جمعرات - 23 - ستمبر - 2021
اہم تحاریر

مہجور القرآن

مہجور القرآن

شیخ سعدی کی رباعی ہے۔

چہ شب ہا نشستم دریں سیر گم کہ حیرت گرفت آستینم کہ قم دریں ورطہ کشتی فرو شد ہزار کہ پیدا نہ شدتختۂ بر کنار

ہر انسان فطرتِ اسلام پہ پیدا ہوتا ہے۔پھر ہم اس کو مختلف فرقوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ قرآن کی بجائے روایات ، عالمگیر جھوٹے افسانے سنا کر اس کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کردیتے ہیں او ر یوں اس کی دنیا ہی اندھیر کر دیتے ہیں۔ سچ اس سے میلوں دور اور افسانوی جنت اس کے پہلو میں جاگزیں ہو جاتی ہے۔تحقیق کوسوں دور اور لال بجھکڑ اس کے دل و دماغ پر قابض ہوجاتا ہے۔ عمل سے پہلو تہی اور زبانی کلامی فرضی جنت کےخواب دیکھنے کےلئے  خواب غفلت  کی نیند سوجاتا ہے۔ہر مولوی جنت کی کنجی اس کی مٹھی میں دبا دیتا ہےاور کہا جاتا ہے جاؤ یہ کلمات دھراتے جاؤ اور جنت میں مکانات کے پل بناتے جاؤ۔یہ افیون شہد سمجھ کر ہر انسان کھاتا اور جھومتا  رہتاہے۔ہر فرقہ احمقوں کی جنت میں خوش   ہے ۔اپنے اپنے فرقوں میں گم ، قرآنی تعلیمات سے اتنا ہی دور بتانِ آذری کی تشکیل میں مگن ہے اور اللہ تعالیٰ نے  اپنے نبی ﷺ کی زبانی یہ فرما دیا  تھا۔ اے نبی ﷺ اعلان فرما دیں۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾

ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ بس اللہ کے حوالہ ہے ۔ پھر وہ انہیں بتلائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے؟

دین اسلام کو مذہب میں ڈھال کر مسلمانوں نے اسلام پروہ ظلم عظیم کمایا جو کسی غیر مسلم نے اسلام کے خلاف نہیں کیا۔اس گلشن کو اپنوں نے وہ آگ لگائی جو اب بجھتی دکھائی نہیں دیتی۔اسی ضمن میں ، میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ وہ کتاب پڑھتے ہوئے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اور میں قرآن کی واضح تعلیم کی بے حرمتی پہ آنسو بہانے کے سواکچھ نہ کر سکا۔اور صرف یہی کہہ سکا۔ یا اللہ رحم ، رحم۔

اس کتاب کا انتساب کچھ یوں ہے۔

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيْهِ يَقُوْلُ يَا لَيْتَنِى اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا (27) يَا وَيْلَتٰى لَيْتَنِىْ لَمْ اَتَّخِذْ فُـلَانًا خَلِيْلًا (28) لَّـقَدْ اَضَلَّنِىْ عَنِ الـذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِىْ ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا (29) وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ اِنَّ قَوْمِى اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا (30)

اور اس دن(ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا کہے گا اے کاش میں بھی رسول کے ساتھ راہ چلتا۔  ہائے میری شامت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔اسی نے تو نصیحت (قرآن) کے آنے کے بعد مجھے بہکا دیا، اور شیطان تو انسان کو رسوا کرنے والا ہی ہے۔اور رسول کہے گا اے میرے رب بے شک میری قوم نے اس قرآن کوچھوڑے (نظر انداز  کر) رکھا تھا۔

یہ کتاب ایک مسلمان کے ہوش اڑا اور ہوش ٹھکانے لگانے کےلئے کافی ہے۔یہ قرآنی تعلیم کا نچوڑہے  اور راہ ہدایت کےلئے قرآن کتنا ضروری ہے یہ کتاب بتائے گی۔اس کتاب  کا مطالعہ ہر قلب سلیم کے لئے ضروری ہے۔یہ کتاب محمد راغب الحسن نے تالیف فرمائی اور مفت تقسیم کی گئی۔ شاید کسی دردمند دل  کو یہ کتاب جو دراصل قرآنی تعلیم ہی ہے۔ اس کے قلب کو رلا دے، شاید اس کے دل کو مضطرب کر دے، شاید وہ صراط مستقیم پر چل پڑے ۔ ہم نے قرآن کی تعلیم کے لئے قدم اٹھا دیا اب دیکھیں کون کون اس راستے کا مسافر بنتا ہے۔

مجہور قرآن

جب قومیں پستی میں گرتی ہیں تو ان کی کیفیت پہاڑ کی بلندی سے لڑکھنے  والی اشیاء کی مانند ہوتی ہے۔ وہ گرتی چلی جاتی ہیں، بڑی تیزی سے ، زخم پر زخم کھاتی ہوئی ، ہڈیاں تڑواتی ہوئی، انہیں زمین و آسمان الٹ پلٹ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ حواس قابو میں نہیں رہتے کہ کسی مضبوط سہارے (عروہ الوثقیٰ)کو ہی تھام کر خود کو بچا لیں۔ مسلم قوم کی موجودہ کیفیت بھی ایسی ہی ہے۔ پوری قوم پستی اور ذلت کے عمیق غار میں گرتی چلی جارہی ہے اور کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اس تنزلی اور خواری سے کس طرح نجات حاصل کی جائے۔ وقتاً فوقتاً کچھ دردمندان قوم اٹھتے ہیں اور اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق علاج تجویز کرتے ہیں۔ لیکن صورت احوال یہ ہے کہ

مرض بڑھتا گیا جو ں جوں دوا کی

حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے بہت پہلے ایک نسخہ تجویز کیا تھا۔

وہی دیرینہ بیماری وہی نا محکمی دل کی علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

یہ آب نشاط انگیز کیا ہے؟ "القرآن” القرآن نے انسانوں کو جو ضابطۂ حیات (الدین) عطا کیا ہے اس کو ا”الاسلام”کہہ کر پکارا ہے۔مسلم قوم کا یہ دعویٰ   ہے کہ وہ "السلام” کی پیروکار ہے۔ کیا واقعی مسلم قوم قوم کا یہ دعویٰ درست ہے؟ یا انہو  ن نے محض زبانی طور پر یہ دعویٰ کیا ہوا ہے اور ان کے اعمال و عقائد اس دین کے تقاضوں کے برخلاف ہیں۔۔۔۔ آئیے ایک نظر جائزہ لے کر دیکھتے ہیں کہ مسلم قوم نے آخر ایسا کون سا جرم کیا ہے جس کی وجہ سے وہ ذلت اور مسکنت کا پیکر بن چکی ہے۔

تاریخ اسلام یا تاریخ مسلم

"اسلام کی تاریخ رقم کرتے ہوئے مورخین نے دو بنیادی غلطیاں کی ہیں۔پہلی غلطی یہ کہ انہوں نے "اسلام” کی تاریخ اور "مسلم قوم” کی تاریخ کو ایک ہی شے سمجھ لیا۔ اس  غلطی کی وجہ سے مسلم قوم کے عروج و زوال کو اصطلاحی طور پر ” اسلام کا عروج و زوال” بنا کر سمجھایا گیا، جس نے بہت سی دیگر غلط فہمیوں کو بھی جنم دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ "اسلام” کو تو زوال ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ناقابل تبدیل نظام ِ حیات  ہے۔ جب سے کرہ ارض پر بنی نوع آدم نے شعور  سنبھالا ہے  اسی واحد نظریہ حیات کو اپنانے والوں نے دنیا میں سرفرازیاں اور کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس نظریہ حیات میں ترقی بھی ہے اور ارتقاء بھی، معراج بھی ہے اور مدارج بھی۔ اس کے سوا کوئی اور نظریہ حیات انسان کو وہ روشنی عطا کر ہی نہیں سکتا جس میں وہ اپنے سامنے کا راستہ روشن دیکھ سکے اور بے خوف و خطر آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے اور ساتھ ہی درجہ بدرجہ بلند تر بھی ہوتا چلا جائے۔ "مسلم قوم” کا نام مورخین نے اس قوم کو دے دیا، جنہوں نے ایسے خاص معاشرے میں جنم لیا جہاں چند مخصوص عقائد و رسومات کو تقدس کا جامہ پہنایا جاتا ہے اور  ان عقائد و رسومات پر عمل کرنے والوں کا احترام و عزت کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ یہ صورت حال دنیا کے دیگر مذاہب کے پیروکاروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس طرح "اسلام” بھی دنیا کے دیگر مذاہب کی مانند ایک مذہب بنا دیا گیا اور اس کی انفرادیت و خصوصیت کو توہمات میں گم کر دیا گیاہے۔ ایک مدت مدید سے مسلم قوم نے ان اصولوں اور نظریات کو ترک کر رکھا ہے جو "الاسلام” نے پیش کیا تھا۔ چنانچہ اگر ایک خاص دور میں مسلم  قوم نے "الاسلام” کو اپنا لائحہ عمل بنایا تھا تو عروج بھی پایا تھا لیکن جب انہوں نے اس نظریہ حیات کو چھوڑ کر دوسرے نظریات اپنا لئے تو قوانین الہی کی رو سے ان کا زوال لازمی تھا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ جس طرح زمین اناج اگلتے وقت  کسان کا خاندان، اس کا مذہب ، اس کی نسل کے بارے سوال نہیں کرتی  بلکہ وہ فطری قوانین  کی بنیاد پر اناج اگاتی ہے، اسی طرح قوانینِ الہی کی رو سے جو قوم بھی "الاسلام” کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتی ہے اسے کامیابی، کامرانی اور  دوسری قوموں پر بالادستی عطا کی جاتی ہے۔

دوسری  غلطی جو مورخین نے کی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے ” اسلام کی تاریخ ” یا ” مسلم قوم کی تاریخ” کی ابتدا سرزمین عرب میں حضرت محمد ﷺ کے اعلان نبوت سے کی ہے۔ جب کہ اسلام کی بھی اور مسلم قوم کی بھی تاریخ  حضرت ابراہیم ؑ سے شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ القرآن  کے مطابق حضرت ابراہیم ؑ ابنِ حنیف کے موسس اعلیٰ یا بانی تھے، اور نسل  انسانی کے اولین امام بھی۔ القرآن میں اللہ نے ابراہیم ؑ نے فرمایا۔

اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلْنَّاسِ اِمَامًا۔ (سورۃ البقرہ۔ آیت۔ 124)

اے ابراہیم۔ ہم نے تمہیں انسانوں کا امام بنایا۔

مزید برآں جب اللہ نے ابراہیم ؑ کو حکم دیا کہ (اَسْلَمْ)، تو انہوں نے سرتسلیم کرکے کہا (اَسْلَمْتُ لِرِبِّ الْعَالَمِیْنٌ۔ سورۃ البقرۃ آیت 131)  قرآن حکیم کے صفحات میں اس عظیم جدوجہد کی داستان بھی موجود ہے جسے حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے رفقا نے قیام دین کے سلسلہ میں سر انجام دیا اور اسی وجہ سے القرآن نے واضح الفاظ میں اعلان کردیا۔

 قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ اِبْـرَاهِـيْمَ وَالَّـذِيْنَ مَعَهٝ ۚ          (سورۃ الممتحنہ۔ آیت:04)

تمہارے لئے ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ حیات ہے۔

قرآن حکیم نے اپنی بحث کو مختصر کرتے ہوئے کہا۔

مِّلَّـةَ اَبِيْكُمْ اِبْـرَاهِيْـمَ ۚ هُوَ سَـمَّاكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِىْ هٰذَا۔ (سورۃ الحج آیت 78)

تمہارے باپ ابراہیم کی ملت، اس نے تمہارا نام مسلمین رکھا، اس سے قبل بھی اور اس میں بھی۔

حضرت ابراہیمؑ کےبعد انبیاء ؑ کے بارے میں القرآن نے کہا ہے کہ ہر ایک کو ایک ہی دستور حیات عطا کیا تھا۔ بعد کے لوگوں نے اس میں تحریفات  کر دیں جس کے نتیجے میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ چنانچہ ایک کے بعد ایک نبی مبعوث ہوتے رہے تاکہ ان اختلافات کو ختم کرکے نسل انسانی کو ایک ہی لڑی میں پروئے رکھا جائے۔

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّّاحِدَةًۚ فَبَعَثَ اللّـٰهُ النَّبِيِّيْنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَۖ وَاَنْزَلَ مَعَهُـمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِيْهِ ۔ (سورۃ البقرہ۔ آیت 213)

نوع انسانی تو ایک ہی امت رہی ہے اسی کو قائم رکھنے کے لئے اللہ نے انبیاؑ کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ بشارت بھی سنائیں اور (خلاف ورزی کے نتائج ) سے بھی آگاہ کر دیں اور ان انبیاء کے ساتھ الکتاب بھی بالحق نازل کی تاکہ انسانیت کے اختلافی امور کے فیصلے کر دئیے جائیں۔

اس سلسلے میں حضرت محمد ﷺ کے بارے میں القرآن نے اعلان کردیا کہ

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّـٰهِ وَخَاتَـمَ النَّبِيِّيْنَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمًا (40) (سورۃالاحزاب 40)

محمدﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور  خاتم النبین ہیں۔

القرآن نے یہ بھی بتا یا کہ ہردور میں صاحب ایمان  مسلمین کی جماعت نے یہی اعلان کیا کہ ۔

قُلْ اٰمَنَّا بِاللّـٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ عَلٰٓى اِبْـرَاهِـيْمَ وَاِسْـمَاعِيْلَ وَاِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِىَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَالنَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِـمْۖ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْـهُـمْ وَنَحْنُ لَـهٝ مُسْلِمُوْنَ (سورۃ آل عمران 84)

کہو، ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جوکچھ اس نے  ہم پرنازل کیا ہے اور اس پر جو اس نےابراہیمؑ، اسماعیلؑ ، اسحاقؑ ، یعقوبؑ اور ان کی اولاد پر نازل کیا اور جو کچھ دیا گیا موسیٰؑ کو اور عیسیٰؑ کو اور دیگر انبیاءؑ کو ان کے رب کی جانب سے۔ ہم ان میں سے کسی ایک میں بھی تفریق نہیں کرتے کیونکہ وہ مسلمین ہیں۔

تاریخ کے اوراق پلٹ کر اگر ہم چند ہزار سال پیشتر کے دور کے واقعات کو دیکھیں تو ہم دیکھیں گےکہ ابوالانبیاء حضرت ابراہیمؑ مٹھی بھر جماعت مسلمین کو لے کر اپنے آبائی علاقے "اور” (موجودہ بابل) سے ہجرت کرتے ہیں۔ اپنے بھتیجے حضرت لوطؑ کو قوم سدوم کی طرف بھیجتے ہیں۔ حضرت شعیبؑ کے جد امجد کو یمن کی طرف روانہ کرتے ہیں اور دیگر افراد مسلمین کو بھی دنیا کے طول و عرض میں روانہ کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ایک اللہ کے قوانین کے تابع بنایا جا سکے اور بنی نوع انسان کی وحدت کو پھر سے استوار کیا جاسکے۔ حضرت ابراہیمؑ خود کنعان (فلسطین) میں فروکش ہو جاتے ہیں۔ نودس سال کے وقفے سے آپؑ حضرت اسماعیلؑ اور حضرت اسحٰقؑ جیسے سعادت مند بیٹوں سے نوازے جاتے ہیں ۔ پھر حکم الہی کے مطابق آپؑ حضرت اسحٰقؑ کو کنعان میں آباد کرکے خود حضرت اسماعیل ؑ کو لے کر مکہ کی وادی غیر ذی زرع میں آ جاتے ہیں ۔ دونوں باپ بیٹامل کر اللہ کی وحی کے مطابق مکہ میں ایک مرکز انسانیت یعنی خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے ہیں، جسے القرآن نے بیت اللہ اور بیت العتیق کے نام سے پکارا ہے۔ اس گھر کے علاوہ  اور کوئی گھر اللہ نے اپنی عبادت کے لئے تجویز نہیں کیا ہے۔ سب سے پہلا گھر جو اللہ کی عبادت کے لئے تعمیر ہو وہ  صرف اور صرف ۔القرآن میں ارشاد ربانی ہے۔

اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّـذِىْ بِبَكَّـةَ مُبَارَكًا وَّهُدًى لِّلْعَالَمِيْنَ۔  (سورۃ آل عمران ۔96)

بے شک لوگوں کے واسطے جو سب سے پہلا گھر مقرر ہوا یہی ہے جو مکہ میں برکت والا ہے اور جہان کے لوگوں کے لیے راہ نما ہے۔

 یہی چوکور گھر، حضرت ابراہیمؑ سے لے کر خاتم الانبیاء جناب محمد ﷺ تک تمام نبیوں کا مرکز ملت رہا ہے۔ یہ گھر صرف مسلم قوم کی میراث نہیں بلکہ القرآن نے صاف صاف لفظوں میں اعلان کر دیا ہے کہ

وَاَذِّنْ فِى النَّاسِ بِالْحَـجِّ —– لِّـيَشْهَدُوْا مَنَافِــعَ لَـهُـمْ ۔۔۔۔۔ (سورۃ الحج۔ آیت 27تا28)

اور انسانوں میں اعلان کردو کہ وہ حج کریں —— تاکہ دیکھ لیں کہ ان کے نفع رسانی کے لئے کیا کچھ ہو رہا ہے۔

نوع انسانی کی فلاح و بہبود اگر ممکن ہے تو اسی مرکز سے متمسک رہنے میں ہے۔ یہی مرکز انسانیت ہے اور یہی وحدت انسانی کی علامت ہے۔ تاریخ کے صفحات ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک طرف حضرت اسحٰقؑ اور حضرت یعقوبؑ کی اولادیں امور جہانبانی اور قوموں کے عروج و زوال کے الہیاتی قوانین کی تفسیر بنے ہوئے تھے اور دوسری طرف حضرت ابراہیم ؑ کے فرزند اکبر حضرت اسماعیل ؑ اور ا ن کی اولاد، عظیم ترین قربانی  (ذبح عظیم) کا مظاہر کرتے ہوئے مکہ کی وادی غیر ذی زرع میں مرکز انسانیت یعنی خانہ کعبہ کی خدامی میں مصروفِ کارتھے۔ ساتھ ہی مشیت الہی بنی اسماعیل ؑ کی لسانی لیاقت اور اظہار و بیان کے لئے ان کی صلاحیت نطق کو درجہ کمال کی منزلیں سر کرا رہی تھی۔ ایک ایسی زبان تیار کی جارہی تھی جو آنے والی تمام انسانی نسلوں کے لئے رہتی دنیا تک الفاظ و بیان و تاثر کے ناقابل تبدیل معنی و مفہوم فراہم کر سکیں۔ یہ ایک عظیم ترین مقصد تھا۔ چنانچہ اس کو خالص رکھنے کے لئےمشیت الہی نے قوم بنی اسماعیل کو ساری دنیا کے نظام ہائے سلطنت و معاشرہ سے بالکل الگ تھلگ رکھا ہوا تھا۔ نہ تو انہوں نے خود کسی حکومت یا حکومتی نظام کی تشکیل کی تھی اور نہ ہی کوئ بیرونی حاکمیت ان پر مسلط تھی۔ وہ سادہ ، خالص، جفاکش اور دوٹوک زندگی کے حامل تھے۔  سر پر کھلا آسمان، دن میں آگ برساتا ہوا سورج، بادِ سموم اور بادِ صرصر کے جھونکے، آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی ریت کی چمک، پتھروں کے بنے ہوئے سیدھے سادھے مکانات یا کپڑوں اور کھالوں سے بنے ہوئے خیمے، جو ہر اس جگہ نصب کر دئیے جاتے تھے جہاں پانی کا کوئی ذخیرہ دکھائی دیتا۔ عام استعمال کی اشیاء میں مٹی، پتھر یا لکڑی کے برتن، تلواریں، نیزے، تیر ، کمان، گھوڑے اور اونٹ یا گلہ بانی کے لئے بھیڑیں اور بکریاں۔ یہی ان کی کل کائنات تھی۔ تجارت کی غرض سے جب وہ ملک شام، یمن ، مصر اور افریقہ کے چکر لگاتے تو راستے میں تباہ شدہ قوموں کے کھنڈرات انہیں نظر آتے۔ ان کے قافلے عموماً راتوں میں سفر کرتے، صحراؤں میں نہ کوئی نشان راہ ہوتا ہے اور نہ کوئی پگڈنڈی یا راستہ۔ صحراؤں کی چیختی ہوائیں، اِدھر کے ٹیلوں کو اُدھر اور اُدھر کے ٹیلوں کو اِدھر کرنے میں مصروف کار رہتیں، ریت پر کوئی نشان سلامت نہ رہنے دیتیں۔ اس کے باوجود ان کے قافلے بہ آسانی ستاروں کی راہنمائی میں اپنی منزل کی سمت متعین کرلیتے۔ اس علم میں انہیں کمال حاصل تھا۔ یہی علم سمندری سفر میں بھی ان کے کام آتا تھا۔

یہ تھےبنی اسماعیل کے سادہ طبیعت فرزند جن میں مردانہ اوصاف بہ تمام و کما ل موجود تھے۔ لسانیات میں ان کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ و ہ اپنے مقابلے میں باقی تمام دنیا کو گونگا (عجمی) قرار دیتے تھے۔ ماہرین لسانیات آج بھی انگشتِ بدنداں ہیں کہ چودہ صدیاں پہلے اس قدر سائنٹیفک زبان کس طرح وجود میں آ گئی کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی کوئی دوسری زبان اس عربی زبان کا مقابلہ نہیں کر سکتی، جس زبان میں قرآن حکیم نازل ہوا ہے۔ اُن کی زبان اگر چہ انہی مادوں پر گردش کرتی تھی جن سے ان کا روزمرہ کا سابقہ تھا۔ لیکن ان کے یہاں الفاظ کے ابواب اور فصل کی تعداد بے حدو انتہا ہے اور ہر نئے لفظ میں ایک نیا پہلو اور نئی دنیا نظر آتی ہے۔لطف کی بات یہ ہے کہ کوئی لفظ اپنے مادہ کے بنیادی معنی سے الگ نہیں ہوتا۔ زبان کی وسعت اور جامعیت کا یہ عالم ہے کہ صرف اونٹ کے لئے 5744 الفاظ، تلوار کے لئے 1000 اور شیر کے لئے 500 الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔

ماہرین لسانیات بتاتے ہیں کہ سنسکرت اہل ہنود کی قدیم ترین زبان ہے اور ان کے یہاں سورج کی پوجا بھی ہوتی ہے۔ لیکن سورج کے لئے ان کے پاس صرف 37 الفاظ ہیں جب کہ عربوں کے یہاں صرف شہد کے لئے 80 الفاظ موجود ہیں۔ کسی بیرونی طاقت کے زیراثر نہ ہونے کے باعث عربوں کی زبان خالص ترین تھی۔ انہوں نے کسی دوسری زبان کے الفاظ کوقبول  ہی نہیں کیا تھا۔ معدودے چند جو انہوں نے عبرانی یا فارسی زبانوں سے لئے تھے، ان میں بھی جامعیت اور وسعت معنی کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔ عربی زبان کی جامعیت کا یہ حال ہے کہ آج بھی دنیا کی دیگر زبانوں میں اس زبان کے ایک لفظ کا مفہوم واضح کرنے کے لئے کئی کئی جملے بھی ناکافی ہوتے ہیں۔

گویا آج سے پندرہ صدیاں پیشتر ہی عربی زبان اس قدر وسیع ، جامع اور ہمہ گیر بن چکی تھی کہ سادہ الفاظ میں بلند ترین حقائق اور عمیق ترین نکات کا بیان صرف اسی زبان میں ممکن تھا ۔ نہ تو اس دور میں اور نہ ہی آج کے دور میں، کوئی بھی زبان اتنی سائنٹیفک بنیادوں کی حامل ہو سکی ہے اور نہ ہی کوئی زبان اس قابل ہوئی ہے کہ اس میں اس قدر وسعت معنی اور ہمہ گیری ہو جتنی کہ عربی زبان میں اس وقت تھی ، جب قرآن کریم کا نزول ہوا—— اس مرحلے پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مشیت الہی کی تقدیر کا وہ پیمانہ لبریز ہو چکا تھا جہاں بنی نوع آدم کو وہ مکمل ضابطہ حیات عطا کیا جانا تھا جس کے بعد انسانیت کو مزید کسی شے کی احتیاج نہ تھی۔

ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ۔       (سورۃ یٰسین۔ آیت 38)

چنانچہ عربی زبان کی بھر پور لسانی صلاحیت اور سرزمین عرب کے ایک خطے کو اس مقصدِ عظیم کے لئے منتخب کیا گیا، جہاں کی تہذیب اور سیاسی صورت حال سادہ ترین کیفیت  میں تھی اور اس پر کسی طرح  کا  بیرونی  اثر نہ تھا۔ ذریت ابراہیمیؑ میں سے اس فرد پر اس پیغام کی رسالت و نفاذ کی ذمہ داری ڈالی گئی، جس کی امانت و صداقت پر کوئی اختلاف رائے نہ تھا۔ یہ فرد، ختم المرتبت حضرت محمدﷺتھے ، جنہوں  نے اس عظیم ترین ذمہ داری کو اس طرح بطر          یق احسن پایۂ تکمیل تک پہنچایا کہ ملائک ارضی و سماوی نے بھی وجد میں آکر رب العالمین سے کہا ہوگا کہ بلاشبہ تیرا یہ قول آج سمجھ میں آیا کہ ۔

 اِنِّىْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔         (سورہ البقرۃ ۔ آیت 30)

میں ہی اس بات کو جانتا ہوں جس کو تم نہیں جانتے۔

حضرت محمدﷺ نے اعلان نبوت کے بعد 23 سال کے مختصر ترین مدت میں جو انقلاب برپا کیا اس کی نظیر نہ کبھی پیش کی جا سکی  ہے اور نہ آئندہ کبھی پیش کی جا سکے گی۔ فتوحات ارضی  سے قطع نظر جو اصول و نظریات کتاب الہی اور نبی آخر الزماں ﷺ کے اسوہ حسنہ نے دنیا کو عطا کئے ان کا مختصر ترین  الفاظ میں اگر اظہار کیا جائے تو القرآن کے الفاظ میں یوں ہو گا۔

وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّھِا  ۔          (سورۃالزمر۔ آیت 69)

زمین اپنے نشوونما دینے والے کے نور سے جگمگا اٹھی۔

ہمارے پیشِ نظر اب وہ اسباب ہیں جو قوم مسلم کے زوال اور ذلت کا سبب بنے ہیں۔ الاسلام یا الدین جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع آدم کو آخری اور مکمل ترین ضابطہ حیات کے طور پر عطا کیا۔ پورے کا پورا القرآن میں محفوظ ہے اور اس ضابطہ حیات کو جس ہستی ﷺ نے عملاً نافذ کرکے دکھایا ان کا اسوہ حسنہ بھی اسی القرآن کے اندر ہے —– مسلم قوم نے اپنے اولین دور میں تو ان دونوں کی اصلی ہیت کو برقرار رکھا اور اسی وجہ سے دنیا میں کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کیں، کائناتی اشیاء کی تحقیق اور ان کی تسخیر کے لئے بھی قدم آگے بڑھائے۔ دنیا کی دوسری اقوام نے ان کی برتری تسلیم بھی کی۔ لیکن بعد میں انہوں نے اس ضابطۂ حیات پر اپنی گرفت ڈھیلی کر دی، ساتھ ہی اللہ کے آخری رسول ﷺ کے اسوہ حسنہ کو بھی چھوڑ دیا۔ جس کے نتیجے میں ان کو زوال وانحطاط کا سامنا کرنا پڑا اور اب تو ذلت و پستی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ جب کہ اللہ نے واضح طور پر کہہ دیا تھا۔

يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَـةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَـآءٌ لِّمَا فِى الصُّدُوْرِۙ وَهُدًى وَّرَحْـمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ (57) قُلْ بِفَضْلِ اللّـٰهِ وَبِرَحْـمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْاۖ هُوَ خَيْـرٌ مِّمَّا يَجْـمَعُوْنَ (58)         (سورۃ یونس۔ آیت۔ 57 تا 58)

اے بنی نوع انسان! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کے امراض کے لئے شفا آچکی ہے ۔ یہ ہدایت اور رحمت ہے مومنین کے لئے۔ کہہ دیجئے کہ یہ صرف اللہ کے فضل و رحمت کے سبب ہے چنانچہ اس کے لئے خوشیاں منانا۔ یہ ان تمام اشیاء سے بہتر ہے جو تم جمع کرتے ہو۔

چنانچہ

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّـٰهِ جَـمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ۚ             (سورۃ آل عمران۔ آیت۔ 103)

اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو۔

اور رسول کریمﷺ کے بارے میں کہہ دیا ہے کہ

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللَّہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔                  (سورۃ الاحزاب : آیت۔ 21)

بلاشبہ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ حیات ہے۔

ایک عام مسلم یہ اعتراض کر سکتا ہےکہ عامۃ المسلمین نے عموماً اور مذہبی پیشوایان نے خصوصاً اسلام کی ان دو بنیادوں کو کبھی فراموش نہیں کیا اور اب بھی اٹھتے بیٹھتے "قرآن و سنت” کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہےکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو بھلا دیا ہے؟ لیکن مسلم قوم کی زبوں حالی اور ذلت و پستی زبان حال سے پکارپکار کر یہ کہہ رہی ہے کہ ایسا ہوا ہے کہ اور یقیناً ہوا ہے، ورنہ اللہ ایسا نہیں ہے کہ اپنے قانون کو تبدیل کر ڈالے  —– کیسے؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

قرآن کا چیلنج

القرآن نے سب سے پہلے تمام بنی نوع انسان کو للکار کر پکارا کہ اس قرآن جیسی کتاب بنا لاؤ خواہ تمام جن و انس مل کر یہ کام کرلیں۔

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِـهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُـمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْـرًا۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔ آیت 88)

کہہ دو اگر تمام جن و انس اس بات کے لئے جمع ہو جائیں کہ ایسا قرآن بنا لائیں تب بھی وہ ایسا نہ کر سکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مدد گار بھی بن جائیں۔

یہ نہیں کر سکتے تو اس قرآن کی دس سورتوں جیسی دس سورتیں بنا لاؤ۔

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَـرَاهُ ۖ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِـهٖ مُفْتَـرَيَاتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُـمْ مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ۔ (سورۃ ہود۔ آیت۔ 13)

کہہ دو کہ تم اس جیسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کو چھوڑ کرجن کی مدد چاہو لے لو ، اگر تم سچے ہو۔

یہ بھی نہیں کر سکتے تو ایک ہی سورۃ بنا لو۔

وَاِنْ كُنْتُـمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ وَادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ  (سورۃ البقرہ۔ آیت 23)

اور اگر تم اس شے کے بارے الجھن رکھتے ہوجو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تو اس جیسی ایک سورۃ بنا لاؤ اور اس کام کے لئے اللہ کو چھوڑ کر اپنے حمایتیوں کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔

یہ کام بھی تمہارے بس کا نہیں، چلو ایک حدیث ہی بنا لاؤ۔

اَمْ يَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَـهٝ ۚ بَلْ لَّا يُؤْمِنُـوْنَ (33) فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِـهٓ ٖ اِنْ كَانُـوْا صَادِقِيْنَ (34)(سورۃ الطور۔ آیت 33-34)

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس (قرآن) کو خود گھڑ لیا ہے، بلکہ  یہ  لوگ اس طرح ایمان والے بن ہی نہیں سکتے، تو یہ لوگ ایسی کوئی حدیث ہی بنا لائیں، اگر یہ سچے ہیں۔

القرآن کے اس کھلے چیلنج کو چودہ صدیاں گزر چکیں ہیں لیکن ادبی اور معنوی لحاظ سے آج تک اس کا جواب کسی سے ممکن نہ ہو سکا۔ لیکن —— مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے کیا کِیا؟ کہا یہ کون سا مشکل کام ہے۔ انہوں نے عقیدہ وضع کیا کہ وحی الہی کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک "وحی متلو” (تلاوت کی جانے والی وحی) جو کہ قرآن ہے۔ اور دوسری "وحی غیر متلو” جو رسول اللہ ﷺ کے زائداز قرآن اقوال ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے ڈھائی سو سال بعد زبانی روایات کو جمع کیااور کہا کہ یہ ہے قرآن کی مثل، قرآن کے ساتھ(مِثْلُہ، مَعَہ،)

جو دعویٰ اللہ نے بطور چیلنج پیش کیا تھا اس کو مذہبی پیشواؤں نے توڑ کر دکھا دیا۔ یہ مذہبی پیشوائیت کہا ں سے مسلم قوم میں در آئی اور ان کے عزائم کیا تھے؟ اس کو بھی ساتھ ساتھ دیکھتے چلتے ہیں۔

مذہبی پیشوائیت

جس زمانے میں قرآن کریم نازل ہوا تھا اس زمانے میں جو قومیں اس امر کا دعویٰ کرتی تھیں کہ ان کے پا س ضابطہ الہی موجود ہے وہ یہودی اور نصرانی تھے۔ چنانچہ ان کی تفریحات اور تکفیر دین کے رویوں سے متعلق القرآن  میں تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ان کے غلط نظریات کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان نظریات کے مقابلے میں صحیح نظریات دئیے گئے ہیں۔ اسلام کے بنیادی اغراض و مقاصد کے بارے میں سابقون اولون کے دل و دماغ میں کوئی ابہام نہ تھا، اور ان کی ہی کوششوں کے باعث دوسری قوموں کے مظلوم افراد نے اس دین کو اپنانے میں بے پناہ اشتیاق کا مظاہرہ کیا۔ایران کی فتح کے بعد ساسانیوں  کی صدیوں سے قائم شدہ تہذیب اور قومی شناخت کو شدید دھچکا پہنچا۔ ان کے اکابرین  اور دانش وروں نے ہوا کا رخ دیکھ کر بظاہر تو خاموشی اختیار کر لی، لیکن انہوں نے تمام علمی کاوشوں کا زور لگا دیا تاکہ وہ اپنی صدیوں سے قائم شدہ روایات اور قومی شناخت کے دیگر پہلوؤں کو برقرار رکھ سکیں۔ چنانچہ اسلام قبول کر لینے کے باوجود انہوں نے اپنی تمدنی زندگی کے رسم و رواج کو نہ صرف باقی رکھا بلکہ کوشش اس بات کی کرتے رہے کہ کتاب الہی کی ایسی تاویلات کی جائیں جس کے ذریعہ ان کی مخصوص تمدنی اور معاشرتی زندگی کی عادات و اطوار کو سند حاصل ہو جائے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے مروجہ زرتشتی مذہب کے بنیادی تصورات مثلاً خدا، نماز، درود، رسالت، عبادت، عذاب، ثواب، قیامت وغیرہ کے تصوراتی عقائد کو عین اسلامی ثابت کرنے کے لئے بے پناہ علمی دلائل اور دانش ورانہ صلاحیتوں کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ دور بنو عباس میں یونان کے بہت سے فلسفیوں کی تحریروں کے عربی ترجمے کئے گئے۔ ان سازشی عناصر نے ان فلسفیانہ تصورات کو بھی عام کیا تاکہ نئی نسل ان علمی موشگافیوں سے مرعوب ہو کر نے تصورات کو  قبول کرلے۔ ان کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ خود عربی زبان کے الفاظ یونانی اور ایرانی تصورات و عقائد میں رنگے گئے۔ دوسری شکست خوردہ یہودیوں اور نصرانیوں نے سابقون اولون کی اولادوں اور نئی نسل کے نوجوانوں میں اسرائیلی عقائد پیوست کرنے شروع کر دئیے۔خود عربوں کی یہ حالت تھی کہ عملی زندگی کے خوگر تھے اور قرآن کریم سے پیشتر ان کے یہاں کسی نثری کتاب کاسراغ نہیں ملتا۔ دور نبویﷺ میں بھی اور خلافت راشدہ کے دور میں بھی ان کی زندگیوں کا محور صرف القرآن تھا۔ دوراز کار تاویلات، علم الکلام اور فلسفیانہ تصورات سے ان کا کوئی واسطہ ہی نہ تھا۔ چنانچہ نئے اور نا پختہ ذہنوں کے مالک نئی نسل کے نوجوانوں کی آنکھیں ان نئی تاویلات کی چمک دمک سے خیرہ ہو کر رہ گئیں۔انہوں  نے نہ صرف یہودیوں اور نصرانیوں کی ان تحریف شدہ کہانیوں کو سچ سمجھ لیاجو وہ انبیائے سابقہ کے بارے میں سنایا کرتے تھے بلکہ ایرانی تمدن کی شان و شوکت  اور عیش و عشرت کی زندگیوں میں بھی بھرپور دلچسپی لی۔ غیروں کی یہ سازشیں اس لئے بھی تیزی سے کامیاب ہوئیں کہ خود عربوں میں سیاسی چپقلش چل پڑی تھی اور عرب قومیت کا ایک بت کھڑا ہو چکا تھا۔ یہ ان افراد کی کوششوں کا ثمر زہر آلودتھا جن کے مفادات کو اسلام کے غلبے کے باعث شدید نقصان پہنچا تھا۔ ان افراد میں عرب کے روساء اور سرداران قبائل پیش پیش تھے۔ انہوں نے خلافت راشدہ کے آخری ایام میں ملوکیت کے قیام کی راہیں ہموار کیں تاکہ ان کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال ہو جائے اور ان  کے مفادات کی راہ میں کوئی رکاوٹ بھی نہ حائل ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت صرف اسی وقت ممکن ہو سکتی تھی جب دین کے حقیقی تصورات نگاہوں سے اوجھل  کر دئیے جائیں اور ان کی جگہ بے روح ، نام نہاد عبادات اور بے مقصد عقائد کو دےدی جائے۔ چنانچہ ایرانی دانشوروں اور یہودونصاریٰ کی کوششوں کو تقویت حاصل ہوئی اور وہ  اپنے مقاصدمیں اس قدر کامیاب ہوئے کہ اہل عرب جن الفاظ کو اپنی سادہ او ر خالص زندگی کی مختلف اشیاء و تصورات کے لئے استعمال کرتے تھے انہی الفاظ کو یونانی اور زرتشتی و دیومالائی تصورات کے اظہار کےلئے استعمال کرنے لگے۔ ساتھ ہی مال و دولت کی فروانی اور تن آسانی کی زندگی نے ان کو عملی جدوجہد کی جفاکشی اور مقصد حیات کی بلندی دونوں سے دور کردیا۔ عامۃ الناس نے بھی اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ جوآوازیں بلندوبالا محرابوں اور دانش مندی کے بالاخانوں سے اٹھ رہی ہیں انہی پر آمناً و صدقناً کہہ کر اپنے مفادات کا تحفظ کر لیاجائے۔

تاریخ کے مطالعہ سے ہمیں یوں دکھائی دیتا ہے کہ ملوکیت کے قائم ہوتے ہی جیسے کسی ان دیکھے ہاتھوں نے عربوں کی علمی شمعیں گل کر دیں اور کوفہ و بغداد کے عجمی دانشوروں نے علمی ترقی اور اس کی ترویج و اشاعت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں سنبھال لی۔ نتیجہ ظاہرہے ۔۔۔۔۔۔۔۔  ہمارا تمام تر علمی سرمایۂ کتب جووصال نبوی ﷺ کے تقریباً ڈھائی سو سال بعد مرتب ہوا، اس کے تمام مولفین و مصنفین غیر عرب تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بنو عباس کا زمانہ تھا اور ایرانی و یہودی دانشوروں کی کھیپ کی کھیپ بغداد ، کوفہ  و دمشق کی گلیوں اور کوچوں میں سرگرم عمل ہو چکی تھیں۔ خود شاہی خاندانوں میں خاندان برامکہ نے عملاً اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لیاتھا۔ وہ جو چاہتے تھے کر گزرتے تھے اور جن نظریات کو چاہتے تھے، فروغ دلاتے تھے۔ اسی زمانے میں عربی لغات اور صرف و نحو کے اصول مرتب کئے گئے۔ علم الکلام اور علم الحدیث کے فن ایجاد کئے گئے اور کتب سیرو  تاریخ لکھی گئیں۔مصنفین اور مولفین انانیت پسندی اور  مصلحت اندیشی وقت کاجذبہ بدرجہ اتم موجود تھا، جس کے زیر اثر انہوں نے اپنے مخصوص دور کے معاشرتی معاشی اور تمدنی اقدار کو عین اسلام ثابت کرنے کے لئے ہرممکن تاویلات سے کام لیا۔ اس کوشش میں انہوں نے عربی لسانیات کو ایسا رنگ دے دیا جو زرتشتی اور اسرائیلی نظریات سے ہم آہنگی اور مطابقت رکھتی تھیں۔ اس وقت مخالف دین قوتیں بہت مضبوط اور منظم ہو چکی تھیں اور تن آسان اور سہل پسند افراد قوم نے بھی اپنے مفادات اسی میں دیکھے کہ ان قوتوں کی حمایت کریں۔ چنانچہ رفتہ رفتہ زندگی کے ہر شعبے میں وہی اصول و نظریات پروان چڑھتے گئے جو قرآنی اقدار کے منافی تھا لیکن قرآنی  الفاظ کو خود ساخت معنی اور مفہوم کا لباس پہنا کران نئے اصول و اقدار کے لئے جواز فراہم کیا گیا۔ یہ کام اس قدر آسان نہ تھا بلکہ منظم و مربوط سازش کا جال پھیلایا گیا اور بات بات پر قال قال رسول اللہ ﷺ کہنے والوں کا ایک جم غفیر تیار کیا گیا۔ اس طرح غیر قرآنی اقدار اور عربی لسانیات کو نیا رنگ دینے کے ہر طریقے کو رسول اکرمﷺ کا قول ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔اس پُر زور سیلاب بلا کے آگے بند لگانے کی کوششیں بھی لازماً ہوئیں، لیکن پانی سر سےاتنا اونچا  گزر رہاتھا کہ ہر سمت کوشش تنکوں کا ڈھیر بن کر بہہ گئی۔ بعد کی نسل نے ان خود ساختہ عقائد معنی پر مہر تصدیق ثبت کردی اور یہ عقیدہ راسخ کر دیا گیا کہ یہ سب فرمان رسول ﷺ اور فرمان صحابہ ﷜ ہیں جن سے سرتابی اور اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس وقت سے آج تک اہل عرب بھی الفاظِ قرآنی کا وہی مفہوم لیتے ہیں جو عجمی فلسفیوں اور دانشوروں نے متعین کردیا تھا، اس سے الگ ہو کر وہ بھی نہ سوچ سکتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ اس طرح القرآن کو "مہجور” یعنی خود ساختہ نظریات کا پابند بنا کررکھ دیا گیا ہے۔ بہلاوے اور تسلی کے لئے”تجوید، حسنِ قرآت، ناظرہ” وغیرہ کی اصطلاحات وضع کر لی گئی ہیں تاکہ یہ بدنصیب قوم ان گردابوں میں پھنسی رہے اور گاگا کر اور جھوم جھوم کر اس کتابِ عظیم کو پڑھتی رہے اور اس کے مقصد و مفہوم تک رسائی کی کبھی کوشش نہ کرے۔ عربی لسانیات کے مطابق زمانہ نزول قرآن میں "مہجور” اس اونٹ کو کہتے تھے جس کے چاروں پاؤں باندھ کراسے حرکت کرنے سے روک دیا گیاہو۔ القرآن کی حرکت اور ارتقاء کو اسی طرح "مہجور” بنا دیا گیا۔

مہجور ِقرآن

کیا واقعی مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے القرآن کو خود ساختہ نظریات کا پابند یعنی "مہجور” بنا دیا؟ اس امر کا ثبوت خود قرآن میں موجود ہے۔

وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ اِنَّ قَوْمِى اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا  (سورۃ الفرقان۔ آیت نمبر 30)

ترجمہ: اور رسولﷺ کہیں گے کہ اے میرے رب ! بلاشبہ میری قوم نے اس قرآن کو مہجور بنا رکھا تھا۔

اس مقصد کے لئے کیا یہ گیا کہ القرآن کے تمام بنیادی اصول و نظریات کو تبدیل کر دیا گیا اور اسلام کو محض چند رسومات کا مجموعہ بنا کر پیش کیا گیا۔ القرآن کا  ‘اللہ’ ، ‘خدا’ میں بدلا گیا، جس کا تصور ایک مطلق العنان اور قواعد و قوانین سے بے پروا ایک شہنشاہ کی مانند ہے۔ القرآن کی ‘صلوٰۃ،  [1]نمازسے بدلی گئی جو قائم نہیں کی جاتی بلکہ پڑھی جاتی ہے۔القرآن کے وسیع نظام”زکوۃ” کو ڈھائی فیصد کی بھیک میں تبدیل کر دیا گیا۔ مختصر یہ کہ ایک ایک قرآنی شق کے تصورات و مفاہیم کو تبدیل کرکے پورے قرآن کو "مہجور” بنا دیا گیا۔ اس کے عطا کردہ "دین” کو "مذہب” میں بدل ڈالا گیا۔اس طرح ‘اسلام’ ایک عملی نظامِ حیات کی بجائے چند بے نام عقائد اور خوش فہمیوں کے تقدسات کا مجموعہ بن کر رہ گیا۔ اس پر بس نہ ہوا تو مسلم قوم پر آخری ضرب کاری "تصوف” کے عقائد کی لگائی۔ جس کے نتیجے میں رہبانیت اور الحاد نے جنم لیا۔ ایسے ایسےدور از کار یونانی، ایرانی اور ہندوی فلسفیانہ تصورات کے زہریلے انجکشن اس قوم کو لگائے گئے کہ اب اس کا جان بر ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

ارض و سماء کی تحقیق

دوسری قوموں نے تو القرآن کے سماجی اور اقتصادی اصولوں کو براہ راست نہیں اپنایا بلکہ مشاہدات و تجربات یا (Trial and Error)کی بنیاد پر علم و عقل کی روشنی میں چند ایک ایسے اصولوں پر چل رہے ہیں جو قرآنی اصولوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اُن کے معاشرے میں چند خوشگوار پہلو انہی اصولوں کے باعث نظر آتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے اسی سلسلے میں کہا ہے کہ

ہر دو امیر کارواں ، ہر دو بہ منزلے رساں عقل بہ حیلہ می برد، عشق برد کشاں کشاں

یعنی دونوں ہی کاروانِ انسانیت کی رہنمائی کرکے ا ن کو منزل مقصود تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، فرق اتنا ہے کہ عقل مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر یہ کام کرتی ہے جب کہ عشق یا ایمان ایک ہی جست میں منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔ دنیا کی دیگر اقوام نے ارض و سماء میں موجود اللہ کی نشانیاں (آیات الہی) پر محنت کرکے مادی ترقی حاصل کر لی ہے اور اب وہ اس راہ میں مسلسل آگے ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں بلکہ اس مخصوص راہ میں وہ دنیا کی امامت کا فرض انجام دے رہے ہیں۔ مسلم قوم نے یہ بھی نہیں کیا، جب کہ القرآن نے واضح طور پر کہا ہے۔

اَللّـٰهُ الَّـذِىْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِىَ فِى الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْـهَارَ (32) وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ (33) وَاٰتَاكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۚ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّـٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۗ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ  (34)(سورۃ ابراہیم آیت 32 تا 34)

ترجمہ: اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی اور بلندی سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ پھل اگائے جو تمہارا رزق ہیں اور اس نے تمہارے لئے کشتی کو مسخر کر دیا جو اس کے حکم سے پانی پر رواں دواں رہتی ہے اور تمہارے لئے اس نے دریاؤں کو مسخر کردیا۔ پھر تمہارے لئے اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا جو ہر وقت رواں دواں رہتے ہیں اور اس نے تمہارے لئے دن اور رات کو مسخر کر دیا۔ اس نے تمہیں ہر وہ کچھ عطا کیا جس کی تم نے خواہش کی۔ اگر تم اس کی نعمتوں شمار کرنےلگو تو نہیں کر سکتے، بلاشبہ انسان کی سرشت میں بے انصافی اور ناشکرا پن ہے۔

دوسرے مقام پر ارشاد الہی ہے کہ

اَلَمْ تَـرَوْا اَنَّ اللّـٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ وَاَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهٝ ظَاهِرَةً وَّّبَاطِنَةً ۗ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِى اللّـٰهِ بِغَيْـرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًى وَّلَا كِتَابٍ مُّنِيْـرٍ (20) (سورۃ لقمان آیت نمبر 20)

ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں میں موجود ہر شے کو تمہارے لئے مسخر کر رکھا ہےاور اس طرح اپنی تمام ظاہری اورپوشیدہ نعمتوں سے تجھے نوازاہوا ہے۔پھر انسانوں میں ایسے بھی ہیں جوبلاعلم ہدایت اور روشن کتاب کے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔

اس طرح کی آیات القرآن میں بے شمار جگہوں پر موجود ہیں جہاں اللہ نے بڑے فخریہ انداز میں اپنی تخلیق ارض و سماوات کا تذکرہ کیا ہے۔

علماء کون ہیں؟

القرآن نے علماء کا  لفظ انہی لوگوں کے لئے استعمال کیا ہے جو آسمانوں اور زمین  اور ان میں موجود اشیاء پر غوروفکر کرتے ہیں۔

وَمِنْ اٰيَاتِهٖ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّلْعَالِمِيْنَ (22)  ( سورۃ الروم آیت 22)

ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق ہے اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کے اختلاف بھی۔ بلاشبہ اس میں عالمین کے لئے نشانیاں ہیں۔

مزید ارشادِ ربانی ہے۔

اَلَمْ تَـرَ اَنَّ اللّـٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرَاتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا ۚ وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيْضٌ وَّّحُـمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ (27) وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٝ كَذٰلِكَ ۗ اِنَّمَا يَخْشَى اللّـٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَآءُ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ (28) (سورۃ فاطر آیت 27- 28)

ترجمہ:کیا تم نے نہیں دیکھا  کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برساتا ہے، جس سے مختلف رنگوں کے پھل اُگتے ہیں، پھر پہاڑوں میں مختلف حصے ہیں، کوئی سفید، کوئی سرخ اور کوئی گہراسیاہ، مختلف رنگوں کے۔ اسی طرح، انسانوں ، جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ ہیں۔ اللہ کے بندوں میں سے وہی مشیت الہی رکھتے ہیں جو علماء ہیں، بلاشبہ اللہ عزیزو غفور ہے۔

اسی طرح سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 191 میں آلقرآن نے ان لوگوں کو "اولوالالباب” (تیز فہم) کہا ہے کو کھڑے، بیٹھتے اور لیٹے ہر وقت ارض و سماءکی تخلیق پر غوروفکر کرتے ہیں۔ القرآن نے علماء کی یہ تعریف بیان کی اور اس کے بالکل بر خلاف مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے یہ نام ان لوگوں کو دے دیا جو زیادہ سے زیادہ حوالے (References) یاد رکھتے ہیں اور خودکولائبریری بنا لیتے ہیں۔ اس طرح لغت ہائے حجازی کے قارون بن جاتے ہیں۔ ان کی نہ کوئی اپنی رائے ہوتی ہے اور نہ کوئی قوت تخلیق۔ ہر مسئلے کے بارے میں وہ بے تکان مختلف گزرے ہوئے لوگوں کی رائے اور فیصلے سنانا شروع کر دیتے ہیں۔ علماء کی تعریف بدل ڈالنے کے باعث آج ہم دنیا کی پست ترین قوم ہیں اور دنیا کی امامت کرنے کے لئے  جن صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے ان سے بالکل محروم ہیں۔

حلال اور حرام

یہ بات سب جانتے ہیں کہ حلال و حرام کا تصورصرف  کھانے پینے کی اشیا تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر سماجی اور اقتصادی رویوں سے تعلق رکھتا ہے القرآن نے انسان کو سادہ اور آسان سے بنیادی اصول ونظریات دیے اور اور انہیں موت کے بعد دوبارہ زندگی پانے کے ایمان کو ان اصول و نظریات کی بنیاد بنایا تاکہ لوگ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی فطری خواہش کی تسکین خیر کے کاموں میں حاصل کریں (فاستبقوالخیرات) اور اپنے تقوی کے لحاظ سے مدارج حاصل کریں۔ان حلال و حرام جائز وناجائز کی چند بنیادی گوشے القرآن میں بیان کر دیے اور باقی اعمال و افعال کے لیے مشاورت کا حکم دے دیا۔

وَشَاوِرْهُـمْ فِى الْاَمْرِ (سوره آل عمران ۔ آیت 159)

اور ان سے معاملات میں مشورہ لیا کرو

مسلم امت کو زیادہ سوالات کرنے سے منع کیا گیا ارشادِالہی ہوا ۔

اَمْ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَسْاَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ ۗ وَمَنْ يَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ (سورۃ البقرہ۔ آیت 108)

کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسولﷺ سے اسی طرح سوالات کرو جس طرح اس سے پہلے موسی سے کیا گیا تھا ۔تو جو شخص کفر سے ایمان کو بدل ڈالے تو وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔

اس سے زیادہ سخت تنبیہ کے طور پر ارشاد الہی ہوا کہ

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَسْاَلُوْا عَنْ اَشْيَآءَ اِنْ تُـبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ وَاِنْ تَسْاَلُوْا عَنْـهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُـبْدَ لَكُمْۖ عَفَا اللّـٰهُ عَنْـهَا ۗ وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْـمٌ (101)قَدْ سَاَلَـهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُـمَّ اَصْبَحُوْا بِـهَا كَافِـرِيْنَ (102) (سورۃ المائدہ – آیت 101 اور 102)

اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو گے اگر بتا دی جائیں تو تم کو ناگوار گزریں ، اگر تم سوالات کرتے رہوگے تو ابھی قرآن نازل ہورہا ہے اور وہ بتا دی جائیں گی ، اللہ تمہیں اس کےلیے معاف کرے ، کیوں کے اللہ غفور رحیم ہے۔ تم سے پہلے بھی لوگوں نے ایسے سوالات کیے تھے اور نبھا نہ پائے تو انکار کر بیٹھے۔

چنانچہ جن اصول و نظریات کی تعلیم قرآن دیتا ہے ان پر عمل درآمد کے طریقے اور جزئی تفصیلات امت مسلمہ کو باہمی مشاورت کے ذریعے طے کرنے تھے ان مشاورتوں میں صرف دو باتیں لحاظ سے قابل تھیں۔

وَخَلَقَ اللّـٰهُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُـمْ لَا يُظْلَمُوْنَ (سورہ الجاثیہ ۔ آیت 22)

اللہ نے ارض و سماوات کی تخلیق حق کے ساتھ کی ہے تاکہ ہرنفس کو اس کے کیے کا بدلہ مل جائے اور ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو۔

وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى الْاَرْضِ(سورہ الرعد ۔ آیت 17)

اور جوشے انسانوں کے لئے فائدہ مند ہے وہی زمین پر رہ جاتی ہے۔پر کے زمانہ مستقل ارتقائی منازل طے کررہا ہے اور اس کے احوال و ظروف بھی مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔ پھر ایک زمانے میں بنائی ہوئی جزوی تفاصیل دوسرے زمانے میں قابل نفاذ نہیں رہ سکتیں۔ زمانہ کبھی پیچھے کی سمت سفر نہیں کرتا اسی وجہ سے القرآن نے تقلیدِ ابا کی شدت سے مخالفت کی ہے۔ ارشادِ الہی ہے

وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِــعُ مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا ۗ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُـمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْئًا وَّلَا يَـهْتَدُوْنَ سورہ البقرہ ۔ آیت170)

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کا اتباع کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تووہ کہتےہیںہم تو اسی کا اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے، اور ان کے آباواجداد نہ تو کسی شے کا عقل رکھتے ہوں اور نہ ہی وہ ہدایت پر رہے ہوں۔

انسانی زندگی کے سماجی و اقتصادی معاملات میں حلال و حرام کی تفاصیل متعین کرنے کا اختیاراللہ نے صرف اور صرف اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔

وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلَالٌ وَّهٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَـرُوْا عَلَى اللّـٰهِ الْكَذِبَ ۚ اِنَّ الَّـذِيْنَ يَفْتَـرُوْنَ عَلَى اللّـٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ (سورۃ النحل ۔ آیت 116)

اورجو تمہاری زبانیں یونہی جھوٹ بیان کر دیتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تاکہ اللہ پربہتانِ محض باندھوایسی باتیں مت کیا کرو۔ بلاشبہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگانے والے فلاح نہیں پاتے۔

القرآن کسی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ حلال و حرام کی تفاصیل بیان کرتا پھرے۔ ارشادِ  الہی ہے کہ

قُلْ اَرَاَيْتُـمْ مَّـآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُـمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلَالًا ۖ قُلْ آللَّـهُ اَذِنَ لَكُمْ ۖ اَمْ عَلَى اللّـٰهِ تَفْتَـرُوْنَ  (سورۃ یونس۔ آیت59)

کہہ  دو کہ کیا تم غور کرتے ہو کہ اللہ نے جو کچھ تمہارے لئے بطور زق نازل کیا ہے تم اس میں سے کسی کو حرام قرار دیتے ہو اور کسی کو حلال۔ ان سے پوچھو کہ کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دے رکھی ہے یا تم اللہ پر افتراء باندھتے ہو۔

اس حکمِ قرآنی کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے فقہ اور مسلک کے نام پر ان تفاصیل کو لکھا اور متعین کر دیا۔ یہ قوانین الہی سے بغاوت ہے چنانچہ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

فرقہ بندی

القرآن نے تفرقہ بازی(مذہبی و سیاسی گرو ہ بندی) کو فرعونی اعمال ، شرک اور کفر قرار دیا ہے۔ فرعونی طریقہ

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِى الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَهْلَـهَا شِيَعًا يَّسْتَضْعِفُ طَـآئِفَةً مِّنْـهُـمْ يُذَبِّـحُ اَبْنَآءَهُـمْ وَيَسْتَحْيِىْ نِسَآءَهُـمْ ۚ اِنَّهٝ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ (سورہ القصص۔ آیت 4)

بلاشبہ فرعون زمین پر بہت سرکش ہو گیاتھا اور اس نے وہاں کے باشندوں کو گروہ در گروہ کر رکھا تھااور ایک گردہ  کو کمزور کر رکھا تھا ، اس کے بیٹوں کو ذبح کروا دیا کرتا تھا  اور عورتوں کو زندہ رکھتا تھا ، واقعتاً وہ فسادی تھا۔

شرک

مُنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ وَاتَّقُوْهُ وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُـوْنُـوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (31) مِنَ الَّـذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَـهُـمْ وَكَانُـوْا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَـدَيْهِـمْ فَرِحُوْنَ (سورہ الروم- آیت 32)

اسی کی طرف رجوع کئے رہو اور تقوی اختیار کرو، صلوۃ قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو جانا، یعنی ان لوگوں میں سے جنہوں نےدین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور گروہ در گروہ ہو گئے، ہر فرقہ اسی پر فرحاں ہے جو اس کے پاس ہے۔

کفر

وَلَا تَكُـوْنُـوْا كَالَّـذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَهُـمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَاُولٰٓئِكَ لَـهُـمْ عَذَابٌ عَظِـيْمٌ (105) يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ ۚ فَاَمَّا الَّـذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُـمْ اَكَفَرْتُـمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُـمْ تَكْـفُرُوْنَ ( سورہ آل عمران ۔ آیت 106)

اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے تفرقہ کیا اور باہم اختلاف کیا جب کہ واضح احکام آ چکےتھے، اور ان کے لئے تو بڑا عذاب ہے۔ اس روز جب بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاہ، تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کر لیا تھا تو آج تم اپنے کفر کرنے کی وجہ سے عذاب کا مزہ چکھو۔

رسولﷺ سے قطع تعلق

القرآن نے فرقہ بندی کو صرف اسی حد تک بُرا نہیں کہا بلکہ اپنے رسولﷺ سے صاف صاف کہہ دیاکہ جن لوگوں نےدین میں تفرقہ بازی کی ان سے تمہارا کوئی واسطہ نہیں۔

اِنَّ الَّـذِيْنَ فَرَّقُـوْا دِيْنَـهُـمْ وَكَانُـوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْـهُـمْ فِىْ شَىْءٍ ۚ اِنَّمَآ اَمْرُهُـمْ اِلَى اللّـٰهِ ثُـمَّ يُنَبِّئُهُـمْ بِمَا كَانُـوْا يَفْعَلُوْنَ (سورہ الانعام – آیت 159)

بلاشبہ جن لوگوں نے دین میں تفرقہ کیا اور گروہ در گروہ ہوگئے، تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، پھر وہ ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دے گا۔

وضعی جواز

اس حقیقت کے باوجود کہ مسلم قوم کی اکثریت کا ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺسے زیادہ سے زیادہ محبت اور تعلق ہی ان کے دین کی بنیاد ہے۔ اسی قوم کی مذہبی پیشوائیت نے کارنامہ یہ سرانجام دیا کہ مختلف عقائد و اعمال کو بنیاد بنا کر امت کے گروہ در گروہ بنا دئیے۔ انہوں نے حسبِ توفیق قرآن کی تمام تعلیمات کے برعکس دعویٰ کیا کہ خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت میں 73 فرقے ہوں گے اور ان میں سے ایک نجات یافتہ ہو گا(معاذ اللہ)۔ آج تک یہ فیصلہ نہ ہو سکاکہ کون سا فرقہ ‘ناجی’ ہے، کیونکہ ہر ایک فرقہ اسی خوش فہمی میں ہے کہ وہی ‘ناجی’ ہے (کل حزب بما لدیھم فرحون)، کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہےکہ رسول اللہ ﷺ بھی قرآن کے خلاف کوئی بات کہیں گے؟ جب کہ القرآن میں اللہ کا واضح ارشاد ہے کہ

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ (44) لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ (45) ثُـمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ (46) فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِيْنَ (سورۃ الحاقہ ۔ آیت 47)

اور اگریہ رسول ﷺ ہماری طرف سے کوئی اور بات کہتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑتے پھر ہم ان کی رگ جاں کاٹ ڈالتے، اور تم میں سے کوئی ان کو بچانے والا نہ ہوتا۔

مسجد ضرار

القرآن نے رسول اللہ ﷺ کو منع کیا کہ تم اس "مسجد ضرار” میں کھڑے  تک نہ ہونا جو تفرقہ کے لئے بنائی گئی ہے۔

وَالَّـذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّكُفْرًا وَّتَفْرِيْقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ مِنْ قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَـآ اِلَّا الْحُسْنٰى ۖ وَاللّـٰهُ يَشْهَدُ اِنَّـهُـمْ لَكَاذِبُوْنَ (107) لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا ۚ لَّمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۚ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۚ وَاللّـٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ (سورہ التوبہ- آیت 108)

اور وہ لوگ جنہوں نے نقصان پہنچانے کے لئے ایک مسجد بنائی ہے تاکہ کفر کریں اور مومنین میں تفرقہ ڈالیں اور اس طرح ان لوگوں کے لئے کمین گاہ بنائیں جو پہلے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرچکے ہیں اور وہ قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم سوائے بھلائی کے اور کوئی ارادہ نہیں رکھتے، لیکن اللہ گواہ ہےکہ وہ بالکل جھوٹے ہیں (اے رسول) تم اس میں کبھی کھڑے تک نہ ہونا، ہاں  وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، اس بات کا حق رکھتی ہے کہ اس میں قیام کیا جائے، اس میں ایسےافراد ہیں جو پاکیزہ اطوار والے ہیں اور اللہ تو پاکیزی لوگوں کو پسندکرتا ہے۔ ایک اور مقام پر القرآن نے کہا

وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّـٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّـٰهِ اَحَدًا (سورہ الجن – آیت 18)

اور مساجد تو اللہ کے لئے ہیں، چنانچہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارو۔

یہ تو القرآن کے احکام تھے، مسلم قوم کی مذہبی پیسوائیت نے کرہ ارض پر کوئی ایسی مسجد نہ چھوڑی جو صرف اللہ کےنام پر ہواور جہاں تفرقہ بازی نہ ہوتی ہو۔ غرض  القرآن نے ہر اصول ، ہر نظریے سے بغاوت کی گئی ، اس کے ہر حکم کے برخلاف عمل کیا گیا، اس کے دئیے ہوئے ہر تصور کو بدل ڈالا گیااور اس کے باوجود دعویٰ ایمان کا ! دعویٰ اسلام کا‼ یاللعجب‼!

غیر نصابی سرگرمیاں

القرآن نے پچھلی امتوں کے قصے بیان کرنے کے بعد کہا کہ

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَـهَـا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُـمْ ۖ وَلَا تُسْاَلُوْنَ عَمَّا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (سورہ البقرۃ۔ آیت 141)

یہ امتیں تھیں جو گزر گئیں، ان کے اعمال ان کے لئےاور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں، تم سے ہرگز نہیں پوچھا جائے گا کہ ان لوگوں نے کیا کیا تھا۔

دوسرے مقام پر القرآن نے واضح کر دیا کہ

وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَيْـهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۚ (سورۃ الانعام – آیت 164)

اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اسی کے لئے ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

القرآن نے نامۂ اعمال کو "الکتب” کہہ کر پکارا ہے۔ یعنی ہر فرد کے اعمال کا تحریری ریکارڈ۔ اس پر لوگ حیرت کریں گے کہ اس میں تو کوئی عمل لکھنے سے رہا ہی نہیں۔

وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَـرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْـرَةً وَّّلَا كَبِيْـرَةً اِلَّآ اَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا (سورۃ الکہف ۔ آیت 49)

اور نامۂ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس سے ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے کہ ہائے کم بختی، یہ کیسی کتا ب ہے کہ جس نے چھوٹی بڑی کوئی بات لکھنے سے نہ چھوڑی۔

پورے القرآن میں کہیں بھی یہ تذکرہ نہیں کہ کوئی شخص اس امر کا مکلف ہو گا کہ وہ اپنے اسلاف کے بارے میں کوئی خاص عقیدہ یا نظریہ قائم کرے اور ان کے باہمی نزاع اور اختلاف کو زیر بحث لا کر امت میں انتشار پیدا کرے۔ القرآن کے مطابق ہر شخص صرف اپنے نامۂ اعمال کا ذمہ دار ہے۔ پچھلے لوگوں نے کیا کیا تھا، اس بات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ مسلم قوم کے پیشوایانِ مذہب نے ہر ہر قدم پر اسلاف کے بت تراشے، کہانیاں گھڑیں اور خود ساختہ جواز بنا کر مسلم قوم کو آپس میں ٹکرا ٹکرا کر ان کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا، جن امور کو القرآن نے خار ج از نصاب (Out of Syllabus) قرار دے دیا تھا، ان پر موٹی موٹی کتابیں لکھیں گئیں۔ سقف بنو سعد کا قصہ، جنگ جمل، جنگ صفین، قصہ کربلا وغیرہ وغیرہ۔غرض کہ ہر ایک پر ایک بت تراشے گئے، مسلم قوم کو ان کا الگ الگ پجاری بنایا گیا۔ نتیجہ ان باتوں کا یہ نکلا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایات و تعلیمات کے مطابق اسلامی انقلاب برپاکرنا، دنیا کی دیگر اقوام کے سامنے انسانی فلاح و ترقی کا صحیح صحیح لائحہ عمل پیش کرنا اور اس طرح دنیا کی امامت کرنا جو کہ مسلم قوم کااصلی اور بنیادی فریضہ تھا، وہ گزشتہ کئی صدیوں سے مسلم قوم کے حیطۂ تصور میں ہی نہیں آپاتا۔ اللہ نے مومنین کو "شھداء علی الناس” (نوع انسان کارہبر و نگران)بننے کی ذمہ داری عطا کی تھی۔ وہ اتنی بڑی ذمہ داری تو کیا سنبھالتے، خود دوسری قوموں کے محتاج اور دست نگر بن کر رہ گئے۔

کیا عقل کا استعمال حرام ہے؟

مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے لوگوں کی زبانیں بند کرنے کے لئے ایک تصور عام کیاکہ "دین میں عقل کا استعمال حرام ہے”، "عقل” کیا ہے؟ ایک طاقت یا صلاحیت جو حواسِ انسانی کے ذریعہ حقائق کو معلوم کرتی ہے۔ القرآن نے ان لوگوں کو جہنمی قرار دیا ہے جو ان حواس کا استعمال نہیں کرتے۔

وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّـمَ كَثِيْـرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۖ لَـهُـمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِـهَاۖ وَلَـهُـمْ اَعْيُـنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِـهَاۖ وَلَـهُـمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْـمَعُوْنَ بِـهَا ۚ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُـمْ اَضَلُّ ۚ اُولٰٓئِكَ هُـمُ الْغَافِلُوْنَ (سورۃ الاعراف – آیت 179)

اور جن و انس میں سے ایک کثیر تعداد ان کی ہے جو جہنمی  ہیں، یہ وہ ہیں جن کے دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھنے کا کام نہیں لیتے، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھنے کا کام نہیں لیتے، ان کے کان ہیں جن سے وہ سننے کا کام نہیں لیتے۔ یہ لوگ چوپائے  کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے، یہی لوگ غافل ہیں۔

اہلِ جہنم بھی یہی کہیں گے

وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْـمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِىٓ اَصْحَابِ السَّعِيْـرِ (سورہ الملک ۔ آیت 10)

اگر ہم سننے یا عقل سے کام لیتے تو اہل جہنم میں نہ ہوتے۔

القرآن ایک جگہ کہتا ہے۔

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يَا بَنِىٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ۖ اِنَّهٝ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ (60) وَاَنِ اعْبُدُوْنِىْ ۚ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِـيْـمٌ (61) وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْـرًا ۖ اَفَلَمْ تَكُـوْنُـوْا تَعْقِلُوْنَ (سورہ یٰسین ۔ آیت 62)

اے آدم کی اولاد! کیا ہم نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی بندگی نہ کرنا، وہ تمہارا صریح دشمن ہے، بلکہ تم میرے بندے بن جاؤ، یہی صراط مستقیم ہے۔ اور جب کہ وہ تم میں سے ایک کثیر تعداد کو پہلے بھی گمراہ کر چکا ہے، تو تم عقل سے کیوں کام نہیں لیتے۔

مومنین کی جماعت کے بارےمیں القرآن کہتا ہے کہ

وَالَّـذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيَاتِ رَبِّـهِـمْ لَمْ يَخِرُّوْا عَلَيْـهَا صُمًّا وَّعُمْيَانًا (سورہ الفرقان ۔ آٰیت 73)

اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان کے سامنےان کے رب کی آیات کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہےتو وہ ان پر بھی بہرے اور اندھے بن کرنہیں گر پڑتے۔

خود اپنے بارےمیں القرآن کہتا ہے کہ

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُـهَا (سورۃ محمد ۔ آیت 24)

بھلا یہ لوگ القرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔

اس طرح کی آیات القرآن میں جگہ جگہ موجود ہیں۔جن میں غوروفکر کرنے اور عقل وحواس کواستعمال کرنے کی تاکید کی گئی ہے، صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے محض اپنی مقصد براری اور چودھراہٹ کو برقرار رکھنے کے لئے "عقل” کو شجر ممنوعہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ان سے بھی دس قدم آگے بڑھ کر عقل و فکرکے استعمال پر ایک کاری ضرب ‘اہلِ تصوف’ یا ‘ اہلِ طریقت’ کے نام لیواؤں نے لگائی۔ ان کے یہاں حواس انسانی سے کام لینا اور علم و عقل کی روشنی میں حقائق کا ادراک کرنا قطعی حرام ہے۔ یونانی فلسفے کے مطابق ان کا ایمان بھی اس بات پر ہے کہ دنیائے موجود ایک سراب ہے اور ترک دنیا ہی اصل دین ہے۔

سحر کی کتاب

القرآن نے باربار کفار کے ا س بے بنیاد اعتراض کو رد کیا ہے جس میں وہ اس کتاب کو ‘سحر’ قرار دیتے ہیں۔

 وَقَالَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُـمْ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ (سورۃ سباٰ ۔ آیت 43)

اور جب حق آ پہنچاتو کفر کرنے والوں نے کہا کہ یہ ایک کھلے سحر کے سوا کچھ نہیں۔

وَلَمَّا جَآءَهُـمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّّاِنَّا بِهٖ كَافِرُوْنَ  (سورہ الزخرف ۔ آیت 30)

اور جب الحق آپہنچا تو کہنے لگے یہ تو سحر ہے ہم ا س کو نہیں مانتے۔

وَاِذَا تُـتْلٰى عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُـمْ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ  (سورۃ الاحقاف – آیت 07)

اور جب ہماری واضح آیات ان کےسامنے پڑھی جاتی ہیں تو کفار اس الحق کے بارے میں جو ان کےپاس پہنچا ہےکہتے ہیں کہ یہ تو کھلا سحر ہے۔القرآن نے فیصلہ دیا کہ

وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُوْنَ (سورۃ یونس – آیت 77)

اور ساحر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

مسلم قو م نے بالاتفاق قرآن سے ہی ‘جادو ٹونے’ بنا ڈالے۔ اس  کے جملوں کو بے دریغ ویدوں کے ‘منتر’ کے طور پر استعمال کیا۔ عقیدہ وضع کیا گیاکہ اللہ کے کلام میں بڑی طاقت ہے۔حالانکہ دوسری اقوام نے بھی اپنی اپنی کتابوں کو اسی طرح ‘بڑی طاقت’ کے طور پر استعمال کیا ہوا ہے۔ اسی طرح قرآن کو بھی ایک عام مذہبی جنتر منتر کی کتاب بنا کر رکھ دیا  گیا تا کہ اس میں موجود انقلابی پیغام پر کسی کی توجہ نہ جائے ۔۔۔۔ اور اب تو اس قسم کے ساحرانہ کرشمے، سیکولر ذہنیت کے دہریوں کے یہاں بھی عام  ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں اب القرآن کی کوئی انفرادیت ہی نہ رہی ۔ ان باتوں کے بالکل برعکس القرآن نے خود اپنے بارے میں وضاحت کر دی تھی کہ یہ معجزات اور کرامات دکھانے والی کتاب نہیں ہے۔

وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّـرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى ۗ بَلْ لِّلّـٰهِ الْاَمْرُ جَـمِيْعًا ۗ اَفَلَمْ يَيْاَسِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَنْ لَّوْ يَشَآءُ اللّـٰهُ لَـهَدَى النَّاسَ جَـمِيْعًا ۗ وَلَا يَزَالُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُـهُـمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِـمْ حَتّـٰى يَاْتِـىَ وَعْدُ اللّـٰهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ (سورۃ الرعد – آیت 31)

اگر قرآن ایسا ہوتا کہ اس کے ذریعہ پہاڑاپنی جگہ سے  ہٹائے جاتے یا اس کے ذریعہ زمین تیزی سے طے کی جاسکتی  یا اس کے ذریعہ مردوں سے باتیں کرائی جا سکتیں (تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے) بلکہ تمام امور اللہ کے لئے ہیں۔ کیا اب بھی ایمان والوں کو اس بات میں دل جمعی نہیں ہوئی کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام بنی نوع انسانی کو ہدایت دے دیتا، اور کفر کرنے والوں کی تویہ حالت ہوتی ہی ہے کہ ان کے ارد گرد عمل کے سبب ان پر کوئی نہ کوئی حادثہ پڑتاہی رہتا ہے یا ان کے قریب کے لوگوں پر، یہ جو کچھ تو ہوتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آ جائے گا، کیونکہ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

مُردوں پر قرآن پڑھنا

قرآن نے کہا کہ یہ کتاب زندہ لوگوں کے لئے ہے۔

وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِىْ لَـهٝ ۚ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّّقُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ (69) لِّيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَّيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِـرِيْنَ  (سورۃ یس ۔ آیت 70)

اور ہم نےرسولﷺ کو شاعری نہیں سکھائی اور نہ ہی یہ اس کے شایان ہے، یہ تو سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ نصیحت اور واضح قرآن ہے جس کے ذریعہ ان کو انجام کی آگاہی دی جاتی ہے جو زندہ ہیں تاکہ کافروں پر حجت تمام ہو جائے۔

القرآن مُردوں کے لئے ہے ہی نہیں

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَا تُسْمِـعُ الصُّمَّ الـدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِـرِيْنَ (سورۃ النمل – آیت 80)

آپ مُردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو آواز دے سکتے ہیں، جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں۔

القرآن نے واضح طور پر کہا کہ قبروں میں پڑے ہوئے مُردوں کو کچھ سنایا نہیں جا سکتا۔

وَمَا يَسْتَوِى الْاَحْيَآءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُسْمِـعُ مَنْ يَّشَآءُ ۖ وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِـعٍ مَّنْ فِى الْقُبُوْرِ (سورۃ فاطر – آیت 22)

اور زندہ لوگ اور مردہ یکساں نہیں ہوسکتے۔ بلاشبہ اللہ جسے چاہتا ہے ، بلاشبہ اللہ جسے چاہتا ہے سنوا دیتا اور  آپ ا ن کو نہیں سناسکتے جو قبروں میں ہیں۔

قبر پر ستی ‘اہل القبور’ کو ماننے والوں  کے بارے میں القرآن نے کہا ہے کہ

قُلْ اَرَاَيْتُـمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اَرُوْنِىْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَـهُـمْ شِرْكٌ فِى السَّمَاوَاتِ ۖ اِيْتُوْنِىْ بِكِـتَابٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَآ اَوْ اَثَارَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْـتُـمْ صَادِقِيْنَ (4) وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَـهٝٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُـمْ عَنْ دُعَآئِهِـمْ غَافِلُوْنَ (5) وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُـوْا لَـهُـمْ اَعْدَآءً وَّكَانُـوْا بِعِبَادَتِـهِـمْ كَافِـرِيْنَ (سورۃ الاخقاف ۔ آیت6)

کہہ دو کہ تم نے انہیں دیکھا ہے کہ جن کو تم ماسوائے اللہ کو پکارتے ہو کہ انہوں نے زمین کی کوئی شے تخلیق کی ہویا آسمانوں میں ان کا کچھ ساجھا ہے؟ میرے پاس لے کر آؤ کوئی کتاب جو ا س سے پہلے کی ہو یا کوئی اور مضمون معقول، اگر تم سچے ہو۔ اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کن کون ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو پکارے جو قیامت تک اس کا کہنا نہ مانے، بلکہ وہ تو ان کی پکار سے بھی بے خبر ہوں ، اور جب سب انسان جمع کئے جائیں تو ان کی عبادت کا ہی انکار کردیں۔

دوسرے مقام پر القرآن کہتا ہے

وَالَّـذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْئًا وَّهُـمْ يُخْلَقُوْنَ (20) اَمْوَاتٌ غَيْـرُ اَحْيَآءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ ( سورۃ النحل ۔ آیت 21)

اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کو پکارتے ہیں وہ کسی شے کی تخلیق نہیں کر سکتے وہ تو خود مخلوق ہیں، لا شے ہیں ، بے جان! انہیں تو یہ بھی خبر نہیں کہ کب اٹھائیں جائیں گے۔

یہ سب کچھ القرآن نے کہا، مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے اس کے برخلاف القرآن کو مُردوں پر پڑھنے کے لئے مختص کردیا اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اہل طریق نے اہل القبور کو اپنی حاجت براری کے لئے پکارنا بھی عین اسلام بنا دیا۔ اس قسم کی اور بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلم قوم نے بالعموم اور اس قوم  کی مذہبی پیشوائیت نے بالخصوص القرآن کے احکام و ہدایات کے بالکل برعکس نہ صرف نظریات بنا لئے ہیں بلکہ ان کا ہر اٹھنے والا قدم ان کو قرآن سے دور، اور دور لئے جا رہا ہے۔ القرآن کا استعمال اب مختلف لحنوں میں سروں کے  ساتھ پڑھنا ، رٹ رٹ کر حفظ کرنااور مُردوں کو ثواب پہنچانا رہ گیا ہے۔

اسوۂ حسنہ

اسلام کی ایک بنیاد القرآن کے ساتھ مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے جو سلوک کیا، اس کا تو ہم نے ایک اجمالی جائزہ لے کردیکھ لیا۔ اب ہم ‘الدین الاسلام’ کی دوسری بنیاد یعنی رسول ﷺ کے "اسوۂ حسنہ” کے چند خصوصی پہلوؤں پر نظرڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے اس کی کیسی تصویر کشی کی ہے۔۔۔۔۔۔مسلم قوم کے علمی رجحان کے مطابق تاریخ اور روایات مرتب کرنے والوں نے "اسوۂ حسنہ” کو رسول اکرم ﷺ کی سوانح حیات کا مترادف بنا دیا ہے۔ جب کہ القرآن میں "اسوۂ حسنہ” کا حوالہ حضرت ابراہیمؑ اور حتمی مرتبت محمدﷺ دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ بلکہ حضرت ابراہیمؑ کے صحابہ اکرام﷜ کے "اسوۂ حسنہ” کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ القرآن نےسوانح حیات کسی کی نہیں بیان کی ہے بلکہ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے صحابہ اکرام﷜ کی اس جدوجہد کی تصویر کشی کی ہے جوانہوں نےباطل قوتوں کے مقابلے میں سرانجام دیں۔ اسی ضمن میں القرآن نے حضرت نوحؑ، ھودؑ، ادریسؑ، یونسؑ، یوسفؑ، شعیبؑ، موسیٰؑ، زکریاؑ، یحیٰؑ اور عیسیٰؑ کی زندگیوں کے ان گوشوں کو تفصیل  سے اجاگر کیا ہےجو انہوں نے باطل قوتوں کے خلاف اور اللہ کی حاکمیت کرنے میں صرف کی تھیں۔اسی طرح قرآن حکیم نے اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام﷜ (والذین معہ) کی اس عظیم الشان جدوجہد کو اپنے اوراق میں محفوظ کر لیا ہے جس کے نتیجے میں نسل انسانیت نے چند برسوں کی قلیل مدت میں صدیوں کا فاصلہ طے کر لیا تھا۔

اسی طرح ذرا سے غوروفکر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہےکہ "اسوۂ حسنہ” سے مراد وہ اعمال ہیں جو فلاح انسانیت اور آخرت کے بہترین نتائج کے لئے کئے گئے ہیں۔ القرآن نے کسی بھی دور کی تاریخ نہیں بیان کی بلکہ اس نے تاریخ انسانیت کے ان گوشوں کو اجاگر کیا ہے، جہاں حق اور باطل کا ٹکراؤ ہوا اور آخر الامر حق کا غلبہ ہوا۔ "اسوۂ حسنہ” کی اس مختصر سی تعریف کے بعد اب ہم دیکھتے ہیں کہ القرآن نے رسول اکرم ﷺ کی زندگی کے کن کن گوشوں کی خصوصی طور  پر نشاندہی کی ہےاور مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے ان گوشوں کا کس طرح تصور وضع کر لیا ہے۔کیونکہ "اسوۂ حسنہ” کے یہی وہ بنیادی پہلوہیں جن کا اتباع کرنا مسلم قوم کے لئے لازم ہے اور ان کو ہی بدل ڈالنے کے سبب وہ دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔

"اسوۂ حسنہ” کیا ہے؟

1۔ القرآن نے سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ اور والذین معہ یعنی ان کے صحابہ کرام کی عملی جدوجہد کو "اسوۂ حسنہ” قرار دیا۔

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ اِبْـرَاهِـيْمَ وَالَّـذِيْنَ مَعَهٝ ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِـمْ اِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّهِۖ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّـٰى تُؤْمِنُـوْا بِاللّـٰهِ وَحْدَهٝٓ اِلَّا قَوْلَ اِبْـرَاهِيْـمَ لِاَبِيْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَآ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّـٰهِ مِنْ شَىْءٍ ۖ رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْـرُ (سورہ الممتحنہ – آیت 4)

اور تمہارے لئے حضرت ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ زندگی ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہہ دیا کہ ہم تم سے او ر جن کو تم اللہ کے سوا معبود سمجھتے ہو ان سے بیزار ہیں ، ہم تمہارے منکر ہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لئے عداوت اور بغض پیدا ہو گیا ہےجب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہیں لے آتے۔ سوائے اس کے کہ ابراہیمؑ نے اپنے والد سے کہا کہ میری تمنا ہے کہ آپ کی مغفرت ہو جائے لیکن اس بات میں مجھے کچھ اختیار حاصل نہیں  (ان سب کی دعا تھی کہ ) اے ہمارے رب! ہم تجھ پر ہی توکل کرتے ہیں اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور ہم تیری ہی طرف لوٹنے والے ہیں۔

ابراہیمی ؑ اسوۂ

انتہائی نامساعد حالات میں اپنی قوم سے کہنا کہ  کفرنابکم (ہم تمہارے منکر ہیں) یعنی تمہارے نظریۂ حیات کے منکر ہیں، بڑی ہمت ، استقامت اور الولوالعزمی کا مظاہرہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ اور ان کے صحابہ کرام﷜ کے اس عمل کو "اسوۂ حسنہ” کہا گیا۔ لیکن مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت  نے امام الناس حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں روایت پیش کی کہ انہوں نے تین موقعوں پر جھوٹ بولا تھا۔ (معاذ اللہ‼)

رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ

القرآن نے عین میدان جنگ میں کم ہمت اور بزدل لوگوں کے دعوی ایمانی کو باطل قرار دیا ہے اور کہ اس سخت گھڑی میں رسولﷺ کی ہمت ، قیادت، جواں مردی، ثبات قدمی،اور استقامت کو "اسوۂ حسنہ” قرار دے کر تلقین کی ہے کہ جسے آخرت کی بہتری عزیز ہے اس کے لئے یہ بہترین نمونۂ کردار ہے۔

لَّـقَدْ كَانَ لَكُمْ فِىْ رَسُوْلِ اللّـٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُو اللّـٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَـرَ اللّـٰهَ كَثِيْـرًا  (21) وَلَمَّا رَاَى    

الْمُؤْمِنُـوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّـٰهُ وَرَسُوْلُـهٝ وَصَدَقَ اللّـٰهُ وَرَسُوْلُـهٝ ۚ وَمَا زَادَهُـمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا (سورہ الاحزاب ۔ آیت 22)

بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی ذات میں تمہارے لئے عمدہ ترین نمونۂ حیات ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور آخرت کے طلب گار ہیں اور اللہ (کے احکام) کو کثرت سےپیش نظر رکھتے ہیں۔ جب مومنوں نے ان لشکروں کو دیکھا  تو کہنے لگے کہ یہ وہی ہیں جن کا اللہ اور اس کے رسول ﷺنے  وعدہ کیا تھا بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سچے ہیں، ان کے ایمان اور تسلیم و رضا میں اور اضافہ ہو گیا۔

ایسے مثالی ، جرات مند، دلیراور بہادر شخصیت کے بارے میں مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے روایات پیش کی ہیں کہ آپﷺ موت سےخوف کھاتے تھے۔آسمان پر بادل آ جاتے تو پریشان ہو جاتےکہ کہیں عذاب الہی تو نہیں آرہا۔قتال فی سبیل اللہ کی اہمیت کو کم کیا گیا، خود ساختہ مالاؤں پر بے سمجھے بوجھے چند الفاظ گن گن کر پڑھنے کو اور "ھو حق” کرنے کو ‘جہاداکبر’ قرار دے  دیا گیا۔ جب کہ القرآن نے "قتال” کو فرضِ عین قرار دیا ہے۔

قِتَال فرض ہے

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ(سورہ البقرہ ۔ آیت 216)

تم پر جنگ کرنا (قتال)فرض کر دیا گیا۔

قرآن حکیم نے رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کرام﷜ کے بارے میں کہا

مُّحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّـٰهِ ۚ وَالَّـذِيْنَ مَعَهٝٓ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَـمَآءُ بَيْنَـهُـمْ ۖ (سورہ الفتح ۔ آیت 29)

محمد ﷺ جو اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھی ، یہ لوگ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحیم ہیں۔

مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے مسلم قوم میں نہ  اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِکی صفت باقی رہنے دی اور نہ ہی رُحَـمَآءُ بَيْنَـهُـمْ کی خوبی۔انہوں نے فرقہ بندیوں کی ایسی فضا پیدا کر دی کہ مسلم قوم آپس میں تو ہمیشہ دست و گریباں رہیں ، لیکن غیر مسلموں سے نہ صرف بے جا مفاہمت کرتی رہے بلکہ ان کی بالادستی بھی بخوشی قبول کرلے۔ اب تو مسلم قوم کا یہ وطیرہ بن گیا ہے کہ وہ فرقوں کی لڑائیوں میں بھی مدد کے لئے غیر مسلموں کا تعاون حاصل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔

رسول ﷺ بشر ہیں

القرآن نے رسول اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے متعدد بار اعلان کروایا کہ

قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَـىَّ اَنَّمَآ اِلٰـهُكُمْ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ ۖ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَـآءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٓ ٖ اَحَدًا (سورہ الکہف ۔ آیت 110)

کہہ دو کہ میں تو تم جیسا بشر ہوں بس میرے پاس وحی آتی ہے کہ تمہار الہ صرف  ایک واحد ہے ، تو جو اپنے رب سے ملنے کی خواہش رکھتا ہے  اس کو چاہئےکہ وہ عمل صالح کرے اور عبودیت میں ایک رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔

قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحٰٓى اِلَىَّ اَنَّمَآ اِلٰـهُكُمْ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِيْمُوٓا اِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوْهُ ۗ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِيْنَ (سورہ حم السجدہ (فُصِّلَت) ۔ آیت 06)

کہہ دو کہ میں تم جیسا بشر ہوں ، بس میرے پاس وحی آتی ہے  کہ تمہارا الہ صرف ایک واحد ہے، تو اس بات پر قائم رہو اور اس سے مغفرت مانگو، تو مشرکین کے لئے  بڑی تباہی ہے۔

نبی کریم ﷺ کی ذات میں غلو نہیں ، اللہ تعالیٰ نے معجزہ پسند لوگوں کو قائل کیا کہ یہ رسول ﷺ دین اسلام کی دعوت اپنے کردار کی بنیاد پر دے رہے ہیں نہ کہ معجزات کی بنیاد پر۔ارشادِالہی ہوا کہ

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّـٰهُ مَا تَلَوْتُهٝ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَدْرَاكُمْ بِهٖ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِـهٖ ۚ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (سورہ یونس – آیت 16)

کہہ دو کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ تو میں یہ کلام پڑھ کر سناتا اور نہ وہ (اللہ) تم کو اس کی اطلاع دیتا، جب کہ میں نے تمہارے درمیان ایک عمر گزاری ہے تو تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے۔

مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے لوگوں میں یہ عقیدہ عام کی کہ رسول اللہ ﷺ کی تخلیق نور سے ہوئی تھی، ان کا سایہ تک نہیں ہوتا تھا۔ یعنی اللہ اور قرآن، رسول ﷺ کی بشریت پراصرار کرتا رہے، لیکن مذہبی پیشوایانِ قوم، اپنی ضد پر ڈٹے رہیں گے۔ وہ بھلا اللہ اور قرآن کی بات کیوں ماننے لگے۔

رسولﷺ کو غیب کا علم نہیں

القرآن نے کہا کہ رسول ﷺ کے پاس نہ تو زمین کے خزانے ہیں اور نہ ہی ان کوغیب کا علم۔

قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِىْ خَزَآئِنُ اللّـٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّـىْ مَلَكٌ ۖ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَىَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْـرُ ۚ اَفَلَا تَتَفَكَّـرُوْنَ (سورہ الانعام – آیت 50)

کہہ دو کہ نہ میں تم ے کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ، میں تو اس وحی کا اتباع کرنے والا ہوں جو میرے پاس آتی ہے ، کہہ دو کہ کیا اندھااور آنکھوں والا برابر ہو سکتے ہیں، تو تم سوچتے کیوں نہیں۔

مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے کہا کہ نہیں بلکہ رسولﷺکونہ صرف غیب کا بہ تمام و کمال علم تھا بلکہ انہوں نے تو قیامت تک کے ہونے والے واقعات کی خبریں دے دی ہیں۔ کیا رسولﷺ آسمان پر گئے؟ القرآن نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کوئی مافوق البشر ہستی نہیں کہ وہ آسمان پر چڑھ جائیں۔

وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّـٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْبُوْعًا (90) اَوْ تَكُـوْنَ لَكَ جَنَّـةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْـهَارَ خِلَالَـهَا تَفْجِيْـرًا (91) اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِىَ بِاللّـٰهِ وَالْمَلَآئِكَـةِ قَبِيْلًا (92) اَوْ يَكُـوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَـرْقٰى فِى السَّمَآءِ ۖ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِـيِّكَ حَتّـٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهٝ ۗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّىْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَـرًا رَّسُوْلًا (سورہ بنی اسرائیل – آیت 93)

اور یہ لوگ کہنے لگے کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گےجب تک تم ہمارے لئے زمین میں سے چشمے  نہ جاری  کردو۔ یا تمہارا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اور اس کے بیچ میں نہریں بہا لو۔ یا جیسا کہ تم کہا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے لا گراؤ یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آؤ۔ یا تمہارا سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہ مانیں گے جب تک کوئی  کتاب  نہ لے آؤ جسے ہم پڑھ بھی لیں ، کہہ دو کہ میرا رب ان باتوں سے پاک ہے میں تو سوائے اس کے اور کچھ بھی نہیں کہ ایک پیغام پہنچانے والا بشر ہوں ۔

مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے کہا کہ واہ! یہ کیا بات ہوئی، ہمارے رسولﷺنے تو آسمانوں کی مکمل سیر بھی کی اور یوم قیامت سے پہلے ہی سارے جنت  اور جہنم والوں کے احوال کا مشاہدہ بھی کر لیا۔ بلکہ آپ ﷺ تو اب بھی اپنی قبر میں زندہ ہیں اور جہاں جہاں بھی آپﷺ پر درود و سلام پڑھا جاتا ہے وہاں حاضر بھی ہو جاتے ہیں۔

آلِ رسول ﷺ کا عقیدہ

القرآن نے واضح الفاظ میں حکم دیا کہ اولاد کو ان کے باپ کے نام سے پکارو۔

مَّا جَعَلَ اللّـٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِىْ جَوْفِهٖ ۚ وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ اللَّآئِىْ تُظَاهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهَاتِكُمْ ۚ وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ ۚ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ ۖ وَاللّـٰهُ يَقُوْلُ الْحَقَّ وَهُوَ يَـهْدِى السَّبِيْلَ (4) اُدْعُوْهُـمْ لِاٰبَآئِهِـمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّـٰهِ ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوٓا اٰبَآءَهُـمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِى الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَآ اَخْطَاْتُـمْ بِهٖ وَلٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا (سورہ الاحزاب ۔ آیت 5)

اللہ نے کسی مرد کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے اور نہ تمہاری ازواج کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو ، تمہاری ماں بنایا، اور نہ ہی تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا۔ یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں جب کہ اللہ تمہیں سچی بات بتاتا ہے اور وہی سیدھا رستہ دکھاتا ہے۔ لے پالکوں کو ان کے اصلی باپوں کے نام سے پکارا کرو کہ اللہ کے نزدیک یہی بات درست ہے، اگر تم کو ان کے باپ کا نام معلوم نہ ہو تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ، اور جو بات تم سے غلطی سے ہو گئی ہو اس میں کوئی پکڑ نہیں لیکن جو قصداً دل سے کرو گے اس پر گرفت ہو گی، اور اللہ تو غفور رحیم ہے۔

اس کے ساتھ ہی القرآن نے کہا کہ رسولﷺ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں۔

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّـٰهِ وَخَاتَـمَ النَّبِيِّيْنَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمًا (سورہ الاحزاب – آیت 40)

محمدﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں اور اللہ ہر شےسے بخوبی واقف ہے۔

مگر لوگوں نے آلِ رسول ﷺ بنا ڈالے اور ایک باقاعدہ خود ساختہ نسل سادات کے نا م سے چلا دی۔ اس نسل کے بارے میں عجیب و غریب روایات بنائیں اور کم و بیش اس نسل کو وہی مقام دے دیا جو ہندوؤں کے یہاں برہمن کا ہے۔ ہندوؤں کے یہاں برہمن سب سے اونچی جاتی (نسل) ہے جن کے بارے میں ان کے ویدوں میں لکھا ہے کہ یہ برہما کے سر سے پیدا ہوئے ہیں۔ القرآن کہتا ہے کہ یہ سب کچھ نہیں بس چند نام ہیں جو تم نے وضع کر لئے ہیں۔

اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْـمَـآءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْـتُـمْ وَاٰبَآؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ بِـهَا مِنْ سُلْطَانٍ ۚ (سورہ النجم – آیت 23)

یہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں ، اللہ نے تو ان کے لئے کوئی سند نہیں نازل کی۔

کیا رسول ﷺ نے پادریوں سے علوم سیکھے ۔ القرآن نے واضح کر دیاا کہ رسولﷺ اعلان نبوت سے قبل لکھنے پڑھنے کا شغل نہیں کیا کرتے تھے، اور نہ ہی یہ جانتے تھےکہ کتاب اور ایمان کیا  ہیں۔

وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِـهٖ مِنْ كِتَابٍ وَّلَا تَخُطُّهٝ بِيَمِيْنِكَ ۖ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ (سورہ العنکبوت – آیت48)

اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اس کو اپنے ہاتھ سےلکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے۔

وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ۚ مَا كُنْتَ تَدْرِىْ مَا الْكِتَابُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنَاهُ نُـوْرًا نَّهْدِىْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَاِنَّكَ لَتَهْدِىٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِـيْمٍ (سورہ الشوریٰ – آیت 52)

اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعہ وحی بھیجی، جب کہ تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو، لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور بلاشبہ تم صراطِ مستقیم کی جانب رہنمائی کرتے ہو۔

مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے کہا کہ اعلانِ نبوت سے قبل بحیرہ نامی عیسائی راہب سے اور بعد میں ورقہ بن نوفل نامی اشخاص سے آپﷺ نے پچھلی آسمانی کتابوں کے علوم سیکھے تھے۔

قیامت میں رسولﷺ شفاعت کریں گے یا شکایت

القرآن نے کہا کہ رسول ﷺ کو نفع یا نقصان پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں۔

قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّىْ وَلَآ اُشْرِكُ بِهٓ ٖ اَحَدًا (20) قُلْ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا (سورہ الجن – آیت 21)

کہہ دو کہ میں تو صرف اپنے رب کو ہی پکارتا ہوں اور اس میں شرک نہیں کرتا۔ یہ بھی کہہ دوکہ میں تمہارے حق میں نفع یا نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔

اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ قرآن کریم نے رسولﷺ سے کہلوا دیا۔

قُلْ اِنِّـىٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّىْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْـمٍ (سورہ الانعام – آیت 15)

کہہ دو کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔

ان قرآنی اعلانات کے بالکل مخالف مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے یہ عقیدہ عام لوگوں کے دل و دماغ میں پیوست کر دیا کہ جتنا جی چاہے غلط کاریاں کر لو ، اللہ سے معافیاں مانگتے رہو، کیونکہ اللہ کو خوشامد بہت پسند ہے، بلکہ اگر غلط کاریاں نہ کرو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسری بداعمال قوم کو لے آئے گا تاکہ وہ یہ کام کریں ، پھر معافیاں مانگیں ، سمجھ میں ںہیں آتا کہ پھر القرآن نے پچھلی قوموں کی تباہیوں اور بربادیوں کی داستانیں کیوں بیان کی ہیں ، ساتھ ہی ہماری مذہبی پیشوائیت نے یہ عقیدہ لوگوں کے دلوں میں راسخ کر دیا کہ رسول ﷺ قیامت کے روز ساری امت کے شفیع بن کران کو جنت میں لے جائیں گے۔ حالانکہ القرآن میں رسولﷺ کے شفیع ہونے کا تو کوئی ذکر ہی نہیں البتہ بروزِ قیامت ان کی شکایت کی بات تو صاف الفاظ میں کی گئی ہے۔

وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ اِنَّ قَوْمِى اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا (سورہ الفرقان – آیت 30)

اور رسولﷺ کہیں گے کہ اے میرے رب! بلاشبہ میری قوم نے اس قرآن کو "مہجور” بنا رکھا تھا۔

عقل و فکر کی دعوت

القرآن نے رسولﷺ سےاللہ کی زبانی کہلوا دیا کہ

قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِـىٓ اَدْعُوٓا اِلَى اللّـٰهِ ۚ عَلٰى بَصِيْـرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِىْ ۖ وَسُبْحَانَ اللّـٰهِ وَمَـآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (سورہ یوسف – آیت 108)

کہہ دو کہ میرا یہی طریق ہے کہ میں لوگوں کو اللہ کی طرف دلیل کی بنیادپر بلاتا ہوں، میرا بھی اور میری اتباع کرنے والوں کا بھی یہی طریقہ ہے، اور یہ کہ اللہ شرک سے پاک ہے اور میں ہرگز مشرکین میں سے نہیں ہوں

دوسری جگہ اعلان کروایا گیاکہ

قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ ۖ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّـٰهِ مَثْنٰى وَفُرَادٰى ثُـمَّ تَتَفَكَّـرُوْا ۚ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّـةٍ ۚ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ (سورہ سبا – آیت 46)

کہہ دو کہ میں تم کو صرف ایک بات سمجھاتا ہوں  وہ یہ کہ تم اللہ کے لئے دو دوو ، ایک ایک کرکے کھڑے ہو جاؤ پھر سوچو تمہارا ساتھی مجنوں نہیں،  وہ تو صرف تمہیں آنے والے سخت عذاب سے آگاہ کرتاہے۔

مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے سوچنے اور غوروفکر کرنے کو حرام قرار دے دیا۔ کوئی زیادہ اصرار کرے تو اس کو یہ کہہ کر خاموش کرادیا جاتا ہے کہ جو کچھ سوچا اور سمجھا جانا تھا وہ ہمارے اسلاف سوچ چکے، سمجھ چکے‼ اب چاہے حالات کتنے ہی تبدیل کیوں نہ ہو جائیں مزید کچھ غوروفکر کرنے کی اجازت نہیں۔ حالانکہ ان پیشوانِ مذہب کے پاس اس امر کا کوئی بھی حتمی ثبوت نہیں کہ وہ جن بزرگوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔ ان کی تحریر کردہ کوئی شے ان کے پاس ہے بھی یا نہیں ، یا بعد کے لوگوں نے اپنی طرف سے وہ باتیں لکھ کر پچھلے لوگوں سے منسوب کردی ہیں۔

پہلی وحی کی کہانی

القرآن نے بتایا کہ نزول وحی کے سلسلے میں اللہ نے جو نشانیاں رسولﷺ کو دکھائیں ان کو نہ تو ان کے دل نے جھوٹ جانا اور نہ ہی ان کی نگاہ نے دوسری جانب توجہ کی، نہ ہی حد سے آگے بڑھی۔

فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى (10) مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى (سورہ النجم – آیت 11)

پھر ہم نے اپنے عبد پر وحی کی جو کچھ وحی کرنا تھی۔ اس کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جاناجو اس نے دیکھا

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى (17) لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْـرٰى (سورہ النجم – آیت 18)

اس کی نگاہ نہ تو ہٹی اور نہ حد سے بڑھی۔ بے شک اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں۔

مذہبی پیشواؤں نے افسانہ تراشا کہ وحی ملنے کے بعد آپﷺ پسینےمیں تر، خوف کے عالم میں گھر لوٹے اور آپﷺ کو تسلی اس وقت ہوئی جب ورقہ بن نوفل نامی ایک عیسائی راہب نے آپﷺ کو مقام نبوت پر سرفراز ہونے کی مبارکباد دی۔ قابلِ غور امر یہ ہے کہ وہ عیسائی راہب پھر بھی مسلمان نہ بنا۔ !  یاللعجب‼۔

قرآن مکمل ضابطۂ حیات نہیں‼

القرآن کے ذریعہ اللہ نے رسول اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ

وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَـهُـمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ وَلَا تَتَّبِــعْ اَهْوَآءَهُـمْ (سورہ المائدہ – آیت 49)

تمہیں تاکید کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کے درمیان کی نازل کردہ (کتاب) کے مطابق فیصلے کیا کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔

مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے کہا کہ ہرمعاملے میں القرآن رہنمائی نہیں کرتا چنانچہ ہم روایات اورفقہوں کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ جب کہ القرآن خود اپنے بارےمیں دعویٰ کرتا ہے کہ یہ کتاب

تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَىْءٍ(سورہ النخل – آیت 89)

ہر شے کی وضاحت کرتی ہے۔

مِنْ كُلِّ مَثَلٍ (سورہ الزمر- آیت 28، سورہ الروم – آیت 58)

ہر طرح کی مثال دیتی ہے۔

اَوَلَمْ يَكْـفِهِـمْ اَنَّـآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ(سورہ العنکبوت – آیت 51)

کیا ان کے لئے کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کر دی ہے۔

غلام اور لونڈیاں

قرآن حکیم نے رسولﷺ کی بعثت کا مقصد یہ بتایا کہ

وَيَضَعُ عَنْـهُـمْ اِصْرَهُـمْ وَالْاَغْلَالَ الَّتِىْ كَانَتْ عَلَيْـهِـمْ ۚ (سورہ الاعراف – آیت 157)

وہ (نسلِ انسانی) کے بوجھ اور گردنوں  کے طوق کو اتار پھینکیں گے، جس میں لوگ دبے ہوئے تھے۔

مذہبی پیشوائیت نے اس واضح مقصدِ دین کے بالکل برخلاف غلاموں اور لونڈیوں کا خود ساختہ جواز بنا لیا۔

المزمل

القرآن نے رسولﷺ کو ‘المزمل’ کہہ کر پکارا ہے۔ اس لفظ کے ایک معنی تو کپڑوں میں لپٹ جانے والے یا ذمہ داریوں سے تغافل اور کوتاہی برتنے والے کے ہیں اور اسی لفظ کے دوسرے معنی ہیں بہترین اور متوازن رفیق سفر بنانے والےکے ہیں جوآسانیوں اور مشکلات میں ہمیشہ بہترین ساتھی ثابت ہوں۔ مسلم قوم کے مذہبی پیشوایان نے ‘المزمل’ کے معنی کمبل اوڑھنے والے کے کر دئیے اور بلند ترین تصور کو چھوڑ دیا، جس کے مطابق ‘المزمل’ کسی کاروان کا  وہ قائد ہوتا ہے جو منزل تک پہنچنے کے لئے بہترین رفقائے سفر کا انتخاب کرے۔

المدثر

القرآن نے رسول اکرمﷺ کو ‘المدثر’ بھی کہہ کر پکارا ہے، جس کے ایک معنی  تو کپڑا اوڑھنے والے کے ہیں اور دوسرے معنی معاملات کو سنوارنے والے کے ہیں، یا ایسی ہستی جو خزاں دیدہ چمن میں بہار لانے کا موجب بن جائے۔ مسلم قوم کے مذہبی پیشواؤں نے ‘المدثر’ کے معنی کپڑا اوڑھنے والےکے کر دئیے اور بلند تصور کو چھوڑ دیا، جس کے مطابق رسول اکرم ﷺ ایک ایسے رہبر و ہادی کی صورت میں نظر آتے ہیں جو دنیائے انسانیت کو ایک لڑی میں پرو دینے والی ہو، جس کے نتیجے میں خزاں رسیدہ چمن انسانیت میں بہار لہلہا اٹھے۔ بقول علامہ اقبالؒ

نگاہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُر سوز یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لئے

سیرت رسولﷺ

اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ کی بلندئ کردار کی شہادت قرآنِ کریم میں ان الفاظ میں دی ہے۔

وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِـيْمٍ (سورۃ القلم – آیت 4)

بلاشبہ آپﷺ کردار (خلق) کی عظیم ترین بلندی پر ہیں۔

مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے رسول اکرمﷺ کی سیرتِ مبارکہ کے بارے میں ایسے ایسے افسانے تراشے کہ ان افسانوں کی بنیاد پر ‘رنگیلا رسول’ اور ‘شیطانی آیات’ جیسی بدنام زمانہ کتابیں لکھی گئیں۔ ایسی کتابوں کے لئے مواد کا کام مسلم قوم میں موجود "غیر از قرآن” کتب نے ہی سر انجام دیا۔

عشقِ رسول ﷺ کا افسانہ

القرآن نے کہا کہ

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِـهِ الرُّسُلُ ۚ اَفَاِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُـمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّـٰهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِى اللّـٰهُ الشَّاكِرِيْنَ (سورۃ آل عمران – آیت 144)

اور محمدﷺ سوائے  ایک رسول کے اور کیا ہیں؟ ان سے قبل بہت سے رسول گزر چکے، تو اگر ان کا انتقال ہوجائے یا وہ قتل ہی ہو جائیں تو کیا تم الٹے پھر جاؤ گے؟ جو شخص اپنی پچھلی روش پر لوٹ جائے گا وہ اللہ کا کیا نقصان کر سکتا ہے؟ اللہ شاکرین کو جلد ہی جزا دے گا۔

مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے عشقِ رسولﷺ کا عقیدہ تراش لیا۔ دین کے اس بنیادی مقصد کو جو القرآن نے بتایا تھا ، اور جو کہ رسولﷺ کا مشن تھا، اس کو پس پشت ڈال کرجنت کے حصول کا ذریعہ صرف اور صرف عشقِ رسولﷺ بنا لیا۔ اور عشق بھی خون دینے والے’مجنوں’ کا نہیں  بلکہ دودھ پینے والے ‘نقلی قیس’ کا۔ تن آسان، بڑھی ہوئی توند، مرغن غذائیں کھانے والے، اونچے محل نما مکانوں میں رہنے والے، بزدل، کم ہمت ، امت کا شیرازہ بکھیرنے والے، اور دعویٰ عشق ِ رسول ﷺ کا۔

القرآن نے جنت کے حصول کے بارے میں کہا ہے کہ

اَمْ حَسِبْتُـمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّـذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ مَّسَّتْهُـمُ الْبَاْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّـٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مَعَهٝ مَتٰى نَصْرُ اللّـٰهِ ۗ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّـٰهِ قَرِيْبٌ (سورۃ البقرہ – آیت 214)

کیا تم اس گمان میں ہو کہ یونہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ اب تک تم پر ایسا وقت آیا ہی نہیں جیسا تم سے پہلے لوگوں پر آیا تھا، ان پر ایسی زلزلہ انگیز تنگی اور سختی واقع ہوئی تھی کہ اس وقت رسول اور ان کے ایمان والے ساتھی بھی پکار اٹھےتھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے! جان رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔

اختتامیہ

مسلم قوم کی مذہبی پیشوائیت نے "القرآن” اور "اسوۂ حسنہ” کے ساتھ جس جس طرح بددیانتی کی ہے ان سب کا مکمل احاطہ کرنے کےلئے تو ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے، ہم نے محض اجمالی طور پر چند بنیادی پہلوؤں پر ہی نظر ڈالی ہے، کیونکہ ہمارے پیشِ نظر صرف ان اسباب کا جائزہ لینا ہے جن کی وجہ سے مسلم قوم ذلت اور پستی کا شکار ہے۔

ہم بلاخوف تردید کر سکتے ہیں کہ اگر مسلم قوم نے "الدین الاسلام” کی ان دو بنیادوں کو اپنا لائحہ عمل بنائے رکھا ہوتا تو اللہ کے قوانین کے مطابق کوئی وجہ نہ تھی کہ ان کودنیا میں دیگر قوموں پر برتری اور سرفرازی نہ ملتی اور آخرت میں ان کا مقام بلند نہ ہوتا۔۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اس "الدین الاسلام” کی خودمحافظت کی ہے تاکہ اس میں خارجی عناصر کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ اللہ کے احکام مکمل و مفصل طور پر "القرآن” میں محفوظ ہیں، اور رسول ﷺ کا اسوۂ حسنہ بھی اسی القرآن میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا گیا ہے۔ لیکن ہماری مذہبی پیشوائیت اللہ کے احکام کو فقہ کی کتابوں میں اور "اسوۂ حسنہ” کو سوانح حیات کی کتابوں میں تلاش کرتی ہے اور انہی پر اصرار کرتی ہے۔ انہی وجوہ کی بناء پر ان میں فرقوں پر فرقے بنتے چلے جاتے ہیں اور ہر فرقہ مذہبی جنون کی شکل اختیار کرکے دوسروں سے دست و گریباں رہتا ہے۔ چنانچہ مسلم قوم کی صورتِ حال کی مثال یوں دی جا سکتی ہے جس طرح ایٹمی انشقاق کے عمل میں صرف پہلے ایٹم کے ٹوٹنے کی دیر ہوتی ہے۔ اس کے بعد اتنی توانائی ایک زنجیر کی صورت میں تیزی سے خارج ہونے لگتی ہے ، جو بقایا ایٹموں کو خود بخود توڑنا شروع کردیتی ہے۔ اسی طرح مسلم قوم کے ٹوٹ پھوٹ اور زوال کا عمل بھی جاری ہے۔ القرآن نے اس کو یوں بیان کیا ہے۔

وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (سورۃ الحج – آیت 31)

تو جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، اس کی مثال یوں ہے کہ جیسے وہ آسمان سے گر پڑا، پھر پرندوں نے اس کی بوٹیاں نوچ لیں، یا اس کو ہوا نے دور دراز مقام پر جا پھینکا۔

اس طرح جب القرآن کو "مہجور” بنا دیا گیا اور رسول اللہ ﷺ کی خود تصوراتی تشکیل کر لی گئی، وہ بھی اس انداز میں کہ ہر فرقے اور ہر گروہ کا رسولﷺ الگ الگ دکھائی دیتا ہے، تو ذلت و خواری، پستی اور محکومی کے باقی ماندہ اسباب تو از خود مہیا ہوتے چلے گئے۔ ملت کی تقسیم در تقسیم ہو تی چلی گئی اور ہنوز ہو تی چلی جارہی ہے۔ فرقوں پر فرقے ، سیاسی فرقے، مذہبی فرقے، فقہوں کا ہجوم، اہل طریقت کے دیومالائی فلسفے، تقلید آباء کی دھن، ہرگز وہ اپنےحال میں مست تیزی سے نیچے ہی نیچے لڑھکتا چلا جا رہا ہے۔ہر آستانے سے، ہر بارگاہ سے، ہر عبادت خانے سے ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے۔

 بَلْ نَتَّبِــعُ مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا ۗ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُـمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْئًا وَّلَا يَـهْتَدُوْنَ (سورۃ البقرہ – آیت 172)

بلکہ ہم تو اسی پر کاربند رہیں گے جس پرہمارے بزرگ رہے ہیں، خواہ ان کے بزرگ عقل سے عاری اور ہدایت سے بے بہرہ ہی کیوں نہ رہے ہوں، اور یہ کہ

حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا ۚ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَيْئًا وَّلَا يَـهْتَدُوْنَ (سورۃ المائدہ – آیت 104)

ہمارے لئے وہی کافی ہےجس پر ہم نے اپنے بزرگوں کو چلتے ہوئے دیکھا ہے، خواہ ان کے بزرگ نہ تو کسی بات کا علم رکھتے رہے ہوں  اور نہ ہی وہ ہدایت پر رہے ہوں۔

القرآن واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ بزرگوں کی تقلید کی کوئی سند نہیں۔

قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَيْـهَآ اٰبَآءَنَا وَاللّـٰهُ اَمَرَنَا بِـهَا ۗ قُلْ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ ۖ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّـٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (سورۃ الاعراف – آیت 28)

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طریقے پر دیکھا ہے چنانچہ لازماً اللہ نے بھی یہی حکم دیا ہوگا، کہہ دو کہ اللہ ہرگز فحشا کا حکم نہیں دیتا، کیا یہ لوگ اللہ کی نسبت ایسی باتیں کرتے ہیں ، جس کا انہیں علم ہی نہیں ہوا کرتا۔

قرآن حکیم نے کبھی تقلید کو مستحسن عمل قرار نہیں دیا، بلکہ وہ اپنی دعوت بصیرت کی بنیاد پر دیتا ہے۔

قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِـىٓ اَدْعُوٓا اِلَى اللّـٰهِ ۚ عَلٰى بَصِيْـرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِىْ ۖ (سورۃ یوسف – آیت 108)

کہہ دو کہ یہ میرا رستہ ہے کہ میں لوگوں کو اللہ کی طرف "علی بصیرۃ” بلاتا ہوں، میں بھی اور جومیری اتباع کرتے ہیں وہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

قرآن کریم کاواضح اعلان ہےکہ

 اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُـوْلًا(سورۃ بنی اسرائیل – آیت 36)

بلاشبہ سماعت، بصارت اور محسوسات ہر چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

چنانچہ القرآن کا مطالبہ ہے کہ علم و عقل کے ان ذرائع کو استعمال میں لاتے ہوئے اللہ کے عطا کردہ ضابطۂ حیات پر غوروفکر کیا جائے۔

وَاَنْزَلْنَـآ اِلَيْكَ الـذِّكْرَ لِتُـبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْـهِـمْ وَلَعَلَّـهُـمْ يَتَفَكَّـرُوْنَ (سورۃالنخل – آیت 44)

اور ہم نے اس "ذکر” کو تم پر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو واضح طورپر بتادو کہ ان کےلئے کیا کچھ نازل ہوا ہے اور تاکہ وہ لوگ اس پر غوروفکر کر سکیں۔

دوسرے مقام پر ارشادِ الہی ہےکہ

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُـهَا (سورۃ محمد – آیت 24)

تو کیا یہ لوگ القرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔

القرآن اپنے ماننے والوں کی ایک ایسی علامت بیان کرتاہے جس کی مثال پوری دنیا کی اور کوئی کتاب، مذہب یا نظریہ نہیں پیش کر سکتا۔

وَالَّـذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيَاتِ رَبِّـهِـمْ لَمْ يَخِرُّوْا عَلَيْـهَا صُمًّا وَّعُمْيَانًا (سورۃ الفرقان – آیت 73)

اور یہ لوگ ایسے ہیں کہ جب ان کے سامنے ان کے رب کی آیات پیش کی جاتی ہیں تو وہ ان پر بھی اندھے  اور بہرے بن کر نہیں گر پڑتے۔

تمام دلائل و براہین بیان کرنے کے بعدالقرآن بیان کرتا ہے کہ

اَوَلَمْ يَكْـفِهِـمْ اَنَّـآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلٰى عَلَيْـهِـمْ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَرَحْـمَةً وَّّذِكْرٰى لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُـوْنَ (سورۃ العنکبوت – آیت 51)

کیا ان لوگوں کے لئے کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر  کتاب نازل کی ہے جو ان پر تلاوت کی جاتی ہے، بلاشبہ اس میں  اس قوم کے لئے رحمت اور نصیحت ہے، جو ایمان والی ہے۔

اگر آج بھی  مسلم قوم  حضرت عمر﷜ کا وہ جذبۂ ایمانی لے کر اٹھ کھڑی ہو جس کے تحت انہوں نے فرمایا تھا، حسبنا کتب اللہ (ہمارے لئے اللہ کی کتاب ہی کافی ہے) تو کوئی سبب نہیں کہ ان کو حیاتِ ارضی میں بھی کامیابیاں اور کامرانیاں ملیں اور آنے والی زندگی میں بھی وہ فوزو فلاح پائیں۔ کیونکہ القرآن کا وعدہ ہے کہ یہ مکمل خیر ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کی دنیا اور آخرت حسین ہو جاتی ہے۔

 لِّلَّـذِيْنَ اَحْسَنُـوْا فِىْ هٰذِهِ الـدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۚ وَلَـدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْـرٌ ۚ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ (سورۃ النخل – آیت 30)

جو لوگ حسن کارانہ اعمال سر انجام دیتے ہیں ان کی موجودہ دنیا بھی حسین ہو جاتی ہے اور آخرت بھی بہترین ہو جاتی ہے۔

ختم شد


[1] ۔ صلوۃ۔ قرآن کریم کی ایک خاص اصطلاح "اقامت صلوٰۃ” ہے۔ جس کے عام معنی نماز قائم کرنا یا نماز پڑھنا کئے جاتے ہیں۔لفظ صلوٰۃ کا مادہ (ص – ل – و) ہے جس کے بنیادی معنی کسی کے پیچھے پیچھے چلنے کے ہیں۔ اس لئے صلوٰۃ میں قوانین الہی کے اتباع کا مفہوم شامل ہوگا۔بنابریں، اقامت صلوٰۃ سے مفہوم ہوگا۔ ایسے نظام یا معاشرہ کا قیام جس میں قوانین  الہی کا اتباع کیا جائے۔ یہ اس اصطلاح کا وسیع اور جامع مفہوم ہے۔ نماز کے اجتماعات میں قوانین الہی کے اتباع کا تصور، محسوس اور سمٹی ہوئی شکل میں سامنے آ جاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے اس اصطلاح کو ان اجتماعات کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ قرآنی آیات پر تھوڑا سا تدبر کرنے سے واضح ہو جاتا ہےکہ کس مقام پر "اقامت صلوٰۃ” سے مراد اجتماعات نماز ہیں اور کس مقام پر "قرآنی نظام  یا معاشرہ کا قیام” (ادارہ)

کے متعلق: views

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

فرقہ بندی

قرانِ حکیم نے حقائقِ کائنات پر غوروفکر کی دعوت ہی نہیں دی بلکہ بار بار تاکید …

عروج و زوال

قوموں کے عروج و زوال کا ابدی قانون تاریخ کیا ہے؟ اس کے بارے مختلف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!