جمعرات - 23 - ستمبر - 2021
اہم تحاریر

تحقیقاتِ اعادہِ شباب

قیام شباب اور اعادہ شباب اور طویل عمری کے لئے ادویات اور علاج

غذا کی اہمیت

غذا کےلئےصرف اسی ایک ہی سنہری اصول کو مدنظر رکھیں کہ بغیر شدید بھوک کے غذاکے پاس نہ جائیں اور جب غذاکھائیں تو بھی نصف کے قریب بھوک باقی ہوتو غذا چھوڑ دیں گویا بھوک ہمیشہ لگی رہے اور وہ ختم نہ ہوکیونکہ جس قدر شدید بھوک ہوگی اسی قدر شدید قوت باہ وانتشار اور قوت رجولیت زیادہ ہوگی۔ سالہا سال کے تجربہ سے ظاہرہے کہ جو ادویات مشتہی ہوتی ہیں وہی مبہی بھی ہوتی ہیں گویا پیٹ کی بھوک اور جنسی بھوک کا تعلق لازم ملزوم ہے یہی وجہ ہے کہ غربا میں بھی جنسی قوت ان کی بھوک کی طرح زیادہ ہوتی ہے اور یہی راز ہے جس سے ان کی اولاد زیادہ ہوتی ہے۔ امراء جو مرغ و تیتر بیٹر، مرغن پلاؤ ، قورمے اور متنجن، حلوے و سوہن حلوے اور حریرے ، کیک و پیسٹریاں اور دیگر مٹھائیاں کھاتے ہیں ان کی بھوک اکثر ختم ہوجاتی ہے جس سے ان کی جنسی بھوک بھی کم ہوجاتی ہے وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے معجونوں و یاقوتیوں اور سونا چاندی کے کشتہ جات اور شراب کا سہارا لیتے ہیں پھر بھی وہ ایک غریب انسان سے جس کی غذا خشک روٹی اور کچا پیاز ہوتی ہے مقابلہ نہیں کرسکتے اس لئے ان کی اولاد ہوتی ہے تو اول جوانی میں ہوجاتی ہے۔ ادھیڑ عمر میں اکثر نہیں ہوتی ہے اور اکثر امراء اور روساء ہی کو دائمی نزلہ رہتا ہے جو قبل از وقت بڑھاپے کی سب سے بڑی علامت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اعضائے رئیسہ دل دماغ اور جگر جلد جواب دے دیتے ہیں اور ادھیڑ عمر ہی میں ذیابیطس و فالج اور غرب القلب(Heart Failure) کے شکار ہوجاتے ہیں۔ اس قیام شباب اور طویل عمری کے لئے لازم ہے کہ شدید بھوک کے بعد نصف غذاکھائی جائے مگر ضرورت کے مطابق اور ضروری خوراک کھانا لازمی ہے۔ علاج میں غذا، دوا کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

ادویات کا استعمال

آیورویدک اور طب یونانی میں قیام شباب اور اعادہ شباب کے متعلق بہت سی ادویات اور بے شمار مجربات تحریر ہیں مگر فرنگی طب اس مقصد میں سوائے خلاصہ غدد اور جوہر خصیتین کے کوئی دوا نہیں ہے اور حققیقت یہ ہے کہ خلاصہ غدد اور جوہر خصیتین میں ایسی کوئی خوبی نہیں ہے کہ قیام شباب و اعادہ شبا ب اور طویل عمری کے لئے ان کو استعمال کیا جائے۔ البتہ ان سے عارضی طورپر جسم انسان میں جوش ضرور پیداہوجاتا ہے مگر وہ بہت جلد نہ صرف ختم ہوجاتا ہےبلکہ اس کا رد عمل بے حد خوفناک ہوتا ہے جس سے صحت اور قوت پہلے سےبھی خراب ہوجاتی ہے کیونکہ اس کا اثر کیمیائی ہوتا ہے مشینی نہیں ہوتا۔ اطباء نے بھی حیوانی اعضاء کو انسانی اعضاء کی تقویت کے لئے استعمال کیا ہے لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ ان کا اثر صرف تھوڑے عرصہ تک رہتا ہے اور اگر غدد اور خصیتین کی خرابی سے صحت اورقوت میں نقص ہوتو اور بھی ان پر بُرا اثر پڑتاہے۔ البتہ حیوانی اعضاء کا استعمال دیگر مقوی ادویات کےہمراہ کیاجائے تو کوئی شک نہیں ہے کہ ان سے بے حد فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

ادویات کا استعمال بالمفرداعضاء

ادویات کا استعمال کرنے سے قبل اس امرکاضرور تعین کرلیں کہ اعضائے رئیسہ میں سے کس عضو میں نقص ہے تاکہ نہ صرف علاج کامیاب رہے بلکہ نقصان کا خطرہ باقی نہ رہےمثلاً دل کے فعل میں تیزی ہے اور دوا بھی دل کے فعل میں تیزی پیداکرنےوالی ہے یا پٹھوں میں سوزش ہے اور دوا بھی مقوی اعصاب ہے تو لامحالہ نقصان ہوگا یہی صورت جگر کی بھی ہے ہم نے ہر عضو کی علیحدہ علیحدہ علامات بیان کردی ہیں اور آئندہ بھی لکھ دیں گے۔

بڑھاپے کی حقیقت پھر ذہن نشین کرلیں

گزشتہ صفحات میں تفصیل کے ساتھ بڑھاپے کی حقیقت برمبنی علمی وعملی اور تجرباتی اور مشاہداتی روشنی ڈالتے رہے ہیں۔ لیکن اس خیال سے کہ شاید سمجھنے میں کوئی کسر رہ گئی ہو تو چند الفاظ میں بڑھاپے کو اس طرح سمجھ لیں کہ جو رطوبت اور حرارت خلیات (سلمہ) ذرات حیوانی میں پائی جاتی ہے ان میں خرابی واقع جاتی ہے۔ جس کو اطباء اور حکماء انسانی غذاکا چوتھا ہضم کہتے ہیں اور ہم اس کو رطوبت غریزی اور حرارت غریزی کہتے ہیں۔ (1)۔ ان میں کمی بیشی واقع ہوجاتی ہے۔ (2)۔ ان میں خرابی واقع ہوجاتی ہے یعنی وہ اپنی صحت مند حالت اور صحیح مزاج پر قائم نہ رہیں۔(3)۔ ان میں تعفن اور فساد پیداہوجائے۔ بس ان تینوں صورتوں سے خوفناک امراض اور بڑھاپا شروع ہوجاتا ہے۔

بڑھاپا اور ضعف جنسی کے اقسام

اگرچہ گزشتہ صفحات میں بڑھاپا اور ضعف جنسی قوت کی اقسام پر بھی تفصیلاًروشنی ڈال چکے ہیں لیکن خلاصتاًاس کو پھر ذہن نشین کراتے ہیں کہ علاج میں سہولیتں رہیں۔ یعنی بڑھاپا اور جنسی قوت کی کمزوری تین قسم کی ہوتی ہے۔ (1)۔ عصبی خلیات میں خرابی۔(2)۔ عضلاتی خلیات میں ضعف ۔(3)۔ غدی خلیات میں حرارت کی کمی۔ یہ تینوں خلیات ہی ہر قسم کے اعضاء بناتے ہیں۔ دل دماغ اورجگر جو ان کے مرکز بھی ہیں۔ یہ تینوں لازم ملزوم بھی ہیں اور ان کاایک دوسرے پر اثربھی پڑتا ہے۔ جن کی تفصیل ہم اپنی کتاب "تحقیقات نزلہ زکام” میں لکھ چکے ہیں۔ اس لئے علاج میں اول اسی خاص عضوکو مدنظر رکھیں تاکہ نہ صرف اس عضو کے خلیات درست ہوسکیں بلکہ اس کااثر باقی اعضائے رئیسہ پر بھی فطرت کے مطابق صحیح ردعمل ہوگا۔ علاج میں ایسی کوشش نہ کریں کہ ایسی ادویات کو شامل کرنے کی کوشش کریں کہ ان میں سےچند دن کےلئے مفید ہوں، چند دماغ اور چند جگر کے لئے مقوی خیال کرلی جائیں۔ اس طرح کرنے سے بجائے فائدہ کے نقصان ہوگا۔

جاننا چاہیے کہ قدرتاً جسم اس طرح بنا ہوا ہوتاہے کہ اس کے مفرد اعضاء بیک وقت بیمار نہیں ہوتے اور دوسرے طبیعت مدبرہ بدن ان کی حفاظت کرتی ہے اول ایک بیمار ہوتا ہے اور پھر دوسرا اور آخر میں تیسرے کی باری آتی ہے اور یہ تینوں ہی فعلی خلیات سے تیار ہوتے ہیں ان کی موت ہی صحیح موت ہوسکتی ہے۔ اس لئے جس عضو میں خرابی و سکون ہو اس کو ہی رفع کریں اور رفتہ رفتہ باقی اعضاء اور تمام جسم اصلاح پذیر ہوجائے گا۔

یہ نظریات اور اصول ہمارےذاتی بیس سالہ تحقیقات ہیں ہمارا دعویٰ ہے کہ اس سے قبل دنیا طب اور سائنس میں یہ تحقیقات نہیں کی گئیں۔ جو شخص یہ ثابت کردے کہ نظریہ مفرداعضاء اور اس کے تحت قیام شباب اور اعادہ شباب اور طویل عمری پرتحقیقات ہوچکی ہیں تو ہم چیلنج کرتے ہیں اور ثابت کرنے والے کومبلغ پانچ ہزار روپیہ انعام دیں گے۔

ادویات کا تعین

آیورویدک اور طب یونانی میں جو ادویات بیان کی گئی ہیں وہ بلمفرداعضاء کے تحت بیان نہیں کی گئیں اور نہ ہی ان میں یہ تخصیص کی گئی ہے کہ فلاں خرابی یا مرض جو بڑھاپا پیداہوااس کو مدنظر رکھ کر فلاں نسخہ استعمال کرائیں۔ اس لئے ان کو بغیر تخصیص اور صحیح استعمال کے ان سے فائدے کی امید رکھنا اچھانہیں ہے ہم یہ کوشش کریں گے کہ اول مفرد ادویات جو خصوصیات کے ساتھ قیام شباب و اعادہ شباب اورطویل عمری کے لئے مفید ہیں یایقینی و بے خطا ہیں تحریر کریں گے۔ اس کے بعد مجربات اور مرکبات تحریر کریں گے تاکہ اہل فن اور صاحب علم پورے طورپر مستفید ہوسکیں۔ البتہ وہ درست بہت زیادہ استفادہ حاصل کرسکیں گے جوپہلے ہی نظریہ مفرد اعضاء سے واقف ہیں۔ حقیقت ہے کہ آنے والے دور میں معالج کامیاب ہوسکے گاجو نظریہ مفرد اعضاء سے واقف ہو۔ یہ ایٹم کا دور ہے ہر چیز کا تجربہ و تجزیہ ہوتا ہے ہم نےنہ صرف اعضاء کا تجزیہ کیا ہے بلکہ اس کوایٹم کی حد تک پہنچا دیاہے اس سے زیادہ تجزیہ ناممکن ہے کیونکہ ایٹم کے بعد ذرات کے برقیے بن جاتے ہیں۔ اس لئے ہمارا دعویٰ بھی ہے کہ ہمارا یہ نظریہ دنیا ئے علاج کا آخری نظریہ ہوگا۔ اس لئے اس کو جلد از جلد سمجھ لینا خاص طور پر معالجین کے لئے بے حد ضروری ہے۔

مخصوص ادویات

قیام شباب اور اعادہ شباب اور طویل عمری کے لئے جو یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس مقصد کے لئے مخصوص قسم کی ادویات ہوتی ہیں اور ان ادویات میں سیاہی اور فولاد ی اجزاء زیادہ ہونے چاہئیں یا وہ ادویات کشتہ جات ہوں یا ان میں زہریلی ادویات کا ہونا ضروری ہے ایسے خیالات رکھنا حقیقت کے منافی ہیں۔ کیونکہ بڑھاپا کسی ایک عضو کی خرابی سے پیدانہیں ہوتا جیسا کہ گزشتہ صفحات میں پیش کیا گیا ہے کہ صحت کی خرابی کا باعث ہےاور صحت کی خرابی کسی عضو رئیس سے مخصوص نہیں ہے ہر عضوکی خرابی سے صحت کی خرابی کے بعد بڑھاپا آجاتا ہے۔ اس لئے ہر عضو کی صحت اور تقویت کے لئے کوئی ایک دوا مخصوص نہیں ہوسکتی ہے بلکہ جس طرح دیگر امراض اور مختلف اعضاء کی خرابی کے لئے الگ الگ ادویات ہونی چاہئیں وہی طریق کار قیام شباب و اعادہ شباب اور طویل عمری میں بھی مفید ہے۔ یہی صورت غذامیں بھی مدنظر رکھیں۔ کوئی خاص قسم کی غذامقرر نہیں کی جاسکتی۔ غذا ایک ضرورت جسم ہے جو ضرورت جسم کے مطابق ہونی چاہیےالبتہ مقصد یہ ضرور ہونا چاہیے کہ اس غذاسے ہم خون کے کن اجزاء کی ضرورت پوری کرسکتےہیں۔

قیام شباب اور طویل عمری کا جہاں تک تعلق ہے اور ایسی صورت میں کہ شباب قائم رہے تو صحت کی حفاظت کے لئے روزانہ استعمال کی ادویات ہی مفید ہوسکتی ہیں۔ اس صورت میں تیز زہریلی ادویات اور کشتہ جات کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے،خاص طورپر جرم کش ادویات۔کیونکہ ان سے خلیات ِ جسم بھی جلد جلد فنا ہونا شروع ہونے لگتے ہیں البتہ جب اعادہ شباب کی ضرورت ہوتو——-یا حالت ایسی ہے کہ قبل از وقت بڑھاپا آگیاہے اس مقصد کے لئے ضرور تیز جوز افزا قسم کی ادویات ، کشتہ جات اور زہریلی ادویات بھی مفیدہوسکتی ہیں۔ بشرطیکہ اس مقصد کے لئے اور مفید دوا سامنے نہیں ہے جس مقصد کے لئے وہ دوا استعمال کی جارہی ہے۔ یہ بھی ذہن نشین رکھیں کہ بڑھاپا اور قبل از وقت بڑھاپا ایسی صورت ہے کہ اعضاء اپنے مقام سے زیادہ دور ہو گئے ہیں اور جسم کی رطوبت ِ غزیزی اور حرارت ِ غریزی میں بہت زیادہ تکدر اور کمی اور خرابی و نقصان واقع ہوچکاہے اور اگر اس کے ساتھ خوفناک امراض بھی ہیں تو یقیناً فساد ِ خون کی صورت پیداہوچکی ہے گویا مزاج انسانی تیسرے چوتھے درجہ تک خراب ہوچکاہے اس لئے تیسرے چوتھےدرجے کی ادویات ہی مفید ہوسکتی ہیں۔

البتہ اس امر کو ذہن نشین کرلیں کہ جو ادویات اعادہ شباب کے لئے مفید ہو سکتی ہیں اس قسم یا مزاج کی ہلکی ادویات یا وہی ادویات قلیل مقدار میں قیام شباب ، طویل عمری اور حفظ ِ صحت کے لئے یقیناً مفید ہوسکتی ہیں۔ ایسی ادویات یقیناً اکسیر و رسائن اور مثل آب حیات و امرت ہیں، یقیناً مفید اور بڑھاپے کے لئے تریاق کا کام کرتی ہیں۔ لیکن اگر ایسی ادویات سے تیزی اور جوش بہت بڑھ جائے تو روزانہ کی بجائے ہفت روزہ یا ماہانہ استعمال کی عادت اچھی ہے کیونکہ کوئی بھی عادت اچھی نہیں ہے لیکن صحت و شباب کی حفاظت کیابُری بات ہے؟جبکہ ایک مفید دوا جوجسم اور طبیعت کے بالکل مناسب ہے اور اس سے روزبروز تقویت جسم کی حاصل ہو ، ادویات کا استعمال اس قدر ضروری ہے کہ ہمارے بزرگوں نے ہماری اغذیہ میں مرچ مصالحے شامل کرکے ثابت کردیا ہے کہ ادویات کا روزانہ استعمال فطری شے ہے۔ اس سے جسم کا زہر ختم ہوتا رہتا ہے۔ جہاں تک عادت کا تعلق ہے تو اچھی عادت کو کیسےبُرا کہاجاسکتا ہے۔

اعادہ شباب کے لئے مفید ادویات

اعادہ شباب کے لئے جو ادویات استعمال کی جاتی ہیں وہ چند خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں۔ ان کی خصوصیات کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیےایسی ادویات کی تین صورتیں نہایت ضروری ہیں۔(1)۔ دائمی اثر۔(2)۔ جاذب۔(3)۔ برقی اثر ۔ دائمی اثر۔ مراد یہ ہےکہ استعمال کے بعدان کا اثر فوراً ختم نہ ہوجائے یعنی جسم میں کافی مدت تک اس کا اثر جاری رہے۔ جو لوگ غذا، دوا اور زہروں کے فرق کو سمجھتے ہیں وہ دائمی اثر کا صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں۔ جاذب کا مقصد یہ ہے کہ دوا استعمال کرنے کے فوراً بعد جسم میں جذب ہوا اور خون کو اپنی طرف جذب کرےاور جزو بدن بنانے کی کوشش کرے۔ برقی اثر کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے اثر سے جسم میں برقی رو پیدااور جاری کردے نیز اپنے اثر میں برق رفتار ہو تاکہ خلیات میں دور تک پہنچ سکے اگر کسی دوا میں ایک یا دو خوبیاں ہوں اور باقی خوبیاں نہ ہوں تو اس میں پیداکرنی چاہئیں پھر دوا مفید ہوسکتی ہے۔

ان اوصاف کی ادویات میں زیادہ تر ایسی ادویات ہوتی ہیں جن میں دھاتیں ، زہر اور تیز ترشے اور تیز کھاریں جو اپنے اندر غیر معمولی حرارت رکھتی ہوں۔ دھاتوں کا اثر دائمی ہے مگر وہ جاذب نہیں ہوتیں اس لئے ان کو کشتہ جات اور دیگر صورتوں سے بنایاجاتا ہے۔ زہر جاذب نہیں ہوتے لیکن بغیر تیز ترشہ اور کھار کے ان میں برق رفتاری نہیں ہوتی۔ ترشے اورکھاریں برقی اثری تو پیداکرتی ہیں لیکن ان کا اثر دائمی نہیں ہوتا ۔ اس لئے جب اکسیر ات و رسائن اور تریاقات وغیرہ ترتیب دئیے جاتے ہیں تو ان میں ان حقائق کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔

اعادہ شباب کے لئے دھاتیں

اعادہ شباب کے لئے دھاتوں کی قوت سب سے زیادہ تسلیم کی گئی ہے او ران کے اثرات بھی دائمی ہوتے ہیں۔ ان میں سونا ، چاندی، تانبا اور فولاد خاص طورپر قابل ذکر ہیں، باقی دھاتیں بھی مفید ہوسکتی ہیں مگر ان کو اکسیرات اور رسائن میں تبدیل کرنے کے لئے بے حد محنت کرنی پڑتی ہے۔ البتہ پارہ بھی دھاتوں میں شریک ہے اور اعادہ شباب کے لئے بے حد اہم جزوہے۔ چونکہ دھاتیں اپنی اصلی حالت میں جسم میں جذب نہیں ہوسکتیں اس لئے ان کے کشتہ جات اور محلول تیار کئے جاتے ہیں اور پارہ بغیر کشتہ کئے بھی استعمال کیاسکتا ہے۔

اعادہ شباب کے لئے جمادات

سم الفار، شنگرف، ہڑتال گندھک اور ابرک خاص طورپر مفید ہیں۔ اسی طرح جمادات کی مستی یعنی بعض پتھر ایسے ہیں جن میں سے ان کا جوہر مترشح ہوتا ہے۔ مثلاً سلاجیت اور مومیائی وغیرہ اپنے اندر غیر معمولی قوتیں رکھتی ہیں۔

اعادہ شباب کے لئے جواہرات

موتی ، صدف، الماس، کوڑی اور گھونگا خاص طورپر مفید ہیں۔

اعادہ شباب کے لئے نباتات

زعفران ، ہلیلہ، بلیلہ، آملہ ، بھلاوہ، پالک، میتھی، چقندر، برہمی، باؤبڑنگ،پیاز، لہسن، مالکنگنی، منڈی بوٹی، گل سرخ ، سیاہ مرچ، زنجبیل، نیم کی چھال، ہلدی، ستاور، لونگ، دارچینی، جائفل، پان، لیموں ، بھنگرہ، کالی زیری، گھیکوار، پپلا مول، بیخ اونٹ، گٹار، میوہ جات، کشمش، بادام، نارجیل، اخروٹ، پستہ۔ پھلوں میں سیب، انگور، کھجوراور آم وغیرہ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

اعادہ شباب کے لئے حیوانی اجزاء

دودھ ، گھی، دہی، گوشت خاص طورپر مرغ، تیتر، بٹیر، چڑا، حیوانات کے انڈے، مشک ، عنبر اور مچھلی وغیرہ ضرورت کے مطابق مفید ہوتے ہیں۔

ادویات کا استعمال بالاعضاء

یہ ادویات اس وقت صحیح معنوں میں مفید ہوسکتی ہیں جب ان کوبالاعضاء استعمال کیاجائے اگر ادویات بالاعضاء استعمال نہ کی گئیں تو اول ان کے صحیح اثرات ظاہرنہ ہوں گے اور نہ ہی مقصد حاصل ہوگااور ساتھ ہی ساتھ اغذیہ بھی انہی کے مطابق ہونی چاہئیں۔ اس لئے ہم ذیل میں انہی ادویات بالاعضاء کے تحت لکھتے ہیں تاکہ استعمال میں سہولت اور فوائد میں اکسیر ثابت ہوں۔

اعادہ شباب کے لئے مفردات بالاعضاء

اس عنوان کے تحت ہم مشہور اور اکسیر صفت ادویات کوبالاعضاء کے تحت تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے متعلق خاص خاص اشارات بھی کردیں گے تاکہ اہل فن اور ضرورت مندان سے پورے طورپر مستفید ہو سکیں۔ باقی ادویات کی مکمل تحقیقات خواص ادویات میں دیکھیں۔ ایسے مضامین ماہنامہ رجسٹریشن فرنٹ میں ہر ماہ شائع ہوتے رہتے ہیں۔

اعادہ شباب کے لئے غدی عضلاتی ادویات

سونا: یہ انتہائی قیمتی دھات ہے اور تمام دھاتوں میں افضل و اعلیٰ ہے اس کا رنگ زردسرخی مائل ہوتا ہے اس لئے افعال و اثرات میں یہ غدی عضلاتی ہے۔ یعنی محرک جگرہے جس سے حرارت غریزی جسم میں اکٹھی ہونی شروع ہوجاتی ہے۔ اس کا اخراج رک جاتا ہے اس کا یہ اثر جسم کے تمام غددپر اثر انداز ہوتا ہے۔ عضلاتی ہونے کی صورت میں یہ قابض اور مولد حرارت غریزی ہے۔ ان خواص کی اور ادویات بھی ہیں لیکن دھاتوں کے فوائد یقینی اور دیرپا ہوتے ہیں اور سونے کو ان سب پر فوقیت ہے کیونکہ اس میں ایک ایسی خوبی ہے جو کسی اوردھات میں نہیں ہے یعنی اس کو زنگ نہیں لگتاہے۔

قیام شباب اور اعادہ شباب اور طویل عمری میں اس کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ حرارت غریزی کی پیدائش اور حفاظت کے علاوہ جسم میں بے انتہا قوت و توانائی پیداکرتا ہے اور جسم کو خوبصورت بناکر حسن و شباب قائم کرتا ہے۔ اس کا استعمال زیادہ تر کشتہ کی صورت میں کیاجاتا ہے لیکن محلول مالذہب کی صورت میں اور اس کے ورق طلا کو کھرل میں ادویات کے ساتھ سفوف کرکے بھی استعمال کیاجاسکتاہے۔ اس قبیل کی ادویات میں گندھک، ہڑتال، زعفران، کچلہ، زرد کوڑی، ہلدی، میتھی، پالک، عنبر، جائفل، مالکنگنی، باؤبڑنگ، پان، خولنجاں، زنجبیل، سیاہ مرچ، رائی، پپلامول، بیخ اونٹ کٹار، اخروٹ، انگوراور آم وغیرہ ہیں۔

اعادہ شباب کے لئے عضلاتی غدی ادویات

سیماب: پارہ قیمتی دوا تو نہیں ہے لیکن اعادہ شباب اور علم کیمیا میں اس کو وہ مقام حاصل ہے کہ جو سونے کو بھی نہیں ہے۔ سونا انتہائی اور دائمی طاقت دینے والی دھات ضرورہے مگر جسم سے زہروں کو ختم کرنے والی دوا پارہ سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔ یہ بغیر کشتہ کے بھی اکسیر ہے اور جسم کو کندن بنا دیتا ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ پارہ خام چاندی ہے لیکن چاندی سے زیادہ یہ سونے کے قریب ہے۔ یہ اپنے اندر سونے کارنگ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیورویدک میں اس کے بغیرکوئی رسائن مکمل نہیں ہو سکتی۔ سونا اگر غدی عضلاتی ہے تو پارہ عضلاتی غدی ہے۔ یعنی اس میں پیدائش حرارت کی خوبی سونے سے بہت زیادہ ہے اور ساتھ ہی ساتھ حرارت کو زیادہ نہیں ہونے دیتا۔ یہ اپنےاندر آفاقی اثرات رکھتاہے۔ بے اندازہ قوت پیداکرنے کے ساتھ ساتھ خوفناک زہریلے امراض مثلاً جذام، برص، آتشک، سکتہ، صرع اور استسقاء وغیرہ کے لئے بے خطا دوا ہے۔ بصارت و سماعت اور دیگر حواس کو ترقی دیتاہے۔ اس طرح عقل اور حافظ اور دیگر حواس باطنیہ میں تیزی پیداکرتاہے۔ انتہا درجہ کی ہاضم و ملین ہے۔ گندھک اور ایسی ادویات جن میں گندھک کے اجزاء پائے جاتےہیں ملاکر استعمال کرنے میں کبھی نقصان نہیں دیتا بلکہ اس کی طاقت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔اس قبیل کی ادویات میں شنگرف، دارچینی، لونگ، سم الفار، نیلا تھوتھا، پیاز، کالی زیری، سرخ مرچ، ستاور، کشمش، پستہ، کھجور اور ہر قسم کے گوشت خاص طورپر پرندوں کے گوشت اور انڈے شامل ہیں۔

اعادہ شباب کے لئے عضلاتی اعصابی ادویات

بھلاوہ: جو بھلاواں کے نام سے مشہور ہے۔جس سے دھوبی کپڑوں کو نمبر لگاتے ہیں اپنے اندر غیرمعمولی سیاہی رکھنے کی وجہ سے اعادہ شباب اور قیام شباب میں بہت شہرت رکھتاہے۔ اس کے علاوہ قوت کے لئے بھی اس کو اکسیر الاثر تسلیم کیا گیاہے۔ اتنے خواص اور اثرات میں یہ عضلاتی اعصابی ہے۔ یعنی محرک عضلاتی ہونے کی وجہ سے مولد حرارت غریزی ہے اور قابض ہے۔ دل کے فعل تیز کرتاہے۔ اعصابی ہونے کی وجہ سے مقوی اعصاب ہے اس لئے فالج و لقوہ ، خنازیر اور برص جیسے موذی امراض میں تریاق کاکام دیتا ہے۔اس قبیل کی دیگر ادویات میں فولاد، بابچی، ترپھلا، سیاہ کمیلہ، الماس، سلاجیت، مومیائی، بھنگڑہ، نارجیل، لیموں، دہی وغیرہ وغیرہ۔ بھلاوہ، ترپھلا، بابچی کو بیرونی طورپر بھی خضاب کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔اگر ان کا روغن تیارکرلیاجائے تو نہ صرف بالوں پر پختہ رنگ کردیتا ہےبلکہ رفتہ رفتہ خون اور اعضاء میں ایسی قوت پیداکرتاہے کہ بال ہمیشہ کے لئے سیاہ ہی پیداہوتے رہیں، لیکن تیل تیار کرنا اور اس کا مسلسل استعمال ایک محنت طلب امرہے۔لیکن اگر اس کے معمولی تیل بھی تیارکرلئے جائیں جو آسانی سے بن جاتے ہیں، بالوں میں سیاہی قائم رکھنے کے لئے بے حد مفید ہیں۔ مثلاً بلادر یاترپھلا وغیرہ ادویات کو پانی میں جوش دے کر اس پانی کوروغن ناریل میں ملالیاجائے تو روزانہ استعمال کے لئے مفید تیل بن جاتاہے گویا ایسی ادویات میں قدرتاً فولاد موجود ہوتا ہے۔

اعادہ شباب کے لئے اعصابی عضلاتی ادویات

جواہرات: جواہرات میں قدرتی طورپرحرارت یا تیز کھاری پن ہوتاہے ان میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جواہرات جسم میں رطوبت غریزی پیداکرنے کے ساتھ ساتھ اس کو فوراً حرارت غریزی میں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ افعال و خواص اور اثرات میں یہ اعصابی عضلاتی ہیں۔ اعصابی صورت میں مولد رطوبت غریزی اور مقوی اعصاب ہیں۔ عضلاتی اثرات کی وجہ سے کیمیائی طورپراس کو حرارت میں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ اس قبیل کی دیگر ادویات میں سچے موتی، صدف، گھونگھے، کوڑیاں، مرجان، عقیق، مچھلی، مومیائی، گل سرخ، کستوری، کافور۔ ایسی ادویات میں فری کیفیات ہوتی ہیں جس کو انگریزی میں (Phosphorous) کہتے ہیں۔

اعادہ شباب کے لئے اعصابی غدی ادویات

چاندی: سونا کے بعد دوسری قیمتی دھات چاندی ہے یہ بھی سونے کی طرح مفید اور نرم ہوتی ہے۔ دماغ اور اعصاب کو طاقت دینے میں اس کوبے حد اہمیت ہے۔ افعال وخواص اور اثرات میں اعصابی غدی ہے۔ اعصابی اثرات کے لئے یہ اعصاب اور دماغ میں تیزی پیداکرتی ہے گویا محلل غدد ہے۔ اس کو کشتہ کی صورت میں استعمال کرتے ہیں لیکن اس کامحلول اور اس کے اوراق کا سفوف بھی تیار کرلیتے ہیں۔ اپنے ان اثرات میں اس کو مفرح بھی کہتے ہیں۔ اکثر مفرح ادویات اپنے اندر یہی افعال و اثرات رکھتی ہیں۔ اس قبیل کی دیگر ادویات میں قلعی، سکہ، جست، سرمہ، زہرمہرہ، الائچی خورد کلاں، طباشیر، موصلی، سہاگہ اور شورہ وغیرہ ہیں۔

اعادہ شباب کے لئے غدی اعصابی ادویات

گھی: گھی اور دیگر روغنی اشیاء کو جسم میں رطوبت پیداکرنے اور اعضاء کو تر رکھنے میں بے حد اہمیت حاصل ہے۔ ان ہی سے جسم کی خشکی ختم ہوتی ہے اور سوزش ِ جسم کو رفع کرنے میں ان سےبڑھ کرکوئی دوا نہیں ہو سکتی۔ یہ روغنی اجزاء بھی تین قسم کے ہیں۔جماداتی، نباتاتی اور حیوانی۔ تینوں ضرورت کے مطابق مفید ہیں لیکن حیوانی روغن اپنے اندر غیر معمولی طاقت رکھتاہے۔ دوسرےدرجہ پر ایسے روغن مفید ہیں جن میں گندھک کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے جیسے روغن زیتون وغیرہ۔ اس قبیل کی دیگر ادویات میں بادام، تخم خربوزہ، تخم تربوز، تخم خیارین، تخم نیم، السی ، گھیکوار، ملٹھی اور تل وغیرہ اور جن روغنیات میں تیزابیت زیادہ ہے جیسے رائی وغیرہ۔ ایسے روغن افعال وخواص اور اثرات کے لحاظ سے غدی عضلاتی بن جاتے ہیں۔

تخم اپنے اندرقوت نشوونما رکھتے ہیں

اس امر کو ذہن نشین کرلیں کہ ہر قسم کے تخم وہ نباتاتی ہوں یا حیوانی اپنے اندرقوت نشوونما رکھتے ہیں۔ وہ جسم میں نہ صرف قوت پیداکرتے ہیں بلک اس کی پیدائش کو ایک مدت تک جاری رکھتے ہیں۔ گویا بجلی کے کیسے ہیں جن میں بجلی دبا دبا کربھردی گئی ہے جو اس میں سے نکلتی رہتی ہے اور جسم میں قوت پیداکرتی رہتی ہے۔

روزانہ کا تجربہ ہےکہ ہر بیج درخت بنتا ہے اورہر انڈہ میں بچہ بن کرپوراجوان پرندہ بنتا ہےکیونکہ تخم انڈے میں اس قدر قوت ہے کہ وہ اپنے کمال کوپہنچے۔ یہی قوت انسان میں منتقل ہوجاتی ہے کو قیام شباب و اعادہ شباب اور طویل عمری کے لئے اپنے اندربے حد اہمیت اور اسرار و رموز رکھتی ہے۔

جسم میں کل تین طاقتیں اور چھ صورتیں

جسم کی تین طاقتیں تورطوبت و حرارت اور ارواح(Energy, Heat And Force) ہیں جن کا تعلق اعصاب، جن کا مرکز دماغ ہے۔ عضلات جن کا مرکز دل ہے۔ غدد جن کامرکز جگرہے جہاں سے یہ ہر گھڑی پیداہوتی رہتی ہے۔ جن کا ذکرگزشتہ صفحات میں کیاجاچکاہے۔ ان تین اعضاء اور تین قوتوں سے کل چھ صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ہرعضو سے دوقوتیں عمل میں آتی ہیں۔ کیونکہ دنیا میں کوئی قوت تنہا نہیں ہے۔ اس کے ساتھ دوسری قوت کا ضرور تعلق ہے۔ مثلاً رطوبت جہاں کہیں بھی پائی جاتی ہے وہ یا تو گرم ہوگی یا سرد۔ اسی طرح حرارت کبھی تری کے ساتھ ہوگی اور کبھی خشکی میں پائی جائے گی۔ اسی طرح یہی صورت ہوا کی بھی ہے کبھی گرم ہوتی ہے اور کبھی سرد ہوتی ہے۔ جسم انسان میں بھی ان کی یہی صورتیں قائم ہیں۔

جب جسم میں رطوبت یا حرارت یا ہوا پیداہوتی ہے تو پہلے محفوظ ہوتی ہےتاکہ خرچ کرنے کے لئے جمع رکھی جائے لیکن جب ان میں کمی بیشی پیداہوتی ہے توصحت خراب ہوجاتی ہے۔ ان کی پیدائش اور جمع کے تحت ہی ان کی چھ صورتیں بن جاتی ہیں یعنی جب عضلات حرارت پیداکرتے ہیں تو خون کے اندر خشکی بڑھنی شروع ہوجاتی ہے اور جب غدد حرارت کو اکٹھاکرنا شروع کرتے ہیں تو خون میں رطوبت بڑھنے لگتی ہے اور جب اعصاب رطوبت کو پیداکرنے لگتے ہیں تو خون میں حرارت کم ہونے لگتی ہے۔ گویا پہلا فعل مشینی ہوتا ہے اور دوسرا کیمیائی اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہم ان کیفیات پر بھی تعبیر کرسکتے ہیں مثلاً (1)خشکی گرمی ۔ عضلاتی غدی صورت ہے۔( 2)گرمی خشکی ۔ غدی عضلاتی صورت ہے۔(3)گرمی تری۔ غدی اعصابی صورت ہے۔(4)تری گرمی ۔ اعصابی غدی صورت ہے۔(5)تری سردی۔ اعصابی عضلاتی صورت ہے۔(6)خشکی سردی۔ سردی خشکی صورت ہے۔اطباء اور حکماء قدیم نے ہر مرض اور ہر دوا کی جو دو صورتیں بیان کی ہیں ان کا مقصد انہی دوقوتوں یا دو کیفیات کی طرف اشارہ ہے۔ علاج میں اعضاء یا مزاج جس کو چاہیں مدنظر رکھیں۔

سفید بال کی حقیقت

اس حقیقت کو ہمیشہ مدنظر رکھیں کہ بالوں کے سفید ہونے کے لئے توخاص عمر مقرر نہیں ہے وہ ہر عمر میں سفید ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض مزاجوں میں بچپن ہی سے بال سفید ہوجاتے ہیں اس کے برعکس بعض مزاجوں کے ساٹھ سالوں میں جاکر بال سفید ہوتے ہیں ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض مزاجوں میں چالیس سال کے بعد آہستہ آہستہ بال سفید ہونے شروع ہوتے ہیں اور بعض طبع میں چند ماہ میں بال سفید ہوجاتے ہیں ۔ تاریخ میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر ہے جن کے بال غم سے ایک رات میں سفید ہوگئے تھے۔(جن میں میری دادی صاحبہ بھی تھیں)۔

یہی توکہا جاتا ہےکہ جن لوگوں کے اعصاب ذکی الحس یا کمزور ہوتے ہیں ان کے بال جلدسفید ہوجاتے ہیں۔لیکن ہماری تحقیقات کے مطابق بال ان کے سفیدہوتے ہیں جو نزلہ زکام کے دائمی مریض ہوتے ہیں یا جن کے جسم میں حرارت کی کمی یا پیدائش کم ہوتی ہے ان کے بال جلد سفید ہوجاتے ہیں۔ نزلہ زکام کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے ہماری کتاب ” تحقیقات نزلہ زکام اور اس کا بے خطا علاج” کا مطالعہ کریں۔ جن لوگوں کے جسم میں صفرا کی زیادتی ہوتی ہےان کے بالوں کو ستر سالوں تک بھی سیاہ دیکھا گیاہے۔ ان امور سے ثابت ہوا کہ بالوں کاتعلق اعصاب کی نسبت زیادہ تر غدد سے ہے جو جگرکی تیزی کے ساتھ خود بھی تیز رہتےہیں۔ اس طرح بال ایک بڑی عمر تک سفید نہیں ہوتے۔ گویا بالوں کے لئے فولاد کی سرخی کا ہونا ضروری ہے ۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیں کہ نزلہ زکام کی کثرت سے رطوبت غریزی میں کمی بیشی اور خرابی و فساد پیداہوجاتاہے جس سے حرارت غزیزی کی پیدائش بگڑکرکم ہو جاتی ہے۔ اس لئے سفید بالوں کا بہترین علاج یہ ہےکہ نزلہ زکام کا علاج کیاجائے اور حرارت غریزی پیداکرنے کی کوشش سے قبل از وقت سفید بال پھر سیاہ ہوسکتے ہیں۔ سفید بالوں کو جوانی میں خضاب لگانا کچھ بھلا معلوم نہیں ہوتا۔ جوانی میں صرف خوردنی ادویات کے استعمال سے بال یقیناً سیاہ ہوسکتے ہیں۔

اعادہ شباب کے لئے مجربات

اعادہ شباب کے لئے جو مفردات لکھے گئے ہیں وہ مجربات بھی ہیں ان میں سے ہر دوا اگر ضرورت کے مطابق اپنے صحیح مقام پر استعمال کی جائے تو یقیناً جوانی لوت آئے گی، شباب قائم رہے گا اورصحت بالکل درست رہے گی۔ لیکن اگر اصولاً دو تین یا زیادہ ادویات ملادی جائیں تو فوائد میں تیزی اور اثر میں دائمی صورت قائم ہوجاتی ہے۔ اس لئے ذیل میں ا پنے مجربات درج کئے جاتے ہیں۔ ہم نے آیورویدک اور یونانی مرکبات لکھنے کی کوشش نہیں کی ہے اگرچہ ان میں بھی اکثر مجربات اپنے افعال و اثرات کے لحاظ سے بے نظیر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ (1)ان میں بعض اجزاء میسر نہیں آتے۔(2) بعض ترکیبیں ایسی شکل میں ہیں کہ زہریلے سانپ سے دوستی کرنے کے مترادف ہیں(3)بعض ادویات کی تیاری پر دس دس سال خرچ ہوجاتے ہیں(4) بعض نسخہ کی ادویات ضرورت سے زیادہ (5) بعض غیر ضروری(6)بعض ادویات ایک دوسرے کے مخالف(7)بعض ادویات کسی خاص موسم میں حاصل ہونے والی۔ غرض انہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مختصر اور فوری تیار ہونے والے نسخے لکھے جاتے ہیں۔

لڈو قیام شباب

مغز اخروٹ 1کلو، پستہ 25گرام، کشمش1کلو 25 گرام۔ترکیب: پہلے مغز اخروٹ اور پستہ ملا کرباریک کرلیں پھر کشمش ڈال کر اس قدرملائیں کہ یک جان ہوجائیں پھر ان کے لڈو بنالیں۔ خوراک: عام لڈوؤں کے برابر ہونی چاہیے۔ صبح ناشتہ میں ایک سے تین عدد تک کھا لیں۔ اگر رات کو بھی چاہیں توکھاسکتے ہیں۔

برفی شباب آور

بلادر25گرام، نارجیل 1.50کلو۔ ترکیب: اول نارجیل کوباریک کدو کش کرلیں(نارجیل کے لئے خاص کدوکش ہوتے ہیں)، پھر نارجیل اور بلادر ملاکر خوب کوٹیں کہ یک جان ہوجائیں۔ تین کلو چینی کا گاڑھاقوام تیار کرکےنیچے اتار لیں اور کسی کھلے برتن میں پھیلا دیں پھر برفی کاٹ لیں۔ ہر غذاکے درمیان ایک سے لے کرتین برفی تک کھا سکتے ہیں۔ یہ دوازیادہ تران لوگوں کے لئے ہے جن کے بال سفید ہوگئے ہوں۔

اطریفل شباب آور

بلادر1 گرام، ہلیلہ ، بلیلہ اور آملہ ہر ایک 8 گرام چینی تین کلو۔ ترکیب: برطریق اطریفل تیارکرلیں۔ خوارک: 1ملی گرام تا 1گرام دن میں تین بار۔ اس میں یہ خوبی ہے کہ مقوی ہونے کے ساتھ ملین بھی ہے۔ دائمی نزلہ کا بھی یقینی علاج ہے۔

معجون شباب آور

کچلہ 1 گرام، بابچی8 گرام، حرمل 16گرام، ہلیلہ سیاہ سوختہ25گرام، شہد50گرام، چینی50گرام۔ معروف طریقے سے معجون تیار کرلیں۔ خوراک: 1تا 3 گرام۔

حب شباب آور

نیلا تھوتھا6 ملی گرام، سم الفار 1 ملی گرام، شنگرف8 گرام، کشتہ فولاد25 گرام(کسی طریق پر تیار کیاگیا ہو، فیرم کارب بھی مفیدہے)، ایک درجن لیموں کے رس میں کھرل کرلیں جب گولی بنانے کےقابل ہوجائے تو بقدرنخود گولیاں تیار کرلیں۔اگرگولیا ں اچھی طرح نہ بنیں تو اور لیموں کا رس ڈال کرکھرل کریں۔گولیاں تیارہوجائیں گی۔ خوراک: ایک تا تین گولیاں۔

سفوف شباب آور

پارہ 1گرام، گندھک 7 گرام، ورق طلا3 ملی گرام۔ترکیب تیاری: اول پارہ اور گندھک کی کجلی تیار کرلیں پھر ایک ایک ورق ڈال کرکھرل کرلیں۔ جب تمام ورق حل ہوجائیں تو بس تیارہے۔خوراک: 0.50 ملی گرام پان میں ڈال کرکھایا کریں یا شہد میں ڈال کر چاٹ لیا کریں۔

اکسیر شباب آور

کشتہ سونا 3 ملی گرام، عنبر 3 ملی گرام، لونگ 2 گرام، جاوتری 2 گرام ، خولنجاں 4 گرام، مربہ زنجبیل0 5 گرام۔ ترکیب: پہلے مربہ زنجبیل کو کوٹ پیس کر مثل حلوہ بنا لیں پھر اس میں تمام ادویات کو باریک پیس کر اس میں شامل کرلیں آخر میں کشتہ سونا اور عنبر شامل کردیں۔خوراک: 0.50 ملی گرام دیں۔

تریاق شباب آور

کشتہ چاندی 1 گرام، کستوری اصلی 3 ملی گرام، زعفران اصلی 1 گرام، شہد خالص 25 گرام۔ ترکیب تیاری: اول زعفران کو باریک کرکے شہدمیں ملا لیں پھر اس میں کستوری اور کشتہ چاندی ملالیں۔ خوراک: 0.50 ملی گرام تا 1 ملی گرام ہمراہ حریرہ بادام صبح و شام استعمال کریں۔ اس میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ رطوبت ِ غریزی پیداکرتا ہے۔

اکسیر اعادہ شباب

کشتہ الماس 1 ملی گرام، کشتہ مرجان 1 گرام، کشتہ عقیق 1 گرام۔ ترکیب: کشتہ جات آپس میں ملا لیں۔ خوراک: 0.050 ملی گرام تا 0.50 ملی گرام ہمراہ خمیرہ مروارید دن میں تین بار استعمال کریں۔

تجویز علاج

جب اعادہ شباب یا ضعف باہ یا بالوں کی سفیدی کا علاج کرنا مقصودہوتو اول اس امر کا فیصلہ کرلیں کہ کونسا عضو خراب ہے اور چھ صورتوں میں سے کون سی صورت پیداہے پھر اس عضو کی مناسبت سے کوئی ہلکا ملین یا ہلکا مسہل دیں۔ اس کے بعد ضرورت کے مطابق مفرد یا مرکب نسخہ جات میں سےلے کر استعمال کریں اورغذا بھی اسی عضو کے مطابق استعمال کریں۔ انشاء اللہ بہت جلد بڑھاپا اور قبل از وقت بڑھاپا واپس جوانی میں لوٹنے لگے گا اور علاج کو اس وقت تک جاری رکھیں جب تک حسن و شباب کی رونق جسم سے پورے طورپرظاہر نہ ہو۔ حسن و صحت اور شباب کا یقینی علاج ہے اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے اس تحقیقات میں بے شمار اسرار و رموز پیش کردئیے گئے ہیں۔

تحقیقاتِ اعادہ شباب اورکایاکلپ اور اس کی تاریخ

یہ حقیقت ہے کہ بڑھاپا ایک تکلیف دہ زندگی ہے اس لئے ہمیشہ ہر زمانےمیں اس سے نجات حاصل کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔کون ایسا بوڑھا ہے جو یہ نہیں چاہتا کہ میرابڑھاپا ختم ہوجائے اور ایک بار پھر جوانی لوٹ آئے بلکہ بڑھاپا یہاں تک تکلیف دہ ہے کہ بوڑھا شخص بڑھاپے پر موت کو ترجیح دیتا ہے ۔ اسی طرح شباب ایک ایسی نعمت ہے کہ ہرشخص یہی چاہتا ہے کہ اس کاشباب ہمیشہ قائم رہے اور کم از کم طبعی عمر تک بوڑھانہ ہوبلکہ طبعی عمر بھی پسند نہیں کرتا اس کی خواہش ہے کہ زندگی وشباب دائمی ہوجائے اگر موت آئے بھی تو بغیر حادثہ کے نہ آسکے۔ اس کے ساتھ بے انتہا قوت کی خواہش اور ہر قسم کے مرض پرقابوپانے کی تمنا بھی انسان میں شدت سے پائی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ صرف قیامِ شباب کی صورتیں ہیں۔

طبی تاریخ کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ جب سے انسان کو دنیا کامزہ پڑا ہے اور اس کی لذتوں کو محسوس کیا ہے اس کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح دنیا میں نہ صرف زیادہ عمرتک زندہ رہے بلکہ جوان رہ کر یہاں کی لذتوں سے بہرہ اندوز ہوتا رہے۔ ان مقاصد کے حصول کےلئے ماہرینِ فنِ طب نے حفظِ صحت کےاصول قائم کئےتاکہ زیادہ سے زیادہ عرصہ تک لطفِ شباب حاصل کیاجاسکے اور اگر بڑھاپا قریب آنا بھی چاہے تو اس کو ہرممکن طریقے سے جلد آنے سے روکا جاسکے یا صحت کو اس مقام پررکھا جاسکے کہ بڑھاپا زندگی کے وظائف میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ ان مقاصدکے حصول کےلئے تجربات کیے گئے، نظریات قائم کئے گئے، اصول بنائے گئے، اغذیہ تجویز کی گئیں، نسخے تیار کئے گئے اور مختلف علاج ایجادکئے گئے۔ اس لئے ہر طریقِ علاج میں اس مقصدکوحاصل کرنے کےلئے بے شمار تجربات ومشاہدات، نظریات و اصول اور علاج و ادویات پائی جاتی ہیں۔اور بہت سی باتیں یقیناً کامیاب بھی ہیں۔

دائمی زندگی، حسن وشباب اور تندرستی و توانائی ایسی خواہشات ہیں کہ جوہرشخص کے دل میں ضرور چٹکیاں لیتی ہیں۔ پھر یہ خواہشات ایسی ہیں جو ہر زمانے میں پائی جاتی رہی ہیں۔ہزاروں سالوں کی طبی تاریخ اس پر شاہد ہے اور آج کی ماڈرن سائنس میں بھی اس پرتحقیقات جاری ہیں۔ قدیم طبی تاریخ دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ طویل عمری، قیامِ شباب اور دائمی صحت کےلئے بڑی بڑی کوششیں کی گئی ہیں۔ کسی نے آبِ حیات کی تلاش کی، کسی نے قوتِ شباب کےلئے اکسیر بنانے کی کوشش کی، کسی نے جنسی قوت کے حصول کےلئے تریاق تیار کرنے کی جدوجہد کی۔ اگر کوئی صورت حاصل نہ ہوئی تو سونے اورجواہرات کی مضبوطی کو سامنے رکھتے ہوئے ان کااستعمال کیا۔ بعض لوگوں نے یہاں تک جرات کی ہے کہ خوفناک سانپوں سے ڈسوایا ہے تاکہ ان کازہرجسم کے اندرکے زہرکوختم کردے اور پھر جوانی اورقوت لوٹ آئے۔ اس قسم کے بے شمار تجربات سے طبی تاریخ بھری پڑی ہے۔ جن کی مختصرتفصیل آپ کےسامنے آرہی ہے۔

از: حکیم وڈاکٹر جناب دوست محمد صابر ملتانی صاحب

ایورویدک اور اعادہ شباب

سب سے پرانی طبی تاریخ ایورویدک کی ہے۔ اگرچہ چین کوبھی قدامت کا فخرحاصل ہے لیکن ابتدائی ایورویدک دورہندوستان سے چین اور وسطِ ایشیا تک پھیلاہوا ہے۔جس دورکوبابل نینواکی تہذیب کہتے ہیں۔ ایورویدک کی طبی کتب اورشاستروں میں طویل عمری، قیامِ جوانی اور اعادہ شباب پر بہت کچھ لکھا گیا ہےبلکہ ایورویدک میں کایاکلپ پر جوکچھ لکھا گیاہے اگراس کواکٹھاکیاجائےتوایک ضخیم کتاب تیارہوتی ہے۔ اگر اس پرباقاعدہ تحقیقات کی جائیں توباقاعدہ ایک بہت بڑاسائنسی ادارہ(کایاکلپ انسٹیٹیوٹ) بن سکتا ہے اورتحقیقات کئی سالوں میں بھی ختم نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے وہ ایک بہت بڑا خزانہ ہے اس جونظراندازنہیں کرنا چاہیے۔

کایاکلپ

کایاکلپ کے ظاہرہ معنی ہیں اعادہ شباب۔ لیکن اس کا صحیح مقصد یہ ہے کہ بڑھاپے کوجوانی میں اس طرح بدلنا کہ اس سے طویل عمری کے ساتھ ساتھ جوانی کی تمام قوتیں بھی پھربیدارہوجائیں، ایورویدک میں کایاکلپ کے ایسے ایسےنسخے درج ہیں جن کے متعلق لکھا ہےکہ فلاں نسخے سے پانچ سوسال عمربڑ ھ جاتی ہے۔ فلاں نسخے سےہزارسال عمربڑھ جاتی ہے اور فلاں نسخے سے دس ہزارسال عمر بڑھ جاتی ہے۔ لیکن افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ ہم نے کوئی ایسا وید نہ دیکھا اور نہ ہی سنابلکہ کتب میں بھی نہیں پڑھاکہ جس کی عمردس سو سال بھی بڑھ گئی ہو۔ ہمارےہوش میں پنڈت مدن موہن مالویہ نے جوجوہندوستان کے مشہورلیڈر تھےاپنے ویدشاستروں کی شہرت کےلئے آپ نےکایاکلپ کرایاتھا۔ انہوں نے ہندوستان کے بہت سے چوٹی کےویدوں کوبلوایا تھا۔ جب ان کاکایاکلپ ہوگیا تواخبار میں پڑھاتھاکہ ان کی صحت بہتاچھی ہوگئی مگر نہ ان کے بال سیاہ ہوئےاور نہ دانت نکلے اور نہ ہی بینائی میں قوت پیداہوئی اور پھر چند سالوں کے بعد مربھی گئے۔ بہرحال ہم پھربھی کایاکلپ پر یقین رکھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس دور کے وید صاحبان کایاکلپ سے پوری طرح واقف نہ ہوں۔

مسیح الملک جناب حافظ حکیم محمد اجمل خاں صاحب کے زمانے میں آل انڈیا ایورویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس کا جب چودھواں سالانہ اجلاس دہلی میں منعقد ہواتھاتواس زمانے میں ذاکٹر کے ڈی شاستری کی تحریک پرکانفرنس نے ایک تجویز پیش کی کہ "یہ کانفرنس قرار دیتی ہے کہ کایاکلپ اور درزائ عمروغیرہ مضامین پرپوری تحقیقات کرنے کے لئے ایک طبی کانفرنس کے ماتحت ایک سوسائٹی قائم کی جائے”۔ جناب مسیح الملک بہادر کی تائیداور حاضرین کے اتفاقِ رائےسے یہ تجویز منظورہوکراصحابِ ذیل کے ارکان قرار دئیے گئے۔(1)۔ ڈاکٹرکے ڈی شرما(2)۔مسیح الملک بہادر مرحوم(3)۔کویراج ہری رنجن داس صاحب معظم(4)۔ ڈاکٹرحبیب الرحمن مرحوم (سابق پرنسپل طبیہ کالج دہلی(5)کویراج گن ناتھ سین صاحب کلکتہ۔ اس قرارداد کے پاس ہونےاور کانفرنس کے ماتحت سوسائٹی قائم ہونےکے بعدپھر اس کاعلم نہیں ہوسکا کہ سوسائٹی نے کوئی کام کیا بھی کہ نہیں کیا تھا۔البتہ ڈاکٹر کے-ڈی شاستر نے اپنے زوردار لیکچر میں علمی دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ انسان کی عمر بہت طویل ہوسکتی ہےاور وہ بڑھاپے سے نجات پاسکتاہے۔ ڈاکٹر صاحب کے دعویٰ کے متعلق یہ تسلیم کیا جاسکتاہے کہ ایورویدک شاستروں میں ایسی رسانیوں کے مجرب و تیر بہدف نسخہ جاتے ہیں جن کےاستعمال سے بال ونئے ناخن اور نئےدانت نکل آتے ہیں۔ بڑھاپازائل ہوجاتا ہے، شباب عودکرآتاہے۔ ایورویدک کا دعویٰ ہے کہ کایاکلپ کےبعدانسان سینکڑوں اور ہزاروںسالوں تک زندہ رہ سکتاہے اور اس پر کسی قسم کے مرض اور زہربلکہ افلاس تک کااس پر اثر نہیں ہوتا۔ چنانچہ بھگوان اتری کمارپندرہ سو رسائن کے اوصاف کے متعلق ارشادفرماتے ہیں کہ

"اے زندگی کے آرزومند اس امرت روپی رسائن کی بات سنو جو دیوتاؤں کےلئے بھی مفید ہوتی ہےاس کااثر غوروفکرسے بالاتر اور عجیب و غریب ہوتا ہےوہ عمربڑھاتی، صحت بخشتی اور اوستھا(حالت) کوقائم رکھتی ہے۔ نیند، غنودگی، تھکان، جمائی، سستی اور لاغری کودورکرتی ہے۔ وات، پت اورکف کواعتدال پررکھتی ہے۔ جسم کومضبوط بناتی ہے۔ جسم کے ڈھیلے پن کودورکرتی ہے۔ قوتِ ہاضمہ کوبڑھاتی ہے۔ آب و تاب، رنگ اور آواز کوبہتربناتی ہے۔ چوناوغیرہ بہت سے رشی اس کی بدولت ازسرِ نو بڑھاپے سے جوانی حاصل کرچکے ہیں اور اس کی بدولت عورتیں ان سےبہت محبت کرتی تھیں۔ اسی سے ان کے جسم مضبوط، ہموار اور سڈول ہوتے تھے۔ طاقت، رنگت اور اندریاں، حواسِ خمسہ تروتازہ رہتی تھیں۔ کبھی ہمت نہیں ہارتے تھے اور سختی کوباآسانی برداشت کرسکتے تھے۔ وغیرہ”

ایورویدک میں طویل عمری کے اصول

"چرک” ایورویدک کی مستند کتاب ہے۔ اس میں طویل عمری، اعادہ شباب اور قیامِ قوت کے متعلق بہت کچھ لکھاہے۔ لیکن ہم طوالت کو نظرانداز کرتے ہوئےاس پرچند اہم اصول لکھتے ہیں تاکہ قارئین ان سے پورے طورپرمستفیدہوسکیں اور اگر شوق ہوتو مزید معلومات اور غوروفکرکرسکیں۔

طویل عمری کے تین ذرائع

(1) جسم کے تین "اپ ستبھ”(2)تین اصول(3)تین انتیں(4)تین روگ(5)تین روگ مارگ(6)تین طرح کے دیداور(7)تین طرح کے اوشدھی ہوتی ہے۔ جن کی تفصیل یہ ہے۔اپ ستبھ کے بھی تین بڑےکھنب ہیں۔ سشرت میں جسم کو "ستھون” کا نام دیاگیا ہے۔ یعنی کف، وات اورپت تین ستونوںوالا جب یہ مناسب حالت میں رہتے ہیں توجسم تندرست رہتا ہے۔ لیکن مکانوں میں سمتوں کے علاوہ کھنبوں کی بھی ضرورت ہے۔ اس لئے وات، پت اور کف تینوں حالتوں ٹھیک حالت میں رہ کرجسم کوبہت دنوں تک زندہ رکھتے ہیں جسم کی طاقت اور خوبصورتی قائم رہتی ہے۔بل بھی تین طرح کاہوتا ہے۔(1)سہج(2)کالج(3)بگتی کرت”سہج” کو "سبھاوک” بل کہتے ہیں۔ جوڑوں اور اوستھاؤں کے موافق ہوتا ہے۔(3) "یکتی کرت”بل وہ ہے جوخوراک اور ورزش کے مناسب ترتیب سے عمل میں لانےسے بڑھتاہے۔ آتین کے معنی کوشش ہے یہ بھی تین اقسام کی ہوتی ہے۔ محسوسات کال اور کرم کا(1)اتی یوگ(2)یوگ(3)ستھیایوگ ۔ روگ بھی تین اقسام کے ہیں۔(1)شاریرک(2)آگستک(3)مانسک۔ (1)۔جوروگ شریر کے دوشوں (وات، پت اور کف) کے بگڑنے سے پیداہوتے ہیں وہ "لنج” کہلاتےہیں۔(2) جوروگ خوف، زہر وایو، آگ اور چوٹ وغیرہ سے پیداہوتےہیں وہ گنتک کہلاتےہیں۔(3)بھیشٹ (دل پسند) چیزوں کے نہ ملنے اور اشت (خلافِ خواہش) چیزوں کے ملنے سے جوروگ پیداہوتےہیں انہیں مانسک روگ کہتے ہیں۔”وید” بھی تین اقسام کے ہوتے ہیں۔(1)بھشک چھندچر۔ایسا شخص جوویدوں کی طرحۓ سازوسامان، ادویات اور کتابیں جمع کرکے رکھتا ہےیاویدوں کی طرح ٹپ ٹاپ بنائے رکھتا ہےاس کو پرتی روپک یا بھشک چھندوچرکہتےہیں۔(2)سدھ سادھت ایسے شخص کوکہتے ہیں جوکرتی، جس اور گیان سے یکت سدھوں کی اس اس میں ایک بھی بات نہ ہواسے سدھ سادھت کہتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ آدمی آپس میں سازش کرکےایک ان میں سدھ وید بن جائے اور دوسرا لوگوں میں یہ مشہور کرتا پھرے کہ فلاں وید بڑاکامل ہے اسی طرح اس مصنوعی وید ی دنیا میں عزت اور مان بن جائے وغیرہ۔ (3) وید کن یگیت ایسے ویدکوکہتےہیں جو دواؤں کے استعمال میں ماہرکامل، گیان وگیان سے واقف ، سدھ سمپن، صحت بخشنے والا، زندگی دینے والا اور طاقت بڑھانے والاہو۔ اوشدھیوں کے معنی علاجات کے ہیں، اس کی بھی تین اقسام ہیں۔(1)”دیو ویپاشرے” ایسی اوشدھی ہے جس میں منتر ، اوشدھی دھارن، منی دھارن، منگلا چرن، بلیدان، اپہارہوں، نیم، پرائسچت، اپ داس سومتی واچن، پرنی پات، تیرتھ جاترا وغیرہ کو عمل میں لایاجاتا ہے(2)”یکتی ویپاشرے” ایسا اوشدھی ہے ےجس میں موافق و ناموافق کا وچار کرکےکھانا اور ٹھیک ترکیب سے اوشدھی کا استعمال کرنا ہے۔(3) ستودجے ایسی شدھی ہے جس میں مفروشیوں سے من کو روکنا ہے۔

ایورویدک میں طویل عمری کی صورت اس وقت عمل میں آسکتی ہے جب کہ ایک نیک وید پورے طورپرعلمی اور عملی حیثیت سے فاضل ایورویدک اور ماہرِ فن ہو۔صرف ادویات کا استعمال دوسروں کےلئے مفیدنہی ہوسکتا کیونکہ وید مرض اور خرابی جسم کے ندان (سبب) سے واقف ہوتاہے اور وہی ندان کو رفع کرنے کی صحیح کوشش کرسکتا ہے۔ ایورویدک میں روگ تین ندان سے ندان سے پیداہوئے ہیں۔(1)”ساتمیہ اندری ارتھ سینوگ” یعنی نا مطابق اندرے وشیوں کے بھوگ سے(2)”پرگیا پرادھ” یعنی بدھی کے دوش سے(3)”پرنیام” یعنی وقت سے۔یہی تین اسباب تین اقسام کے روگ پیداکرتے ہیں۔ جن کااوپرذکر کیا گیا ہے۔ جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔ شاریرک روگ تین اقسام کےہوتے ہیں۔(1)اگینہ یعنی یتج(2)سومیہ یعنی کنج(3)وائے وے یعنی وائج۔ مانسک روگ دو طرح کے ہوتے ہیں۔(1)”راجس” جو رجوگن سے پیداہوتے ہیں۔(2)”تامس” جو نموکن سے پیداہوتے ہیں۔(3)”اگستک” کی تفصیل گزر چکی ہے۔

نوٹ: ایورویدک میں مرض کےلئے روگ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ لیکن ویادھی، آمے، گد، آتنگ، یکشما، وکار وغیرہ سب الفاظ ایک ہی معنوں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔

اشدھی (علاج) میں ادویات کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے، ادویات دو قسم کی ہوتی ہیں۔ اول مفید ادویات جن کو بھیشج، دوسرے مہلک ادویات جن کو ابھیشج کہتے ہیں۔ پھر ہرایک کی دو اقسام ہیں۔ بھیشج کی اقسام(1)”ارجس کر” ایسی ادویات جو تندرست کو طاقت دینے والی ہیں۔(2)”روگ ناشک” ایسی ادویات جوامراض کو دور کرنے والی ہیں۔

ابھیشج کی اقسام

(1)”وادھن” فوراً ہلاک کر دینے والی ادویات(2)”سانووادھن” ایسی ادویات جوکچھ دیر کے بعد ہلاک کردیں۔ارجس کر بھیشج ایسی ادویات ہیں جوتندرست اشخاص کے اوج(طاقت) کو بڑھاتی ہیں اور وہی ورشیہ(مقوی باہ) اور رسائن(اکسیر) ہوتی ہیں۔ رسائن کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں ہرقسم کے مرض کو دور کردینے کے ساتھ ساتھ مقوی باہ بھی ہوتی ہیں او ایورویدک میں یہ بھی تخصیص کی گئی ہے کہ جو ادویہ ورشیہ ہیں وہی رسائن بھی ہیں۔

(1)”وادھن” فوراً ہلاک کر دینے والی ادویات (2)”سانووادھن” ایسی ادویات جوکچھ دیر کے بعد ہلاک کردیں۔ارجس کر بھیشج ایسی ادویات ہیں جوتندرست اشخاص کے اوج (طاقت) کو بڑھاتی ہیں اور وہی ورشیہ (مقوی باہ) اور رسائن (اکسیر) ہوتی ہیں۔ رسائن کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں ہرقسم کے مرض کو دور کردینے کے ساتھ ساتھ مقوی باہ بھی ہوتی ہیں او ایورویدک میں یہ بھی تخصیص کی گئی ہے کہ جو ادویہ ورشیہ ہیں وہی رسائن بھی ہیں۔

رسائن

رسائن ایسی ادویات کو کہتے ہیں جو امراض کے لئے اکسیرہوں اور اس کے ساتھ ہی جسم میں توانائی کے ساتھ ساتھ قوتِ باہ کو یقیناً بہت زیادہ پیداکر دیں۔ رسائن ادویات ہی کے استعمال سے انسان کوبڑی عمر، جنسی قوت، قوتِ حافظہ، ذہانت، صحت، لطفِ جوانی، خوبصورتی، خوش آواز ہونا، جلال، جسم اور اعضائے جسم کی طاقت، واک سدھی(منہ سے جوبات نکلے وہ پوری ہوجائے)، پرنتی (متحمل مزاجی) اور کانتی (چہرے کانور) حاصل ہوتا ہے۔ چونکہ ادویات سے رس، رکت وغیرہ ساتوں دھاتوں کا حصول ہوتا ہے۔ اس لئے انہیں رسائن کہتے ہیں۔

ورجی کرن

یہ جو تخصیص کردی گئی ہے کہ ہر رسائن و رشیہ(مقوی باہ) ہوتی ہےاور ہر ورشیہ رسائن ہوتی ہے تو جاننا چاہیے کہ ورجی کرن ایسی رسائن ہے جو ورشیہ (مبہی ومشتہی) کے ساتھ ساتھ مرد کواولاد پیداکرنے کے قابل بنا دیتی ہے جو لوگ طویل عمری،قیامِ شباب اور اعادہ شباب چاہتے ہیں وہ ہمیشہ ورجی کرن ادویات استعمال کرتے رہتے ہیں کیونکہ دھرم ادویات کی بدولت حاصل ہوتی ہیں۔ ان کے کھانے سے فوراً ہی سرور پیداہوجاتا ہے۔ گھوڑے کی سی طاقت حاصل ہوتی ہے اور آدمی جماع کرنے سے نہیں گھبراتا۔ ان ادویات کا استعمال مردوں کو عورتوں کا پیارا بنا دیتا ہے اور بڑھاپے میں بھی ویرج کو کم نہیں ہونے دیتا۔ جس طرح ایک بہت بڑادرخت بے شمارٹہنیوں کے پیداہونے سے آراستہ و پیراستہ ہوجاتا ہے ویسے ہی ان ادویات کے استعمال والا مرد بہت سی اولاد پیداہونے سے اچھا معلوم ہوتا ہے۔ یہی ادویات اولاد کی اصلی بنیاد ہیں اور انہی کے استعمال سے آدمی کونیک نامی، دولت، طاقت اور تروتازگی حاصل ہوتی ہے۔

ایک قدیم واقعہ

ایک زمانےکی بات ہے کہ سلیم الطبع اور یگہ کرنے والے رشی گرامیہ (دیہاتی)ادویات اور اغذیہ کے استعمال سے ایسے دکھی ہوئے کہ اپنےروزمرہ فرائض کی ادائیگی کےبھی قابل نہ رہے تب وہ سوچنے لگے کہ یہ سب بستی میں رہائش رکھنے کانتیجہ ہے اور اس کا یہی علاج ہے کہ پورب کی رہائش اختیار کی جائے اس لئے وہ ہمالیہ کے اس مقام پرگئے جہاں سے کلیاری کاری اور پوتردریاگنگا کاآغاز ہوتا ہے، جہاں پر دیوتا، گندھرب اور کنر رہتے ہیں۔ جہاں قسم قسم کے رتن پائے جاتے ہیں جہاں کا نظارہ نہایت دلکش ہے، جہاں برہم رسی، سدھر اور چرن نواس کرتے ہیں۔ جہاں ہر قسم کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔ جہاں ہر شخص کاجی رہنے کاطلب گار ہے اور جس کی حفاظت اِندر کرتا ہے۔رشیوں کی اس جماعت میں بھرگو، انگرا، اتری، وشٹ، اگشتیہ، ورم دیور اور آست گوتم وغیرہ بہت سے رشی شامل ہیں۔ اندر نے بہت محبت سےاس جماعت کااستقبال کیااور کہنے لگا کہ اے برہم کے جانے والو! اے گیان دھن اور پتودھن کے بھنڈا! برہم رشیو آپ کا آنا مبارک ہو۔ بستیوں کی رہائش سے آپ لوگوں کے چہرے اداس، بےرونق، بے نور، دکھی اور سکھ سے خالی دکھائی دے رہے ہیں آپ لوگوں نے اپنی نیک دلی کی وجہ سے عوام کی بہتری کے واسطے اپنے اجسام کی کوئی پروانہ کرکے خالی دکھائی دے رہے ہیں آپ لوگوں نے اپنی نیک دلی کی وجہ سے عوام کی بہتری کے واسطے اپنے اجسام کی کوئی پروانہ کرکے بستیوں کی رہائش اختیارکی تھی۔ لیکن یاد رکھئے کہ بستیوں کی رہائش دکھوں کا منبع ہے۔ آؤ! میں آپ کوایوروید کا اپدیش سناؤں جسے نہایت مہربانی سے بستیوں کی رہائش اختیارکی تھی۔ لیکن یاد رکھئے کہ بستیوں کی رہائش دکھوں کا منبع ہے۔ آؤ! میں آپ کوایوروید کا اپدیش سناؤں جسے نہایت مہربانی سے مجھے اشونی کماروں نے سکھایا تھا۔ کیونکہ ایورویدک کے اپدیش کےلئے اس سے اچھا موقع ہاتھ نہ آئے گا۔

اشونی کماروں نےیہ علم پرجاپتی سے حاصل کیاتھا اور پرجاپتی کوبرہماجی نے اس کااپدیش کیاتھا کیونکہ عوام بڑھاپے اور بیماروں کی وجہ سے کم عمر ، دکھی اور گمراہ ہورہے تھے۔ اسی وجہ سے تپسیا، انبساطِ حواس ، عقل اور تحصیل ِ علم کے ناقابل تھے۔ برہماجی کا مقصد یہ تھا کہ مندرجہ بالا خرابیوں سے عوام کو نجات مل جائے۔ یہ علم بڑاکارِ ثواب ہے، اس سے عمر ترقی پاتی ہے، بڑھاپا اور بیماریاں دور ہوتی ہیں، طاقت پیداہوتی ہےاور صحت حاصل ہوتی ہے۔ ایورویدک کا علم امرت سااثر رکھتاہے، اس لئے آپ اسے سن کریاد رکھیےاو ر عوام کےفائدے کےلئے اس کی اشاعت کیجئیےکیونکہ برہم ہی رشیوں کا معراج ہے وہی رفاقت ہےاور رفاقت ہی رحم ہے۔ آتماپررحم کرنا ہی اچھا اور ثواب کاکام ہے۔ وہی صورت برہمیہ اور اکھشے کرم (لازوال فعل) ہے ۔ اِندر کی ان باتوں کو سن کررشی لوگ وید کے منتروں سے اس کی تعریف کرنے لگے۔ اس کے بعد اِندر نے رشیوں کو ایورویدک کااپدیش دیا اور فرمایا کہ یہ سب کام عمل میں لانے کے قابل ہے۔ رسائن بنانے کا یہی سب سے اچھا موسم ہے۔ کیونکہ ہمالہ پربت پر پیداہونے والی سب جادواثربوٹیاں اس وقت مل سکتی ہیں اور اس وقت تاثیر کےلحاظ سے بالکل مکمل ہیں۔ اس واقعہ سے بہت سی باتیں سامنے آتی ہیں۔ خدا پرستی ، مخلوق کی خدمت، دیہاتی و شہری زندگی، ایورویدک کی خوبی، طویل عمری، صحت اور رسائن تیار کرنے کا وقت اور بوٹیوں کی جائے پیدائش اور ان کی تاثیر کا مکمل ہونا وغیرہ۔ چونکہ ایورویدک میں بھیشج (مفید ادویات) کی دواقسام ہیں۔ اول ارجس کر (مقوی اور رسائن) دوسرے روک تاشک (دفع امراض )، چونکہ یہاں پر ہمارا تعلق ارجس کررسائن اور ورشیہ دواجی کر، ان ادویات سے ہے ۔ اس لئے ہم صرف انہی ادویات کا ذکر کریں گے۔ ادویات کی تفصیل علاجِ مقام پر بیان کریں گے۔
(افادات از چرک)

تحقیقاتِ اعادہ شباب اورکایاکلپ اور اس کی تاریخ

طب ِ یونانی و طویل عمری اور قیام ِ شباب

طب قدیم کی تاریخ دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ حکماء و فلاسفر اور اطبا انسانی عمر کو طویل کرنے ، جوانی کو قائم رکھنے اور شباب کو واپس لوٹانے میں کس قدر جدوجہد اور سعی کی ہے۔ ان کی یہ تمام کوششیں صرف فن کے لئے محدود تھیں یا بادشاہ اور شہنشاہ وقت کے لئے زحمتیں برداشت کی گئیں۔ بہرحال ان کی کتب مجربات اور مفید تدابیر سے پتا چلتا ہے۔ ان کی تمام تر جدوجہد قابل تعریف اور حقیقت کی طرف راہ نما تھی۔ متقدمین کے بعد متاخرین نے ان بنیادوں پر عالی شان محل تعمیر کئے ہیں۔ جن سے اس دور میں بھی غیر معمولی روشنیاں نصیب ہوئی ہیں۔ طب قدیم کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ بقراط اور جالینوس سے لے کر حکیم رازی اور ابن سینا تک تمام اس امر پر متفق ہیں کہ نہ تو طویل عمری ممکن ہے اور نہ ہی اعادہ شباب کی کوئی صورت ہو سکتی ہے اور انسانی طبعی موت کو روکنے کی کوشش کرنا ایک جنون سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ ان کا فیصلہ ہے کہ زندگی رطوبت غریزی اور حرارت غریزی کے ساتھ ساتھ اس کی غذائیت بے حد لازم ہے اور یہ تینوں صورتیں پھر زندگی کے کسی دور میں ممکن نہیں ہیں ۔ دوسرے جسم انسان میں جو رطوبت غریزی اور حرارت غریزی قائم ہیں ۔ ان کی مثال چراغ تیل اور شعلہ کی ہے جن کی روشنی زندگی بھر قائم ہے آخر ایک دن ایسا آتا ہے کہ تیل جل جاتا ہے اور زندگی ختم ہو جاتی ہے اور جوں جوں تیل کم ہوتا جاتا ہے انسانی شباب بھی ختم ہوتا جاتا ہے جو واپس لوٹ کر نہیں آ سکتا البتہ موت ضرور آ جاتی ہے۔

لیکن اس امر پر تمام فاضل حکماء اور ماہرین فن اطبا متفق ہیں کہ حفظ ِ صحت ، زندگی کے افعال اور جذبات میں اگر اعتدال برتا ہے تو زندگی اپنی طبعی عمر تک پہنچ سکتی ہے البتہ زندگی کے اعتدال کے علاوہ حکماء اور اطبا ء نے بعض ایسے اعمال کا ذکر کیا ہے جو اپنی جگہ خاص اہمیت رکھتے ہیں مثلاً حکیم افلاطون کا اعادہ شباب اور درازی عمر کے لئے خم میں بیٹھنا۔ حکماء مصر کے نزدیک استفراغ کو درازی عمر کا بہترین ذریعہ خیال کیا جاتا تھا۔ یونان کے بعض ممتاز اطبا ء کے نزدیک تازہ ہوا میں سانس لینا، گرم پانی میں غسل کرنا اور ریاضت کر کے جسم کو فضلات سے پاک کرنا، شباب اور درازی عمر کے لئے ضروری ہے۔ اسی طرح بعض اطبا ء سر کو ٹھنڈا اور پاؤں کو گرم رکھنا قیام صحت اور درازی عمر کے لئے بہترین اور موثر تدبیریں کرتے ہیں۔ طب قدیم میں جسمانی قوت ، جنسی قوت اور قیام شباب کے لئے گردے ، کپورے اور کلیجی وغیرہ کا استعمال ۔ اسی طرح سری پائے اور دماغ کی یخنی کا استعمال ، ما ء الحم پینا وغیرہ ایسے اعمال ہیں جو ان امور کو ظاہر کرتے ہیں کہ اطبا ء اور حکماء بھی درازی عمر اور قیام ِ شباب سے غافل نہیں رہے۔ بعض اہل ِ اکسیر کا یہ دعوی ٰ ہے کہ اکسیر استعمال سے نہ صرف جوانی واپس آتی ہے بلکہ انسان عرصہ تک زندہ رہ سکتا ہے اور جو لوگ اکسیر ات و رسائن سے نا واقف ر ہے ان کو بے حقیقت سمجھا انہوں نے روحانیت اور علم یوگ کے عاملین جنہوں نے حبس دوام اور کپالی چڑھانے سے ا س مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ان طبی اور روحانی اعمال کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ خوشی اور فارغ البالی ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے آدمی کی عمر بہت بڑھ جاتی ہے اس کے بر خلاف مصائب و آلام نہایت بے دردی سے انسان کی عمر کو گھٹا دیتے ہیں۔ نمایاں پتا چلتا ہے کہ امارت و تمول کی مسرتیں درازی عمر کا موجب ہیں اور غربت و افلاس کے صدمے اکثر انسانوں کو جوانی بھی پوری نہیں کرنے دیتے بلکہ شباب آتا تک نہیں اور ابتدائے شباب ہی میں جسم و روح کا تعلق ختم ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض خاندانوں میں امارت لازم کر دی گئی ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ خاندانوں میں چند پشتوں تک امارت قائم رہی ہے یقیناً ان خاندانوں میں اوسطاً عمر زیادہ ہی نظر آئی ہے۔ اسی طرح اسلام میں جنت کا تصور، ہر قسم کی ضروریات کا میسر ہونا اور حسین عورتوں و حوروں اور دوشیزاؤں کا قرب اس کے ساتھ شراباً طہور کی مستی کے بیان اپنے اندرجو بھی حقیقت رکھتے ہوں مگر اس دنیا میں عیش و نشاط کی داد پانے والوں نے عملی طور پر سب کر دکھایا ہے لیکن اس حقیقت سے کسی فاضل حکیم اور ماہر طبیب نے بھی انکار نہیں کیا کہ حسین دوشیزاؤں میں قیام شباب اور طویل عمری کا بہترین ذریعہ ہیں۔

جو اطبا ء اور حکماء طویل عمری کے قائل نہیں ہیں وہ ان سب حقائق کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں جناب حکیم جلیل احمد صاحب پرنسپل طبیہ کالج کے خیالات ایک مضمون سے پیش کئے جاتے ہیں جو اگر چہ مسلسل بیان کئے گئے ہیں مگر ہم کو ان سے اتفاق نہیں ہے صرف مخالفت ِ نظریات کی وجہ سے نقل کئے جاتے ہیں۔ جن کے جوابات ہمارے آئندہ مضمونوں میں لکھیں جائیں گے۔

مسئلہ قیام و اعادہ شباب

ظاہر امر ہے کہ جب تک یہ نہ معلوم ہو جائے کہ انسان کا تکون کس طرح اور کن چیزوں سے ہوتا ہے نیز لڑکپن ، جوانی، اور بڑھاپا وغیرہ حالات کن تغیرات کے ماتحت ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ اس وقت تک قیام ِ شباب یا اعادہ شباب کے متعلق کوئی یقینی رائے قائم نہیں کی جا سکتی ۔ اس لئے ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ پہلے ذیل میں ان امور کے متعلق مختصر سا تبصرہ ہدیہ ناظرین کر دیں۔

تکون انسان

جمہور اطبا ء متقدمین کا خیال ہے کہ انسان کی تکون دو چیزوں سے ہوتی ہے۔(1)۔ رطوبت ِ غریزیہ (2)۔ حرارت ِ غریزیہ۔ رطوبت ِ غریزیہ میں مرد کی منی ، عورت کی منی اور خون حیض یہ تینوں چیزیں داخل ہیں۔ ان میں سے مرد کی منی اپنی قوت عاقدہ کے ذریعے اور عورت کی منی اپنی قوت ِ منعقدہ کے ذریعے جوہر ِ جنین کا جزو بنتی ہے اور خون حیض ان اعضا ء اصلیہ کی غذا میں صرف ہوتا ہے جو منی سے تیار ہوتے ہیں۔ رہی حرارت ِ غریزیہ۔ وہ ان میں انضاج تغذیہ اور دافع فضلات وغیرہ وظائف انجام دیتی رہتی ہے ان دونوں چیزوں کی اسی اجتماعی حالت پر انسان کی زندگی کا دارو مدار ہے۔ چنانچہ جب تک کسی انسان میں یہ دونوں چیزیں مجتمع اور موجود رہتی ہیں۔ اس وقت تک وہ زندہ رہتا ہے اور جب ان میں سے ایک یا دونوں مفقود ہو جاتی ہیں تو وہ مر جاتا ہے۔

لڑکپن ، جوانی اور بڑھاپے وغیرہ کا سبب

اسی طرح مختلف اسنان یعنی لڑکپن ، جوانی اور بڑھاپا وغیرہ بھی انہی دونوں چیزوں کے مختلف تغیرات کا نتیجہ ہیں۔ چنانچہ جب تک بدن میں رطوبت غریزیہ اس قدر وافر اور کثیر مقدار میں موجود ہوتی ہے کہ حرارت ِ غریزیہ کی حفاظت کرنے کے علاوہ تغذیہ اعضا ء میں بھی صرف ہوسکے اس وقت تک انسان کا لڑکپن شمار کیا جاتا ہے جسے اصطلاح اطبا ء میں سن ِ حداثت یا سن ِ نمود کہتے ہیں۔ اس کے بعد جب رطوبت ِ غریزیہ کچھ کم ہوکر اس قدر باقی رہ جاتی ہے کہ حرارت ِ غریزیہ کی حفاظت کے لئے تو کافی ہوتی ہے لیکن تغذیہ اعضا ء میں صرف نہیں ہوسکتی تو یہ انسان کی جوانی کا زمانہ ہے۔ جس میں اس کے تمام ااعضاء مکمل ہو جاتے ہیں اور قوتیں قوی ہوجاتی ہیں نیز چونکہ رطوبت ِ غریزیہ حفظ ِ حرارت کے لئے کافی ہوتی ہے اس لئے بدن میں حرارت ِ غریزیہ بھی علی کمالہا موجود ہوتی ہے جس پر جوانی کا دارومدار ہے اسے اصطلاح اطبا ء میں سن شباب یا سن ِ وقوف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ جب رطوبت ِ غریزیہ اس قدر کم ہو جاتی ہے کہ حرارت ِ غریزیہ کی حفاظت کے لئے کافی نہیں ہوسکتی تو اس وقت علی التدریج حرارت ِ غریزیہ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے دن بدن قوتیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ یہ زمانہ انسان کا بڑھاپا کہلاتا ہے۔ اس زمانہ میں جب تک بدن میں رطوبت ِ غریزیہ کا غلبہ نہیں ہوتا اس وقت تک اسے اطبا ء کے یہاں سن ِ کہولت کہا جاتا ہے اور جب ضعف ہضم کی وجہ سے بدن میں رطوبت ِ غریبہ غالب ہو جاتے ہیں تو اس وقت اسے سن ِ شیخوخت کے نام سے نامزد کیا جاتا ہے۔

از: حکیم وڈاکٹر جناب دوست محمد صابر ملتانی صاحب

فرنگی طب اور اعادہ شباب

ایورویدک اور طب ِیونانی کی طرح فرنگی طب (ایلوپیتھی) نے اعادہ شباب اور قیام و شباب کے سلسلہ میں اپنی بساط کے مطابق تحقیقات کی ہیں اور انسانی عمر کوبڑھانے کی جدوجہد کی ہے۔ فرنگی طب کی تحقیقات پڑھنے سے پہلے اس امر کو ذہن نشین کرلیں کہ تحقیقات کا تعلق ہمیشہ تجربات و مشاہدات اور عقلی و نقلی دلائل سے ہوتا ہے۔ ہر شخص ، ہر ملک اور ہر طریق علاج و ہر ضرورت کے لئے جدا جدا رہیں ، الگ الگ طریق اور جدا جدا دلچسپیاں اور علیحدہ علیحدہ نظریات ہوتے ہیں۔ کبھی بھی فرض نہ کرلیا جائے کہ جو تحقیقات گزشتہ زمانے میں ہو چکی ہیں، جدید تحقیقات انہی اصولوں ، نظریات اور راہوں (لائنوں ) پر جاری ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اکثر صورتوں میں ایک محقق گزشتہ زمانوں کی تحقیقات کو ضرور سامنے رکھتا ہے مگر یہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ جب ایک محقق بغیر اپنے کسی نئے نظریے کے صرف گزشتہ تحقیقات کا جائزہ لیتا ہو۔ لیکن اگر کوئی محقق اپنا ذاتی نظریہ کسی علم و فن کے متعلق رکھتا ہے تو اس کی تحقیقات اس امر کی پابند نہیں ہو تیں کہ اس سے قبل جو تحقیقات ہوچکی ہیں اس کو ان کے آگے کا کرنا چاہیے بلکہ وہ اپنے نظریات کے تحت تحقیقات کرتا ہے ۔ البتہ ضرورت کے مطابق گزشتہ تحقیقات پر بھی نظر ڈالتا ہے کہ شاید اس کے نظریات کے تحت بھی اس کو کچھ اشارات یا کام کیا ہوا مل جائے۔ حقیقت میں اصل تحقیقات اس کا نا م ہے کہ پہلے کوئی نظریہ قائم کیا جائے یا کم از کم کوئی اصول مقرر کئے جائیں پھر اپنی تحقیقات کا آغاز کیا جائے تاکہ دنیا علم فن کے سامنے کوئی نئی چیز رکھی جاسکے۔

فرنگی طب (ماڈرن میڈیکل سائنس ) کی تحقیقات کے متعلق بھی یہ جان لیں کہ ان کی تحقیقات اعادہ شباب اور قیام شباب کے متعلق جو کچھ بھی ہیں ان کا تعلق ایورویدک اور طب ِ یونانی سے کوئی نہیں ہے۔ فرنگی تحقیقات جدا ہیں ان کے نظریات الگ اور اصول علیحدہ علیحدہ نظریات اور اصولوں کے تحت کی گئی ہیں۔ اس لئے جو صاحب ِ ذوق فرنگی تحقیقات کا مطالعہ کریں وہ اس امر کو ذہن نشین کرلیں کہ ان کی بنیاد نہ ایورویدک اور طب یونانی پر اور نہ ہی فرنگی طب ان سے ترقی یافتہ اور ارتقائی مقام رکھتی ہے۔ یہ قانون اور قاعدہ صرف اعادہ شباب و قیام ِ جوانی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ علم طب کے ہر شعبہ اور اگر اس خیال کو وسعت دیں تو دنیا کے ہر علم و فن میں فرنگیوں کی تحقیقات اپن ایک جدا رجحان (Trend) رکھتی ہیں۔ اس تاکید کے بعد اب ہم فرنگی طب کی تحقیقات کا مختصر خلاصہ بیان کرتے ہیں جو انہوں نے اعادہ شباب و قیام شباب اور طویل عمری کے متعلق کی ہیں۔

فرنگی طب کے نظریات

فرنگی طب نے جن نظریات کے تحت اعادہ شباب و قیام شباب اور طویل عمری کے متعلق تحقیقات کی ہیں وہ چند مختلف ہیں۔ چونکہ فرنگی طب نے امراض کی تحقیقات میں زیادہ تر جراثیم تھیوری سے کام لیا ہے اس لئے اس سلسلہ میں بھی ان کا پہلا نظریہ یہ ہے کہ وقت سے پہلے بڑھاپا اس وقت آتا ہے۔ جب زہریلے جراثیم غذائی سمیت کے ذریعے آنتوں میں داخل ہوکراپنا فعل انجام دیتے ہیں۔ یہ نظریہ پروفیسر میچنکاف کا ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہےکہ انسان اس وقت بوڑھا ہوجاتا ہے جب اس کا نظام غذائیہ بے کار ہوجاتا ہےیا وہ پورے طور پر کام نہ کرسکے۔ یہ نظریہ سائنسدانوں کے ایک گروہ کا ہے مگر یہ نظریہ کوئی جدید نہیں ہے۔ طب یونانی بھی اس کو تسلیم کرتی ہے۔ تیسرا نظریہ یہ ہے کہ جس وقت الحاقی نسیج(Connective Tissues) بڑھ کر دیگر اقسام کے ٹشوز پر اثر انداز ہوتے ہیں جن سے دیگر ٹشوز میں سختی کے ساتھ ساتھ ان کے افعال اور مجاری میں رکاوٹ پیداہوجاتی ہےتو انسان بوڑھا ہونا شروع ہوجاتا ہے یہ نظریہ مارشل اسٹالین کے طبیب خاص "یوگومول” کا ہے۔ چوتھا نظریہ یہ ہے کہ بڑھاپا اس وقت آتا ہے جب انسان کی شریانوں میں صلابت پیداہوجاتی ہے جس سےان میں لچک ختم ہوجاتی ہے اوروہ ناکارہ ہوجاتی ہیں یہ نظریہ انگلستان کے مشہور طبیب ولیم آملر کا ہے۔ پانچواں نظریہ یہ ہے کہ انسانی خلیات(Cells)کی پیدائش کم ہوجاتی ہے اس لئے بڑھاپا چھا جاتا ہے یہ نظریہ جدید سائنسدانوں کے ایک گروہ کا ہے۔ چھٹا نظریہ یہ ہے کہ جسم انسان میں خون اور سفید ذرات کمزور پڑجاتے ہیں اس لئے انسان بوڑھا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ ساتواں نظریہ یہ ہے کہ جس وقت جسم انسان کے غدد بے کار ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو اس سے ان کی کیمیائی رطوبت(Hormones) کی تراوش میں کمی واقع ہوجاتی ہے تب انسان بوڑھا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ نظریہ بھی بعض سائنسدانوں کا ہے۔ آٹھواں نظریہ یہ ہے کہ انسانی اعضائے تناسلی کا جوہر جب ختم ہوناشروع ہوجاتا ہے تو انسان میں بڑھاپے کا آثار پیداہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ نظریہ فرانسیسی سائنسدان چارلس ایڈورڈ براؤن کا ہے۔ نوواں نظریہ یہ ہے کہ جب انسانی خصیوں میں ضعف واقع ہوتا ہے تو بڑھاپے کا آثارنظر آنا شروع ہوجاتے ہیں یہ نظریہ ڈاکٹر تسنیاخ کا ہے۔ اس کی تحقیقات کے مطابق بوڑھے اشخاص کے خصیوں پر عمل تقلیم کرنا چاہیے اس سے اعادہ شباب کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ ڈاکٹروروناف پیرس میں مردوں اور عورتوں پر بندروں کے خصیے کا پیوندلگا تا تھا جس سے جسم میں از سرِ نوشباب کی لہر دوڑ جاتی تھی۔ بعد میں یہ حقیقت سامنے آگئی کہ نہ صرف اس کا اثر وقتی ہے بلکہ فوراً ہی بعد میں ایسا زوال آتا ہے کہ صحت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوجاتی ہے اور انسان پہلے سے زیادہ بوڑھا ہوجاتا ہے۔

نظریہ میں اختلاف

مندرجہ بالا فرنگی طب کے اعادہ شباب وقیام شباب اور طویل عمری کے نظریہ کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ ان تحقیقات کا ایورویدک اور یونانی تحقیقات سے کچھ تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ وہ اپنی جگہ جدا اقسام کی تحقیقات ہیں۔یہاں پریہ پھر واضح کردیاجائے کہ ایورویدک کایا کلپ (اعادہ شباب اور طویل عمری) کے متعلق رسائن اور اصول صحت کےلئے تاکید کرتی ہے اور طب یونانی رطوبت غریزی اور حرارتِ غریزی کی حفاظت کےلئے حفظِ صحت کے اصولوں کو معمول بنانے کےلئے زور دیتی ہے۔ بہرحال فرنگی طب ایورویدک اور طب یونانی کے نظریات، تجربات اور مشاہدات اپنی اپنی جگہ جدا صورتیں رکھتے ہیں۔ اس لئے ان کے ذہن نشین کرنے کےلئے ان کے ہی نظریات کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سےصحیح نظریہ کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ قیام شباب اور اعادہ شباب اور طویل عمری کےلئے جو مختلف طریق علاج میں تحقیقات کی گئی ہیں وہ تمام اپنی اپنی جگہ سب قابلَِ تعریف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تحقیقات حقیقت کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے سنگ ِ میل کا کام تو دیتی ہیں مگر ان میں سے خود کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس لئے ہم کسی ایک نظریہ کو صحیح کہتے ہوئے قانون کادرجہ نہیں دیتے ویسے ہم حقیقت کی راہ نمائی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان امور کو تسلیم کرتے ہیں کہ رسائن میں اس قسم کی طاقت ضرور ہے کہ اگر ان کو صحیح مقام پر استعمال کیا جائے تو یقیناً کایا کلپ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح طب یونانی کے نظریہ کو بھی بہت اہمیت ہے کہ اگر واقعی کوئی انسان رطوبت ِ غریزی اور حرارت ِ غریزی کی صحیح طریق پر حفاظت کرتے تو واقعی وہ اپنی طبعی عمر کو ضرور پہنچ جائے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ رسائن کی تیاری اور ان کا استعمال بھی اسی قدر دشوار ہے جس قدر طب یونانی کے اصولوں پر رطوبت ِ غریزی اور حرارت ِ غریزی کی صحیح طریق پر حفاظت کرنا مشکل ہے کیونکہ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ مسلسل سالوں تک یہ نا ممکن ہے کہ کوئی انسان مسلسل صحت کے قوانین کی شب و روز پیروی کرتا جائے۔ یہ پیروی بادشاہ اور خدا کی بھی مشکل ہو جاتی ہے پھر بھلا ذاتی اغرا ض کے لئے قوانین ِ صحت کی پیروی مسلسل شب و روز نفسیاتی طورپر طبعیت کو اکتا دینے والی بات ہے اس لئے ان مقاصد میں کامیابی کے لئے آسان راہیں تلاش کرنا ہیں۔جہاں تک فرنگی طب کے نظریات کا تعلق ہے ان میں اس وقت کامیابی تقریباً ناممکن ہے جب تک پہلے اس مسئلہ کا حل نہ کیا جائےکہ قوت دراصل کیا شے ہے؟ کیسے پیدا ہوتی ہے؟ کیا اس کو قائم رکھا جاسکتا ہے؟۔ اس وقت تک فرنگی طب ان سوالات میں سے کسی کا جواب نہیں دیتی البتہ اس کے مختلف نظریات اور اصولوں کے تحت جو تحقیقات کی گئی ہیں علمی و فنی معلومات کی ضرور حامل ہیں۔ جن کی مختصر تفصیل درج ذیل کرنے کے ساتھ ساتھ ہم ان کے افادی اور غیر افادی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالتے جائیں گے۔ تاکہ اہل ِ فن اور صاحب ِ عقل کے علاوہ عوام بھی مستفید ہوتے جائیں۔

از: حکیم وڈاکٹر جناب دوست محمد صابر ملتانی صاحب

فرنگی طب کا پہلا نظریہ

چونکہ فرنگی طب نے امراض کے متعلق تحقیقات کرنے میں جراثیم تھیوری سے کام لیا ہے ۔ اس سلسلہ پروفیسر میچکاف کا بھی یہی نظریہ ہے کہ بڑھاپا اس وقت آتا ہے جب زہریلے جراثیم غذا کے ذریعے آنتوں میں داخل ہوکر اپنا فعل انجام دیتے ہیں۔ اول تو جراثیم تھیوری کا یہ نظریہ ہی غلط ہے کہ اس سے امراض پیداہوتے ہیں ، کیونکہ امراض صرف اعضاء کی خرابی سے پیدا ہوتے ہیں۔ جب تک اعضاء میں قوت ِ مدافعت(Immunity) باقی رہتی ہے وہ جراثیم کو اول اندر داخل نہیں ہونے دیتے اگر داخل ہو بھی ہوجائیں تو وہ فنا کر دئیے جاتے ہیں۔ اس لئے جراثیم کو ہم زہر تو ضرور خیال کرتے ہیں اور امراض کا سبب قرار دیتے ہیں لیکن سبب ِ سابقہ کہتے ہیں، سبب واصلہ نہیں کہتے ۔ سبب واصلہ صرف اعضاء کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اگر یہ نظریہ فرض بھی کرلیں یا جراثیم کے مسلسل حملوں سے اعضاءکی کمزوری کا تصور بھی کرلیں اور بڑھاپے کے نظریے کے صحیح ہونے کے بعد بھی ہم اس سے مستفید کیسے ہو سکتے ہیں اس کی صرف یہی صورت ہوگی کہ ہم زندگی بھی ان جراثیم کو اپنی آنتوں میں جانے سے روکنے کی کوشش کرتے رہیں جو بالکل ناممکن ہے۔ وہ طب یونانی کا مسئلہ حفظ ِ صحت سامنے آ جاتا ہے جس کی طوالت طویل عمر کے لئےبھی عذاب ِ جاں بن جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جراثیم تھیوری سے نہ صرف قیام ِ شباب اور طویل عمری کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا بلکہ امراض کی روک تھام بھی نہیں ہوسکتی اور اس نظریہ کے تحت جو علاجات کئے جارہے ہیں وہ نہ یقینی ہیں اور نہ کامیاب ہیں ۔ اس لئے قیام ِ شباب اور طویل عمری میں جراثیم تھیوری کو عمل میں لانا بےمعنی صورت ہے۔

دوسرا نظریہ

بعض سائنسدانوں کا نظریہ یہ ہے کہ انسان اس وقت بوڑھا ہوتا ہے جب اس کا نظام ِ غذائیہ بے کار ہوجاتا ہے یا پورے طورپر بگڑ جاتا ہے۔ یہ نظریہ اول تو نیا نہیں ہے۔ ایورویدک اور طب یونانی بھی اس کا ذکر کرتی ہے دوسرے یہ نظریہ پہلے نظریے کی سلجھی ہوئی صورت ہے ، تیسرے طویل عمری میں ایک مقصد اعادہ شباب بھی ہے جو خرابی اعضاء اور خرابی خون کی حفاظت سے مکمل نہیں ہوسکتا ہے اس مقصد کے لئے کوئی ایسی صورت ہونی چاہیے جس سے قیام ِ شباب کے ساتھ اعادہ شباب کی صورت بھی ہونی چاہیے۔

تیسرا نظریہ

ڈاکٹر "بوٹو مول” جو مارشل سٹالین کے طبیب ِ خاص تھے ان کا نظریہ یہ ہے کہ بڑھاپا اس وقت آتا ہے جب انسان کا الحاقی مادہ (Connective Tissues) بڑھ کر دیگر اقسام ٹشوز پر اثر انداز ہوجاتے ہیں ۔ جن میں دیگر ٹشوز میں سختی کے ساتھ ساتھ ان کے افعال اور مجاری میں رکاوٹ پیداہوجاتی ہے۔ "راک فیلر ہیولاجیکل اسٹیٹیوٹ” کے مستند اور چوٹی کے نامور ڈاکٹروں اور سائنسدانوں نے بے شمار تجربات کے بعد یہ امر تسلیم کرلیا ہے کہ الحاقی نسیج کنکیٹو ٹشوز سوائے حادثات کے اپنی زندگی اور نسل کوقائم رکھتے ہیں۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ نسیج الحاقی کیا ہے؟ اور اس کے افعال کیا ہیں؟

نسیج الحاقی

نسیج مرکب ہے کیسہ جات (Cells) سے ، کیسہ ایک حیوانی ذرہ ہے جس کو خلیہ بھی کہتے ہیں ۔ جاننا چاہیے کہ کائنات میں جو بھی جاندار مخلوق ہے یہا ں تک کہ نباتا ت بھی ان ترکیب جسمی اور بناوٹ ِ بدنی انہی خلیات سے عمل میں آتی ہے۔ ہر حیاتی مخلوق کی بناوٹ دو قسم کی ہوتی ہے۔ا ول بنیادی خلیات اور دوسرے فعلی خلیات۔ بنیادی خلیات واحد خلیاتی ہوتے ہیں یعنی اس میں ایک ہی قسم کے خلیے پائے جاتے ہیں اور یہ ادنی ٰ قسم کے مخلوق میں پائے جاتے ہیں اور فعلی خلیات اعلیٰ قسم کی مخلوق میں پائے جاتے ہیں اور اکثر مرکب خلیات پائے جاتے ہیں۔بنیادی خلیات میں اعصاب اور عضلات نہیں پائے جاتے۔ ان بنیادی خلیات کی بناوٹ لیسدار اور ریشہ دار ارضی مادہ سے ہوتی ہے جو خاکی مادہ کہلاتا ہے۔ اس کی ترکیب میں کاربونیٹ اور فاسفیٹ اوف لائم اور دیگر قسم کے نمکول کے ساتھ جن میں چونے کی خاصیت ہوتی ہے پایا جاتا ہے۔ یہی مادہ جب اپنے کمال کو پہنچ جاتاہے تو ہڈی بن جاتا ہے۔ چونکہ یہ مادہ مخلوقات میں بنیاد کا کام دیتا ہے اس وجہ سے اس کو بنیادی خلیہ کہتے ہیں۔

نسیج الحاقی میں اسی قسم کے بنیادی خلیے پائے جاتے ہیں جن کو بناوٹ میں یہی خاکی مادہ ہوتا ہے حیوانات خصوصاً انسان میں یہ الحاقی نسیج دیگر انسجہ کے ساتھ بہت زیادہ مقدار میں پایاجاتا ہے انسان میں بنیادی اعضاء اسی سے بنتے ہیں جن میں ہڈی و کری، رباط و اوتار اسی سے بنتے ہیں ان کے علاوہ جسم انسان کے دیگر اعضاء کی مضبوطی کا کام بھی آتا ہے ۔ اس مادہ کی زیادتی کو اس طرح سمجھاجاسکتا ہے کہ اگرجسم کو کسی ایسے تیزاب میں ڈال دیا جائے جس سے الحاقی مادے کے سوا باقی تمام انسجہ تحلیل ہوجائیں تو باقی جسم ایک چھلنی کی مانند رہ جائے گا۔ بچپن میں الحاقی مادہ بہت کم ہوتا ہے اور اسی وجہ سے نسیج الحاقی میں سختی نہیں پائی جاتی اور بچے کی ہڈیاں اس لئے نرم ہوتی ہیں ۔ جوں جوں بچہ جوان ہوتا جاتا ہے ۔ الحاقی نسیج یا الحاقی ماد ہ زیادہ اور سخت ہوجاتا ہے۔ بڑھاپے میں یہ مادہ اس قدر سخت ہوجاتا ہے کہ اس سے ایک طرف اعضائے انسانی لکڑی کی طرح سخت ہوجاتے ہیں جن سے اعضاء کے افعال میں رکاوٹ پیداہوجاتی ہے۔ دوسرے اس مادہ کے بڑھ جانے پر مجرا وغیر ہ میں بھی رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ اس طرح انسان پر بڑھاپا غالب آجاتا ہے۔

جوانی میں یہ خلیات ہمیشہ نئے خلیات میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ پرانے خلیات تحلیل ہوکرغائب ہو جاتے ہیں اور نئےخلیات ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ چالیس سال کی عمر تک یہ عمل جاری رہتا ہے مگر اس کے بعد خلیات کا انحال تو جاری رہتا ہے مگرنئے خلیات کی تکون عمل میں نہیں آتی اور چالیس سال کی عمر تک دماغ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے بعدگھٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ہم اس قوت سے محروم ہوجاتے ہیں جس سے خلیات کی تکوین ہوتی ہے۔ چالیس سال کی عمرکے بعد بھی ہم زندہ رہتے ہیں لیکن ہمارے قویٰ برابر گرتے رہتے ہیں اور فنا ہوتے رہتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ چالیس سال کے بعد بدل مایتحلل جسم کو حاصل نہیں ہوسکتا۔

خلیات کی موت اور بڑھاپا

چالیس سال کے بعد ایک طر ف الحاقی یا خاکی مادہ زیادہ سخت ہونا شروع ہوجاتا ہے تو دوسرے نئے خلیات کی پیدائش بند ہوجاتی ہے، تیسرے دماغ کی ترقی رک جاتی ہے اور بڑھاپا ظاہر ہوکر موت کی شکل دکھا دیتا ہے۔ بڑھاپے میں جسم کمزور اور نحیف ہوجاتا ہے۔ یہ خاکی مادہ جو خون میں ملا ہوتا ہےجسم کے خلیات کے منہ میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور وہیں جسم بن جاتا ہےچونکہ پھر خلیہ میں خون کا گزر نہیں ہوسکتا اس لئے وہ خلیہ بند ہوجاتا ہے اور چونکہ نیا خلیہ بننا بھی بند ہو چکا ہوتا ہے تو جسم میں اس مقام پر مردہ خلیہ کی علامت بطور جھری کے ظاہر ہو جاتی ہے۔ غرضیکہ اسی طرح رفتہ رفتہ تمام خلیات کے منہ اس خاکی مادہ سے بند ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کل جسم پر جھریاں پڑنی شروع ہوجاتی ہیں اور گوشت پوست لٹک جاتا ہے۔

اس نظریہ سے بڑھاپے کی کچھ حقیقت تو سامنے آتی ہے مگر اس کا علاج فرنگی طب میں اس کے سوا اورکچھ نہیں آتا کہ الحاقی نسیج میں اتنی سختی پیدانہ ہواور خلیات کی پیدائش جاری رہےلیکن یہ علاج بھی امکان سے باہر ہے دراصل یہ حقیقت ہے کہ فرنگی طب کی تحقیقات کلیات کے سلسلہ میں زیادہ دقیق نہیں ہے جس سے وہ پیدائش ِ خلیات پرکچھ مزید روشنی ڈال سکے۔ اس لئے اس بارے میں اس کی تحقیقات ختم ہوچکی ہیں۔

اس سلسلے میں ہماری تحقیقات یہ ہیں کہ الحاقی نسیج کے خلیات کی پیدائش موت تک جاری رہتی ہے یہی خلیات بنیادی ہیں۔البتہ فعلی خلیات کی پیدائش بند ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر بدن انسان میں مناسب حرارت رہے اور دوسری طرف یہی حرارت الحاقی نسیج کو سخت نہیں ہونے دیتی ہے یہ حرارت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ اور کہاں پیداہوتی ہے؟ اس کا ذکر ہم اپنی تحقیقات میں کریں گے۔ ہماری تحقیقات فرنگی طب سے کس قدر زیادہ اور اہم ہیں۔

از: حکیم وڈاکٹر جناب دوست محمد صابر ملتانی صاحب

چوتھا نظریہ

اس نظریہ میں اس امرکومدِ نظر رکھا گیا ہےکہ بڑھاپا اس وقت آتا ہے جب انسان کی شریانیں سخت ہو جاتی ہیں اور ان میں صلابت پیداہوجاتی ہے ان میں لچک ختم ہوجاتی ہے۔ خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور وہ ناکارہ ہوجاتی ہیں ۔ یہ نظریہ بھی کوئی نیا نہیں ہے۔ وہی نسیج الحاقی یا خاکی مادہ کی ایک مختلف صورت ہے وہ صرف شریانوں تک محدود کردی گئی ہے۔ شریانیں کوئی باقی جسم سے جدا اور مختلف نہیں ہیں ان کی پیدائش بھی انہیں مادوں سے ہوئی ہےجن سے باقی جسم بناہوا ہے۔ شریانوں میں بھی نسیج الحاقی اور خاکی مادہ پایا جاتا ہے جو وہاں پر سختی اور صلابت اختیار کرلیتا ہے۔البتہ اس تحقیق سے جو نئی چیز علمی دنیا کے سامنے آتی ہے وہ خون کا دباؤ کا بڑھ جانا(High Blood Pressure) ہے جو اپنی جگہ ایک خوفناک علامت ہے لیکن اس کا تعلق صرف شریانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ جب شریانوں میں سختی اور صلابت پیداہوتی ہے تو اس سے قبل عضلات اور غدد کو اپنی گرفت میں کر چکی ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے اندرونی اعضاء اور منسوجات سخت ہوجاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ جب بوڑھوں پر جراحی کے زیرِ عمل اس کے اعضاء خصوصاً جگر اور گردوں پر نشتر چلایا جاتا ہے تو ان میں سے ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جیسےلکڑی کو آری سے چیرا جارہاہو یہ سب کچھ منسوجات میں خاکی مادہ کی کثرت اور سختی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ جگر تغذیہ جسم کا ایک انتہائی ضروری جزو ہے اور یہ کئی افعال انجام دیتا ہے جب اس پر الحاقی نسیج یا خاکی مادہ اثر انداز ہوجائے یا لپٹ جائے تو اس کے افعال میں یقیناًخلل واقع ہوجاتا ہے جس کانتیجہ ظاہر ہے ۔ اسی طرح گردے بھی انتہائی ضروری اعضاء ہیں اور ان کے خلیات کا قدرتی فعل یہ ہے کہ وہ مضروفاسد مادے پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج کرتے ہیں لیکن ان کے گرد جب نسیج الحاقی اور خاکی مادہ اثر انداز ہوتا ہے تو پھر گردے اپنے افعال صحیح طورپر انجام نہیں دے سکتے جس کی وجہ سے خون میں تیزابی مادوں کی کثرت ہو جاتی ہےاور بڑھاپا اور بالوں میں سفیدی کا ظہور ہوجاتا ہے۔ نزلہ کی ابتدا بھی یہیں سے ہوتی ہے۔ صرف جگروگردوں تک محدود نہیں ہے بلکہ دل و دماغ کے حجاب و مخاط میں بھی جب نسیج الحاقی اور خاکی مادہ اپنا اثر کرتے ہیں تو ان کے افعال میں بھی خرابی واقع ہو جاتی ہے۔ ظاہری طورپر اس کا اثر جب جلد پر پڑتا ہے تو وہ سوکھ کر خشک اور پتلی ہوجاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عضلات میں دبلاپن ظاہر ہوجاتا ہے۔

اس سختی کوصرف صلابت ِ شرائین تک محدود نہیں خیال کرنا چاہیے بلکہ اندرونی غدد کو خاص طورپر مدِ نظر رکھنا چاہیے جن سے ہروقت رطوبات کا ترشح جاری رہتا ہے جب الحاقی نسیج اور خاکی مادہ پھر ان پر اثرانداز ہوتا ہے تو ان کی رطوبت کا ترشح رک جاتا ہے اور غدد بے کار ہوجاتے ہیں اور اپنے افعال جاری نہیں رکھ سکتے۔ عام طورپر دیکھا گیا ہے کہ بوڑھے لوگ اپنا منہ کھولے رہتےہیں تا کہ ان کے منہ کی خشکی کم ہوتی رہےاور حلق تر رہے۔شرائین و غدد اور عضلات وغیرہ کی صلابت واقعی بڑھاپے کی علامت ہیں ۔ ظاہرہ یہ ماڈرن سائنس کی تحقیقات ہیں لیکن طب ِ یونانی کی کتب میں اس صلابت کا ذکر بڑی وضاحت سے پایا جاتا ہے لیکن اگر اس کو صرف فرنگی طب کی تحقیقات ہی تسلیم کرلیا جائے تو بھی یہ صرف بڑھاپے کی علامت سے زیادہ نہیں ہے جو نسیج الحاقی کو مدنظر رکھ کر بیا ن کی گئی ہے لیکن سوال پیدا ہوتاہے کہ اس صلابت شرائن و غدد اور عضلات وغیرہ کا علاج کیا ہے؟ جیساکہ ہم تیسرے نظریہ کے بارے لکھ چکے ہیں کہ فرنگی طب تا حال خلیات کی پیدائش اور ان کے افعال سے پورے طورپر واقف نہیں ہے اس لئے وہ اس کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

کے متعلق: Zubair Hashmi

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

تحقیقات المجربات

 ﷽ تحقیقات المجربات خداوندِ حکیم آور ہادئ برحق کا ہزار ہزار شکر ہے کہ جس …

تحقیقاتِ علم الادویہ

﷽ علم الادویہ پیش لفظ علم خواص الاشیا خداوند علیم و حکیم کا انسانیت پر …

error: Content is protected !!