جمعرات - 23 - ستمبر - 2021
اہم تحاریر

ہم-مسلمان۔۔۔۔؟

Allah
انسان کی زندگی کا محور کیا ہے؟ انسان کی پیدائش کا مدعا کیا ہے؟ یہ اس فانی دنیا میں کیا مقصد لے کے آتا ہے؟ اس کی پیدائش میں اللہ حلیم و حکیم کی کیا حکمت و غرض پوشیدہ ہے؟ ایسی سوچیں اکثر با شعور انسان کو آتی ہیں، اور آنی بھی چاہئیں۔اور ہم سب یہ جانتے ہیں کہ جب ایسی سوچیں آتی ہیں تو پھر ہزاروں سوچوں کے در کُھل جاتے ہیں اور پھر کھُلتے ہی چلے جاتے ہیں۔انسان اتنا مجبور و لاچار، بے بس اور بے کس کیوں ہے؟  اس کی عزت  اتنی سستی کیوں ہوتی ہے؟ غربت و جہالت ، آ نسوں اور اس کا مقدر کیوں ہیں؟ وہ ہر دور میں کوڑیوں کے مول کیوں بِکتا رہا ہے؟ انسانی جان اتنی ارزاں کیوں ہے؟ وغیرہ  وغیرہ ۔ سوچوں کے یہ بھنور اتنے  گہرے ہوتے ہیں جو ختم  ہونے کا نام ہی نہیں لیتے، اک در بند ہوتا نہیں تو دوسرا کُھل جاتا ہے  ،کیونکہ آج کے دور میں جتنی تذلیل مسلمان کی ہو رہی ہے اتنی کسی جانور کی بھی نہیں ہو رہی ہے۔ اور ستم با لائے ستم  اس چکی میں سب سے زیادہ پسنے والا طبقہ مسلمانوں کا ہے۔ اگر بنظرِ غائر محققانہ   دیکھا جائے تو پوری دنیا میں سب سے زیادہ رسوا ،  بے عزت، ذلیل و خوار،   لاچار  و بے بس اور مجبور مسلمان ہے ۔ خواہ وہ پاکستانی  ہو ، سعودی ہو، عراقی ہو، ایرانی ہو، مصری ہو سب قطار اندر قطار یہود و نصاریٰ کے رحم و کرم پر ہیں۔ سب اللہ سے مانگنے کی بجائے امریکہ و روس، برطانیہ جاپان  کے آگے کاسۂ حاجات   پھیلائے نظر آتے ہیں۔
terr
آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ہم ہی کیوں رسوا ہو رہے ہیں؟ ہر جگہ ہماری ہی تذلیل کیوں ہو رہی ہے؟ تمام دنیا کی نظر میں ہم ہی کیوں مشکوک ہیں؟  ہماری توقیر کو کیا ہوا؟ ہماری عظمت و عروج کو کیا ہوا؟ ہم پسماندہ اور راندۂ درگا ہ کیوں ہیں؟ دہشت گردی کی لپیٹ میں آخر ہم ہی کیوں؟ بد امنی  اور  عدم تحفظ کا شکار ہم ہی کیوں؟ ہماری جان و مال اور عزت و ابرو کا بازار گرم کیوں ہے؟   ایسی کایا پلٹ کا  کیا سبب ہے؟ کیا وجہ ہے؟ سب مسلمانوں کے ہی مقدر میں کیوں ہے؟ امتِ محمد یہ کا یہ ابتر حال کیوں؟ یہ فرسودہ حال اور  بسمل جاں کیوں ؟  یہ وہ سوچیں ہیں جو ہزاروں سوچیں اپنے جلو میں لئے در آتی ہیں اور لا متناہی سلسلہ سوچوں کا کھول جاتی ہیں جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں۔  پھر انہی سوچوں کا رخ مڑتا ہے کہ ایسی فضا کب تک یہ بے بسی ، یہ آنسوں، یہ آہیں ، یہ بے عزتی و بے بسی اور لا چاری اور فرسودہ حالی  کب تک، کب تک ؟ آخر کب تک؟ کیا مسلمان اسی طرح مر مر کر جیئے گا؟ آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
terr
پھر ایک اور سوچ  حقیقت کا روپ لئے ابھرتی ہے۔ اس کائنات میں کوئی ایسا لمحہ نہیں ہوتا کہ اس  کی پنہائیوں میں اذان کی آواز نہ پھیلتی ہو اور مسلمان اپنے پروردگار کے  حضور سر بسجود نہ ہوتے ہوں۔ ایسا رمضان نہیں گزرا کہ مسلمان صوم و صلوۃ کے پابند نہ ہوں۔ ابھی تک ایسے مسلمان ناپید  نہیں ہوئے جو زکوٰۃ نہ دیتے ہوں اور نہ ہی مسلمانوں نے فریضۂ حج سے منہ موڑا ہو اور خدا کے حضور قربانی سے دریغ کیا ہو۔ یعنی مسلمان ارکان اسلام کے پابند نہیں ایسا بھی نہیں۔ المختصر مسلمان جہاں جہاں آباد ہیں اپنے اللہ کی عبادت کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ علاوہ ازیں تلاوت قرآن کی صدائیں بھی سنائی دیتی ہیں ،  اتنا کچھ ہونے کی باوجود ہم پر اللہ کی رحمت نازل کیوں نہیں ہوتی، ہماری کاوشیں رائگاں کیوں؟   ہماری عقیدت و ارادت بے ثمر کیوں؟ ہماری تمام کوششیں اور محنت بے صلہ کیوں؟ اگر اس کا جواب یہ ہے یہ دنیا کافروں کی اور جنت ہماری ہے تو یہ بکو اس ہے ، واہیات خیال کے علاوہ اور کچھ نہیں بلکہ یہ خام خیالی ہے۔ جھوٹی تسلی ہے جس کا کوئی وجود نہیں۔ نیچ خیالی اور بے غیرتی کے سوا کچھ نہیں  ، ہمیں یہ یقینِ محکم اپنے اذہان میں جا گزیں کر لینا ہو گا۔ جو اس دنیا میں حقیر و ذلیل ہے اس کا آخرت کی دنیا پہ بھی کوئی حق نہیں۔ کیوں؟ یہ سوچنا ہو گا کہ  کیوں ایسا نہیں ہو سکتا؟ آخر کیوں؟ یہ کیوں ایسی ہے جس کا جواب نہ “پھجے” کے پاس ہے، نہ ” چچا فیقے” کے پاس اور “ماما مودے” کے پاس ہے اور نہ ہی” شیدے “کے پاس ، تو پھر ا س کا جواب کس کے پاس  ہے، ہاں یہ سوچنے والا مقام ہے۔ اس کا جواب یا حل کون دے سکتا ہے ، اس کے لئے اول سلیم القب اور عالی ظرف ہونا لازمی ہے،  کیونکہ حقیقت تک پہنچنے کے لئے جستجو، کام سے لگن  اور سچا جذبہ ہونا لازمی ہے۔علاوہ ازیں تطہیرِ قلب و ذہن لازمی اورازحد ضروری ہے اور تمام خیالاتِ فرسودہ و بے ہودہ سے پاک و صاف ہونا بھی اشد ضروری ہے۔ سچ جاننے کے لئے عشق کا ہونا اور  دل و دماغ کا زر خیز ہونا بھی لازمی ہے۔ حقیقت پسندی کا وصف موجود ہو تو تبھی  حقیقت آشکار ہوا کرتی ہے۔  کیونکہ پھل   اسی درخت پر لگتا ہے جو زر خیز زمین سے پیوستہ رہتا ہے، پتھریلی ،  بنجر اور بے آباد زمین کبھی زر خیز اور بار آور نہیں ہو سکتی اور نہ ہی زنگ آلود ذہن  اور  فرسودہ خیالات  کبھی بھی حقیقت تک رسائی نہیں پا سکتے۔ اندھی تقلید  اور غلاظت سے لتھڑا ہوا ذہن بھی انسان کو اس کے اصل مقام سے دور لے جاتا ہے۔  بلکہ ایسی سوچوں کا حامل انسان مقام انسانیت سے بھی گرا ہوا ہوتا ہے چاہے وہ کتنا ہی معزز اور شان و شوکت (بظاہر)  والا ہی کیوں نہ ہو،  اندر کی پاکیزگی اور طہارت بھی حقیقت تک پہنچنے کے لئے زینہ ہے ۔

کے متعلق: views

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

دئیے بُجھتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ آدم کے بعد اسے لا انتہا نعمتوں سے نوازا۔کہ جن کی …

مرضِ کہن

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!