جمعرات - 23 - ستمبر - 2021
اہم تحاریر

بنیادی انسانی حقوق

شروع اللہ کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔
یہ ایک نیا سلسلہ ہے جو میں شروع کر رہا ہوں۔ میں نے اپنی ناقص عقل کے تحت جو قرآن کو سمجھا وہ آپ کی نذر کرتا ہوں۔میں قرآنِ حکیم کا ادنیٰ سا طالب علم ہوں۔یہ مضامین حرفِ آخر نہیں، بشریت کے تقاضوں کے تحت میرے یہ مضامین سہوو خطا سے منزہ نہیں ہوسکتے، کیونکہ تحقیقی ارتقاء زمان و مکان کی حدود میں مقید نہیں ہوسکتا۔علاوہ ازیں قرآن کا ترجمہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ تاقیامت رشدو ہدایت ہے اور ہر زمانے کے تقاضے اسی سے پورے ہوتے چلے جائیں گے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم اللہ کے قانون پر کس حد تک عمل پیرا ہیں اور قرآن کی حرمت کے کتنی حد تک پاسباں ہیں۔ پاسبانی بھی اس پر عمل کرکے کی جاسکتی ہے۔میری یہ خامہ فرسائی کس حد تک درست ہے ، یہ صرف اور صرف میرا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔نیز ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ قرآن صرف اور صرف اسی وقت سمجھ میں آسکتا ہے جب آپ اپنے ذہن کے صنم خانے سے تمام قسم کےعقائدو خیالات کے بتوں کو پاش پاش نہ کرلیں اور آپ کا ذہن ایک صاف و شفاف آئینہ کی طرح نہ ہوجائے۔(میرا ذاتی تجربہ ہے)۔


بنیادی انسانی حقوق

یہ وہ حقوق ہیں جو صرف اور صرف انسان ہونے کے ناتے ، بلا تفریق رنگ و نسل،جنس، وطن و قومیت اور مذہب یکساں طور پر حاصل ہوتے ہیں۔  اسلامی مملکت ہر فردِ معاشرہ کوان حقوق کی ضمانت دیتی ہے۔اگر اسلامی مملکت کسی وجہ سے اپنی اس ذمہ داری سے عہدہ برآ نہ ہونے پائے تو افرادِ معاشرہ ان حقوق کر بذریعہ عدالت لینے کے مجاز ہیں۔یہ حقوق مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ عزت

ہراانسانی بچہ پیدائش کے لحاظ سےیکساں عزت کے لائق اور مستحق ہے۔ پیدائش کی نسبت سے انسان میں کوئی امتیاز نہیں ہے۔ قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ(17/70)

ترجمہ:ہم نے بنی آدم(ہر انسانی بچہ) کو قالِ عزت پیداکیا ہے۔

2۔ معیارِ فضیلت

ارشادِ ربانی ہے۔

وَلِکُلِّ دَرَجٰتّ مِّمَّا عَمِلُوْٓا(46/19)

ترجمہ: ہر ایک کے مدارج اس کے اعمال کےمطابق متعین ہوں گے۔

3۔ آزاد انسان

کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا محکوم نہیں ہوسکتا۔ کسی انسان کو کسی دوسرے انسان پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
ارشادِ ربانی ہے۔

مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّوْتِیَہُ اللَّہُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَ النُّبَوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوٌا عِبَادًا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(3/78)

ترجمہ: کسی انسان کو اس کا حق حاصل نہیں ، خواہ اسے کتاب (ضابطہ قوانین)، حکومت (انتظامی امورکی کارفرمائی) اور نبوت بھی کیوں نہ ملی ہو، کہ وہ لوگوں سے کہے کہ وہ اللہ کے نہیں بلکہ اس کے محکوم بن جائیں۔
محکومی صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی ہوسکتی ہے۔اور یہ بات اظہرمن الشمش ہے کہ قرآن انسانی محکومی کو نیست و نابود کرنے کی خاطراور اپنا بندہ بنانے کے لئے آیا ہے، اور جب ایک انسان دوسرے انسان کامحکوم نہیں ہوسکتا، تو وہ دوسرے انسان کا غلام کیسے ہوسکتا ہے؟ قرآنِ حکیم نے غلامی کے دروازوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا ہے۔

4۔ مزدوری

کوئی کسی کی محنت کو سلب نہیں کرسکتا اور ہر کام کرنے والے کواس کے کام کا پورا پورا معاوضہ ملے گا۔یہ ارشادِ الہی ہے کہ۔

وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(39/70)

ترجمہ: ہر شخص کواس کے کام کا پورا پورامعاوضہ ملے گا۔
"معاوضہ” کے معنی اُجرت نہیں، اُجرتوں کا تصورتو نظامِ سرمایہ داری کا پیداکردہ ہے جس کی قرآن نے جڑ کاٹ دی ہے۔اس سے مراد ، اس کی ضروریاتِ زندگی کا پورا کیا جانا ہے۔اس کی محنت کے ماحصل میں سے جو کچھ اس کی ضروریات سے زائد ہوگا اسے وہ بطیبِ خاطر دوسرے ضرورت مندوں کے لئے اسے دے دےگا۔ مثلاً ایک کسان اگر اپنی محنت سے سال بھر میں سو(100) من غلہ پیدا کرتا ہےتو وہ غلہ بے شک اس کا ہے۔ اسے، اس سے زبردستی کوئی نہیں چھین سکتا۔ لیکن وہ اپنے ایمان کی رو سے، اس میں سے بقدر اپنی ضروریات کے، لے کر باقی سب دوسروں کی ضروریات کے لئے دے دے گا۔ جو معاشرہ مومنینؔ پر مشتمل ہوگا۔ اس میں ایسا ہی ہوگا۔ بالفاظِ دیگر اسلامی مملکت میں معاشی نظام اسی قسم کا ہوگا۔

5۔ عدل و احسان

ہر ایک کے ساتھ عدل ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

اِنَّ اللَّہَ یَامُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (16/90)

ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔
عدل، حتیٰ کہ دشمن کے ساتھ بھی اسی طرح ہو گا جیسامسلمانوں کے ساتھ۔

لَا یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٓیٰ اَلَّاتَعْدِلُوا ۔ اِعْدِلُوْا۔ ھُوَ اَقٌرَبُ لِلتَّقْوٰی (5/8)

ترجمہ: کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں اس پر آمادہ نہ کردے کہ تم اس سے عدل نہ کرو(5/6)، ہمیشہ عدل کرو اور دوست دشمن ہر ایک سے۔۔۔۔۔۔۔عدل کرو۔ یہ روش تمہیں اس معیارِ زندگی کے نزدیک تر لے آئے گی جس تک تمہیں اللہ لانا چاہتا ہے۔
عدل ہی نہیں بلکہ جس شخص میں کوئی ایسی کمی آجائے جس کا وہ خود ذمہ دار نہ ہو، اس کی اس کمی کوپوراکرنے بھی "احسان” کہتے ہیں(16/90)۔ اسی لئے اللہ کا فرمان ہے کہ

فٓیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ لِّلسَّٓائِلِ وَ الْمَحْرُوُمِ (70/24)

ترجمہ: جو کسی طرح بھی ذی احتیاج ہو یا کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ معاشرہ کی دولت میں اس کا حصہ بطور حق کے ہے۔

6۔ حقِ رزق

یعنی تمام افرادِ کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کا فراہم کرنا۔ اس نظامِ معاشرہ کے ذمہ ہے جو اللہ کے نام پر قائم ہوتا ہے۔ وہ اعلان کرے گا۔کہ

نَحْنُ تَرْزُقُکُمْ وَ اِیَّاھُمْ (6/152)

ترجمہ: ہم تمہاری ضروریاتِ زندگی کے بھی ذمہ دار ہیں۔ اور تمہاری اولاد کی ضروریات کے بھی۔

7۔ جان، مال اور رہائش کی حفاظت

1۔ بنی اسرائیل کی طرف یہ حکم بھیجا گیا تھا کہ جس نے کسی ایک جان کو بھی ناحق تلف کر دیا تو یوں سمجھو گویا اس نے تمام بنی نوعِ انسان کو ہلاک کردیا اور جس نے کسی ایک جان کوبھی بچا لیا تو یوں سمجھو گویا اس نے پوری نوعِ انسان کو بچا لیا۔(5/32)
2۔انسانی جان کو اللہ نے واجب الاحترام بنایاہے۔ اس لئے اسے حق کے بغیرضائع کرنا جرم ہے۔ حق کے معنی ہوں گے قانونِ الہی کے مطابق۔

وَ لَا تَقْتُلُوْا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللَّہ اِلَّا بِالْحَقِّ (6/152 , (17/33) , (25/68)

اور قتل بالارادہ کے متعلق ارشادِ ربانی ہے

3۔ وَ مَنْ یَّقْتُلُ مُؤْمٍنًا مُّتَّعَمِّداً فَجَزَاؤُہٗ جَھَنَّمَ خٰلِدًا فِیْھَا وَ غَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗ وَاَعَدَّلَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا (4/93)

ترجمہ: اگر کوئی مومن کسی دوسرے مومن کو عمداً قتل کر ڈالے، تو——–خون ناحق کی سزاموت تو ہوگی ہی (5/32)۔ مرنے کے بعد بھی وہ واصلِ جہنم ہو گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔قانونِ الہی کی نگاہوں میں وہ معتوب ہوگا۔ اسےحقوقِ شہریت وغیرہ سے محروم کردیا جائے گا اور سخت قسم کی سزا دی جائے گی
یاد رکھیں! دِیت یا خون بہا کی اجازت قتلِ خطا میں ہے قتلِ عمد میں نہیں اس کی سزا موت ہے۔
حفاظتِ مال کے سلسلہ میں ارشادِ الہی ہے کہ

وَ لَا تَاْ کُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ (2/188)

ترجمہ:ایک دوسرے کا مال باطل طریق سے مت کھاؤ۔
یتیموں، بیواؤں کا مال کھانے سے اللہ رب العزت نےمنع فرمایا ہے۔قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے خمر، میسرہ، انصاب اور ازلام سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ اس سے معاشرہ میں بگاڑ پیداہوتا ہے۔ یہ آپس میں انتشار، کینہ اور باہمی عداوت پیداکرنے کا سبب بنتی ہیں۔ اور سورۃ بقرہ میں کہا گیاہے کہ لوگوں کو ان کے گھروں اور بستیوں سے نکال دینا جرم ہے۔

8۔ حفاظتِ عصمت

اپنی منکوحہ بیوی کے سوا کسی اور سے جنسی اختلاط زنا ہے۔ سورۃ النور میں ہے۔

اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْ۔۔۔۔۔۔۔مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (24/2)

ترجمہ: زانی عورت اور زانی مرد دونوں کو سوسو کوڑوں کی سزا دو۔یہ قانون کا معاملہ ہے اس لئے اس میں کسی قسم کی نرمی نہ برتو۔ اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ سزا مومنین کے ایک گروہ کی موجودگی میں نافذ کرو (جو اس کے گواہ بن سکیں کہ سزا قاعدے کے مطابق دی گئی ہے)۔
نیز نبی ﷺ کی بیویوں کے سزا اللہ تعالیٰ نے دگنی مقرر کی ہے۔(33/30)۔

9۔ جمالیاتی حق

اللہ تعالیٰ کے قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ذوقِ جمالیات کی تسکین کا حق اللہ تعالیٰ نے نہایت تحدی سے دیا ہے۔

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللَّہِ الَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطِّبَبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ (7/32)

ترجمہ: اے رسول ﷺ ! ان سے کہو کہ وہ کون ہے جو سامانِ آرائش و زیبائش (زیب و زینت) اور خوشگوار اشیائے خوردو نوش کو ، جنہیں اللہ نے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے ، حرام قرار دے دے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآنِ حکیم نے جنت کی زندگی کو تمثیلی زندگی قرار دیا ہے۔ جس میں سامانِ زیبائش اور آرائش کی بہت تفصیل بیان کی گئی ہے۔واضح رہے کہ اسلامی نظام میں یہ تمام اشیاء ہر ایک کو حاصل ہوں گی ۔ کسی ایک طبقہ کو نہیں۔ جنت میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ اس میں امیروں اور غریبوں کے الگ الگ طبقات ہوں گے۔

10۔ مذہبی آزادی

یعنی اس بات کا حق کہ انسان جس مذہب کو جی چاہے اختیار کرلے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ

لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (2/256)

ترجمہ: دین میں کوئی جبر نہیں۔
اسلام کسی بھی غیر اسلامی مذہب رکھنے والی کی پرستش گاہوں کی بھی حفاظت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ناحق ستانا ، کسی پر ظلم کرنے سے روکتا ہے۔ مظلوم کو فریاد کا حق دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی بُری بات کی تشہیر کی اجازت نہیں دیتا۔یعنی اللہ تعالیٰ نے بنیادی اصول دیا ہے کہ "جو کرے گا وہی بھرے گا اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا”۔ جو قوانین اللہ تعالیٰ کے احکام اور قوانین کے منافی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی سزا دینا کوئی مشکل کام نہیں۔ وہ سزا اس دنیا میں یا اگلی دنیا میں یا دونوں دنیاؤں میں اللہ تعالیٰ دے کا مجاز ہے۔
یہ ایک اجمالی سا خاکہ ہے ان بنیادی اسلامی حقوق کا ، جو اسلام اپنے پیروکاروں کو عطا کرتا ہے۔(مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ دوسری قوموں نے ان اصولوں سے کیسے اور کیونکر فائدہ حاصل کیا)۔ میرے سامنے صرف اور صرف امتِ مسلمہ ہے۔ہم مسلمان ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم مسلمان ہیں تو ان قوانین پر کتنا عمل کر رہے ہیں؟ اور اگر نہیں تو کیوں عمل نہیں ہو رہا؟اس کا سبب کیا ہے؟ اب اس تناظر میں دیکھنا یہ ہے کہ اللہ بزرگ و برتر کی نظر میں ہمارا کیا مقام ہے؟یومِ محشر ہم اللہ اور اس کے نبی ﷺ کے سامنے کون سا منہ لے کر جائیں گے؟ کیا ہم قرآن کی رو سے جنتی ہیں؟ یہ سوچنا اب ہمارا کام ہے۔ مسلمان ہے تو قرآن کی طرف آ۔

کے متعلق: views

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

مہجور القرآن

مہجور القرآن شیخ سعدی کی رباعی ہے۔ چہ شب ہا نشستم دریں سیر گم کہ …

فرقہ بندی

قرانِ حکیم نے حقائقِ کائنات پر غوروفکر کی دعوت ہی نہیں دی بلکہ بار بار تاکید …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!