جمعرات - 23 - ستمبر - 2021
اہم تحاریر

فرقہ بندی

قرانِ حکیم نے حقائقِ کائنات پر غوروفکر کی دعوت ہی نہیں دی بلکہ بار بار تاکید کی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جب مجرد حقائق پر غور و فکرکیا جائے گا تو اس میں مختلف ادوار میں ، اور ایک ہی دور میں ، مختلف مفکرین کے نتائج فکر میں اختلاف ہوگا۔ فکری (فلسفیانہ) اختلافات عصرقدیم و جدید ، مشرق و مغرب ، مسلم و غیر مسلم وغیرہ ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ اس قسم کے اختلاف مسلمان مفکرین کے ہاں بھی رونما ہوتے رہے اور ہوتے رہیں گے۔ لیکن اس اختلاف سے امت میں تفرقہ پیدا نہیں ہو گا۔ ان فلاسفرز کے اختلاف کو مکاتبِ فکر(Schools of thought) کہا جاتاہے۔ لیکن یہ بات یاد رہے دین میں کسی قسم کی اختلاف رائے ہو ہی نہیں سکتی اگر ہو گی تو پھر تفرقہ بازی ہوگی کیونکہ قرآن حکیم کے تمام احکامات کو من و عن تسلیم کرنا ہوگا۔
کیونکہ فرقوں کی کیفیت یہ ہے کہ ایک گروہ احکام شریعت پر ایک طرح سے عمل کرتا  تو دوسرا گروہ دوسرے طریق سے۔
(جاری ہے۔۔۔۔۔۔)

کے متعلق: views

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

مہجور القرآن

مہجور القرآن شیخ سعدی کی رباعی ہے۔ چہ شب ہا نشستم دریں سیر گم کہ …

عروج و زوال

قوموں کے عروج و زوال کا ابدی قانون تاریخ کیا ہے؟ اس کے بارے مختلف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!