جمعرات - 23 - ستمبر - 2021
اہم تحاریر

اردو شاعری

میری پسندیدہ شاعری

  جس بھی فنکار کا شہکار ہو تم اس نے صدیوں تمہیں سوچاہوگا
 چلے بھی آؤ کہ معراجِ عشق ہو جائے آج رات میں بھی اکیلاہوں خدا کی طرح
 محبت چھوڑ دینے پر، دلوں کو توڑ دینے پر عجب دستور ہے صاحب کوئی فتویٰ نہیں لگتا
 کم لباس تن پر ۔۔۔عجیب لگتی ہے! امیرِ باپ کی بیٹی ۔۔۔ غریب لگتی ہے
 عشق تھا کوئی کاروبار نہ تھا۔۔۔ پھر نقصان! ہوا تو ہوا کیسے!!
 جب کوئی ہمدرد نہ تھا ، کوئی بھی درد نہ تھا اچانک اک ہمدرد ملا، پھر اسی سے ہر درد ملا
 ضبط کرتا ہوں توہر زخم لہو دیتا ہے آہ کرتا ہوں تو اندیشۂ رسوائی ہے
دیکھتا ہوں تو ہزاروں ہیں میرے اپنے مگر سوچتا ہوں تووہی عالمِ تنہائی ہے
 محبت ہو بھی جائے تو کبھی اظہار مت کرنا یہ دنیا سچے جذبوں کی بڑی توہین کرتی ہے
 وہ مرد ہی کیا جو دڑ جائے حالت کے خونیں منظر سے اُس حال میں جینا لازم ہے جس حال میں جینا مشکل ہو
 خاموش تھے تم ، ہم مہر بہ لب

جگ بیت گیا ٹک بات کیے

سنو کھیل ادھورا چھوڑتے ہیں

بنا چل چلے بنا مات کیے

 وہ جو آرزوؤں کے خواب تھے وہ خیال تھے وہ سراب تھے

سرِدشت ایک بھی گل نہ تھا جسے آنسوؤں سے سنوارتے

تھا جو ایک لمحہ وصال کا وہ ریاض تھا کئی سال کا

وہی ایک پل میں گزر گیا جسے عمر گزری پکارتے

 وہ چال چل کہ عمر خوشی سے کٹے تیری

وہ کام کر کہ یاد تجھے سب کیا کریں

جس جاپہ تیرا ذکر ہو، ہو ذکرِ خیر ہی

اور تیرا نام لیں تو ادب سے لیا کریں

تو نے عصمت فروخت کی ہے

فقط ایک فاقے کو ٹالنے کے لئے

لوگ یزداں کو بیچ دیتے ہیں

اپنا مطلب نکالنے کےلئے

 بال بکھرائے ٹوتی قبروں پر

جب کوئی مہ جبین روتی ہے

مجھ کو اکثر خیال آتا ہے

موت کتنی حسین ہوتی ہے

چند کلیاں نشاط کی چن کر

مدتوں محوِ یاس رہتا ہوں

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی

تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

بے خوف زندہ لہجوں میں کرتا ہوں گفتگو

خود ساختہ خداؤں سے ڈرتا نہیں ہوں میں

وہ نقطۂ شعور ہوں قرطاسِ زیست پر

پھیلوں اگر کبھی تو سمٹا نہیں ہوں میں

میرا سیدھا سادامزاج تھا

مجھے عشق ہونے کی کیا خبر

تیرے اک تبسمِ ناز نے

میرا سارا ذوق بدل دیا

ہر صداقت سیلم ہوتی ہے

ہر خباثت رجیم ہوتی ہے

ذہن جتنا بلند ہو فوزی

بات اتنی عظیم ہوتی ہے

 ملک الموت کی ضد ہے کہ جاں لے کے ٹلوں سر بسجدہ ہے مسیحا کہ میری بات رہے
 کررہا تھا غمِ جہاں کا حساب یاد تم آج مگر بے حساب آئے
 اکثر غموں کو ہم نے ہنس کر چھپا لیاہے لیکن  کچھ غم اے امیر اشکوں میں ڈھل رہے ہیں
 تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
 زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
 ہے محبت حیات کی لذت ورنہ کچھ لذتِ حیات نہیں
 بہت ملتفت ہو بہت مہرباں ہو تباہی میں شاید کمی رہ گئی ہے
 کسی سے ٹوٹ کر ملتا ہے کوئی کسی سے کوئی مل کر ٹوٹتا ہے
وہ پھول سے لمحے بھاری ہیں اب پیار کے نازک شانوں پر آغاز میں تو نے سونپے تھے جو اپنے اس دیوانے کو
 تصور میں تجھے لاکر ہمہ تن گوش رہتا ہوں مثالِ شمع جلتاہوں مگر خاموش رہتا ہوں
 رات جل اٹھتی ہے جب شدتِ ظلمت سے ندیم لوگ اس وقفۂ ماتم کو سحر کہتے ہیں
 ہزار بار نمودِ سحر ہوئی لیکن تیرے بغیر پھر اس گھر میں روشنی نہ ہوئی
ہم نے دیکھا ہے کہ دولت کے حسیں شانوں پر لوگ آرام سے غیرت کو سلا دیتے ہیں
 مر جائے تو بڑھ جاتی ہے انسان کی قیمت زندہ ہے تو جینے کی سزا دیتی ہے دنیا
دل چاہتا ہے وہ آئیں رہے میرا بھرم بھی اصرار وہ کرتے ہیں کہ تم کیوں نہیں آتے
پھول ہوتا تو تیرے در پہ سجا ہی رہتا زخم لے کے تیری دہلیز پہ آؤں کیسے
دو تُند ہواؤں پہ بنیاد ہے طوفاں کی یا تم نہ حسیں ہوتےیا میں نہ جواں ہوتا
 اس طرح قطع تعلق نہ کرو اس طرح اور بھی چرچا ہوگا
مدت ہوئی میری ماں نہیں سوئی تابش میں نے اک روز کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
الہی سیم و زر کے زیوروں سے مجھ کو نفرت ہے میرا گہنا حیا داری میری پوشاک عصمت ہے
معصوم تمناؤں کے دھوکے کھاکر دل اگر اب بھی دھڑکتا ہے تو حد کرتا ہے
 اتنا بھی نادان نہیں ہوں مجھ کو پڑھنا آتا ہے کون سا لہجہ دل کی دنیا کون سا دنیا داری ہے
 دو چار نہیں مجھ کو فقط ایک ہی دکھا دو وہ شخص جو اندر سے بھی باہر کی طرح ہو
بات مشکل ہےجو محبت میں وہ محبت نبھانے کی بات ہے
مفتیو! بتاؤ کیسے پڑھتے ہیں جنازہ ان کا وہ خواب جو سینے ہی میں مر جاتے ہیں
 محبت آزمانی ہوتو بس اتنا ہی کافی ہے ذرا سا روٹھ کر دیکھو منانے کون آتا ہے
اے دھرتی مجھے ماں کی طرح آغوش میں لے لے دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے
اے رازق اپنے رزق کی تقسیم دیکھ لے ماں نے تھپک کے لال کو بھوکا سلا دیا
اُس دور کی تقدیس پہ کیا سوچتی ہوں گی وہ بیٹیاں جن کے لئے رشتے نہیں آتے
آبگینوں کی طرح دل ہیں غریبوں کے شمیم ٹوٹ جاتے ہیں کبھی توڑ دئیے جاتے ہیں

 

کے متعلق: views

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

فارسی شاعری

میری پسندیدہ شاعری خدا دارم دلِ بریں ز عشقِ مصطفیٰ دارم نہ دارد ہیچ کافر  …

پنجابی شاعری

میری پسندیدہ شاعری دنیا اُتے رکھ فقیرا ایسا بھن کھلون توں ہوؤیں تے ہسن سارے …

One comment

  1. محبت ہو بھی جائے تو کبھی اظہار مت کرنا.
    یہ دنیا سچے جذبوں کی بڑی توہین کرتی ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!