ بند کر دینی چاہئیں اور جب غذا پوری طرح ہضم ہوتو پھرتھوڑاتھوڑاکرکے غذاکو شروع کرائیں۔ مریض کا بغیر حرارتِ جسم کے غذاکااستعمال کرنا ایک جرم ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی مدِنظر رہےحرارت ہی ایک ایسی چیز ہےجس پرزندگی اورنشوونماکا دارومدار ہے۔ اس لئے طبیب کو مریض کی حرارت کو خاص طوپرمدِنظر رکھنا چاہیے۔ بغیر ضرورت ٹھنڈی اغذیہ واشربہ مثلاً شربت لسی وغیرہ سے پرہیز کرانا چاہیے اور اسی طرح بغیر ضرورت مسہلات اورمدرات کا استعمال بھی منع ہے۔ کیونکہ ان سے حرارتِ جسم کم ہوجاتی ہے۔غذا میں ذیل کے احکام کو خاص طورپر مدِ نظر رکھیں۔

1۔ ضرورت کے وقت مریض کوغذاسے روک دینا چاہیے مثلاً جب جسم میں امتلاء زیادہ ہو ، کیونکہ اس وقت طبیعت مواد کورفع کررہی ہوتی ہےاور جسم میں اکثر تعفن ہوتا ہے ایسی حالت میں غذابھی متعفن ہوکربارعثِ نقصان ہوتی ہے۔ اسی طرح جب مرض رفع ہورہاہو، کیونکہ اس وقت جسم مرض کو رفع کررہا ہوتا ہے اور غذاکی زیادتی سے طبیعت اسے چھوڑ کرغذاکی طرف متوجہ ہوجائے گی اور مرض رک جائے گا۔ یا دوبارہ شدت اختیار کرلے گا۔ باری کے بخاروں میں باری کے اوقات پراس دن غذابند رکھنی چاہیے اور جب تک باری گزر نہ جائے غذابن کر دینی چاہیے۔

2۔ جب مریض کو بھوک زیادہ تنگ کرے اور وہ باربار اس کی شکایت کرے تو اس کو اس قسم کی غذادینی چاہیے جس میں مقدار کی زیادتی مگر تغذیہ کی کمی ہومثلاً سبزیوں کو استعمال بغیر دودھ کی چائےاور چاول وغیرہ اور اگر اس کے بعد بھی بھوک کی زیادتی رہے تو ان اغذیہ کے ساتھ گھی کی مقدار بڑھا دینی چاہیے لیکن کوشش کی جائے کہ اس کی غذامیں نشاستہ دار اغذیہ نہ ہوں یا بہت کم ہوں۔ یادرہے کہ بھوک کی زیادتی اکثر معدہ کی سوزش یا خشکی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

3۔ بعض اوقات مریض کی بھوک بالکل بند ہوتی ہے اور وہ نقاہت محسوس کرتا ہے ایسی حالت میں قلیل مقدار میں مقوی اور زودہضم اغذیہ استعمال کرائی جائیں مثلاً شوربایاانڈے کی زردی وغیرہ۔ ان سے طاقت بھی بحال رہے گی اور ہاضمہ پر زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا۔ بھوک کی کمی بعض اوقات معدہ میں رطوبت اور بلغم کی زیادتی اور گاہے ضعفِ جگرسےپیدا ہوتی ہے۔

4۔ جب بدن میں ضعف کے ساتھ رطوبات کی زیادتی ہوتو غذامقدار اور کیفیت دونوں کے اعتبار سے کم کرادی جائے۔

5۔ جب جسم میں غذاکو ہضم کرنے کی استعداد زیادہ ہوجائے اور طبیعت صحت کی طرف راغب ہوتو غذامقدار اور کیفیت دونوں میں بڑھا دی جائے۔

6۔ جب آنتوں اور جگرمیں خرابی ہوتوایسی غذااستعمال کرائی جائے جو معدہ میں ہی ہضم ہوجائے جیسے نشاستہ دار اور لحمی اغذیہ۔

7۔ اسی طرح جب معدہ میں خرابی ہوتو ایسی غذائیں استعمال کرائی جائیں جن کو معدہ کو ہضم کرنے میں زیادہ تکلیف نہ کرنا پڑے اور وہ جگر اور آنتوں میں ہضم ہوجائیں جیسے روغنی اغذیہ۔

8۔ جس وقت جسم میں سدوں کو احتمال ہوتو اس وقت ہر غذاکے ساتھ روغنی اشیاء کا اضافہ کردیا جائے جیسے گھی، دودھ اور بادام وغیرہ۔

9۔ جب تک جسم کے اندرموادہوتو اس وقت تک غذا خصوصاً مقوی اغذیہ کا استعمال بند رکھنا چاہیے۔ جب فضلات کا اخراج ہوجائے اور اعضاء میں غذاکے طلب کی استعداد پیداہوجائے تو اس وقت مقوی غذاکو شروع کرایا جائے لیکن اگر ضعف کا خطرہ ہوتو مقوی اغذیہ قلیل مقدار میں استعمال کرانی چاہئیں۔

10۔ گردوں کے امراض میں محلول اغذیہ مثلاً دودھ ، چائےاور پھلوں کارس استعمال کرائی جائیں۔ آنتوں کے امراض میں اور خصوصاً جب پیچش ہو غذابند کردینی چاہیے یا صرف دودھ کا پانی اورانڈے کی سفیدی استعمال کرائیں۔ اسی طرح نزلہ کی حالت میں غذابالکل روک دی جائے۔ اور اگر مریض اصرار کرے تو خشک اغذیہ مثلاً چنے ، مکئی اورباجرہ کی روٹی اور یہ پسند نہ کرے تو صرف گندم کی روٹی بغیر ترکاری کے دی جائے۔ بخار کی حالت میں غذابالکل بند کردینی چاہیے اور اگر مریض اصرار کرے تو صرف پھلوں کے رس استعمال کرائیں۔ قبض کے مریضوں کو عام طورپرزیادہ مقدار میں غذااستعمال کی جائے لیکن اس کے ساتھ روغنی اغذیہ کی مقدار نمبر3 کی مقدار سے زیادہ ہونی چاہیے۔

2۔احکامِ دوا

اس امر میں مندرجہ ذیل امور کی رعایت کرنی چاہیے،

1۔ مزاجِ مریض

یعنی۔1۔ مرض کی نوعیت کہ آیا مرض گرم ہے یا سرد۔2۔ مرض کا سبب بادئ سابق یا شرکی ہے۔3۔ مریض کی قوت و ضعف۔4۔ مریض کا نیا مزاج جو مرض کی وجہ سے ہوگیا ہے۔5۔ مزاج طبعی یعنی مریض کا اصل مزاج جو حالتِ صحت میں ہوتا ہے۔6۔ عمر۔7۔ عادات مثلاً مریض مسہلات، مقیمات اور فصد کو عادی ہے یا نہیں۔8۔ مقام: جس مقام پر مرض رہتا ہے وہ گرم ہے یا سرد۔9۔ موجودہ موسم۔10۔ ہوا کی کیفیت۔

2۔ دوا کی کیفیت

دوا استعمال کرنے سے قبل اس کا تعین اور اختیا رکرنا ضروری ہے جو مریض کے مزاج کے مطابق ہو اور اس میں درج ذیل باتوں کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔1۔ کیفیتِ مرض: مرض کی کیفیات میں شدت ہوتو ادویات بھی اتنی طاقت کی استعمال کرنی چاہئیں۔2۔ جسم کا مزاج : گرم مزاج شخص کواور زیادہ گرمی پہنچ گئی ہوتواس کو فوراً زیادہ ٹھنڈا کرنا مناسب نہیں اور اسی طرح اس کے برعکس ٹھنڈے مزاج آدمی کو زیادہ ٹھنڈ پہنچ گئی ہوتو اس کو فوراً زیادہ گرم کرنا مناسب نہیںَ۔3۔ وقت، موسم اورملک کے مطابق ادویات استعمال کرنی چاہئیں مثلاً سردی کے موسم میں زیادہ سرد اور گرمی کے موسم میں زیادہ گرم ادویہ استعمال کرنے سے گریز کریں اور معتدل ادویہ استعمال کریں۔

3۔ اوقاتِ استعمال

اس کے فیصلے میں چند باتوں کا لحاظ کرنا چاہیے۔1۔ مرض کے اوقات ابتدااور انتہاکے اعتبار سے یعنی مرض کس حالت میں ہے۔2۔ مریض کی قوت: اگر مریض قوت میں ہےتو استفراغ میں دیر نہ کرنی چاہیےلیکن اگر قوت ضعیف ہوتو استفراغ کرنے میں اس وقت تک دیر کریں جب تک بذریعہ غذاقوت کو لوٹایا نہ جائے۔3۔ موسم کی مناسبت : جیسے موسمِ سرمامیں دوپہرکے وقت اور گرما میں صبح کے وقت استفراغ کیاجائے

یادداشت

ورم کی حالت میں اس امرکو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے کہ اس کی ابتداہے تو رادع ادویہ کا استعمال کریں۔ درمیانی حالت میں رادع اور محلل ادویہ ملا کراستعمال کریںاوراگر ورم انتہا ہے تو صرف محلل ادویہ برتنی چاہئیں۔

4۔ ادویہ کا استعمال

1۔ صحیح تشخیص کے بعد صحیح تجویز کی گئی دوا استعمال کرائیں، جب تک تشخیص و تجویز میں شک ہودوا استعمال نہ کرائیں بلکہ ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ صرف غذا روک دیں اور تسلی ہونے پر دوا استعمال کرائیں۔ 2۔ جہاں تک ممکن ہو مفرد ادویہ استعمال کرائیں، اور جب تک ہلکی دوا سے کام چل جایئے تیز ادویہ استعمال کرانے کی کوشش نہ کریں۔3۔ جہاں تک ممکن ہو کم ادویہ کا نسخہ استعمال کرائیں۔4۔ زہریلی ادویات سے حتی ٰالامکان پرہیز کریں۔5۔ جن ادویات کے خواص اور کیفیات کا علم نہ ہویا جس مرکب کے اجزاء پوری طرح نہ جانتے ہوں ان کو استعمال نہ کریں۔6۔ کسی مرض کو دور کرنے کےلئے اس وقت تک کوئی دوا نہ دی جب تک مریض کی کیفیات اور مزاج کو درست نہ کرلیں۔7۔ جسم میں فاسد مواد اوار فضلات کی موجودگی میں مقویات کا استعما ل نہ کرائیں، ایسی حالت میں وہ مرض کی زیادتی کا باعث ہوں گی۔8۔ کسی عضو کی مقوی دوا اس وقت استعمال کریں جب اس عضوکودواکے جذب کرنے کے لئے تیار کر لیا ہو۔9۔ بغیر سوچے سمجھے شدید مسہلات، مدرات اور مقیات کا استعمال نہ کرائیں۔10۔ مواد کو اعضائے رئیسہ کی طرف امالہ (کھینچنا)کرنے کو کوشش نہ کریں۔11۔ مریض جس علامت یا مرض کا ذکر کرےفوراً اس مرض کے لئے دوااُٹھاکر نہیں دینی چاہیے بلکہ خودتشخیص کریں اور پھر دوا تشخیص کرنی چاہیے کیونکہ ممکن ہے کہ جب مریض پیٹ کے درد کا ذکر کرےتو وہ آنتوں میں ہو جگر وغیرہ میں درد ہو۔ اسی طرح یہ درد ریح کابھی ہوسکتاہے، سوزش سے بھی اور اس مقام پر بھی ورم ہوسکتا ہے۔12۔ مریض اگر گرمی کی شکایت کرےتو اس کے لئے بغیر سوچے سمجھے تبرید دوا نہ تجویز کی جائے۔ کیونکہ بے چینی، اکثر ریاح کی شدت اور کسی عضو کے انقباض کی وجہ سے ہوتی ہے اور ان کے لئے گرم ادویہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح ہیضے کا مریض گرمی کی زیادتی اور پیاس کی شدت کا اظہار کرتا ہے اور اس کے لئے ٹھنڈا پانی زہرِ قاتل ہے۔

3۔ احکامِ استفراغ

استفراغ کے معنی جسم کوفضلات سے فارغ کرناہے۔ اطباء کی اصطلاح میں لفظ استفراغ سے ان چیزوں کابدنِ انسان سے خارج کرنا مراد ہے کہ اگر وہ چیزیں باقی رہ جائیں تو بدن میں طرح طرح کافساد پیداہوکرافعال انسانی صحیح طورپر صادر نہیں ہوسکتے اور یہ ذیل کی صورتوں میں کیا جاتا ہے۔ 1۔ بذریعہ مسہل یاملین۔2۔ بذریعہ حقنہ۔3۔ فصد۔4۔ قے۔5۔ حجامت ۔6۔ حمام۔7۔ علق یا سنگیاں

یادداشت

ان استفراغات میں مسہل، قے اور فصد عمومی ہیں اور باقی مقامی۔عمومی: استفراغ عام طورپراس وقت کیاجاتا ہے جب مواد تمام جسم میں پھیلا ہواہویا دوسرے الفاظ میں اخلاط میں اثرانداز ہواور مقامی استفراغ اس وقت کیاجاتا ہے جب مادہ کسی خاص مقام پر رکا ہوا ہو۔

شرائطِ استفراغ

ہر استفراغ میں ذیل کے امور کو کو مدِ نظر رکھیں۔1۔ امتلاء۔2۔ قوت۔3۔ مزاج۔4۔ فربہی۔5۔ لاغری۔6۔ عوارضِ لازمہ۔7۔ عمر۔8۔ وقت۔9۔ملک۔10۔ پیشہ۔11۔عادت۔

ا۔ امتلاء

اس سے مراد جسم کا مواد سے بھرا ہونا ہے۔ جب تک جسم میں مواد پایاجائے۔ استفراغ درست ہے اور بدن مواد سے خالی ہونے پر استفراغ روک دیا جائے۔

2۔ قوت

قوت سے مراد یہ ہے کہ مریض کے جسم میں اس قدر قوت ہے کہ استفراغ سے اس کو کمزوری نہ ہوگی۔ اگر مریض میں ضعف وناتوانائی زیادہ ہوتو استفراغ سے پرہیز کریں۔ البتہ اگر مواد کی شدت سے نقصان کا خطرہ ہو تو استفراغ ضرور کرا دینا چاہیے۔

3۔ مزاج

مزاج میں اگر گرمی خشکی اور سردی کی شدت ہویا خون کی کمی ہوتو بغیر اشدضرورت کے استفراغ سے پرہیز کریں

4۔ فربہی اور لاغری

فربہی اور لاغری میں بغیر ضرورت کے استفراغ کرنے سے انتہائی نقاہت پیدا ہوجاتی ہے۔

5۔ عوارضِ لازمہ

بغیر مرض کا تعین کئے استفراغ مہلک ہوتا ہے۔ جیسے تپ محرقہ، زخم امعاء ، اورام، بواسیر اور اسی طرح حمل کے دوران بھی استفراغ منع ہے۔

6۔ عمر

بغیر اشد ضرورت بچوں، بوڑھوں اور نازک مزاج مستورات کو استفراغ نہیں کرانا چاہیے۔

7۔ وقت

شدتِ گرما و سرما، بارش اور رات کے وقت بغیر اشد ضرورت کے استفراغ سے پرہیز کریں۔

8۔ ملک

انتہائی گرم اور سرد ممالک میں استفراغ درست نہیں۔

9۔ پیشہ

جن پیشوں میں مواد ویسے ہی تحلیل ہوجاتا ہو ان کو استفراغ درست نہیں جیسے حمامی، حمال اور دوسرے محنت کش مزدور وغیرہ۔

10۔ عادات

جن لوگو ں کو استفراغ کی عادت نہ ہوان کو عام طورپر استفراغ نہیں کرانا چاہیے۔ البتہ ضرورت کے وقت ہلکا سا استفراغ کرا دیا جائے۔

مقاصدِ استفراغ

1۔ موذی مواد کا بدن سے نکالنا۔2۔ موذی مادے کا بقدرِ برداشت نکالنا۔3۔ استفراغ اس طرف کیا جائے جس طرف مادے کا میلان ہو۔4۔ جو مواد نکالے جائیں ان کے راستے طبعی ہوںمثلاً محدبِ جگر کا مواد پیشاب کی راہ، مقعر جگر کامادہ پاخانے کی راہ نیز جدھر سے نکالا جائے وہ ادنیٰ عضوہو اور اس سے تعلق رکھتا ہو۔5۔ استفراغ سے قبل مادے کو نضج سے پکالیا جائے، نضج مواد کی اس حالت کا نام ہےجس سے وہ قوام میں معتدل ہوجائےاور آسانی سے خارج ہوسکے کیونکہ زیادہ غلیظ اور لیسدار مواد آسانی سے خارج نہیں ہوسکتا البتہ اشد ضرورت کے وقت بغیر نضج کے بھی استفراغ کرایا جاسکتا ہے۔

یادداشت

اگر استفراغ سے مادہ بکثرت خارج ہورہا ہوتو گھبرانا نہیں چاہیے اور جب تک قابلِ اخراج مادہ نکلتا رہے اور مریض برداشت کر سکے اس و قت تک مادے کی کثرت سے قطعاً نہ گھبرائیں لیکن جب مواد خارج ہوجائے یا کمزوری کا خدشہ ہوتو استفراغ بند کردیں۔

مسہلات

مسہلات استعمال کرنے میں یہ امر لازمی ہے کہ ادویات نہ صرف مزاج و کیفیات کے مطابق ہوں بلکہ ہر مرض اور عضو کے بھی مطابق ہوں کیونکہ قدرت نے تقریباً ہر مرض اور علامت کا ایک جدا مسہل بنایا ہے اور کسی مسہل کا غیر مناسب جگہ پر استعمال باعثِ نقصان ہوتاہے۔ مسہلاتِ جسم میں بیان کئے گئے طریق پر عمل کریں۔1۔ جسم میں قوتِ انقباض کو بڑھا دیتے ہیں اور ان کے بعد طبیعت اس کے ردِ عمل کی صورت میں اسہال لے آتی ہےجیسے مصبر۔2۔ ادویہ جسم میں حرارت پیدا کرکےموادکو تحلیل کرتی اور اسہال لاتی ہیں۔3۔ اس قسم کی ادویات جسم میں لیس اور لزوجیت پیدا کردیتی ہیں اور طبیعت ان کو خارج کرنے کی کوشش میں اسہال لے آتی ہے جیسے اسبغول۔4۔ نمکین ادویہ کے استعما ل سے جسم میں ملاحت بڑھ جاتی ہےاور طبیعت اس کا اخراج لازمی سمجھتی ہے اور اسہال آتے ہیں جیسے لاہوری نمک۔5۔ بعض ادویہ جسم میں سوزش پیداکردیتی ہیں اور طبیعت ان کو رفع کرنے کی کوشش کرتی ہےاور اسہال آتے ہیں جیسےجمال گوٹہ۔6۔ جسم میں جب کھار یا ترشی کی زیادتی ہوجاتی ہے تو طبیعت ان کو اسہال کے ذریعے خارج کرتی ہے جیسے ترشی کی صورت میں املی، آلوبخارا اور کھارکی صورت میں سجی کھاروغیرہ۔7۔ جسم میں روغنی اغذیہ کی زیادتی اپنی حرارت اور لزوجیت سے اسہال پیدا کردیتی ہے جیسے بادام روغن وغیرہ۔

احکامِ مسہلات

1۔ مسہلات کے استعمال میں اگر وقت ہوتوپہلے منفجات کا استعمال کرکے مادے کو صحیح طورپر پکالیا جائے اور اس کے بعد ملینات استعما ل کرائے جائیں بعدازاں مسہلات کا استعمال کیا جائے۔2۔ مسہلات کے دوران سکون و آسائش اختیار کی جائے اور اگر دوا سے متلی کی صورت پیدا ہوتو خوشبودار ادویات مثلاً جیسے پودینہ وغیرہ سونگھائیں یا تھوڑی سی استعمال کرادیں۔3۔ اگر مسہلات کے استعمال سے اسہال بکثرت آنے لگیں توحابسات کھلا کران کوبندکریں۔4۔ اگر دوائے مسہل کھانے یاپینے کے بعد دست نہ آئیں تو یہی بہتر ہےکہ طبیعت کو تحریک نہ دی جائے بشرطیکہ کسی خوفناک مرض کا اندیشہ نہ ہوورنہ فوراً حقنہ کرادیں کیونکہ حقنہ شکم کے فاسد اخلاط کو خارج کردیتا ہے۔5۔ مسہل کے دوران ِعمل میں حمام کرنے سے مسہل کا فعل باطل ہوجاتاہے البتہ مسہل سے قبل ایسا کرنا معاون ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح مسہل ختم ہوجانے کے بعد حمام کرنے سے بقیہ مواد تحلیل ہوجاتا ہے۔6۔ عملِ مسہل ختم ہونے سے قبل یافوراً بعد کھاناکھانا اس کے فعل کو باطل کردیتا ہے۔ کیونکہ ایسے وقت میں طبیعت غذاکے ہضم میں مصروف ہوکر مواد کے رفع کرنے کی طرف متوجہ نہیں ہوتی نیز غذاکے ساتھ دوا کا ملنا اس کی قوت کو کمزور کر دیتا ہے لیکن جب غذا اور دوا ہم جنس ہوں تو عملِ مسہل میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔7۔ جو لوگ نہار منہ مسہل برداشت نہ کرسکیں تو انہیں مسہل لینے سے قبل کوئی ہلکا سا ناشتہ کر لینا چاہیےجیسے دودھ، چائےیاپھلوں کا رس اور پھل وغیرہ ۔8۔ جن لوگوں کودوا سے نفرت ہوان کو ایسے مسہل دیں جو دوائے غذائی کی صورت رکھتے ہوں جیسے بادام روغن، منقہ، انجیراور گھی وغیرہ۔9۔ اگر عملِ مسہل کے دوران پیٹ میں درد یامروڑ کی صورت پیداہوتو تھوڑاتھوڑاگرم پانی یا نیم گرم دودھ کا استعمال کریا جائے۔ پیچش کی شدید صورت میں اسبغول یا نیم گرم پانی استعمال کیا جائے۔10۔ مسہل کے بعد عام طورپرلطیف و مقوی اغذیہ جیسے مرغ یاچوزے کاشوربہ استعمال کراناچاہیے ثقیل اور دیر ہضم اغذیہ کے استعمال سے سدوں اور بعض حالات میں آنتوں میں سوزش پیداہوجانے کا خطرہ ہے۔

احکامِ حقنہ

حقنہ کا مقصد یہ ہے کہ آنتوں کے مواد کو تلبین سے خارج کردیاجائے یا آنتوں میں کوئی دوا پہنچائی جائے۔ تلبین کی صورت میں جب نیچے کے اعضاء سے مواد خارج ہوجاتے ہیں تو اوپر کے مواد نیچے کی طرف متوجہ ہوکروہاں جذب ہوجانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ حقنے کی عملی تاثیر زیادہ تر امعاء مستقیم اور امعاء کے نچلے حصہ پر ہوتی ہے۔ جس سے جسم کےبالائی حصہ کے موادان مقامات پر کھنچ کر چلے آتے ہیں اور خالی ہوجاتے ہیں ۔ قولنج، آنتوں کی خشکی یاآنتوں کے زخم کا بہترین علاج حقنہ ہے۔

اقسامِ حقنہ

1۔ مسہل آور حقنہ۔2۔ ملین حقنے۔3۔ غذاپہنچانےوالے حقنے۔4۔ آنتوں کے زخم بھرنے والے حقنے۔5۔ آنتوں کے زخم صاف کرنے والے حقنے۔6۔ اسہال بند کرنے والے حقنے۔

اوقاتِ حقنہ

حقنہ کے لئے بہترین وقت صبح اور شام ہے۔ لیکن شدیدضرورت کے لئے وقت کی کوئی قید نہیں اور ہر وقت حقنہ کیا جاسکتا ہے خواہ دوپہر ہویا نصف شب۔

احکامِ قے

عملِ قے کا مقصد معدے اور جگر کے فضلات کا اخراج ہے جس طرح جومواد آنتوں میں ہوتے ہیں ان کو ملینات کے ذریعے خارج کیا جاتا ہے اس میں تحریرشدہ امور کو مدِ نظر رکھاجاتا ہے۔1۔ جن لوگوں کوقے کی عادت نہ ہوتو ان کو تیز قے اور ادویات نہ دی جائیں کیونکہ اس سے بعض اوقات بینائی اور سماعت کو نقصان پہنچتا ہے اور کبھی کبھی کوئی شریان پھٹ جاتی ہے جس کی وجہ سے بہت ساخون خارج ہوکرضعف کا باعث ہوتا ہے۔2۔ جن لوگوں کو نفث الدم (خون تھوکنا) کا مرض رہا ہو ان کو کبھی قے نہیں کرانی چاہیے۔3۔ جن لوگوں کو قے کی عادت ہو ان کوبھی باربار قے نہیں کرانی چاہیے بعض لوگ روزانہ صبح حلق میں انگلی ڈال کرگلے اور سینے کوصاف کرتے ہیں یہ غلط ہے۔ اس سے پٹھے کمزور ہوجاتے ہیں ۔ دل ٹھنڈاہوجاتا ہے اور بڑھاپا جلد آتا ہے۔4۔ بہت موٹے انسانوں کوبھی قے نہیں کرانی چاہیے اس سے دل بیٹھ جانے کا خطرہ ہے۔ جیسے ہیضے میں یک لخت دل بیٹھ جاتا ہے اسی طرح جن مریضوں کواسہال آتے ہوں یا دماغی امراض میں مبتلا ہوں ان کو بھی قے سے پرہیز کرنا چاہیے۔5۔ قے کرانے کے بعد پانی میں تھوڑا سرکہ ملاکرکلی وغیرہ کرادینی چاہیے۔6۔ جن مریضوں کو خودبخود قے آرہی ہو لیکن ان کا فاسد مواد اخراج نہ پا رہاہو تو ان کو قے فوراً بند نہیں کراناچاہیے بلکہ ہلکی قے آور ادویہ کا استعمال کرکے فاسد مواد کااخراج کرلیا جائے اور پھر بندکی جائے یہی صورت ہیضے میں بھی مدِ نظررکھی جائے۔

4۔ احکامِ امالہ

اس طریقہ علاج کا مقصد یہ ہے کہ مواد جسم کوکسی دوسرے حصۂ جسم میں جذب یاپھیر دیاجائے مثلاً پیٹ میں درد ہوتو پیٹ کے اوپر پلستر لگانا، سنگیوں یا گلاس کھینچنا۔ اس امر میں ان امور کو مدِ نظررکھا جائے۔1۔ اگر مادہ کسی عضو کی طرف گرنے کے لئے تیار ہوتو اسے ایک مقام کی طرف جذب کیا جائے خواہ وہ دوسرا مقام جہاں اسے جذب کیا جارہا ہووہاں دردواقع ہو۔2۔ اگر مادہ کسی عضو میں آچکا ہواور اسے آئے ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہواہوتو اس مادہ کو اس عضو کے قریبی عضو کی طرف جذب کیا جائے جیسے رحم کا مادہ سنگیوں کے ذریعے پنڈلیوں کی طرف جذب کیا جاتا ہے۔3۔ لیکن اگر اُس عضو میں مادے کو آئے ہوئے زیادہ زمانہ گزر چکاہواوروہ وہاں ٹھہر چکاہوتو اس مادے کو کسی طرف جذب نہ کیا جائے بلکہ خاص اسی عضوسے بہا کرخارج کیا جائے جیسے جونکیں لگوانا۔ 4۔ امالہ اور جذب جس طرح سنگیوں ، گلاس اور جونکوں سے کیا جاتا ہے اسی طرح مسہل ،قے، حقنہ، فصد اور حجامت سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ امالہ اور جذب کامقصد صرف مواد کوایک طرف سے دوسری طرف یا تکلیف کے مقام سے صحت کی طرف پھیر دینا ہے۔

فصد

فصد ایک ایسی صورت کانام ہے جس میں رگوں سے بوقتِ ضرورت استفراغ یا جذب و امالہ کے لئے خون کوخارج کیا جاتا ہے۔

یادداشت

عام طورپراطباء کا یہ خیال ہےکہ فصد سے گندے اخلاط یا گندہ خون خارج کیاجاتا ہے یہ بالکل غلط ہے۔ فصد سے مراد صرف یہ ہے کہ جسم میں جورطوبات کسی مقام پر رک گئی ہیں اور اخراج نہیں پاتیں ان کوعملِ فصد سے خون کے اندرجذب کیاجائے اور جہاں جہاں بلغم یارطوبات کی کثرت سے خون نہیں پہنچ سکتا وہاں پر خون پہنچایا جائے۔ بالفاظِ دیگر جہاں جہاں رطوبت کی زیادتی ہے وہاں پر خشکی پیداکردی جائے۔ اسی طرح اُن اطباء کا خیال بھی درست نہیں جو ہر مرض میں فصد کھولنے کے قائل ہیں۔ فصد عام طورپر ایسے امراض میں کھولی جاتی ہے جن میں بعض مقامات پر رطوبات کی زیادتی ہو اور وہاں پر دورانِ خون پوری طرح دورہ نہ کرتا ہو یا پرانے امراض اور پرانی سوزش میں وہاں پر دورانِ خون کو تیز کرنا اور سوزش کورفع کرنا مقصود ہو ۔ بلاوجہ فصد کھول دینے سے خون کا ایک کثیر حصہ اور مفید حصہ جسم سے خارج ہوجاتا ہے۔ جس سے جسم میں ضعف اور خاص طورپر دل میں ضعف واقع ہوجاتا ہے۔

5۔ احکامِ فصد

1۔فصد سے قبل تھوڑی سی ہلکی اور لطیف غذااور فصد کے بعد مقوی ادویہ مثلاً خمیرہ ، جوارش اور دیگر مفرحات کا استعمال کراناچاہیے۔ غشی کی صورت میں مقویاتِ قلب جیسے خمیرہ عنبری جواہر استعمال کرانا چاہیے نیز فصد کے بعد کافی آرام کرنا چاہیے اور کافی دیر تک بغیر اشد ضرورت غذانہیں دینی چاہیے۔2۔حاملہ عورتوں کی فصد نہیں کرنی چاہیےاس سے جنین کے ساقط ہوجانے کا اندیشہ ہے اور اسی طرح ایامِ حیض میں فصد نہیں کرنی چاہیے اس سے ایام میں رکاوٹ واقع ہوتی ہے۔3۔ گرم مزاج، لاغراندام اور قلیل الدم اشخاص کو فصد تجویز نہیں کرنی چاہیے۔ ایسا ہی لحیم شحیم اشخاص جن کے بدن ڈھیلے ڈھالے ہوں ان کو بھی بلااشد ضرورت کے فصد منع ہے۔4۔ شدتِ گرماو سرما میں بلااشد ضرورت فصد سے پرہیز کرناچاہیے۔5۔ رنج و غم اور خوف میں بھی فصد منع ہے۔6۔ اکثر اقسامِ حمیات (بخار) خصوصاً ابتدائی حالت میں فصد کرنا خوفناک امر ہے۔ اس سے تپ میں شدت، جسم میں سوزش اور ورم ہوجانے کااندیشہ ہے اور خصوصاً سرسام کا ، اسی طرح تپ دق میں فصد بالکل ممنوع ہے۔7۔ چودہ سال سے کم عمر اور 60سال سے زائد عمر والوں کو بغیر اشد ضرورت اور قویٰ قوی اور اعضاء میں خون کی کثرت کے فصد منع ہے۔8۔ فصد مہینے کی ہر تاریخ اور دن کے ہرحصہ میں ہو سکتا ہے۔ لیکن صبح اور تیسرے پہر کاوقت زیادہ مناسب ہے۔9۔ اگر فصد کی حالت میں غشی کی شدت ہوتو سرد پانی یا عرقِ گلاب کے منہ پر چھینٹے دینا اور مناسب عطریات و لخلخہ وغیرہ کا سونگھنااور اسی قسم کی دیگر تدابیر اختیار کرنا چاہیے۔10۔ فصد کو آخری علاج نہیں سمجھنا چاہیےاس کے بعد مریض کا باقاعدہ علاج کرنا چاہیے۔ فصد سے صرف مرض کا امالہ اور اخلاط کاانجذاب منظورہے۔

فوائد فصد

1۔ خونی مزاج اور بہت زیادہ کھانے پینے والے اشخاص کے لئے فصد ایک قوی علاج ہے۔2۔ عام طورپر کہنی کی رگوں کی فصد کی جاتی ہےلیکن فصد رگِ قیفال سے سر کے مرض کو اور فصد رگِ باسلیق سے جسم کے زیریں حصے میں مرض کو جلد نفع ہوتا ہے اور رگِ اکہل (ہفت اندام) کی فصد میں دونوں رگوں کے فصد کے فوائد جمع ہیں۔3۔ دہنی اسلیم کی فصد جگر کے دردوں اور بائیں کی فصد تلی کے دردوں کو دور کرتی ہے۔ رگِ عرق النساء کی فصد مرضِ عرق النساء اوردوالی اور نقرس میں بھی فائدہ مند ہے۔4۔ رگِ صافن کی فصد حیض کے جارای کرنے میں کارآمد ہے اور ساتھ ہی اس سے وہ فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں جو فصد رگِ عرق النساء سے حاصل ہوتے ہیں۔

حجامت

حجامت کا مقصد جسم پر پچھنے لگا کرسنگیوں سے خون کو جذب کرنا ہے یہ فعل فصد کی نسبت ضعیف ہے ۔ کیونکہ اس سے محض اس عضو کے آس پاس کاخون جذب ہوکر آتا ہے ۔ برعکس اس کے فصد سے دور دور کے اعضاء کا خون خارج ہوتاہے۔

بلحاظ فوائد سب سے قوی حجامت پنڈلیوں کی ہے کیونکہ یہ عمل فصد کے قریب قریب ہے یہ حیض کو جاری اور خون کو صاف کرتا ہے۔ اسی طرح آشوبِ چشم ، گندہ دہنی، منہ آنا، دردِ سر جیسے امراض جن میں خون کے اندر ہیجان یا مواد کی زیادتی ہو، گدی پر سنگیاں کھنچوانا مفید ہے کیونکہ اس سے ان مقامات کاخون جذب ہوکرآجاتا ہے اور امالہ ہوجاتا ہے لیکن باربار ایسا کرنے سے نسیان پیدا ہوتا ہے۔

حجامت کی بھی وہی شرائط ہیں جواوپر فصد میں بیان کئے گئے ہیں۔ البتہ حجامت ِ جسم کے ہر حصہ اور ضرورت کے مطابق دن رات میں کسی وقت بھی کی جاسکتی ہے۔ لیکن جہاں تک ہوسکے بچوں کو اس سے پرہیز کرانا چاہیے۔

ختم شد- مبادیاتِ طب

کے متعلق: Zubair Hashmi

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

تحقیقات المجربات

 ﷽ تحقیقات المجربات خداوندِ حکیم آور ہادئ برحق کا ہزار ہزار شکر ہے کہ جس …

تحقیقاتِ علم الادویہ

﷽ علم الادویہ پیش لفظ علم خواص الاشیا خداوند علیم و حکیم کا انسانیت پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!