جمعرات - 23 - ستمبر - 2021
اہم تحاریر

عصرِ حاضر کی مسلم قوم

آخر یہ عقدہ کھل گیا سارے زمانے پر حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

تخلیقِ آدم کے بعد زندگی ہنوز اس اندھیرے دور میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں شرم و حیا، عفت و عصمت کا احساس تک نہ  تھا۔ تمام لوگ بے لباس اور ننگ دھڑنگ زندگی کی تگ و تاز میں مصروف رہتے تھے، ان کو بے لباس اور عریاں پھرنے میں قطعاً عار، بے شرمی  و بے حیائی کا خیال بھی نہیں ہوتا تھا، ان کی زندگی کا دار و مدار  حاصل ہو جانے  والے شکار پر ہوا کرتا تھا۔ ان کی زندگی کا ماحصل صرف اور صرف کھا کر زندہ رہنا تھا۔ ان کی زندگی کا نہ تو کوئی منشور تھا اور نہ ہی کوئی کلیہ و قاعدہ۔ لڑائی مار کٹائی اور وحشی درندوں کی سی زندگی جیا کرتے تھے۔ اعلیٰ زندگی کا معیار تھا نہ کوئی پیمانہ ۔ الغرض زندگی  سطحی اور انسانیت کے بلند درجے سے کوسوں دور تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں حیوانیت کا دور دورہ تھا۔ یہ عرصہ ان گنت صدیوں پر محیط تھا کہ   آہستہ آہستہ ان میں ایک تبدیلی رونما ہوئی کہ انہوں نے موسموں کی تبدیلی سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے جسموں کو پتوں سے اور پھر جانوروں کی کھالوں سے ڈھانپنا شروع کر دیا، اس طرح بتدریج زندگی اپنے ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے اس سطح پر آ پہنچی کہ انسان نے باقاعدہ طور پر اپنے جسم کی حرمت کا خیال کرتے ہوئے اسے کپڑوں میں ملبوس کر لیا۔ اس طرح انسان کو جسمانی عفت و عصمت اور پاکیزگی کا ادراک حاصل ہوا اور لباس اس کی زندگی کا جزو بنتا چلا گیا۔ اس سے اُس تاریک ، وحشی پن اور غاروں کی زندگی کا خاتمہ ہوتا چلا گیا، اس طرح ایک متمدن قوم کا ظہور ہوا جنہوں نے ستر پوشی کی خاطر لباس پہننا شروع کر دیا ، اس سے انسان کی زندگی میں یکسر بدلاو پیدا ہو گیا اور وہ اس تاریک دور سے باہر نکل آیا۔
جب انسان ذہنی طور پر باشعور ہو گیا تو رحمت الہی نے انسان کی ہدایت کے لئے اپنے نبی اور پیغمبر بھیجے تاکہ بھٹکے ہوؤں کو عین اس راہ پر چلا دیا جائے جو قانون الہی کے مطابق جنتی تھا اور اس راہ سے ہٹا دیا جو مغضوب الہی کا شکار ہوتا ہو۔ ان تمام انبیاء اکرام ؑ نے اللہ کے پیغام کی اشاعت و تبلیغ کا اپنی زندگی کا محور اور اوڑھنا بچھونا  بنا لیا اور اس راہ حق و صداقت کی خاطر ہر قسم کی قربانی ادا کی اور اس فرض کی ادائیگی کی خاطر ہر دکھ ، پریشانی، مصیبت اور تکلیف کو ہنس کر برداشت کیا۔ اس سلسلہ کی آخری کڑی ہمارے پاک پیغمبر، محسن انسانیت ، پیارے حضرت محمد ﷺ قیامت تک رشد و ہدایت کا مینارۂ نور بن کر اس دنیا میں تشریف لائے اور اللہ تعالی کی آخری  جاوداں اور ابدی حیات کا منبع  "قرآن حکیم” کی لاریب  کتاب (قانون الہی) اپنی قوم کو عطا کی کہ جس کے بعد کسی اور نبی اور کتاب کی ضرورت ہی ختم  ہو گئی۔ اسلام نے ہمیں وہ ابدی اور غیر متبدل  قوانین عطا کئے جو اس سے پہلے کہیں نہیں ملتے۔ انہیں قوانین میں  انسانی بھلائی، انسانی محبت و اخوت، عزت و ناموس ، تقدس و پارسائی، عفت و عصمت  کی پاکیزگی، اخوت و مساوات، عورتوں، بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کے حقوق و فرائض متعین کئے گئے۔ المختصر زندگی اور انسانیت کو ایک ایسا حسین موڑ اور رخ ملا جو اس سے پہلے کائنات نے کہیں نہیں  دیکھا اور سنا تھا۔  خونی ہاتھوں کو پہلی بار قربانی و ایثار اور محبت کی جاوداں داستان لکھتے ہوئے ، آسمان نے پہلی بار دیکھا۔ قزاقوں اور لٹیروں کو جانثاری کا سبق دیتے ہوئے انسانیت نے پہلی بار سنا ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ اس کائنات کی ہر شے پہلی بار اس نیلے چھت کے نیچے اتنے حسین انداز سے مسکرائی کہ زندگی کو بھی وجد آ گیا کیونکہ یہی وہ کتاب ہدایت ہے کہ جس پر عمل میں انسان کی دونوں زندگیوں کے لئے فلاح مضمر ہے۔ جب تک انسان اس پر عمل پیرا رہتا ہے اور اس  کے مطابق اپنی زندگی سنوارتا اور گزارتا رہتا ہے اس پر عروج سایہ فگن رہتا ہے، وہ زندگی کی ہر شاہراہ پر کامیابی و کامرانی کے جھنڈے گاڑتا چلا جاتا ہے، کامیابی ہر آن اور ہر لحظہ اس کے قدم چومتی چلی جاتی ہے، نصرت الہی اس کے ساتھ ساتھ رقصاں رہتی ہے، تمام اقوام عالم پر وہ غالب و حاکم رہتا ہے، تخریبی قوتیں اس کے سامنے سرنگوں رہتی ہیں۔ اس کی قسمت و تقدیر اس کے تابع رہتی ہے اس کے چاروں جانب ہمیشہ بہار کے غنچے کھلے رہتے ہیں۔ وہ شجاعت و جاہ و جلال کا پیکر نظر آتا ہے ۔ وہ قدوسی و قہاری ، غفاری و جبروت کا چلتا پھرتا نمونہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ قوانین الہی کا علم بردار بن کر اقوام عالم کی سربراہ و حکمران بن کر جہاں بانی و جہاں گیری کے عہدے پر متمکن رہتا ہے۔ وہ جسد واحد کی طرح متحد رہ کر ابلیسی قوتوں کا سر کچل کر فوز و کامرانی سے جہاد زندگانی میں ہمیشہ تندئ  باد مخالف سے نبرد آزما ہو کر قرآنی اصولوں کے مطابق تمام انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے تمام راستے بلا مزد و معاوضہ مساوی طور پر وا رکھتا ہے۔ اور ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے جس کے تار و پود قرآنی قوانین سے ہمیشہ منضبط اور استوار رہتے ہیں اور اللہ کے قوانین کی حکمرانی کے تحت زندگی بسر کرتے ہیں اور ان قوانین کو مضبوط سے مضبوط اور نافذ کرنے میں اپنی عمر کی ساری جمع پونجی صرف کر دیتے ہیں اور وہ چلتے پھرتے قرآن مجید کا عملی نمونہ بن کر جیتے ہیں اور ان کا ہر قول و فعل قرآنی تعلیمات کے تابع رہتا ہے۔ اور یہی انسان اور انسانیت کی زندگی کی معراج بھی ہے کہ وہ اللہ کے رنگ میں اس طرح رنگ جائے کہ اس کی ہر حرکت سے اللہ کی اطاعت کا اظہار ہو، یہی مسلمان اور مومن کی پہچان ہے اور نشانی ہے کہ ان کا جینا مرنا صرف اللہ کی اطاعت و رضا کی خاطر ہو۔ ایسے انسانوں (مومنوں) کے لئے حق تعالیٰ کا انعام بہشت بریں ہے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہوا ہے۔
قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

لن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا

ترجمہ: قوانین الہی میں ہرگز ہرگز تبدیلی نہیں پاؤ گے۔
یعنی اللہ نے ہر چیز کے لئے غیر متبدل قوانین وضع فرما دئیے اور پھر ہمارے ہر عمل کو پرکھنے کے لئے ایک میزان بنا دی۔ اگر ہمارا عمل اس کے قانون کے تابع ہے تو ہمارے لئے اس کا قانون یہ ہے۔

فاما من ثقلت موازینہ ۔ فھو فی عیشۃ الراضیہ۔

لیکن جب انسان اس وحی الہی کا حامل نہیں رہتا ، قرآن سے رخ موڑ کر کسی اور نظام زندگی  (انسانی خود ساختہ قوانین و اصول اور ضوابط) کی پیروی کرتا ہے تو اس کا نتیجہ صرف اور صرف تباہی و بربادی، زبوں حالی ، پشیمانی، فرسودہ حالی، گمراہی لا قانونیت الغرض ہر قسم کی ذلالت و خواری منتج ہوتا ہے  اور اس کا ہر عمل فرسودہ ، ہر عبادت بے سود ہوتی چلی جاتی ہے، زندگی ہر روش ، ہر عمل باعث تذلیل اور رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، اس کا ہر قدم قعر مذلت کی گہرائیوں اور پناہیوں میں گم ہو تا چلا جاتا ہے، جہالت ، گمراہی ، بے غیرتی  و بے حمیتی اور بے عزتی اس کا مقدر بن جاتی ہے، ترقی کی راہیں گم اور تنزلی کا ہر دروازہ کھل جاتا ہے، ہر احساس ، ہر سوچ کا نتیجہ راہ گم کردہ کی مانند ہوتا ہے، وہ پر کٹا پنچھی اور کٹی پتنگ کی طرح ہر ہاتھ کا کھلونا بن کر ٹوٹتا، سمٹتا، اجڑتا اور مرغ بسمل کی طرح واماندہ ہو جاتا ہے، اس کی ہر بات بے معنی ، فضول اور بے وقعت ہوتی چلی جاتی ہے، وہ خجالت اور بے غیرتی کا چلتا پھرتا نمونہ بن کر بڑی معززانہ زندگی گزارنے کو اپنی خوش قسمتی گردانتا ہے ، اوروں کو تباہ و برباد کر کے خود کو آباد کرنے کی سعی لاحاصل کرنے کو مقصد حیات بنا کر حیوانی اور سطحی زندگی بسر کرنے ہی میں اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔ کاہلانہ و جاہلانہ انداز سے مردوں سے اپنی بحالی و بہتری کے تعویز تلاش کرنے میں ہی اپنی عظمت و شان کی دلیل جان کرتکبر سے اکڑ کرچلنے ہی میں اپنی آن گردانتا ہے۔چمچماتی گاڑیوں میں آوارہ اوباشوں کی طرح گھوم پھر کر اجلی کوٹھیوں میں شراب کے نشے میں دھت زانیوں کی صف میں کھڑے ہو کر معزز اور وی آئی پی کہلوانے والوں کی آنکھیں سوروں اور گدھوں کی طرح حریصانہ انداز سے اپنے  اندر کی بھیانک اور مکروہ پن سے بلند اقدار اسلامی سے نابلد  مفاد عاجلہ میں اندھوں اور بہروں کی طرح ہر اک انسان کو حقیرانہ انداز سے روندتے ہوئے چند روپوں کی خاطر ہر اخلاقی حدوں کو توڑ کر فرعون بننے میں زندگی گزارنا اپنا منشور ، نصب العین اور شیوۂ حیات بنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے، ان کی زندگی کی تگ و تاز محض اپنے مفاد کے حصول کے  ارد گرد گھومتی ہوئی کنوئیں کے مینڈک کے مصداق گزر جاتی ہے ، ان کو اپنے سوا ہر ایک حقیر نظر آتا ہے ، اس طبقاتی جنگ میں وہ ہمیشہ زہریلا ناگ بن کر اپنے پھن پھیلائے دوسروں کو ڈسنے کے لئے ہم تن تیار رہتا ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ اگر ایسے اطوار و اشغال  کسی بھی معاشرے، قوم یا ملک  میں در آئیں تو اس کا   نتیجہ ہر حال میں زبوں حالی ، بے غیرتی ، بے حمیتی اور تباہی ہی نکلا کرتا ہے۔ پھر کوئی نماز، روزہ اور حج وغیرہ بھی اس قوم کو سنبھالا نہیں دے سکتا۔ اس کا ہر عمل ، ہر عبادت بے نتیجہ اور بے ثمر ہوتا ہے ، حتی کہ مسلمان جو دین اسلام کی بجائے، صرف مذہب اسلام پر کار بند ہو جاتے ہیں ، وہ بھی اللہ کے قانون کے تحت تباہ و برباد ہو جاتے ہیں ۔ وجہ صرف  ایک ہی ہوتی ہے کہ ایسی قوم اصل قرآنی اصول و ضوابط اور قوانین الہیہ سے کنارہ کش ہو جاتی ہے، اس لئے تباہی و بربادی ، فتنہ و فساد ، بے راہروی، ذلالت اور گمراہی اس کی تقدیر بن جاتی ہے وہ کسی بھی جگہ پر کیوں نہ ہو اس کی عزت و آبرو تار تار اور ننگی و ناچتی ہوئی نظر آتی ہے، گالیاں ، جھڑکیاں کھاتا دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتا، ان کا دست نگر بن کر رہنا ہی اس کی قسمت بن جاتا ہے، اس کی کوئی بات سننا کوئی بھی  گوارا نہیں  کرتا بلکہ ایسی قوم  سر جھکائے دوسروں کی چوکھٹ پر بد نصیب، بدحال، تہی دامن  اور عزت و ناموس اور اپنی تار تار عصمت لئے کھڑی نظر آتی ہے۔ اقوام عالم کی صف میں خانماں برباد، بدحال ، مقہور مجہول سمجھی جاتی ہےجس کا پرسان حال کوئی نہ ہوکاسۂ گداہی لئے در در مانگتی پھرتی ہےبے عزت و بے شرموں اور بے حیاؤں کی طرح جینا پسند کرتی ہے۔ یہ  بات یاد رکھیں دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والی کوئی قوم بھی غیرت و حمیت ، عزت و ناموس سب کچھ  اتار کر اندھوں کی جینے میں بھی مزہ لیتی ہے۔
المختصر ایسی صفات کی حامل قوم کو کیچڑ میں لتھڑے جوتے اور ذلت میں بھیگے پتھر اور عزت و عصمت اور ر ناموس   کے تار تار لباس بھی ان کے ضمیر کو جگا  نہیں سکتے کیونکہ بے ضمیر، بے غیرت ذہنی غلام قوم کبھی بھی آسانی سے نہیں جاگا کرتیں۔ نائٹ  کلبوں میں  موسیقی کی جھنکار پر تھرکتے  ننگے اور عریاں جسم کبھی پردے کی حرمت سے آگاہ نہیں ہو سکتے ۔ اسی طرح صلوۃ بے امام  محض  دل کا سہارا تو بن سکتے ہیں لیکن اللہ کے قوانین سے بے بہرہ رہتے ہوئے فضائے بدر پیدا نہیں کر سکتے، نہ ہی نمود نمائش میں لپٹے ہوئے روزے ہمیں اللہ کا مقرب بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح آج کے حاجی بھی تقدیر امم کو بدلنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا
یہ میری ارادت بے ثمر ، یہ میری عقیدت بے بصر مجھے میرے دعوی عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا

اور  یہ خدا کا اٹل قانون ہے  اور تاریخ بھی اس پر شاید ہے اگر ہمارا عمل اللہ کے قوانین   کے تابع نہیں ہے تو  اس کا انجام یہ ہے۔

فاما من خفت موازینہ ۔ فامہ  ھاویہ

کے متعلق: views

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

دئیے بُجھتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ آدم کے بعد اسے لا انتہا نعمتوں سے نوازا۔کہ جن کی …

ہم-مسلمان۔۔۔۔؟

انسان کی زندگی کا محور کیا ہے؟ انسان کی پیدائش کا مدعا کیا ہے؟ یہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!