جمعرات - 23 - ستمبر - 2021
اہم تحاریر

ماں

ایک تصویر ہے جو میں اکثر دیکھتا ہوں تو نہ جانے آنسوؤں کا سمندر میری آنکھوں میں کہاں سے در آتا ہے۔ میں اس تصویر کو پہروں دیکھتا رہتا ہوں ۔ میں اس تصویر میں گم سا ہو جاتا ہوں میں اتنا محو ہو جاتا ہوں کہ مجھے وقت گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتااور اس تصویر میں بچی کی جگہ میں خود کو سویا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ ماں ایک مقناطیس ہے کہ بچہ خود بخود اس کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ اور روح زخمی سی مرغ بسمل کی مانند ہو جاتی ہے کہ جن کی ماں (میری طرح) نہیں رہتی وہ کتنے بدقسمت ہوتے ہیں۔ مجھے آج بھی اپنی ماں  کے سینے کی حلاوت کل کائنات سے قیمتی محسوس ہوتی ہے اور دل سے آواز نکلتی ہے کہ میری ماں جہاں کہیں بھی ہو چپکے سے میرے پاس آ جاؤ اور مجھے اپنے سینے سے لگا لو۔ جیسے کسی شاعر نے کہا تھا

کتنی تسکین ہے وابستہ تیرے نام کے ساتھ نیند کانٹوں پہ بھی آ جاتی ہے آرام کے ساتھ
اے دھرتی مجھے ماں کی طرح آغوش میں لے لے دن بھر کی تھکاوٹ سے بدن ٹوٹ رہا ہے

مان کی وصف کلی طور پر بیان کرنے میرے لئے ممکن نہیں۔ بس اتنا کہوں گا کہ ہمارے جسم میں گردش کرتے خون کی ایک ایک بوند ماں کے احسانوں کا بدلہ چکانے سے قاصر ہے۔

ماں

ایک مدت سے  میری ماں نہیں سوئی تابشؔ میں نے اک روز کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

خدائے  لم  یزل نے جب اس دنیا کو بنانے کا ارادہ کیا تو اس نے صرف ایک لفظ کُنْ کہا اور پھر فیکون کا عمل خود بخود وجود میں آ گیا۔ اس میں اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنا حکم ، ارادہ  کا اظہار کیا ہے یعنی وہ خود اس تخلیق کے عمل میں  سے نہیں گزرا ہے۔ اس عمل کے کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ خالق کہلاتا ہے۔ ہم سب اس کی مخلوق ہیں ۔ تمام جہانوں کا خالق وہی اللہ ہے۔ اس کائنات میں ہر ذی روح کا خالق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے اور بلا شرکت  غیرے خالق و مالک بھی ہے۔ اس کے اس کام میں کوئی شریک نہیں ۔ وہ حیات و ممات کا مالک ہے۔ کوئی اس کے کسی کام میں مداخلت یا  ترمیم نہیں کر سکتا۔ وہ ادنیٰ سے اعلیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔ انسانی تخلیق کی جب بات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے صرف ایک بات کہی ہے ، کہ

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیمٍ

ترجمہ: اور انسان کو بہترین شکل میں پیدا کیا۔
یہ کمال تو اللہ تعالیٰ کا ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق کی اور یہ انسان کی تخلیق  بے مثل ہے ، اس سے مزید بہترین شکل ہو ہی نہیں سکتی تھی جس شکل میں اللہ نے حضرت انسان کو پیدا کیا۔ یہ ایک معجزاتی تخلیق ہے کہ انسان کو نہ جانے کن کن مراحل سے گزار کر ایک خوبصورت جسم سے نوازا، ہر عضو میں بہترین اعتدال اور توازن قائم کیا۔ عقل دنگ اور حیران رہ جاتی ہے کہ یہ معجزہ نما تخلیق کیسے ممکن  اور وقوع پذیر ہو جاتی ۔ انسانی عقل ہنوز ان پیچیدگیوں سے بے خبر ہے کہ رحم مادر میں انسان کی اس طرح سے ترتیب  ،تشکیل اور تخلیق کیونکر ممکن ہوتی ہے؟ وہ کون سے عناصر و عوامل ہیں جو حیران کن حد تک آپس میں کس مل جاتے ہیں اور اس میں کس طرح شریانیں ملتی ہیں، کس طرح کری و ہڈی کی تشکیل ہوتی ہے؟ کیسے انسانی بدن کے تمام نظامات خود بخود تشکیل پاتے چلے جاتے ہیں؟ اور پانی کے  ایک بے جان  قطرے سے کس طرح ایک زندہ و جاوید انسانی بچہ اس جہان فانی میں ظاہر و رونما ہو جاتا ہے؟ اس کی مثال و نظیر کہیں بھی نہیں مل سکتی ۔
رحم مادر میں 9 ماہ تک بچہ کس طرح کتنے ہی مراحل طے کر جاتا ہے انسانی عقل سے ماورا ہے۔ ایک چھوٹی سی گلٹی (رحم مادر) میں  کتنا بڑا کارخانۂ حیات قائم کر دیا کہ یہ معجزہ سے بھی بڑا کرشمہ ہے اور اس سے بڑھ کر انسانی بچہ کا اس عالم فانی میں قدم رکھنا ایک قیامت خیز معجزہ ہے کہ اس لمحات میں ماں کے جسم کتنی ہی ہڈیاں کھلتی اور پھیلتی   ہیں  تب جا کر جیتا جاگتا جسم ایک جسم سے علیحدہ ہوتا ہے، یہ وہ لمحات ہوتے ہیں کہ اس کی درد،  جان کنی کا عالم صرف ماں ہی جانتی ہے اس کا احساس صرف  وہی وجود محسوس کر سکتا ہے جو اس جاں گسل اور قیامت خیز مراحل سے گزرتا ہے، اس شدت الم کو بیان کیا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ جذبات کی زبان نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ ۔

اَلْجَنّةُ تَحْتَ اَقْدَام الْاُمْھَاتَ

ترجمہ: جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔
یہ ماں کی عظمت کی معراج کی انتہا ہے کہ اس قدر عزت و توقیر بخشی کہ کسی اور مذہب میں ماں کو اتنی دولت عظمت نصیب ہی نہیں ہو سکی، اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ قرآن حکیم نے ماں کو انتہائی اہم ذمہ داری تفویض کی ہے کہ جس کا شمار ہی نہیں ہے کہ ایک جگہ وہ جسمانی طور پر اپنی اولاد کا بوجھ اٹھاتی اور جنم بھی دیتی  ہے تو دوسری جانب رضاعت کرتی اور نسلوں کی آبیاری بھی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ماں کی گود کو پہلی درس گاہ قرار دیا ہے جہاں سے ہر بچہ تربیت حاصل کرتا ہے، اس تربیت کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے اللہ نے اس کی ذمہ داری بھی ماں کو سونپی کیونکہ ماں ہی ایک ایسی ہستی ہے جس میں برد باری، حوصلہ، صبر، احساس ذمہ داری، برداشت ، گرمی اور سردئ حالات زمانہ سے لڑنے کی صلاحیت بدرجہ اتم ہوتی ہے۔

اِنَّ اللهَ حَرّمَ عَلَیْکُمْ عقوق الامھات (۲۹)

پھرفرمایا

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہ اِحْسَانَا (۳۰)۔

اور ان کی جانب سے ہر قسم کے رویے پر صبر کرنا اور ان کے ساتھ سختی کرنے سے روکا گیا ۔حتی کہ فرمایا:

فَلاَ تَقُل لّھُمَا اُفِّ وّلاَ تَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَھُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا (۳۱)۔

اور اُسے اولاد کی تخلیق و تربیت کے لئے اُس مقام محمود پر فائز کردیا جس پر عظمتوں کی انتہاء ہوجاتی ہے اور اللہ کی نعمتیں انعام میں کامل ہو کر ماں کو ملتی ہیں۔
(مزید تشریح تخلیق انسان میں ملاحظہ فرمائیں)
ہمارا ایمان اور عقیدہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شے کا خالق و مالک اور راز‍ق ہے ۔ لیکن اگر تھوڑا سا بھی غور و فکر کیا جائے  تو یہ بھی علم ہو جاتا ہے کہ کچھ کچھ معاملات میں انسان کے اندر بھی خالقیت کی خصوصیت و خوبی اللہ تعالیٰ نے ودیعت کر رکھی ہے۔ جیسے اللہ نے تاریکی پیدا کی انسان نے تاریکی کو دور کرنے کے چراغ بنا لیا، اللہ نے لوہا پیدا کیا تو انسان نے اس لوہے سے تیر و تلوار، کلہاڑی وغیرہ بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ  نے مٹی تخلیق کی تو انسان نے  پیالہ بنایا اور اسی مٹی سے مختلف اشیاء مثلاً گھڑا، پلیٹیں، تختیاں وغیرہ بنا لیں۔ اللہ تعالیٰ نے زہر پیدا  تو حضرت انسان نے اسی زہر سے تریاق کشید کر لیا۔ بہر حال انسان نے اپنی تعمیر و عافیت کے لئے اللہ تعالیٰ کی ودیعت کی گئی خوبی کو خوب استعمال کیا ۔ اسی خالقیت کی آخری کڑی اللہ تعالیٰ نے عورت کو عطا فرمائی کہ اس کو "ماں” بنا دیا، اور یہی معراج انسانیت بھی ہے کہ اپنی قدرت و کاری گری کا ایک مکمل کارخانہ عورت کے اندر اس طرح سمیٹ کر رکھ دیا جو کسی اور کے بس کا کام ہی نہیں ہے  ۔ یہ اس لیے  ہے کہ انسان یہ جان  اور مان لے بلکہ تصدیق   و تسلیم بالقلب کر لے کہ  حیات و ممات کا سلسلہ فقط معجزہ الہی ہے اور کچھ نہیں ، اس سے یہ بھی مقصود ہے کہ انسان اپنی جبین اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عجز و نیاز سے خم کر دے ، اس کائنات کا ذرہ ذرہ پکار پکار کر اللہ تعالیٰ کی قدرت و ربوبیت کی گواہی دیتا ہے  کہ

إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَیءٍ قَدِیرٌ

ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔
اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے ۔

وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ

ترجمہ: اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کرو۔
پس ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ اطاعت الہی کا ہر حال میں پابند رہے ، حالات خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہوں بندگی سے منہ نہ موڑا جائے ، یہی بشریت کا تقاضا ہے کہ انسان کا سر عاجزی اور انکساری سے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے سامنے  جھکا رہے یہ اس لئے کہ انسان کا اصل خمیر ہی عاجزی اور انکساری ہے ، تکبر و غرور نہیں۔ کیونکہ ہر بار آور چیز ہمیشہ اپنے ثمر کا بوجھ  جھک کر اٹھاتی کرتی ہے۔

ماں

ماں کیسی انمول تحفۂ خداوندی ہے اس کے متعلق اب آپ  پڑھیں اور سوچیں کہ واقعی ماں کی تعریف کے لیے یہ الفاظ مناسب ہو سکتے ہیں۔ یہ اب آپ پر منحصر ہے کہ ماں کی تعریف کے لئے آپ الفاظ میں کیا صحیح جانتے  اور سمجھتے ہیں ۔
ماں کے لیے دیگر الفاظ ؛ اماں ، امی ، ممی، ماما اور مادر وغیرہ کے آتے ہیں ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں کا لفظ دنیا کی متعدد زبانوں میں خاصا یکسانیت رکھنے والا کلمہ ہے، اور اس کی منطقی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ماں کے لیے اختیار کیے جانے والے الفاظ کی اصل الکلمہ ایک کائناتی حیثیت کی حامل ہے اور اسے دنیا کی متعدد زبانوں میں ، اس دنیا میں آنے کے بعد انسان کے منہ سے ادا ہونے والی چند ابتدائی آوازوں سے اخذ کیا گیا ہے? جب بچہ رونے اور چلانے کی آوازوں کی حدود توڑ کر کوئی مخصوص قسم کی آواز نکالنے کے قابل ہوتا ہے اور بولنا سیکھتا ہے تو عام طور پر وہ اُم اُم / ما ما / مم مم / مما مما (پا پا) وغیرہ جیسی سادہ آوازیں نکالتا ہے اور محبت اور پیار کے جذبے سے سرشار والدین نے ان ابتدائی آوازوں کو اپنی جانب رجوع کر لیا جس سے ماں کے لیے ایسی آوازوں کا انتخاب ہوا کہ جو نسبتاً نرم سی ہوتی ہیں  یعنی میم سے ابتدا کرنے والی اور باپ کے لیے عموماً پے سے ابتدا کرنے والی آوازیں دنیا کی متعدد زبانوں میں پائی جاتی ہیں۔
ماں کو عربی زبان میں اُم کہتے ہیں‌، اُم قرآن مجید میں 84 مرتبہ آیا ہے ، اس کی جمع امہات ہے ، یہ لفظ قرآن مجید میں گیارہ مرتبہ آیا ہے ، صاحب محیط نے کہا ہے کہ لفظ اُم جامد ہے اور بچہ کی اس آواز سے مشتق ہے جب وہ بولنا سیکھتا ہے تو آغاز میں اُم اُم وغیرہ کہتا ہے اس سے اس کے اولین معنی ماں کے ہو گئے ، ویسے اُم کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کی اصل ، اُم حقیقت  میں یہ تین حرف ہیں‌(ا+م+م ) یہ لفظ حقیقی ماں ‌پر بولا جاتا ہے اور بعید ماں پہ بھی۔ بعید ماں سے مراد نانی، دادی وغیرہ  یہی وجہ ہے کہ حضرت حوا  رضی اللہ عنہا کو امنا  ( ہماری ماں‌) کہا جاتا ہے ?
خلیل نحوی کا قول ہے ۔  ہر وہ چیز جس کے اندر اس کے جملہ متعلقات سما جائیں ‌وہ ان کی اُم کہلاتی ہے ۔ جیسے لوح محفوظ کو اُم الکتاب کہا گیا کیونکہ وہ تمام علوم کا منبع ہے ، مکہ مکر مہ کو اُم القری کہتے ہیں کیونکہ وہ خطہ عرب کا مرکز ہے ، کہکشاں کو اُم النجوم کہتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے ستارے سمائے ہوتے ہیں ، جو بہت مہمانوں کو جمع کرے اُسے اُم الضیاف کہتے ہیں ، سالار لشکر کو اُم الجیش کہتے ہیں ۔ ابن فارس نے کہا ہے کہ اُم کے چار معنی ہیں ۔
(1) بنیاد اصل (2) مرجع (3) جماعت (4) دین
ماں کہنے کو تو  تین حروف م – ا – ں  کا مجموعہ ہے لیکن اپنے اندر کل کائنات کی بہار نو سموئے ہوئے ہے۔ ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ خداوند کریم جب انسان سے اپنی محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کے لئے ماں کو مثال بناتا ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جس کی  پیشانی  پر نور، آنکھوں میں شبنم جیسی  ٹھنڈک، الفاظ میں حلاوت و  محبت، آغوش میں مدہوش اور دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دینے والا آرام و  سکون، ہاتھوں میں پیار بھری شفقت اور پاؤں تلے جنت ہے۔ ماں وہ ہے جس کو اک نظر  پیار سے دیکھ  لینے سے ہی نشاط انگیزی کی فضا رقص میں آ جاتی ہے۔ زمانے بھر کے غم اور تھکاوٹ اس کے سینے سے لگتے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ حضرت  رابعہ بصری نے کیا خوب بیان فرمایا ہے۔
’’جب میں دنیا کے ہنگاموں سے تھک جاتی ہوں، اپنے اندر کے شور سے ڈر جاتی ہوں تو پھر میں اللہ کے آگے جھک جاتی ہوں یا پھر اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کے جی بھر کے رو لیتی ہوں”
ماں ایک  گھنے پیڑ کی  مانند ہے جو مصائب  و آلام کی تپتی  تیز دھوپ میں اپنے تمام بچوں کو اپنی  مامتا کے پیار بھرے ٹھنڈے سائے  تلے یوں چھپا کے رکھتی ہے جیسے ایک مرغی مصیبت  اور خطرے کے وقت اپنے تمام چوزوں کو اپنے پروں میں چھپا لیتی ہے یہ  سوچ کر کہ اسے چاہے کچھ بھی ہو جائے مگر اس کے بچے محفوظ و مامون رہیں گے۔  ایسی  محبت صرف اور صرف  ایک ماں ہی  دے سکتی ہے اور کوئی نہیں۔ اگر ساری عمر اس کی فرمانبرداری  و تابعداری کی جائے   تب بھی اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا، حق تو رہا ایک طرف اس کی ایک رات کی مساعی کا بدلہ بھی ادا نہیں ہو سکتا۔
ماں ۔۔۔۔ماں کا ذکر جہاں آیا سمجھ لیں ادب کا مقام آ گیا۔ ،  اللہ نے ماں کی ہستی کو یہ جان کر بنایا ہے کہ جب ایک تھکا  ہارا انسان ناکامیوں کا سامنا کر کے تھک جائے تو ماں کی آغوش  محبت میں پناہ لے اور اپنے سارے رنج و الم، دُکھ اور غم ماں کو سنائے پھر جب ماں  پیار سے اس کی  پیشانی چومے تو اس کی تمام پریشانیاں، وساوس، غم  اور اندیشے ختم ہو جائیں۔ ماں اپنے اندر شفقت و رحمت کا ایک ٹھاٹھیں  مارتا سمندر لیے ہوئے ہے جیسے ہی وہ اپنی  اولاد کو پریشانی میں مبتلا دیکھتی ہے تو ماں کا دل اپنی   اولاد کے لئے درد و الم میں تڑپ اٹھتا ہے اس کے اندر موجود محبت کے سمندر کی  لہریں ٹھاٹھیں  مارنے لگتی ہیں اور اپنی اولاد کے  تمام دکھ درد بہا کر دور بہت دور لے جاتی ہیں  جس سے اولاد کو سکون ، صبر اور قرار آ جاتا ہے اور اس میں نئے سرے سے جینے کی  آرزو اور نئی امنگ پیدا  ہو جاتی ہے۔ بو علی سینا نے ماں کی محبت کو یوں خراج تحسین پیش کیا ہے۔
"میں نے اپنی زندگی میں محبت کی سب سے اعلیٰ مثال تب دیکھی جب سیب چار تھے اور ہم پانچ، تب میری ماں نے کہا مجھے سیب پسند نہیں ہیں۔”
اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے پیغمبر ﷺ کے بعد سب سے زیادہ جس ہستی کے بارے لکھا گیا ہے وہ ہے ماں۔ ہر ایک دور میں ماں کے بارے کچھ نہ کچھ ضرور لکھا گیا اور لکھا جاتا رہے گا ۔کبھی نظموں میں ، کبھی گیتوں میں اور کبھی نثر میں ، ماں ہمیشہ موضوع سخن بنتی رہی ہے اور اس طرح اس ہستی کو خراج تحسین پیش کیا جاتا رہا ہے ۔درج ذیل چند حوالے مختلف جگہوں سے پیش خدمت ہیں۔
The best place to cry is on a mother’s arms. — Jodi Picoult
There is nothing as sincere as a mother’s kiss. Saleem Sharma
The heart of a mother is a deep abyss at the bottom of which you will always find forgiveness. Honore de Balzac
If the whole world were put into one scale, and my mother in the other, the whole world would kick the beam. — Henry Bickersteth
But there’s a story behind everything. How a picture got on a wall. How a scar got on your face. Sometimes the stories are simple, and sometimes they are hard and heartbreaking. But behind all your stories is always your mother’s story, because hers is where yours begin. — Mitch Albom, For One More Day
No man is poor who has a Godly mother. — Abraham Lincoln
My mother was the most beautiful woman I ever saw. All I am I owe to my mother. I attribute my success in life to the moral, intellectual and physical education I received from her. — George Washington
I realized when you look at your mother, you are looking at the purest love you will ever know. — Mitch Albom, For One More Day
دنیا میں سب سے بڑی نعمت ماں ہے۔ ماں جیسی نعمت سے سب کو مستفید ہونا چاہیے۔ وہ ایک ایسی ہستی  ہے جو اپنی اولاد کے لیے  خود  تکلیف سہتی  ہے لیکن  بچوں پر کوئی آنچ   آنے نہیں دیتی ہے۔ جو ہمارے لیے ہر حال میں  بہتر سوچتی ہے ہمیشہ ہمارے فائدے کی بات کہتی ہے۔
حدیث نبوی ہے
ما ں کے قدموں تلے جنت ہے ۔اس طرح اہمیت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ اور یوں بھی پہلے تین درجے ماں کے ہیں اور ایک درجہ باپ کا ہے وہ بھی ہر حال میں ہمیں سکون دیتی ہیں۔ ماں خود گیلے بستر پر سوتی ہے اور بچے کو خشک بستر پر سلاتی ہے۔ ماں وہ ہے اگر بچہ تندرست نہ ہو جائے تو وہ پریشان رہتی ہے۔ اگر یہ نعمت کھو جائے تو خواہ دنیا کی ساری دولت خرچ کر ڈالو یہ دوبارہ کسی کو بھی نصیب نہیں ہوئی یہاں تک کہ وہ عظیم ہستی ہے جس کے بغیر دنیا میں ہر چیز بے رونق ہے۔ ماں  اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے۔

ماں تیرے بعد بتا کون لبوں سے اپنے وقت  رخصت مرے ماتھے پہ دعا لکھے گا

پوری دنیا میں ماں کا دن منایا جا تا ہے۔ ماں کے رشتے اور اس کے ساتھ وابستہ جذبات اور محسوسات کا ذکر کرنے کے لئے عمر خضر چاہیے۔ البتہ ایک سوال اکثر پریشان کرتا ہے کہ ماں کے نام پر رفاہی ادارے اس کے جانے کے بعد کیوں بنائے جاتے ہیں۔ ماں کے نام صدقہ جاریہ کے لئے کیا اس کا مرنا ضروری ہے؟ ماں اپنے نام پر بنائے گئے ہسپتال، مساجد، مدارس یا دیگر رفاہی کاموں کو اپنی  زندگی میں کیوں نہیں دیکھ سکتی۔ ماں کی قدر اس کے جانے کے بعد ہی کیوں زیادہ  ہوتی ہے ؟  ماں کے نام ہسپتال اور ادارے وقف کرنے والی اولاد جب کہتی ہے کہ آج ماں زندہ ہوتی تو یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوتی۔ تو ماں کی روح تڑپ اٹھتی ہے اور کہتی ہے ”میرے لال! اللہ تجھے سلامت رکھے اگر یہ نیکی میری  زندگی میں کر لیتا تو میں بھی دیکھ لیتی۔ میری جان تیری یہ نیکی اب زمانہ دیکھ رہا ہے گو کہ مجھے بھی اس کی ٹھنڈک اور خوشبو پہنچ رہی ہے مگر اک ننھا سا شکوہ ضرور ہے کہ میری یاد آئی تجھے میرے جانے کے بعد؟ ماں اپنی ممتا کی تقسیم میں بیٹے اور بیٹی میں تفریق نہیں  کرتی مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کہ بیٹا ماں سے اظہار محبت اس کے جانے کے بعد کرتا ہے خواہ صدقہ جاریہ تعمیر کرے، گیت گائے، کتاب لکھے یا فلم بنائے۔ یہ مہنگے پتر ماں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ ذرا انداز اظہار مختلف ہے۔

ضروری تو نہیں کہ  دوں لبوں سے داستاں اپنی زباں اک اور بھی ہوتی ہے اظہار تمنا کی

مدر  ڈے کے موقع پر ایک ای میل موصول ہوئی ہے جس میں بوڑھے والدین اپنی اولاد سے کہہ رہے ہیں۔۔۔ ”جس دن تم ہمیں بوڑھا کمزور یا بیزار دیکھو تو صبر کرنا اور ہمیں سمجھنے کی کوشش کرنا۔ جب ہم گندگی کریں اور کپڑے بھی نہ بدل سکیں تو برداشت کرنا اور وہ وقت یاد کرنا جب ہم نے تمہیں کھلانے پلانے اور کپڑے بد لوانے میں کتنا وقت لگایا تھا؟ جب ہم تم سے بات کریں اور ایک بات کو بار بار دہرائیں تو ہماری بات نہ کاٹنا ہمیں سننا‘ جب تم چھوٹے تھے تو ہم تمہیں ایک ہی کہانی ایک ہزار ایک دفعہ سناتے تھے جب تک کہ تمہیں نیند نہیں آ جاتی تھی? جب ہم نہانا چاہیں تو ہمیں شرمندہ نہ کرنا نہ ڈانٹنا‘ یاد کرو جب ہم تمہارے ہزاروں بہانوں کے باوجود تمہارے پیچھے بھاگا کرتے کہ کسی طرح تم نہا لو۔ جب ہم انٹرنیٹ کی نئی ٹیکنالوجی کو نہ سمجھ سکیں تو ہمیں ہمارے طریقے سے سیکھنے میں مدد کرنا، ہم نے تمہیں بہت ساری چیزیں مختلف طریقوں اور تحمل سے سکھائیں۔ جب کبھی ہماری یاد داشت کھو جائے تو ہمیں یاد کرنے کے لئے وقت دینا‘ اصل چیز بات چیت نہیں بلکہ ہم تمہارے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ جب ہمارے تھکے ہوئے پاؤں ساتھ چھوڑ دیں تو ہمیں اپنے ہاتھوں سے تھام لینا‘ جس طرح تم جب اپنے پہلے پہلے کمزور قدم اٹھانے کی کوشش کرتے تھے توہم تمہیں تھام لیتے تھے۔ جب کسی دن ہم یہ کہیں کہ اب ہم زندہ نہیں رہنا چاہتے تو غصہ نہ کرنا، ایک دن تم سمجھ جاؤ گے کہ ہم تم پر بوجھ بننا نہیں چاہتے? جب کسی دن تمہیں ہماری کسی کمزوری کا پتہ چلے تو شرمندہ یا ناراض نہ ہونا، یاد کرنا ہم نے تمہاری کتنی کمزور یاں  چھپائے رکھیں اور ناراض بھی نہ ہو سکے اور جب ہم نہ رہیں تو ہمارے لئے دعا کرنا جس طرح ہماری ہر سانس تمہارے لئے دعا کرتی ہے۔  خدا  را کبھی ایسا نہ کرنا کہ

جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں  دھڑکنیں جب بولنے لگے تو ہمیں پر برس پڑے

موصول ہونے والی ای میل خدائے بزرگ و برتر کے اس پیغام بر حق پر مبنی تھی کہ ”میرے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ سے حسن سلوک کرو‘ ان میں سے ایک یا دونوں تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اف“ نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو۔ دونوں کے ساتھ ادب سے بات کرو اور ان کے لئے عاجزی کے ساتھ دعا کرو، اے میرے رب میرے والدین پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی“ (بنی اسرائیل 17‘ آیت نمبر 24، 23) یہ ای میل پڑھنے کے بعد میرے سارے دلائل دھرے کے دھرے رہ گئے? والدین کے ساتھ بات کرنے سے پہلے سوچنا  چاہیے کہ یہ وہ ہستیاں ہیں جن کی بے ادبی شرک کے بعد دوسرا گناہ کبیرہ ہے? والدین کو جلی کٹی سنانا، طعنے دینا، ناشکری کرنا ،بد تمیزی سے پیش آنا۔

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ ”تو کیا ہے“؟ تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟

والدین میں ماں کا درجہ بلند رکھا گیا ہے۔ اللہ اپنی محبت کو ممتا سے تشبیہ دیتا ہے۔ ماں ایثار و قربانی کا مجسمہ ہے تو اولاد بھی اپنی ہر نیکی اس کے نام کرنا چاہتی ہے۔ بے نصیب اولاد والدین کو زندگی میں بھی خوش نہ رکھ سکی اور ان کی موت پر بھی دنیا داری نبھاتی رہی۔

میری  نماز جنازہ پڑھائی غیروں نے مرے تھے ہم جن کے لئے وہ رہے وضو کرتے

اور بے نصیب ہیں وہ والدین جو اپنی نافرمان اولاد کے لئے ترکہ چھوڑ جاتے ہیں۔ لڑکے کو لڑکی پر فوقیت دیتے ہیں۔ لڑکے کو نسل کی بقا اپنا سہارا  جبکہ لڑکی کو بوجھ سمجھتے ہیں ۔ایک دن یہی لا ڈلے وارث اپنے مہربان والدین کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو پھر پسر قابل میراث پدر کیوں کر ہو

انسان دنیا کا بڑے سے بڑا غم سہہ سکتا ہے مگر اولاد کی چھوٹی سی تکلیف اس سے برداشت نہیں ہو سکتی۔ ماں باپ دنیا سے چلے جائیں تو بھی ان کا رشتہ اپنی اولاد کے ساتھ جوں کا توں جڑا رہتا ہے۔ دنیا میں اولاد ماں باپ کی مہربانیوں اور قربانیوں کی محتاج ہوتی ہے اور ماں باپ مرنے کے بعد اولاد کی دعاؤں اور صدقہ جاریہ کے محتاج ہوتے ہیں۔ ایسے والدین بھی دیکھے ہیں جو جیتے جی چین سے تھے اور نہ ہی مر کر چین آیا۔ اولاد کے دکھ میں اندر ہی اندر گھلتے رہے۔ کھل کے رو سکے اور نہ ہی مر کے قرار پایا۔ اولاد کا دکھ انسان کو دیوانہ بنا دیتا ہے۔ چلتا پھرتا ایک بت بن جاتا ہے۔

جانتا ہوں اک شخص کو میں بھی منیر غم سے پتھر ہو گیا لیکن رویا نہیں

والدین اور اولاد کا رشتہ سمجھنے کے لئے کسی مذہب یا فلسفہ کی ڈگری کی ضرورت نہیں بلکہ خود والدین بننا پڑتا ہے۔ میری ماں نے ایک روز میرے والد سے کہا کہ اللہ ہمیں ہماری زندگی میں اولاد کا دکھ نہ دکھائے۔  والد بولے، یہ کہا کرو کہ اللہ ہمارے جانے کے بعد بھی اولاد کا دکھ نہ دکھائے۔ میری ماں ہنس دیں اور کہا، ہم نے کوئی دیکھنے آنا ہے، میرے والد نے سنجیدگی کے ساتھ کہا، ہاں ہم نے دیکھنے آنا ہے۔ میرے والد نے سچ فرمایا تھا۔ میری معمولی پریشانی پر بھی خواب میں آ جاتے ہیں۔ شفقت اور دعا فرماتے ہیں۔ والد کے جانے کے بعد ماں میں ان کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ خدا اس چہرے کو آنکھوں کے سامنے رکھے۔ آمین! نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ماں باپ کو ایک نظر شفقت کے ساتھ دیکھنے پر حج مقبول کا ثواب ملتا ہے (ترمذی) ماں باپ کے نافرمان پر اللہ تعالی نے جنت حرام کر دی ہے۔ (بخاری) ماں باپ کے نافرمان کو موت سے پہلے اس جہان میں بھی ضرور سزا ملتی ہے۔ (بخاری)
(بہ شکر یہ روزنامہ نوائے  وقت)-عبد الحلیم اطہر سہروردی

ایک مدت سے میری ماں  نہیں سوئی تابش ؔ میں نے ایک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

اس ایک شعر نے مدت سے ذہن میں جگہ بنائی ہوئی ہے ویسے تو ماں کی عظمت سے کون بدنصیب نا واقف ہے لیکن اس کے باوجود ان اشعار نے جو اس مضمون میں شامل ہیں ماں کے موضوع پر کئی ایک مضامین کے ہوتے ہوئے بھی اس عاجز کو بھی کچھ تحریر کرنے کی تحریک دی ہے ،شاید اس لئے کہ اللہ کے کرم سے ہمیشہ سے میں اپنی ماں کے قریب رہا ہوں یا پھر یوں کہہ سکتے ہیں کہ ماں نے اپنے قریب رکھا اور ہر مشکل اور ہر قدم پر نہ صرف رہنمائی کی ہمت افزائی کی بلکہ دعائیں دیں۔
کامیابی کے لئے وظیفے پڑھے اور وہ سب کچھ کیا جو ان کے اختیار میں تھا، صحت ہو یا بیماری، خوشی ہو یا غم زندگی کے ہر معاملہ میں ماں نے حوصلہ بخشا، ہمیشہ یہ احساس ساتھ رہتا ہے کہ اللہ کے کرم کے ساتھ ماں کی دعائیں سایہ کئے ہوئے ہیں ، ماں کے ہوتے بڑی سے بڑی مشکل بھی پریشان نہ کر سکی، جب کبھی کوئی مشکل کا سامنا ہوتا ماں کے حضور حاضر ہو جاتے ان کی دعا اور اللہ کے کرم سے ساری مشکل ختم ہو جاتی، اللہ کا شکر ہے ۔

داستان میرے لاڈ و پیار کی بس ایک ہستی کے گرد گھومتی ہے پیار جنت سے اس لئے ہے مجھے یہ میرے ماں کے قدم چومتی ہے

ماں یہ لفظ بہت وسیع معنی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ممتا، ایثار ، قربانی، پیار، محبت، عزم ،حوصلہ ،دوست، ہمدرد،  راہ نما، استاد، خلوص، معصومیت، دعا، وفا، بے غرضی، لگن، سچائی، پاکیزگی، سکون، خدمت، محنت، عظمت، عبادت، ایمان، دیانت، جذبہ، جنت، یہ سب ماں کی خوبیوں کی صرف ایک جھلک ہے، ورنہ اس کی خوبیاں تو اس قدر ہیں کہ لفظ ختم ہو جائیں مگر ماں کی تعریف ختم نہ ہو۔  ماں ہی وہ عظیم ہستی ہے جس کے جذبوں اور محبت میں غرض نہیں ہوتی ،جب اولاد اس دنیا میں آنکھ کھولتی ہے تو اس کے لئے خود کو وقف کر دیتی ہے جب بچہ بول بھی نہیں پاتا اس کی ضرورت کو سمجھتی اور پورا کرتی ہے پھر اسے بولنا سکھاتی ہے بھر انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتی ہے ہر آواز پر دوڑی چلی آتی ہے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیتی ہے، اولاد کی خوشی میں خوش اور اس کے دکھ میں دکھی ہوتی ہے ،عمر کے ہر دور میں ساتھ دیتی ہے اور دعا گو رہتی ہے

مشکل راہوں میں بھی آسان سفر لگتا ہے یہ میری ماں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک صحابی? آئے اور پوچھا کہ میں نے اپنی معذور ماں کو کاندھوں پر بٹھا کر حج کروایا ہے، کیا میرا حق ادا ہو گیا۔ ارشاد فرمایا: ابھی تو اُس ایک رات کا حق ادا نہیں ہوا جس رات تُو نے بستر گیلا کر دیا تھا اور تیری ماں نے تجھے خشک جگہ پر سلایا اور خود گیلے میں سوئی۔ حضرت ابن عباس? فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ  نے فرمایا جو سعادت مند بیٹا اپنے والدین کو محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اللہ تعالی اس کی ہر نظر پر حج مبرور یعنی مقبول حج کا ثواب دے گا ۔ صحابی نے عرض کیا اگرچہ روزانہ 100مرتبہ دیکھے رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا ہاں اللہ کی ذات بہت بڑی اور پاک ہے(بہیقی) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تمھارے ماں باپ تمھارے لئے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی ہیں(سنن ابن ماجہ)،ماں باپ کی نا فرمانی کرنے والے اور ماں باپ کو ناراض کرنے والے کے لئے نبی رحمت  نے بد دعا فرمائی ہے، دارمی، مسند احمد اور نسائی میں ہے کہ ماں باپ کے نافرمان پر اللہ تعالی نے جنت حرام کر دی ہے۔ حضرت موسی  علیہ السلام جب اپنی والدہ کی وفات کے بعد اللہ تعالی سے ملاقات کے لیے کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو ایک غیبی آواز آئی اے موسی، اب ذرا سنبھل کے آنا اور سوچ سمجھ کر گفتگو کرنا۔ حضرت موسی بہت حیران ہوئے اور پوچھا یا باری تعالی وہ کیوں۔  اللہ تعالی نے فرمایا اب تمہارے لیے مجھ سے رحم و کرم اور عنایت کی دعا کرنے والی تمھاری ماں اس دنیا میں نہیں رہی۔

ماں تیرے بعد بتا کون لبوں سے اپنے وقت رخصت میرے ماتھے پہ دعا  لکھے گا

ماں احسانات، احساسات، خوبیوں اور جذبات کا وہ بے مثال مجموعہ ہے جو سارے زمانے کے حالات اور موسم کی سختیاں خود سہتی ہے مگر اس کا ہر لمحہ اپنی اولاد کے لیے فکر و دعا کرتے گزرتا ہے، ماں باپ جتنی دعائیں اولاد کے لئے کرتے ہیں اللہ وہ تمام دعائیں ضرور قبول فرماتا ہے ،ماں کے اندر ممتا کا جو جذبہ ہوتا ہے وہ کسی اور میں نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی نے جب ماں کی تخلیق کی تو اسے رحمت کی چادر، چاہتوں کے پھول، دعاؤں کے خزانوں، زمین و آسمان کی وسعتوں، جذبوں، چاہتوں، پاکیزہ شبنم، دھنک کے رنگوں، چاند کی ٹھنڈک، خلوص، رحمت، راحت، برکت، عظمت، حوصلے اور ہمت سمیت تمام اوصاف سے مزین کیا، یہاں تک کہ اس کے قدموں میں جنت ڈالی۔ یوں ماں قدرت کا بہترین تحفہ اور نعمت ہے جس کی قدر ہم پر فرض ہے ۔  ماں کے احسانات، احساسات اور چاہتوں کا بدلہ کوئی بھی نہیں ادا کر سکتا، ہم تو ماؤں کی ایک رات کا قرض بھی نہیں چکا سکتے، مائیں عزم و حوصلے اور ایثار و قربانی کا پیکر ہوتی ہیں۔  والدین کے احسانات کے بارے میں سوچیں بھی، تو سوچ ان کے احسانات کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔

جب بھی میرے دل کی مسجد میں تیری یادوں کی اذان ہوتی ہے اپنے ہی آنسوؤں سے وضو کر کے ماں تیرے جینے کی دعا کرتا ہوں

بلاشبہ ماں کا وجود ایک نعمت اور اللہ تعالی کا انعام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی انسان کامیاب ہے تو اس کے پیچھے اس کی ماں ہی کا ہاتھ ہے جس کا وہ ثمر پا رہا ہے۔ ان کی ماؤں نے پال پوس کر ان کو قابل بنایا اور اپنی ماؤں ہی کے طفیل آج یہ کامیاب ہیں۔ ان کی تربیت میں جو خوبیاں ہیں وہ ان کی ماؤں ہی کی مرہونِ منت ہیں، ماں کی دعاؤں نے ہی اولاد کو بڑے سے بڑا ولی اور بادشاہ بنایا ہے، حضرت با یزید بسطامی کی ماں نے دعا فرمائی تھی اور وہ دنیائے ولایت کے بہت بڑے ولی بن گئے، حضرت ٹیپو سلطان شہید کی والدہ کی دعائیں تھیں کہ ایسے سلطان بنے کہ تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف میں درج ہوا، حضرت موسی علیہ السلام کے دور کا وہ قصائی جو ماں کی خدمت کرتا اور ماں دعا دیتی کی اللہ جنت میں تجھے حضرت موسی کے ساتھ رکھے اور اللہ نے یہ دعا قبول کی اور حضرت موسی کو بتا دیا  اور حضرت موسی نے جا کر خدمت اور دعا کا منظر دیکھا۔

لبوں پہ اس کے کبھی بد دعا نہیں ہوتی بس ایک ماں ہے جو کبھی خفا نہیں ہوتی

قرآن مجید (سورہ بنی اسرائیل اور سورہ لقمان) میں ماں باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم اللہ نے توحید اور عبادت کے ساتھ ساتھ دیا ہے۔ صحابی نے رحمت العالمین ﷺ سے سوال کیا مجھ پر خدمت اور حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے تو آپ  نے تین مرتبہ ماں کا کہا اور چوتھی مرتبہ سوال کرنے پر کہا کہ باپ کا ہے اور فرمایا کہ اگر ماں باپ ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کرنا ادب و احترام اور حسن سلوک کا معاملہ رکھنا اور فرمایا کہ اللہ کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا عمل بہت پسند ہے ۔ماں کا وجود صرف ہماری زندگیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ سارے گھر خاندان کے لئے بھی باعث رحمت و نجات ہے۔ ماں تو تپتے صحرا میں ٹھنڈی پھوار کا نام ہے۔ ماں کڑی، چلچلاتی دھوپ میں ابر کی مانند ہے۔ ماں کی دعا سیدھے عرش تک جاتی ہے، ماں میں ممتا کہ وہ جذبہ ہوتا ہے جو کسی اور میں نہیں ہوتا اولاد کے لئے اپنی ہر خوشی قربان کر دیتی ہے تکالیف برداشت کرتی ہے ،بچوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لئے اپنی بڑی سے بڑی خواہش قربان کر دیتی ہے ہر اعتبار سے ان کی حفاظت کرتی ہے ،فکر مند رہتی ہے،  دعائیں کرتی ہے، شفقت کے ساتھ پرورش کرتی ہے ۔اللہ نے ماں کا دوسرا نام محبت رکھا ہے اور بندوں سے اپنی  محبت کی مثال بھی ماں کی محبت سے ہی دی ہے۔

اس طرح میری  خطاؤں کو بھی وہ دھو دیتی ہے ماں بہت غصہ میں ہو تو رو دیتی  ہے

دعا ہے کہ جن کے والدین حیات ہیں خدا کرے ان کا سایہ تا دیر سلامت رہے اور وہ ہر دکھ، پریشانی، آفت اور آزمائش سے محفوظ ہوں، پورے خلوص اور سچے دل کے ساتھ والدین کی خدمت کریں انہیں راضی کر لیں، والدین کی رضا میں اللہ کی رضا شامل ہے اور جو لوگ والدین کی نعمت سے محروم ہیں وہ اس دعا کا ورد کرتے رہا کریں

  رب  ارحمھما کما ربینی صغیرا

ترجمہ: ’’اے میرے رب میرے ماں باپ پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن مجھ پر رحم   کیا۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ ? نے فرمایا کہ نیک آدمی کا جنت میں اللہ ایک درجہ بلند کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ اے اللہ مجھے یہ درجہ کیوں ملا تو اللہ فرماتا ہے تیری اولاد نے تیرے لئے مغفرت کی دعا کی ہے اس لئے اپنے والدین کے حق میں دعا کرتے رہنا چاہیے ،اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ ہمیں والدین کی قدر نصیب فرما اور ان کے لئے محبت، خدمت، اطاعت و حسن سلوک کا جذبہ عطا فرما اور ان کی بہترین اولاد میں شمار فرما۔ آمین
دنیا کے بیشتر ممالک ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو ’’مدرز  ڈے‘‘ مناتے ہیں اور میں اس روز اپنے سسٹم پر پروفیسر انور مسعود کی پنجابی نظم ’’امبری‘‘ لگا لیتا ہوں? اسے جس کسی صاحب درد نے سُنا آنکھیں بھر آئیں۔ یہ اس دور کا سچا واقعہ ہے جب صاحب نظم خود اسکول ٹیچر تھے اور ان کا ایک طالب علم اپنی ماں پر تشدد کرتا ہے? ایک روز اتنا زیادہ مارتا ہے کہ ماں کی آنکھیں اور ہاتھ سوج جاتے ہیں، پھر ناراض ہو کر جلدی اسکول آ جاتا ہے? ماں اپنے زخم بھول کر اپنے ہاتھوں سے ناشتہ تیار کر کے دوسرے طالب علم کے ہاتھ بھجوا دیتی ہے کہیں کھانا نہ کھانے کی وجہ سے بیٹے کی طبیعت خراب نہ ہو جائے۔ اس بار یوم ماں پر ایک اور ماں یاد آ رہی ہے? بہت سال گزرے ہیں، تب ہم چھوٹے سے تھے جب گھر میں اچانک کہیں سے ’’بلونگڑا‘‘ (بلی کا بچہ) آگیا وہ آ تو گیا، مگر اسے واپسی کا راستہ نہ ملا۔ ادھر اس کی ماں نے گیٹ پر بے تاب ہو کر دہائی دینا شروع کر دی۔ ادھر یہ بے چین ہو کر اپنا سر گیٹ سے ٹکرانے لگا  ہم اس وقت بلّی سے بہت ڈرتے تھے اس لیے دل میں ترس آنے کے باوجود کچھ نہ کر سکے  بالآخر امّی نے دروازہ کھولا اور بلونگڑا سیکنڈوں کی سی تیزی سے ماں کے ساتھ جا لپٹا۔ ویسے تو یہ دن ان کا ہے جو سال کے 364دن اپنی  ماؤں کو فراموش کیے رہتے ہیں۔ وہ ایک دن اولڈ ہوم میں پڑی ماں کے لیے پھولوں کا تحفہ لے جا کر اگلے364دنوں کے لیے خود کو آزاد کر لیتے ہیں۔ یہ دن ان کا بھی ہے جنہوں نے آج کے دور میں ’’مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں‘‘ کا فلسفہ غلط کر دکھایا ہے۔
آج ماں صرف فاتح، ظالم اور قاتل کی ماں ہے۔ مفتوح، مظلوم اور مقتول کی ماں کے سینے میں شاید دل نہیں ہوتا لہذا اس کے جگر گوشوں کو چھلنی کرتے ہوئے ایک لمحے کو رک کر سوچنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔ کوئی افغانستان اور عراق میں امریکی استعمار کے ہاتھوں مرنے والے لاکھوں افراد کی ماؤں کے غم کی کہانی پڑھنے پر آمادہ ہے نہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایندھن بننے والے 10ہزار پاکستانیوں کی ماؤں کا لوحہ سننے کو۔ سب ظالم کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور اس کی من مرضی کے عین مطابق مدرز  ڈے مناتے ہیں۔
یہ  دن ہمارے لیے ہے بھی نہیں اور ہماری ماؤں کے شایان شان محض ایک دن ہو بھی نہیں سکتا۔ ہمارے لیے تو سال کے ہر مہینے نہیں، ہر ہفتے اور ہر دن بھی نہیں، ماں باپ کی طرف محبت کی ہر نظر پر ایک مقبول نفل حج کا ثواب لکھ دیا گیا۔ ماؤں کا رتبہ اس قدر بلند کر دیا گیا کہ اللہ تعالی نے اپنی محبت کے اظہار کے لیے ’’ ماں کی محبت‘‘ کو ذریعہ بنایا ۔ حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی چاہت 70ماؤں کی محبت سے بھی زیادہ ہے۔ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ و سلم سے کسی صحابی نے پوچھا: قیامت کب آئے گی، فرمایا: اللہ ہی کو معلوم ہے، دریافت کیا: کوئی نشانی ،تو ارشاد ہوا: جب تم دیکھو، ماؤں کو ان کی اپنی اولادیں ذلیل کر رہی ہیں تو بس قیامت آنے والی ہے۔
(مفہوم حدیث)
افسوس اولڈ ہوم والوں سے دوستی کا نتیجہ قیامت کی اسی نشانی کی صورت میں اب بکثرت  دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ بات کبھی سمجھ میں نہیں آئی جانوروں کی مائیں تک مائیں ہوتی ہیں تو انسانوں کی اولادیں، اولادیں کیوں نہیں بن پاتیں،  ہم ساری دنیا کے غم، پورے عالم کی پریشانیاں اپنی ماں سے کہہ سکتے ہیں، مگر ماؤں کی پریشانیاں سننے کے لیے ہمارے پاس کان، غم سمونے کے لیے سینہ اور دکھ ڈھونے کے لیے کاندھے نہیں ہوتے۔ یہ بچوں کی خوشی کے لیے اپنی خوشیاں وار دیتی ہیں، مگر اولادیں ان کی مسکراہٹ کے لیے اپنی مسرتیں داؤ پر نہیں لگا سکتے۔ ہمارے ایک عزیز شادی  کے بعد الگ ہو گئے تو ان کی ماں کا ہر لمحہ اذیت میں گزرتا تھا، مگر جب وہ ان سے ملنے آتے تھے تو وہ اپنے آنسو چھپا کر ایسے ملتی تھیں کہ کسی کو گمان تک نہ ہوتا تھا دل پر کیا الم گزر رہے ہیں۔
یہ ٹھیک ہے مائیں جب عمر رسیدہ  ہو جائیں تو ایسی باتیں بھی کر جاتی ہیں جو شادی  شدہ اولاد کو ناگوار گزرتی ہیں، مگر کیا ہے جو اسے برداشت کر لیا جائے۔ ایسی ہزاروں جلی کٹی ماں بھی تو ہمارے بچپن میں سہتی رہی یقین  کریں جو ایسا کر جائے گا اس کی لغت سے ’’غم‘‘ کا لفظ ہی نکل جائے گا ’’بڑا انسان‘‘ بننے کی ہر کوئی خواہش رکھتا ہے اپنی ماؤں کو ستانے والے جتنے بھی بڑے ہو جائیں، کردار کے اعتبار سے پست رہیں گے۔ کوئی ماں کو خفا کر کے کامیابیوں کے خواب بھی نہ دیکھے۔ ایسے لوگوں کے مقدر میں ہر جگہ ٹھوکریں لکھ دی جاتی ہیں۔ کامرانیوں کے لیے ماں کی دعا ضروری ہے
وہ مسکراتے  ہیں اور دھیرے سے کہتے ہیں: ابھی میری ماں زندہ ہے۔ یقیناً  میری طرح وہ لوگ خوش قسمت ہیں جن کی  مائیں زندہ ہیں۔ یہ وہ نعمت ہے جو زندگی میں ایک بار ملتی ہے، اس کو کھو دینے والے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ ان پر دل کھول کر خرچ کرنا چاہیے کہ یہ وہ بینک  ہیں، جہاں صرف منافع ہے، خسارہ کوئی نہیں۔ گزشتہ سال میرے ایک دوست کی والدہ کی آنکھ کا آپریشن ہوا،  انہیں 10ہزار روپے کی ضرورت پڑی۔ اس وقت دوست کے اکاؤنٹ میں 19ہزار روپے ہی تھے جو وہ چھوٹی سی نوکری سے بڑی بچت کر کے پیسے جمع کرا رہے تھے، ماں کے مانگے بغیر انہوں نے چیک کیش کرایا اور 10ہزار روپے کی رقم ماں کی ہتھیلی پر لا کر رکھ دی۔ وہ بتاتا ہے اس دن کے بعد تو کمال ہو گیا۔ جتنا خرچ کرتا ہوں، اس سے زیادہ آتا ہے۔ ایک مہینہ ایسا نہیں آیا جب رقم کم ہوئی ہو۔  یہ بڑھ رہی ہے اور اکاؤنٹ بھرتا ہی جا رہا ہے، چنانچہ ہمیں  بھی اس خوش قسمتی کی قدر کرنی چاہیے ورنہ پھر بد قسمت لوگوں کے اشک بہانے کے لیے  کچی قبریں رہ جاتی ہیں، یہ الگ بات ہے پچھتاوے کے یہ آنسو بھی ماؤں سے منسوب مٹی جذب کر لیتی ہے شاید مرنے کے بعد بھی مائیں بچوں کے دکھ برداشت نہ کر سکتی ہوں۔ شاید وہ خاک ہو کر بھی اولادوں کے لیے بے  چین ہو جاتی ہوں۔  میں نے نظم ’’امبری‘‘ اپنے کمپیوٹر پر لگا لی ہے اور نہ جانے کہاں سے آنسو آ آ کر آنکھ میں جمع ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ سب ، جو آپ نے پڑھا مختلف ذہنوں کے افکار کا ایک اجمالی سا خاکہ تھا ، اب میں اپنے تخیلات کو آپ پر آشکار کرتا ہوں کہ میری نظر میں "ماں” ہے کیا؟
ماں کی مکمل تعریف میرے محتاط اندازے کے مطابق ممکن ہی نہیں ، کیونکہ جذبات کی پیمائش کا کوئی بھی پیمانہ آج تک نہیں بنا ،ان کو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے ، اظہار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ الفاظ جذبات کا نعم   البدل  ہو ہی نہیں سکتے۔ مثلاً ماں کے پیار کو کسی بھی پیمانے سے نہیں جا نچا نہیں جا سکتا کہ اس کو اپنے بیٹے سے کتنا پیار ہے ، 200 من،200 گٹھڑیوں جتنا یا کسی سمندر جتنا وغیرہ ۔ دنیا کے تمام الفاظ کسی بھی جذبے کے متحمل ہو ہی نہیں سکتے۔ آج تک کوئی ایسا لفظ نہیں بن سکا جو کسی ایک جذبے کا مکمل اور کما حقہ اظہار کر سکے ۔ماں بیٹے  کی جدائی میں چھم چھم  نیر بہاتی  رہتی ہے۔ چھم چھم کے الفاظ ماں کے اندر کے غم و اندوہ کے جذبات کا اظہار نہیں کریں گے۔ ماں کے سینہ میں بیٹے کی جدائی کی وجہ جل رہا ہے، یہ جلنا بھی اس اندر کی تپش کو پوری طرح واضح کرنے سے قاصر و عاجز ہے۔ المختصر  جذبات کا اظہار لفظوں میں پوشیدہ نہیں ہو سکتا ہے۔ الفاظ مفہوم تو دے دیں گے لیکن اس کی گہرائی اور گیرائی کا مکمل احاطہ کرنے میں ناکام رہیں گے
ماں کے بارے میں لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے اور سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے۔  ایک    ایسا بحر   بے کراں سمندر جس کی گہرائیوں کا اندازہ کرنا انسانی عقل سے کہیں  بالاتر ہے۔ ہر  چیز کی وضاحت اور تعریف کو الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے مگر ماں کی محبت کی تشریح و وضاحت  ناقابل  بیاں ہے۔ کیونکہ ماں اک فسوں ہے جو انسان کی رگ رگ میں لہو کی طرح رواں دواں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ستر (70) ماؤں سے بڑھ کر انسان کو پیار کرتا ہے تو اس طرح اللہ تعالیٰ کے پیار کا پرتو ماں ہی ہے۔ جس  اللہ تعالیٰ کی نعمتوں  رحمتوں کا حساب و شمار  ناممکن ہے اسی طرح ماں کے پیار و محبت کا شمار بھی نا ممکن ہے۔
یاد  رکھیں  ماں کا لفظ ہی بہت سکون آور ہے  ۔  دنیا کا  ہر غم ،دکھ، مصائب و الم، بے سکونی و بے قراری ، بے چینی  اور کرب  ماں کے سینہ سے ہمیشہ دور رہتا ہے۔  ماں کا سینہ  پیار و محبت کا گہوارہ ہے۔ ماں کے سینے سے لگ جائیں تو ایک الگ ہی دنیا محسوس ہوتی ہے جہاں پیار اور محبت کا راج اور حکمرانی ہوتی ہے۔ انسان اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے۔ ایسا سکون صرف دو جگہ ہی  ملتا ہے یا اللہ کے حضور سجدے میں یا ماں کے سینے لگ جانے سے۔ میری نظر میں ماں اور پھول میں ایک قدر مشترک ہے وہ اس طرح، جیسے پھول کھلتا ہے تو اس کی باس ہر جا پھیل جاتی ہے اسی طرح ماں گھر میں موجود ہو تو اس کی بھینی بھینی خوشبو گھر کو ہر دم  مہکائے رکھتی ہے۔ جس طرح  ایک باغ پھولوں ، پھلوں اور ہری بھری شاخوں سے مہک اٹھتا ہے  اسی طرح ماں کے وجود سے گھر میں ہر طرف رونق اور چہل پہل کی بہار چھائی رہتی ہے۔ ماں کا  وجود جنت کی مانند ہے کہ جہاں ، جہانِ الم کہیں نظر نہیں آتا۔ ماں کا سر کو پیار و محبت سے بوسہ دینے کی تاثیر مسیحائی اثرات رکھتی ہے۔ جو روح کی  گہرائیوں میں رچ بس جاتی ہے۔ اک ماں ہی تو ہے جو کبھی بد دعا نہیں دیتی ۔ جو حرف شکایت  زباں پر نہیں لاتی، جو کبھی رلاتی نہیں ، کبھی دکھ نہیں دیتی، جھڑک سہہ کر بھی زباں نہیں کھولتی، کبھی بھوکا نہیں رہنے دیتی، کوئی تشنگی ، کوئی تلخی اور کوئی کدورت دل میں رہنے نہیں دیتی۔

لبوں پہ اس کے  کبھی بد دعا نہیں ہوتی                    بس اک ماں ہے جو کبھی خفا نہیں ہوتی

ماں خود دکھ، درد، غم و الم برداشت کرتی ہے لیکن بچوں کو خوش رکھتی ہے۔ خود بھوکی ، پیاسی رہ لے گی لیکن بچوں کو بھوکا نہیں سونے دیتی، خود  حالات کی مجبوری سے تنگ آ کر رو لے گی لیکن بچوں کو زندگی کی خوشیاں دینے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ خود رات  بھر رنج و محن میں رو  رو کر گزار لے گی لیکن اپنے بچوں کو لذت بھری نیند کا مزہ لینے دے گی۔ نہ کسی معاوضہ ، صلہ اور ستائش کی آرزو اور نہ ہی اپنی زندگی کی ان تھک کاوشوں کا عوضانہ کی پرواہ۔ لالچ نام کو نہیں ، ایسا پر خلوص دل دنیا میں اور  ہے کہاں؟ اسی لئے کہا جاتا ہے ماں جیسی ہستی اور ہے کہاں؟ اپنی پسند نا پسند کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں۔ دن رات اپنی دھن میں مگن اپنے گھر والوں کی خدمت و خاطر میں عمر بتا  دیتی ہے۔ ماں کی ذات ایک ایسا شیریں اور لذیذ میوہ ہے جس کا متبادل کوئی نہیں ، دنیا میں ایسا میٹھا رشتہ کل کائنات میں کہیں بھی نہیں پایا جاتا۔ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے  کہ ماں کے بغیر گھر ایک قبرستان ہے جس میں بہار کبھی نہیں آتی ، جس میں خوشیاں کم ، کم آتی ہیں اور اگر آتی ہیں تو وہ بھی  ادھوری، خوشی کا کوئی چراغ روشن نہیں  رہتا  صرف ٹمٹماتا ہی نظر آتا جیسے کہ ابھی بجھا کہ ابھی بجھا۔   یہ انمول ہے ، انمول تھی اور تا قیامت انمول رہے گی۔ اللہ کا  یہ تحفہ انسان کے لئے بیش قیمتی ہے جس کا کوئی مول نہیں۔ یہ ہمہ صفت موصوف ہے ۔ مجھے  مرزا ادیب  کی ایک کتاب "مٹی کا دیا” میں سے ایک اقتباس اب بھی یاد ہے  وہ لکھتے ہیں۔
"ابا جی مجھے مارتے تھے تو امی بچا لیتی تھیں۔ ایک دن میں نے سوچا کہ اگر امی  پٹائی کریں گی تو ابا جی کیا کریں گے  اور یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ہوتا ہے؟  میں نے امی کا کہا نہ مانا۔ انہوں نے کہا کہ بازار سے دہی لا دو، میں نہ لایا۔ انہوں نے سالن کم دیا،  میں نے زیادہ پر اصرار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیڑھی کے اوپر بیٹھ کر  روٹی کھاؤ۔ میں نے زمین پر دری بچھائی اور اس پر بیٹھ گیا۔ کپڑے میلے کر لیے۔ میرا لہجہ بھی گستاخانہ تھا۔ مجھے پوری توقع تھی کہ امی ضرور  ماریں گی، مگر انہوں نے کیا یہ کہ مجھے سینے سے لگا کر  کہا۔ کیوں  دلور (دلاور)پُتر! میں صدقے، بیمار تو نہیں ہے تو؟۔  اس وقت آنسو تھے کہ رکتے ہی نہیں تھے”۔
بعض ضریف لوگ ماں کی تعریف اس طرح بھی کرتے ہیں۔ "روٹیاں اور جوتیاں ماں کے ہاتھ ہی کی  اچھی لگتی ہیں”۔ جس کے پاس اگر ماں ہو تو وہ کبھی غریب نہیں ہوتا  ہو بلکہ  اپنی ذات میں وہ شاہ ہے بلکہ خوش نصیب ہے کہ اس کی جنت اس کے قریب اور آس پاس رہتی ہے۔ ماں ہر چیز برداشت  کر لیتی ہے لیکن اپنے بچوں کو زمانے کی گردش سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے ۔ ماں وہ ہستی ہے جو خود مٹ کو اپنے بچوں کے مستقبل کو تابناک دیتی ہے۔ ماں کے سینے میں اپنے بچوں کے لئے کیا چھپا  ہوتا ہے اس کا ادراک کوئی بھی نہیں کر سکتا۔ ماں کے جذبات کی روانی اور رو کو کوئی ناپ نہیں سکتا۔ اس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے الفاظ بھی دم توڑ دیتے ہیں۔ صرف اتنا  یاد رکھ لیں کہ انسان کو جب بھی کوئی چوٹ، دکھ یا غم پہنچتا ہے تو اس کے منہ سے بے اختیار  "ماں” کا لفظ ہی نکلتا ہے۔ یہ اس تعلق کی انتہا ہے کہ دنیا کے جو بھی غم و الم سے جب انسان دامن گیر ہوتے ہیں تو یاد ماں ہی کی آتی ہے اور انسان ماں ہی کو یاد کر کے آنسو بہاتا ہے اور یہ محبت کا  حیران کن معجزہ ہے کہ انسان  روتا ہے تو  ماں ہی کو یاد کر کے روتا ہے۔ میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ دنیا میں چاہت  ، عشق  و محبت ، وفا، قربانی و ایثار کی معراج  صرف  ماں کی ہی ہستی ہے کہ جو بے لوث، بے غرض اور ہر آلائش سے پاک و صاف اور شفاف ہوتا ہے۔ دنیا کا  ہر رشتہ مطلبی ہو سکتا ہے لیکن ماں کا نہیں۔ ماں  کی بارگاہ میں ، میں وصی شاہ کی ایک نظم پیش کرتا ہوں جو اپنی مثال آپ ہے۔

یہ   کامیابیاں ،  عزت،  یہ نام تم سے ہے

خدا نے جو دیا ہے مقام تم سے ہے

تمہارے دم سے ہیں میرے  لہو میں  کھلتے گلاب

میرے  وجود کا سارا نظام تم سے ہے

کہاں بصارت جہاں اور میں  کم سن  و ناداں

یہ میری  جیت  کا سب اہتمام تم سے ہے

جہاں جہاں  ہے میری  دشمنی ، سبب میں  ہوں

جہاں جہاں ہے میرا  احترام تم سے ہے

ایک قطعہ مزید حاضر خدمت ہے۔

پیو مرے اک دیوا بجھ دا

ماں مرے بجھ جاندی

کل سنسار دی لو

کتھے ماں تے کتھے پیو

کے متعلق: views

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

گوہرِ تابدار

اس نابغۂ روزگار ہستی کے بارے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جاتا …

تھر- درد کےآنسو

سندھ کی جغرافیہ میں کیرتھر جگہ۔ سندھ کو جغرافیائی طور پر تین قدرتی حصوں میں …

2 comments

  1. جن کی مائیں حیات ہیں اللّٰهﷻ انہیں ان کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور جن کی مائیں اس دنیا سے وفات پا چکی ہیں اللّٰهﷻ ان کی ماؤں کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے۔۔۔۔

  2. سر جی اللّٰهﷻ آپ کو دن دگنی رات چُگنی ترقی عطا فرمائے۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!