جمعرات - 23 - ستمبر - 2021
اہم تحاریر

تحقیقاتِ اعادہِ شباب

پانچواں نظریہ

اس نظریہ کی بنیاد اس امر پر ہے کہ انسانی خلیات(Cells) کی پیدائش کم ہوجاتی ہےاس لئے بڑھاپا آنا شروع ہوجاتا ہے ۔ یہ نظریہ بھی کوئی جدا حقیقت نہیں ہےکیونکہ اس کاتعلق نسیج الحاقی کے ساتھ ہے بہرحال یہ ایک نظریہ ہے اور اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے اس کا سمجھنا بھی قیام ِ شباب و اعادہ شباب اور طویل عمری پر روشنی ڈالتا ہے مگر خلیات کی پیدائش کیسے بڑھائی جا سکتی ہے فرنگی طب اس حقیقت سے آگا ہ نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ چونکہ ڈاکٹر دورونوف کو اعادہ شباب میں کافی اہمیت حاصل ہے اس سلسلہ میں ان کی رائے بطور ثبوت درج ذیل ہے۔

"نسیج اتصالی (الحاقی) دوسرے منسوجات کےلئے ایک سہارا اور ڈھانچہ کے طورپر ہے تمام اعضاء کے کارکن یعنی فعلی خلیات کے درمیان نسیج اتصالی کے خلیات موجود ہوتےہیں جو عضو ِ متعلقہ کی صورت قع ڈھانچہ کے قیام میں ممد ہوتے ہیں۔ عضلات کے ریشوں اور جگر و گردوں ، غدد ترمیہ اور خصیتیں وغیرہ کے فعلی خلیات بھی نسیج اعصابی کی خلیات سے معرا نہیں ہوتیں۔ ہر عضو میں مخاطی خلیات فعلی خلیات ہیں جو عضو متعلقہ کا مخصوص وظیفہ سر انجام دیتے ہیں اس کے درمیان جو نسیج اتصالی پایا جاتا ہے اس کا مقصد مخاطی خلیات کو سہارادینے کے علاوہ یہ بھی ہے کہ خون کی باریک باریک رگوں سے جو رطوبت رستی ہے اسے اپنے اندر سے گزار کرمخاطی خلیات تک پہنچا دے۔ کیونکہ اس کے بغیر ان فعلی خلیات کا تغذیہ ممکن نہیں ہے”

ڈاکٹر دورونوف کے اس بیان سے صاف پتا چلتا ہے کہ نسیج فعلی اور نسیج الحاقی کا باہمی کیا تعلق ہےاور جب وہ ایک مقررہ تناسب سے گھٹ جاتے ہیں تو کیا جسمانی تغیرات میں آتے ہیں یعنی نسیج اتصالی کے خلیات منسوجات فعلی کا کام انجام دیتے ہیں وہ فعلی خلیات کی نسبت بہت مضبوط ہوتے ہیں اور ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں۔ اس نوع کی پیدائش پر عمر کا کوئی اثرنہیں ہوتا اور ان کے مقابلے میں فعلی خلیات جو اعلیٰ اور ارتقائی درجہ کے مختلف الخواص اور نازک ہوتے ہیں اپنی کارکنی مگر پوری غذا اور آرام نہ ملنے کی وجہ سے تھک کر کمزورہو جاتی ہیں اور جب معمر ہوجاتی ہیں تو ان میں اپنی مثل پیداکرنے کی طاقت گھٹ جاتی ہے مگر ان کے مقابلے میں نسیج اتصالی کی قوت قائم رہتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کسی عضو میں جوں جوں فعلی خلیات کم ہوتے جاتے ہیں تو ں تو ں اتصالی خلیات بڑھتے جاتے ہیں۔اس وجہ سے جسم اور اعضاء کا توازن بگڑ جاتا ہے ۔ صحت برقرار نہیں رہ سکتی جس کے بعد بڑھاپا اور آخرمیں موت واقع ہوجاتی ہے۔

قیام ِ شباب اور طویل عمری کا یہ نظریہ کتنا عقل و فطرت کے مطابق معلوم ہوتا ہے لیکن پروفیسرریٹیرنے ایک پہلو سے اس کی مخالفت کی ہے۔ اس کی تحقیق یہ ہے کہ جب مخاطی خلیات کی تولید کم ہوجاتی ہے تو یہی خلیات اتصالی خلیات میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ لیکن ہماری تحقیقات میں پروفیسرریٹیرکی تحقیقات بھی اس سلسلہ میں اسی طرح غلط ہیں جس طرح باقی فرنگی سائنسدانوں کی تحقیقات اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارنا ہے۔

قطع نظر ان مباحث کے ان تحقیقات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہےکہ خلیات فعلی کے گھٹنے اور خلیات اتصالی کے بڑھنے سے بڑھاپاآجاتاہےاور شباب ختم ہوجاتا ہے اور اگر کسی طرح فعلی خلیات کی تولید بڑھائی جاسکے اور انہیں اتنی تقویت دی جائے کہ وہ اتصالی خلیات سے مغلوب نہ ہونے پائیں۔ پس جو شخص قدرت کا یہ راز معلوم کرلےگا وہ یقینا! بڑھاپے پر فتح پا سکتا ہےاور قیام ِ شباب اور اعادہ شباب حاصل کرسکتا ہے لیکن ابھی فرنگی محقیقین کو یہ پتا نہیں چل سکا کہ جسم انسانی کے اندرونی اعضاء میں کارکن خلیات کی جگہ نسیج اتصالی کے خلیات کیسے لے لیتے ہیں۔ ان کے لئے ابھی یہ ایک راز ہی ہے۔

چھٹا نظریہ

اس نظریہ کے تحت یہ تحقیق کی گئی ہے کہ جسم ِ انسان میں خون اور سفید ذرات کمزور پڑجاتے ہیں اس لئے انسان بوڑھا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ نظریہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کیونکہ بڑھاپے میں واقعی انسان کا خون اور سفید ذرات کمزور ہوجاتے ہیں اور حقیقت ِ مسلمہ ہے کہ خون ہی زندگی اور طاقت کا دارومدار ہے اور امراض سے بچاؤ کے لئے خون کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ سفید ذرات کا بھی اپنی پوری مقدار میں مضبوط رہنا ضروری ہے ۔ جن ان دونوں میں کمزوری اور ضعف پیدا ہوگیا تو لازمی امرہے کہ بڑھاپا آجائے گااور شباب قائم نہیں رہ سکے گا۔ لیکن یہاں پر یہ حقیقت بھی محل ِ نظر ہے کہ خون اور سفید ذرات کی کمزوری بذات ِ خود پیداہوجاتی ہے یا اعضاء و خلیات اور اغذیہ و ماحول کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جہاں تک اس حقیقت کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ غذاکو اعضاء اور خلیات ہی ہضم کرکے خون اور سفید ذرات بناتے ہیں ۔ اچھی غذا اور مضبوط اعضاء اور خلیات سے عمدہ خون اور مضبوط ذرات سفید پیداہوتے ہیں۔ گویا خون اور سفید ذرات ثانوی اشیاء ہیں۔ اس لئے اس نظریہ کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ لیکن خون اور سفید ذرات کی کمزوری کا علم بھی بعض تحقیقات پر ضرور روشنی ڈالتا ہے۔

ماڈرن سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کی تحقیقات ہیں کہ خون میں ایک قسم کے خوردبینی جراثیم پائے جاتے ہیں جن کوممد ِ حیات (Phagocytes)کہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ خوردبینی جراثیم انسانی جسم کے محافظ ہیں جو زہریلے اور مہلک جراثیم کو فنا کرنے کا کام انجام دیتے رہتے ہیں۔ جس جسم میں ان ممد ِ حیات جراثیم کی تعداد اور زیادہ ہو۔ وہی جسم تندرست و صحیح اور مضبوط رہتا ہے۔ جب ان کی تعداد کم ہوجائے تو مہلت جراثیم بڑھ جاتے ہیں تو انسان بیماریوں میں پھنس جاتا ہے اور اپنی صحت خراب کرلیتا ہے۔

ہم پہلے بھی یہ لکھ چکے ہیں کہ یورپ کے محقق ڈاکٹر انسان کے عمر طبعی سے پہلے مرجانے کا باعث مختلف امراض کے کروڑوں جراثیم قرار دیتے ہیں۔ جو ہروقت انسان کے جسم کو گھن کی طرح کھاتے اور کمزور کرتے رہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ان کے مقابلے میں تندرستی کے معاون اور قوت بخش جراثیم کو خاص طورپرتقویت دی جائے تو انسان نہایت طویل عمر حاصل کرسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خون میں صرف جراثیم کو طویل عمر کا باعث خیال کرنا عقل مندی کے منافی ہے کیونکہ خون کی ٹھوس و محلول اور مائی مادوں و عناصر اور کیفیات کا مرکب ہے۔ جب تک یہ مرکب صحیح حالت میں قائم نہ رہے اس وقت تک اس میں کوئی موافق اور مخالف جراثیم زندہ بھی نہیں رہ سکتے اس لئے خون کو اگر ممد ِ حیات (Phagocytes)جراثیم سے اہمیت حاصل ہے تو یہ بالکل بے معنی چیز ہے۔ ہمیں اس امر سے انکار نہیں ہے کہ خون میں قوتِ مدبرہ بدن ہے اور وہ تقویت و تصفیہ جسم کے ساتھ ساتھ ہر مرض کا مقابلہ بھی کرتا ہے مگر اس میں جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے وہ حرارت طبعی ہے اور جب تک حرارت طبعی اپنی اصلی حالت پر قائم رہتی ہے اس وقت تک ہمارا جسم قوی و مضبوط اور توانا اور چست رہتا ہے اور خون بھی کافی مقدار میں پیداہوتا ہے اور بڑی سرعت کے ساتھ جسم کے ہر حصہ میں حرکت کرتارہتا ہے لیکن جب چند خاص وجوہ سے اعضاء رئیسہ کے افعال میں کمزوری واقع ہوجاتی ہے تواس کے عناصر و مادوں اور کیفیات میں کمی بیشی واقع ہوجاتی ہے۔ خاص طورپر فولاد اور گندھک کے اجزاء اپنی ضروری مقدار سے بہت کم ہوجاتے ہیں تواس وقت خرابی صحت اور کمزوری واقع ہونے لگتی ہے جس کا نتیجہ بڑھاپا ہوتا ہے۔

سفید ذرات خون(White Blood Corpuscles) کو سائنسدانوں کی اصطلاح میں (Leukocytes) کہتے ہیں جو سرخ ذرات خون کے ساتھ خون میں شریک رہتے ہیں۔خوردبین کی مدد سے دیکھاگیا ہے کہ وہ ہر جسم میں اِدھر اُدھر حرکت کرتے رہتے ہیںاور جہاں کسی مہلک جراثیم کا وجود پاتے ہیں یا کسی مضر مادہ کو دیکھتے ہیں تو اپنے اندر سے چھید نکال کراس جرثومہ کو لپیٹ لیتے ہیں جو فورا ً فنا ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض اوقات اس کے اندر سے ایک خاص قسم کا مادہ بھی خارج ہوتا رہتا ہے جو زہریلے جراثیم کے لئے مضر ہوتا ہےاکثر سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ذرات خون بھی بجائے خود جداگانہ اعضاء کی حیثیت رکھتے ہیں۔

امر مسلمہ ہے کہ جب تک ہم اوسط درجہ کی صحت کی حالت میں رہتے ہیں یہ (Leukocytes)سفیدذرات خون اور جراثیم ممد ِ حیات (Phagocytes) کو ہلاک کرتے رہتے ہیں جو جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔ گویا یہ انسانوں کو جراثیم کے خوفناک حملوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ جب ہماری بے اعتدال زندگی یعنی غیر خالص ہوا اور پانی اور خراب غذا کھانے اور بدعادات و منشیات سے ہمارے اعضاء کمزور ہوجاتے ہیں تو ساتھ ہی (Leukocytes) بھی کمزور ہو جاتے ہیں اس صورت میں یہ مہلک جراثیم کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ اس سے انسانی صحت خراب ہوجاتی ہے اس طرح کمزور اور جلد بوڑھا ہوجاتا ہے۔ سائنسدان اس قسم کےتجربات میں مصروف ہیں کہ ایسی ادویات اور اغذیہ کا پتا چل جائے جس کے استعما ل سے خون و سفید ذرات اور ممد حیات جراثیم کو زیادہ سے زیادہ پیداکیا جا سکے۔ یہ بھی تجربات کئے ہیں کہ نوجوانوں کے خون کو بوڑھوں کے جسم میں داخل کرکے قیام شباب اور اعادہ شباب حاصل کرلیا جائے مگر اس عمل سے بھی کامیابی نصیب نہیں ہورہی ہے۔

از: حکیم وڈاکٹر جناب دوست محمد صابر ملتانی صاحب

ساتواں نظریہ

بعض جدید فرنگی سائنسدانوں کا نظریہ ہے کہ جس وقت جسم انسان کے غدد بے کار یا کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں ان سے کیمیائی رطوبات(Hormones) کی تراوش میں کمی واقع ہوجاتی ہے اس وقت انسان بوڑھا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس جدید تحقیقات پر سائنسدانوں کو بہت ناز ہے اوروہ اس غلط فہمی میں گرفتار ہیں کہ انہوں نے قیام شباب اور طاقت کا راز معلوم کرلیاہے۔مگر جب ان سے کہا جائے کہ غدد تو بدن کا ایک حصہ ہیں ان کے علاوہ بدن میں دیگر اعضاء بھی ہیں بلکہ خاص طورپر اعضاء رئیسہ دل دماغ اور جگر جن زندگی کا دارومدار ہے کیا ان کے بغیر تنہا غدد جسم میں کچھ مفید ثابت ہوسکتے ہیں ۔ پھر جدید تحقیقات نے خلیہ (سیل) سے لے کر خون اور اجزائے خون کو جسم کےلئے مفید قرار دیا ہے اس لئے صرف غددکواس قدر اہمیت دینا درست نہیں ہے۔ ہاں اس حقیقت سے انکار نہیں ہے کہ غدد بھی اپنی جگہ اہم اعضاء ہیں ان کا بھی صحت و طاقت اور حسن و شباب سے تعلق ہے۔ اس اہمیت کا یہ فائدہ ہے کہ دیگر حقائق (Factors) کی طرح ان سے بھی مفید نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ خاص طورپر وہ غدد جن کا تعلق جنسی قوت کے ساتھ ہے ان کامطالعہ دلچسپی اورمفید معلومات کا حامل ہے۔

غددتین قسم کے ہوتے ہیں ۔ اول ایسے غدد جو رطوبات یا فضلات کو جسم سے باہر خارج کرتے ہیں۔ جیسے جگر خون کے فضلات کو باہر خارج کرتا ہے ایسے غدد کو نالی دار غدد کہتے ہیں۔ دوسرے وہ غدد ہیں جو کیمیائی طورپر اپنی رطوبات کو خون میں شامل کردیتے ہیں جیسے طحال وغیرہ۔ تیسرے وہ غدد ہیں جو اپنی رطوبات کو باہر بھی خارج کرتے ہیں اور کیمیائی طورپر خون میں بھی شامل کرتے ہیں جن کی بہترین مثال خصیے ہیں۔

ان غدد کو بہت اہمیت دی جاتی ہے جن کی رطوبات خون میں شریک ہوتی ہیں یہ اکثر بے نالی کے غددہوتے ہیں۔ ان میں طحال ، لبلبہ، کلاہ گردہ، غدد ترمیہ(Thyroid Gland)، غدد ترمیہ کا شریک ِ کار (Parathyroid Gland)، غدد نخامیہ(Pituitary Gland)اور خاص طورپر خصیے شامل ہیں۔ ان غدد سے جو رطوبات کیمیائی طورپرخون میں شریک ہوتی ہیں تو انگریزی میں "ہارمونز” جس کا مفرد ہارمون ہے ، ان کے متعلق جو تحقیقات ہوئیں ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ صحت اور قوت کوقائم رکھنے میں ان کا بہت دخل ہے۔ لیکن سوائے خصیوں کے کوئی غدد ایسا نہیں ہے جو قیام ِ شباب کی اہمیت اپنے اندر رکھتا ہو او اس پر بھی یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اگر اس کی رطوبت کسی بوڑھے انسان میں شامل کردی جائے تو وہ از سر ِ نو جوان ہوجائےگا۔ جس طرح دیگر غدد کے متعلق تجربات شاہد ہیں مثلاً غدہ ترمیہ کی رطوبت بند ہوجاتی ہے تو کزازی تشنجوں سے ہی موت واقع ہوجاتی ہے۔ غدد نخامیہ کی رطوبت بند ہوجانے سے موت واقع ہوجاتی ہے۔ کلاہ گردہ اپنی رطوبت بند کردے تو ضعف قلب اور خرابی رنگ کے امراض پیدہوجاتے ہیں۔ طحال کی رطوبت اگر خون میں شامل نہ ہوتو خرابی ہضم، ضعف قلب، رنگت میں سیاہی اور مالیخولیا ہوجاتا ہے۔ لبلبہ کی رطوبت رک جانے سے ذیابیطس ہوجاتا ہے۔ خصیے کی رطوبت رک جانے سے جنسی قوت پرغیر معمولی اثر پڑتا ہے۔ چونکہ وسیع تجربات کئے گئے ہیں اس لئے ان کو ذرا تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔

خصیتین کی رطوبت پر تجربات

خصیتین کی رطوبات پر دو طریق پر تجربات کئے گئے ہیں۔ اول بچپن یا جوانی میں انسانی حیوانی خصیے نکال دئیے گئے پھر ان کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ عام طورپر جن کے خصیے نہیں ہوتے ان کو زنخا کہتے ہیں۔ لیکن جن کے خصیے نکال دئیے جاتے ہیں ان کو اختہ کرناکہتے ہیں۔جب کسی انسان یا حیوان کو اختہ کیا جاتا ہے تواس میں ظاہری مردانہ علامات پیداہی نہیں ہوتیں مثلاً مردوں کی داڑھی اور مونچھیں نہیں نکلتیں۔بیلوں ، مینڈھوں اور بکروں کے سینگ چھوٹے ہوتے ہیں۔ مرغوں کی کلغیاں نہیں نکلتیں اور ان کے باقی جسموں میں بھی کمی نظرآتی ہے۔یہی اثر گھوڑوں اور کتوں پر بھی نمایاں ہوتا ہےاور سب سے بڑی تبدیلی یہ ہوتی ہے کہ ان میں تیزی و تندی اور جنگجوئی کے جذبات تقریباً ختم ہوجاتے ہیں بلکہ بزدلی پیداہوجاتی ہے۔ مرغوں پر ایک بڑا اثر یہ پڑتا ہے کہ بانگ نہیں دیتے۔

مشرقی ممالک میں شاہی خاندان اور اعلیٰ گھرانےمیں خواجہ سرا رکھنے کی رسم تھی جن سے پردہ دار گھروں میں کام دھندے لئے جاتے تھے۔ یہ خواجہ سراوہی لوگ ہوتے تھے جن کو اختہ کردیاگیاہوتا تھا ان کی شکل بیشک مردوں کی ہوتی تھی مگر ان میں تمام نسوانی عادت اور نزاکت پیداہوجاتی تھی۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ پیدا ہوجاتی ہے کہ بال بہت جلد سفید ہوجاتےتھے۔عمر عام لوگوں کی نسبت گھٹ جاتی ہے اور بہت جلدموت کا شکار ہوجاتےہیں۔

ان حقائق سے ثابت کیا جاتا ہے کہ خصیوں کی غیر موجودگی میں یہ سب اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ اگر جسم کے کسی بھی غدد کو ناکارہ کردیا جائے تو انسان کی نشوونما میں یقیناً خرابی واقع ہوجائے گی اور اس کا بہت کچھ اثر جوانی و جنسی قوت اور طویل عمری پر پڑے گا۔ چونکہ خصیے ایسے غدد ہیں جن کو اختہ کرنے سے جسم کے اعمال میں سوائے جنسی عمل کی کمی کے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لئے انہی کو ختم کرکے مردمی قوت کو ختم کردیاجاتا ہےاور جسم کی صحیح نشووارتقاء بھی روک دی جاتی ہے۔ اگر جسم کے کسی اور غدد و اس طرح ضائع کردیا جائے تو شاید اختہ شخص کی نہ عمر پا سکے اور نہ وہ تندرست رہ سکے۔ اس لئے خصیتین کو قیام ِ شباب اور اعادہ شباب کی اس قدر اہمیت نہیں ہے جس قدر کہ دی جاتی ہے۔ خصیتین منی کی تکمیل اور اخراج کا آلہ ہیں لیکن ان کی بناوٹ میں خلیات و خون اور دیگر اعضاء خصوصاً اعضائے رئیسہ کا بھی ایک گہرا تعلق ہے۔ یہ صحیح ہے کہ جب ان میں خرابی واقع ہوتی ہے تو مردانہ اوصاف میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ لیکن ان پر قیام ِ شباب و اعادہ شباب اور طویل عمری کے لئے بھروسہ نہیں کیاجاسکتا ہے۔ بعض فرنگی سائنس دانوں نے خصیوں کے خلاصہ جات کو کھلا کر طاقت مردمی اور جنسی قوت کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان کو حسب ِ منشا کامیابی نہیں ہوئی۔

اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ مردمی طاقت اور جنسی قوت کی خرابی صرف خصیوں کی خرابی سے نہیں ہوتی۔ اکثر عصبی کمزوری اور ضعف ِ قلب سے بھی یہ خرابی واقع ہوتی ہے۔ کیونکہ جب اعصاب میں خرابی ہوگی تو احساس مفقود ہوگا اور جب قلبی ضعف ہوگا تو خون کا دباؤ ختم ہوجائے گا۔ نتیجہ ظاہر ہے اس لئے تمام اعضاء اپنی اپنی جگہ پر بے حد اہم ہیں اور ہر ایک پر نگاہ رکھنا ضروری ہے۔

آٹھواں نظریہ

یہ نظریہ فرانسیسی سائنسدانوں”چارلس ، ایڈورڈبراؤن ” کا ہے کہ جب انسانی اعضائے تناسلی کا جوہر ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے تو بڑھاپا شروع ہوجاتا ہے یہ نظریہ بھی کوئی جدا حقیقت نہیں ہے بلکہ غدد کی خرابی کا ایک حصہ ہے۔ غدد کی خرابی میں تمام غد د کو سامنے رکھا گیا ہے جس میں تناسلی جوہر (منی) کو تیار کرنے والا غدد خصیے میں شریک ہیں ۔ بات صرف یہ ہے کہ ہاتھی اور اندھوں والا معاملہ ہے جس کے سامنے جو شے بوقت تحقیق آگئی وہ ایک مسئلہ بن کرنظریہ کی صورت اختیار کر گئی اور یہ کوئی نیا نظریہ بھی نہیں ہے۔ آیورویدک اور یونانی طب میں اس پر احسن طریق پربحث کی گئی ہے۔

البتہ اس امرسے انکار نہیں ہے کہ تناسلی جوہر کی کمی بڑھاپے کی علامت ضرور ہے اور کوئی سبب نہیں ہے اور نہ ہی دیگر اعضاء جسم و خلیات اور غدد و خون کی درستگی کے بغیر یہ جوہرتیار ہوسکتا ہے کہ وہی مرد پوری طرح صحت مند ہے جس کے جسم میں تناسلی جوہر کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ جس طرح ماہواری کی باقاعدگی اس امر کا اظہار ہے کہ عورتوں کی صحت اپنے صحیح مقام پرہے۔

نواں نظریہ

فرنگی طب میں جس قدر قیام شباب اور اعادہ شباب کے نظریات بیان کئے گئے ہیں ان میں صرف یہی ایک نظریہ ہے جس کے حامل نے عملی طورپر کچھ کرکے دیکھا ہے ۔ بیشک یہ نظریہ بُری طرح ناکام ہوا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر دورونوف نے متعدد مردوں اور عورتوں پر اپنا عمل ِ جراحی کرکے ان کو بڑھاپے سے شباب کی طرف کھینچا ضرور ہے۔ اگر چہ یہ اعادہ شباب زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہا۔ مگر یہ کوشش ضرور قابل ِ داد ہے۔

پیوند خصیہ

ڈاکٹر دورونوف ایک مشہور سرجن اور ملک فرانس کا باشندہے اس نے اپنے عمل ِ جراحی سے جو وہ اعادہ شباب کے متعلق کرتا تھا۔ دنیا بھر میں بے پناہ شہرت کی وجہ سے ہندوستان بھی اپنے عمل ِ جراحی کے لئے آیاتھا۔ وہاں پر اس نے ایک مارواڑی اور اس کی بیوی پر اپنا عمل ِ جراحی کیا تھا ۔ جس کا ابتدا میں بہت اچھا اثر پڑا مگر بعد میں وہ اثر بہت جلد ختم ہوگیا۔ لیکن اس نے ثابت کردیا کہ انسان میں کوشش سے اعادہ شباب کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر موصفو خصیتین کو بہت اہم غدد قرار دیتا ہے اس کی وجہ سے وہ بیان کرتا ہے کہ اس می دو قسم کی رطوبتیں اخراج پاتی ہیں۔ ایک رطوبت وہ ہے جسے جوہر انسان یا منی کہتے ہیں جس کا مقصد بقائے نوع ہے اور دوسری رطوبت جو خصیوں کے اندرسے نکلتی ہے وہ خون میں شامل ہوتی ہے جو قیام ِ شباب کی ذمہ دار ہے۔ جب خصیتین میں ضعف یا خرابی واقع ہوتی ہے تو دونوں رطوبتوں میں کمی واقع ہوجاتی ہے تو بڑھاپا آنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کی تحقیق ہے کہ اگر خصیوں کے طبی وظیفہ کو بحال کردیاجائے تو اعادہ شباب ممکن ہے جو اس نے اپنے عمل جراحی سے کرکے دکھا دیاتھا۔

خصیتین کے طبی وظیفہ کو بحال کرنے کے لئے اس نے عمل ِ جراحی ایجاد کیا تھا ۔ جس میں بندر کے خصیوں کا پیوند ِ انسانی خصیوں پر لگایا کرتا تھا جس میں اس کو ایک حد تک کامیابی ہوئی تھی۔ ابتدائی تجربات اس نے جانوروں پر کئے اور جب ان میں ایک حد تک کامیابی ہوئی تو اس نے انسانوں پر تجربات شروع کردئیے۔ لیکن اس مقصد کے لئے انسانی نوجوان خصیوں کافوراً دستیاب ہونا دشوار تھا ۔ اس لئے اس نے مجبوراً بندروں کے خصیوں سے کام لینا شروع کردیا۔ کیونکہ ڈارون کے نظریہ ارتقاء کے مطابق بندر انسان کے بہت قریب ہے۔ اس عملِ جراحی میں اس کو ابتدا میں کامیابی ہوئی مگر آخر کار وہ بُری طرح ناکام ہوا۔ بہر حال یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ عمل ِ جراحی اعادہ شباب کے علاوہ دنیائے طب میں جراحی کا ایک نادر نمونہ تھا۔

پیوند اعضاء

پیوند لگانا ایک ایسا عمل ہے جس کی افادیت سے عوام تک واقف ہیں اور تاریخ بتاتی ہے کہ پیوند نباتات کا سلسلہ صدیوں سے چلاآتا ہے۔ اس عمل سے مختلف اقسام کے پھول وپھل اور میوہ جات ایجاد کئے گئے۔ اسی پیوند کے زیر اثر طب یونانی اور آیورویدک کی عمل جراحی میں بعض امراض اور خوبصورتی کے لئے ہڈیوں ، جلد اور بال پیداکرنے کےلئے پیوند لگائے جاتے تھے۔ مگر اعادہ شباب اور قوت کو بحال کرنے کےلئے کبھی بھی دنیائے طب میں کوئی پیوند نہیں لگایا گیا۔ بلکہ نباتات میں بھی اس امرکو کبھی مدنظر نہیں رکھا گیا کہ ان میں اگر پیوند لگایاجائے گا تو وہ درخت یا پودا پھر اپنے شباب کی طرف لوٹ آئے گا یا اس کی عمر بڑھ جائے گی اور نہ ہی ایسے پیوند کے بعد کسی درخت یا پودے میں ایسی صورتیں سامنے آئی ہیں۔ البتہ یہ ضرور دیکھا گیا کہ جس درخت یا پودے کو پیوند لگا ہے اس کے پھل اور پھول کی خاصیت ضروربدل گئی ہے۔ بلکہ ایک ایک پودے میں کئی کئی پیوند لگاکراس میں مختلف انواع و اقسام کے پھل و پھول حاصل کیےگئے۔

ڈاکٹر دورونوف کے اس عمل سے کہا تو جاتا ہے کہ انسانی نسل میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اس پیوند سے مقصد خصیہ کی اندرونی رطوبت کی پیدائش میں زیادتی مقصود ہے نہ کہ اس کا اثر منی پر مقصود ہے۔ لیکن یہ کیسی بے معنی بات ہے جب منی انسانی خون سے پیداہوتی ہے اور خون تمام جسم کی طاقت اور غذاہے اسی خون سے منی کی پیدائش ہے جب پیوند سے شباب اور طاقت لوٹ سکتی ہے تو کیاجوخون طاقت اور شباب لوٹا سکتا ہے اس کی منی کے اندر اس کا اثر نہیں پڑ سکتا ۔ بہرحال اگریہ غیر انسانی تو رہا ایک طرف انسانی پیوند بھی اپنا اثر لئے بغیر نہیں رہتا۔ جب حیوانات میں دیکھا گیا کہ ان میں جب مختلف حیوانات کے پیوند لگائے گئے ہیں تو ان کی خصلتیں بدل گئی ہیں تو کیا انسانوں میں اس طرح کے تبدیل عادات اور ہئیت کے اثرات کیسے پیدانہ ہوتے۔لیکن قدرت نے اس عمل جراحی یا پیوند کو کامیابی نہ بخشی۔ پیوند سے عادات اور ہئیت کی تبدیلی تو ممکن ہے لیکن اس عمل سے ارتقائی مقاصد کا حاصل کرنا اور اعادہ شباب ناممکن ہے۔

ایک سوال پیداہوتا ہے کہ ڈاکٹر دورونوف کو اپنے عمل جراحی سے جو کامیابی ابتدا میں ہوئی تھی وہ کیا تھی۔ اس کی پوری حقیقت تو ہم اپنی تحقیقات میں بیان کریں گے۔ مگر مختصر یہ ہے کہ انسانی صحت اور قوت کا تعلق اعضائے رئیسہ کے ساتھ اور جگر بھی اعضائے کا ایک عضو ہے جو ایک نہ صرف بڑا غدد ہے بلکہ غددکا مرکزہے، جب کسی غدد کے افعال میں بھی تیزی واقع ہوتی ہےتو اس کامشینی اور کیمیائی اثر جگر پر بھی پڑتا ہے اور اس کے افعال میں بھی تیزی آجاتی ہے۔ یہ مسلمہ امر ہے کہ جگر خون کی پیدائش و تقویت اور محفوظ حرارت کا ایک بڑا مرکز ہے۔ جب خصیوں میں پیوند لگایاجاتا ہے تو ان کے افعال میں تیزی آجاتی ہے جس کا اثر جگر پر بھی پڑتا ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ صحت بہتر ہوجاتی ہے۔ ان فوائد کو آیورویدک میں ادویات اور یوگ سےحاصل کیا اور یونانی طب میں حفظ ِ صحت اور عمدہ اغذیہ وادویات کے استعمال سے کامیابی حاصل کی ہے۔ بہرحال اس عمل ِ جراحی سے یہ تحقیقات بھی سامنے آ گئی ہے کہ پیوند سے اعضاء کے افعال میں تیزی اور طاقت پیدا کی جاسکتی ہے۔

فرنگی تحقیقات کا نچوڑ

اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ فرنگی طب اور سائنس میں خدمت فن یا بزنس کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔جس سے صحیح یا غط طریق پر مبنی نوع انسان کی خدمت ہوتی ہے۔ انہی تحقیقات میں اعادہ شباب کے لئے بھی ایک کوشش کی گئی ہے۔ جس کے لئے ہرزمانے اور ہر ملک میں جدا جدا قسم کے نظریات کے تحت علیحدہ علیحدہ کوششیں کی گئی ہیں۔ اگر چہ ان سے مقصد میں کامیابی نہیں ہوئی تاہم اس سے نئی معلومات اور نئی راہیں جو کھل گئی ہیں یہ تمام تحقیقات بہرحال ایک معالج کےلئے ضرورمفید ہیں تاکہ وہ فرنگی طب اورسائنس کے صحیح و غلط تجربات و معلومات اور تحقیقات سے آگا ہ ہوجائے اور اپنے لئے کام کرنے میں صحیح راہیں قائم کرلے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فرنگی طب و سائنس اور تحقیقات کے ان تجربات و معلومات اور تحقیقات میں کوئی بھی اعادہ شباب کے لئے مفید نہیں ہے لیکن اس امر سے ہمیں انکار نہیں ہے کہ ان کی تحقیقات سے بعض اچھے نتائج حاصل ہوئے ہیں۔

اعادہ شباب اور طویل عمری کی صحیح راہ

قیام ِ شباب اور اعادہ شباب اور طویل عمری کے لئے جس قدر نظریات پیش کیے گئے ہیں ان آیورویدک و طب یونانی اور فرنگی طب اور فرنگی سائنس تقریباً سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ ہر ایک نظریہ نے بڑھاپے اور ضعف قوت اور کم عمر ی کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے۔ مگر سوائے آیورویدک اور ڈاکٹر دورونوف کے کسی نے قیام ِ شباب اور اعادہ شباب کا نہ دعویٰ کیا ہے اور نہ کرکے دیکھا ہے۔ آیورویدک کے دعویٰ کی تصدیق ہمارے سامنےکوئی نہیں ہے ۔ کیونکہ ہمارے زمانے میں کوئی بھی رشی و منی اور راج وید ایسا نہیں ہےجو یہ دعویٰ کرے کہ اس کی عمر دس ہزار سال نہ سہی تو کم از کم ایک ہزار سال یا اس کے نصف ہی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کی اوسط عمریورپ اور دیگر ممالک سے بہت کم ہے اورجہاں تک صحت کا تعلق ہے ہندوستان کی عمر یورپ و امریکہ اور دیگرممالک سے بہتر نہیں ہے۔ اس لئے آیورویدک کا دعویٰ یا تو صرف کتب تک محدود ہے یا اس شان کے وید راج صدیاں ہوئیں ختم ہو گئے ہیں جو آیورویدک کے فاضل اور حامل تھے۔

جہا ں تک ڈاکٹر دورونوف کے دعویٰ کا تعلق ہے وہ پہلا شخص ہے جس نے اپنے نظریہ اور دعویٰ کے مطابق ایک تجربہ کرکے دیکھا اگرچہ اس کوپوری کامیابی نہیں ہوئی بہرحال طبی دنیا میں ایک پہلا نمونہ ہے اور یہ ایک تحقیق ہے اس کی داد نہ دینا حق شناسی نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہم اس نظریہ کو صحیح خیال نہیں کرتے اور ہماری تحقیق کے مطابق اس قسم کی کوئی اس سے بہتر کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ ہماری تحقیقات کا قارئین کو علم جو ہو جائے گا۔

قوت کی حقیقت

قیام شباب اور اعادہ شباب اور طویل عمری کےلئے صحیح یہ ہے کہ اس امرکا اظہارکیا جائے کہ قوت کیا شے ہے؟ وہ کس طرح عمل میں آتی ہے؟ کیا انسان اس کی پیدائش پرقادر ہوسکتا ہے؟آیورویدک نے رسائن کی قوت پر بھروسہ کیاہے۔طب یونانی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ رطوبت ِ غریزی اور حرارت ِ غریزی پیدا نہیں ہوسکتی۔ فرنگی طب کی تحقیقات خون اور اس کے سرخ و سفید ذرات ، خلیات وغدد ، جراثیم اور جنسی قوت تک محدود ہیں۔ لیکن اس وقت اس میں سے کوئی قیام ِ شباب و اعادہ شباب اور طویل عمرمیں کامیابی کا دعویٰ نہیں کرسکتا ہے۔ ہم ذیل میں اول قوت کی حقیقت پر روشنی ڈال رہے ہیں اور بعد میں اپنی تحقیقات پیش کریں گے۔

از: حکیم وڈاکٹر جناب دوست محمد صابر ملتانی صاحب

خلیہ کی تفصیل

خلیہ واحدہ والے حیوانات کی تحقیقات کوئی بہت پرانی نہیں ۔ سب سے پہلے بینی ڈکٹ ڈی سا سور(Benedict De Saussure)نے انہیں 1779ء میں دریافت کیا۔ ایطالیہ کے ایک سائنس دان ہوان زاٹو (Huan Zato) نے اس مسئلہ پر مزید روشنی ڈالی۔ پھر 1837ء میں ارمبرگ(Ehrenberg) نے اس میں مزید تحقیقات سے قرار دیا کہ انفیوژوریا ذاتی تقسیم کے سے ضرب کھاتے رہتے ہیں اور یہ خوبی ایسی ہے کہ وہ غیر فانی ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد یکم مئی 1901ء کو ایک محقق وڈرف(Woodruff) نامی نے انفیوژوریاکی ایک اکیلی خلیہ کو علیحدہ کرکے پالا اور اسے 13 برس تک اپنے پاس رکھا۔ اس دوران خلیہ مذکور سے نسلیں بذریعہ تقسیم پیداہوئیں اور آئیندہ بھی وہ تھمنے کا نام نہ لیتی تھیں۔پھر پاسٹیور انسٹیٹیوٹ واقع پیرس کے مشہور و معروف ڈاکٹر فحینکاک نے ایک اور نوع کے خلیہ واحد والے حیوان کو علیحدہ کرکے پالا۔ جو 1907ء میں اسے پانی میں سے ملاتھا ۔ 13 برس میں اس سے ہزار نسلیں بذریعہ تقسیم پیداہوئیں۔ جس سے یہ قیاسات درجہ یقین کو پہنچ گئے کہ خلیہ واحدہ والے حیوان بڑھاپے اور مو ت کو جانتے ہی نہیں کیونکہ ان کی ایک ہی خلیہ میں نموبدن اور کثیر نوع کی خوبیاں جمع ہیں جن سے خلیہ ذاتی اور نوعی بقا پر قادر ہے۔خلیہ واحدہ کی زندگی پر جب ہزاروں ، لاکھوں برس یونہی گزر گئے اور انہیں مختلف قسم کی چیزوں پر یا مختلف حالات گردوپیش پرورش پانے کا موقعہ ملا تو بعض ابتدائی خلیات میں باہمدگرپیوست ہونے اور مل ملا کر ایک نیا حیوانی جسم بنانے کا ملکہ پیداہوگیا۔ یہاں تک کہ اس کثیر الخلیا یا مرکب جسم میں بقائے نفس اور بقائے نوع کی خاطر ضروری اعضاء بھی پیداہونے لگے۔لیکن خلیات کےاس اجتماع نے ابتدائی خلیہ کے لازمی اوصاف زائل نہ کئے اور اس میں بقائے نفس کے ساتھ ساتھ بقائے نسل کی خوبی بھی پیداہوگئی۔ مثال کے طورپرایسے کثیر الخلیا یا مرکب جسم کا کوئی حصہ ضائع ہوجاتا تو خلیات ذاتی نشوونما سے اس حصہ کو از سر ِ نو پیداکردیتیں۔

چنانچہ بعض ادنی کثیر الخلیا یا اجسام میں یہ خاصیت اب بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ ان کے چھوٹے سے جسمانی ٹکڑے سے تمام بدن از سرنو مکمل ہوجاتاہے۔ مثال کے طورپرمونگےکو دیکھ لو جس کے ایک ذرا سے ٹکڑے سےہزاروں میل لمبی مونگے کی شاخیں بن جاتی ہیں۔ شیریں پانی کے بعض ادنیٰ سانپوں میں بھی یہی صفت موجود ہے۔ ان کا ذرا ذرا سے قیمہ کردیں ۔ ایک ایک بوٹی سے از سر نو مکمل سانپ پیداہوجائے گا۔قطع نظر ان کے بعض ادنیٰ حیوانوں میں جو نچلےطبقے سے بالاتر ہیں اور جن کی شکلیں بھی سانپوں سے مختلف ہوگئی ہیں۔ مثلاً شیریں پانی کے بعض کیڑے۔ان میں بھی بدن کے ایک ٹکڑے سے کامل بدن پیداکرنے کی صلاحیت موجود ہے پھر بعض بحری کیڑوں کی قسمیں بھی اسی طرح سے تکمیل جسمانی پرقادر ہیں۔ یہاں تک کہ کیچوؤں کی بعض قسمیں جو شکم ِ زمین یا حیوانی پیٹ میں پائی جاتی ہیں اور جن کی خلقت ادنیٰ درجے کے حیوانوں سے اعلیٰ ہے۔ان میں بھی بریدہ جسم کو از سر نومکمل کرنےکی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ حالانکہ ان حشرات کی خلقت ادنیٰ حیوانوں سےاعلیٰ ہے اوران میں کئی اعضاء ، کئی حواس ، رگوں کا نظام ، پیچیدہ قنات اضمیہ وغیرہ برابر پائی جاتی ہیں۔ اس بنا پر ماننا پڑتا ہے کہ تجدید و تکمیل بدن کی یہ صلاحیت بعض ایسی خلیات میں برابر موجود ہے جو مکمل حالت سے عود کر جنینی حالت میں چلی جاتی ہے اور جسم کو از سر نوپیداکردیتی ہے۔

یہ خوبی حیوانات کے نچلے طبقوں میں ضرورپائی جاتی ہے مگر جب ہم بالائی طبقوں کی طرف آتے ہیں تو یہ رفتہ رفتہ زائل ہوتی نظر آتی ہے۔ وہ خلیات جومرکب جسم کو بناتی ہیں ایک دفعہ بنا چکنے کے بعد جنینی حالت کی طرف عود نہیں کرتیں اور اس طرح جسم کے ایک حصہ کولے کراس سے مکمل جسم پیدانہیں کرسکتیں۔ خلیات کا یہ وصف ایک دم زائل نہیں ہوتا بلک اس کا زوال تدریجی ہوتا ہے۔ چنانچہ جب خلیات سالم جسم نہیں بنا سکتیں تو پہلے بہت چھوٹے حیوانات میں ضائع شدہ عضو کو از سر نو پیداکردیتی ہیں مثلاً کیکڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور اس سے پھر اتنے ہی نئے کیکڑے پیداہوجائیں گے، کیڑے مکوڑوں کی ٹانگیں بھی ٹوٹ جائیں تو دوبارہ نکل آتی ہیں اور ریڑھ والے حیوانوں میں چھپکلی یا گرگٹ وغیر ہ ایسےجانور ہیں جن کی کٹی ہوئی دم از سر نوپیداہوجاتی ہے مگر پہلے سے چھوٹی رہتی ہے۔ ان حیوانات سے اعلیٰ طبقے کے جانور یعنی پرندے ، دودھ پلانے والے حیوان اورانسان مذکورہ وصف سے عاری ہوچکے ہیں اور اپنا ضائع شدہ عضو بھی از سر نو پیدانہیں کرسکتے۔آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟ ادنی ٰ حیوانوں میں تجدید جسم کی خاصیت کیوں ہے اور اعلیٰ حیوانوں میں کیوں نہیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو بہت غوروفکراور دقیق مطالعہ فطرت کے محتاج ہیں۔ بہر نوع جسم انسانی میں اگر یہ خاصیت مفقود ہوگئی ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس سے بقائے نوع کو کوئی اندیشہ نقصان ہے ۔ جسم ِ انسان کے کسی عضوکا ضائع ہوجانا ایک ذاتی نقصان ہے مگر اس سے انسانی نوع کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ وجہ یہ ہے کہ قدرت نے اعلیٰ حیوانات اور انسانوں میں بقائے نسل کا اہم افرض محض تناسلی خلیات کے سپرد کر رکھا ہے جو ادنیٰ حیوانات میں نہیں پایاجاتا۔

جب ہم دقیق نگاہوں سے قدرت کے کارخانہ توالد و تناسل کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب خلیات ادنیٰ طبقے اعلیٰ طبقے کی طرف تدریجی ترقی کرتے ہیں تو کثیر الخلیا یا اعلیٰ حیوانات میں پہنچ کروہ ابتدائی خلیہ واحدہ سے بہت کچھ مختلف ہوجاتےہیں اور ان میں تجدیدوتکمیل بندکاوصف رفتہ رفتہ جاتا رہتا ہے۔ پھر ان میں سے بعض خلیات حالات گردوپیش کے باعث اور بھی مختلف ہوجاتے ہیں او را ن میں مختلف اعضاء یا اجسام کے بنانےکی صلاحیت آجاتی ہے اور وہ خاصیت زائل ہوجاتی ہےجوابتدائی خلیہ واحدہ کے ایام میں تجدید و تکمیل جسم کے بارے میں موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جسم انسانی میں مختلف قسم کے خلیات پائے جاتے ہیں اور جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کیونکہ انہوں نے کبھی نہ کسی خاص عضوکی بناوٹ اور نشوونما کی خدمت اپنے ذمے لےرکھی ہے۔ یہ اختلاف بہت بڑھا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ کوئی شخص آسانی سے نہیں کہہ سکتا کہ ابتدائی خلیہ واحدہ اور ترقی یافتہ جسم انسانی کی خلیات کی بنا ایک ہے۔

ابتدائی خلیہ واحدہ ارتقاء کے جن درجوں سے گزرتی ہے اگر انہیں نبظر غور دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی خلیہ پر کیا کیا کیفیتیں طاری ہوتی ہیں اور رفتہ رفتہ اس میں کیاکیا صلاحیتیں پیداہوتی رہتی ہیں۔ یہاں تک اعلیٰ حیوانات میں پہنچ کر اس میں عضلاتی ریشےبنانے والے اعصاب پیداکرنے اسی کی دوسری خاص خاص جسمانی بافتیں بنانےکی خاصیت آجاتی ہیں۔ ایسی ترقی یافتہ اعلیٰ خلیہ کو ابتدائی خلیہ سے مختلف ہوجاتی ہے لیکن اس میں تقسیم کے ذریعہ سے ضرب کھانے کی صلاحیت ضرور موجود ہوتی ہے اور یہ صلاحیت ضرور اڑجاتی ہے کہ وہ بارے دیگر جنینی حالت کی طرف عود نہیں کر سکتی جیسا کہ ادنیٰ حیوانات میں دستور ہے۔

جب کثیر الخلیا حیوانات کی خلیات میں تجدید و تکمیل جسم کی خاصیت نہ رہی توضرورتھا کہ حکیم مطلق کی حکمت بالغہ اس کمی کو کسی دوسر رنگ میں پورا کرے کیونکہ اس کے بغیر بقائے نسل کا وظیفہ محفوظ نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ قدرت نے یہ کا م کثیر الخلیا اور اعلیٰ حیوانات میں بعض ایسی خلیات کے سپردکردیاجو توالدوتناسل کے لئے مخصوص اور بقائے نوع کی محافظ ہیں ۔ اس مرحلہ پر پہنچ کرہم خلیات کو دوبڑی جماعتوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ اول : وہ جن کا کام محض پرورش جسم ہے اور جو ایک انسان یاحیوان کے بقائے نفس کا ذریعہ ہیں ۔ دوم : وہ جن کاکام محض سلسلہ توالد و تناسل کو قائم رکھنا و بقائے نوع کی حفاظت کرنا ہے۔ پہلی قسم کی جسمانی خلیات (Coronial ) یا (Somatic) کہتے ہیں اور یہ فانی ہیں کیونکہ ان میں یہ صلاحیت برابر موجود ہے کہ ایک ذرہ سے خلیہ منوی سےکامل انسان پیداکرسکیں اور وہ کرتی ہیں۔

پس اس تمام بحث سے معلوم ہوگیا کہ خلیہ زیست کی اکائی ہے۔ خلیہ واحدہ نے حیوانات میں یہ اتنہا پائی ہے اور غیر فانی ہے۔ کثیر الخلیا حیوانات اور انسان میں کئی طرح کے خلیات پائے جاتے ہیں ۔ جن میں بعض فانی اور بعض غیر فانی ہیں ۔ اس کے بعد یہ علمی بحث آسانی سے سمجھ میں آجائے گی کہ بڑھاپا کیا ہے؟ ، کیسے آتا ہے ؟ اور کس طرح جاسکتا ہے؟ (الحکیم ماہ نومبر 1931ء)

از: حکیم وڈاکٹر جناب دوست محمد صابر ملتانی صاحب

اعضائے جسم

ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ اعضاء دو قسم کے ہوتے ہیں۔ اول بنیادی اعضاء جو نسیج الحاقی سے تیار ہوتے ہیں۔ دوسرے حیاتی اعضاء جو فعلی انسجہ (اعصابی و عضلاتی اور غدی) سے تیار ہوتےہیں اور تیسری اہم شے خون ہے۔ جس میں وہ تمام عناصر پائے جاتےہیں جن سے بنیادی اور حیاتی اعضاء بنتے ہیں۔ گویا انسان بنیادی اعضاء جو حیاتی اعضاء کا مرکب ہے۔ بنیادی اعضاء بنیاد ِ اعضاء اور ڈھانچ کا کام دیتے ہیں۔ حیاتی اعضاء میں اعصاب جن کامرکز دماغ ہے، عضلات جن کامرکزقلب ہے اور غدد جن کامرکز جگر ہے۔ ان کے خواص و افعال سے زندگی اور روح پیداہوتی ہے۔ گویا اعضاء کے صحیح حالت میں رہنے سے ہی ان میں قوت پیداہوتی ہے جس سے روح قائم ہوکرجسم ِ زندگی کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اگر ہمارے اعضاء صحیح حالت میں ہوں تو ان سے قوت اور زندگی قائم ہے۔ اگر ہم پیدائش درستی اعضاء اور پیدائش قوت کا مطلب سمجھ لیں تو ہم قیام شباب اور اعادہ شباب پاسکتے ہیں۔ اس کے بعدطویل عمری پر بھی اس قدر قابو پاسکتا ہےکہ بغیر حادثات کے موت واقع نہ ہو۔

درستی اعضاء

یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہر خلیہ ایک زندہ ذرہ ہے اور اس کو ہوائے لطیف و غذائے لطیف اور اپنےتصفیہ کی اسی طرح ضرورت ہے جیسے زندگی میں انسان کو ہوا او ر ماکول و مشروب اور تنقیہ جسم کی ضرورت رہتی ہے۔ ہر خلیہ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ قوت پیداکرتاہے پھر انہی خلیات سے چونکہ اعضاء بنتے ہیں۔ گویا تمام اعضاء خاص قسم کے خلیات کے یونٹ (اجتماعی صورت) ہیں۔ اس طرح ہر عضو کے لئے ہوا وغذا کی ایک جیسی ضرورت رہتی ہے اور پھر ان میں سے ایک ہی قسم کی قوت ظاہر ہوتی ہے۔ چونکہ ہماری نگاہ اعضاء پر ہوتی ہے ۔ اس لئے ہم ان تمام خلیات کی بجائے صر ف اس کے یونٹ کا نام عضو رکھ دیتے ہیں۔اور اس کے خواص و افعال ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔ اگراعضاء کی غذا اور تصفیہ باقاعدگی سے ہوتا رہے تو ان سے صحیح معنوں میں قوت پیداہوتی رہتی ہے۔ اور ان کی قوت سے ہی ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ صحیح حالت میں ہیں۔ جب ان کی پیدائش قوت میں کمی بیشی واقع ہوتی ہے تو ہم یقین کرلیتے ہیں کہ ان کے افعال میں افراط وتفریط پیداہوگئی ہے اس کا نام ہم مرض رکھتے ہیں۔ قوت اور افعال کا ایسا چولی دامن کا ساتھ ہے کہ گویا وہ دونوں لازم ملزوم ہیں۔ اگر ہم اعضاء کی قوتوں کو جوان میں سے پیداہوتی ہیں، پوری طرح سمجھ لیں توہم اعضاء کے افعال کوپوری طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم اعضاء کے افعال پرپورے طورپر قادر ہوجائیں توہم ضرورت کے مطابق قوتیں پیداکرنے اور صحت کو قائم رکھنے پر قدرت حاصل کرسکتے ہیں۔

افعال الاعضاء

اعضاء کے افعال میں صرف حیاتی اعضاء کے افعال ہی کو زیادہ تر سمجھنے کی ضرورت ہےکیونکہ ان کی تکمیل فعلی خلیات سے عمل میں آتی ہے اور وہ یہ ہیں ۔(1)۔ اعصاب جن کا مرکز دماغ ہے۔(2)۔ عضلات جن کا مرکز دل ہے۔(3)۔ غدد جن کامرکز جگرہے ۔ ان کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔

قلب (Heart)

جاننا چاہیےکہ دل دماغ اور جگر اعضائے رئیسہ ہیں اور انہی کے تحت عضلات و اعصاب اور غدد ہیں۔ ان میں جملہ اعضاء میں قلب کی افضلیت مسلمہ ہےکیونکہ وہ جملہ اعضاء میں سے اعلی ٰ او ر اکمل ہے۔ اعلیٰ اور اکمل اور افضل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ حرارت ِ غریزی کا منبع ہے۔ جس کی وجہ سے تمام تر نظم و نسق ِ بدن کاہوتا رہتا ہے او رجس کی وجہ سے بدن کی تمام کلیں چل رہی ہیں۔ وہ روح حیوانی کا معدن ہےجوکہ مدار بقائے زندگانی ہے اور روح یعنی نفس ناطقہ کا پہلے اس سے تعلق ہوتا ہے۔ بعد اسی کے ذریعے تمام اعضاء پر روح کا فیضان ہوتا ہے۔ قلب ہی وہ پہلا عضو ہے کہ جوبوقت تعلق حیات سب سے پہلے حرکت کرتا ہے اور بوقت انقطاع حیات جملہ اعضائے آخر میں اس کی حرکت بند ہوتی ہے۔اس کی نزاکت کا یہ حال ہے اس میں ہلکا سا زخم یا پھوڑابھی ہوجائے تو اس کو مشکل سے برداشت کرتا ہے اکثر فوراً ہلاکت ہوجاتی ہے۔ صوفیاء کرام کی نظر میں قلب مظہر تجلیات حقانی اور مقام ِ فیوض ِ ربانی ہے۔ بادی نظر میں یہ سیب کی شکل ایک مشت کے برابر قدوقامت میں معلوم ہوتا ہے مگر لاانتہا اسرارو لطافت کا گنجینہ ہے۔

دل کی تشریح کتب ِ طبیہ میں تفصیل سے درج ہے یہاں پر اس کے چند مخصوص اور ضروری افعال کا ذکر کرنا لازمی ہے۔ (1)۔ دل کی حرکت ذاتی البتہ اس کا اعصاب اور جگر کے ساتھ گہرا تعلق ہے اس لئے اس پر دوپردے چڑھے ہیں ایک کا تعلق اعصاب سے ہے اور دوسرے کا تعلق جگر سے ہے۔ اس کا مقصدیہ ہےکہ جب اعصاب و جگر میں کوئی خرابی واقع ہوتی ہے تو دل متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح جب اس میں خرابی کی وجہ سے اس کے افعال یا جسم میں کوئی نقص وارد ہوتا ہے تو اس کا اثر دماغ اور جگر پر ضرور پڑتا ہے۔ اس طرح بھی اس کی حرکت میں کمی بیشی واقع ہوجاتی ہے۔ اس کے جسم کی خرابی اور افعال میں کمی بیشی سے دوران ِ خون پرگہرا اثر پڑتا ہے۔ گویا اس کی نقل و حرکت اور دیگر اعضاء کے اثرات سے جو حرکت پیداہوتی ہے اس سے ایک طرف دوران ِ خون جاری رہتا ہےاور دوسری طرف اس میں قوت پیداہوتی رہتی ہے۔

ان تحقیقات سے ثابت ہوا کہ دل میں حرکت تین صورتوں سے پیداہوتی ہے۔

(1) اس کی ذاتی حرکت ہے جوعضلاتی فعلی خلیات سے پیداہوتی ہےجس سے دل میں انقباض و انبساط پیداہوتے ہیں چونکہ دل کی ایک حرکت انقباضی اور انبساطی ہوتی ہے اس میں غددکوگہرا دخل ہے۔ تیسری حرکت عصبی تحریکات ہیں۔ ان تمام تحریکات سے جسم میں حرارت پیداہوتی ہے جس سے جسم میں حرارت کا نظام قائم رہتا ہے۔

(2)۔ حرکت کے نظام کے بعد قلب کادوسرا کام یہ ہے کہ اس کی حرکت سے عضلات میں حرکت پیداہوجاتی ہے یا عضلات میں حرکت دینے سے دل کی حرکت بڑھ جاتی ہے۔ اس حرکت کی تیزی سے حرارت پیداہوتی ہے۔ گویا حرارت دل اور عضلات کی وجہ سے ہےجوں جوں حرارت بڑھتی جاتی ہے۔ خون میں جذب ہوتی جاتی ہے پھر وہاں سے جگر میں اکٹھی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

(3)۔ تیسرافعل قلب کا دوران ِ خون کو جاری رکھنا ہے۔ یہ دوران ِخون دل سے شروع ہوکرشرائین میں پھیل جاتا ہے پھر وہاں سے عروق ِ شعریہ سے ہوتا ہوا جسم کے اعضاء پر شبنم کی طرح ترشح پاتا ہے۔ جہاں سے اس کو اعضاء جسم جذب کر لیتے ہیں یعنی خلیات جسم میں غذائیت کے لئے چلاجاتا ہے اور جو بچ جاتا ہے وہ عروق و غدد جاذبہ کے ذریعے پھر وریدوں میں واپس جذب ہوکر دل کے بائیں بطن میں پہنچ جاتا ہے۔جہاں سے بائیں اذن سے ہوکر پھیپھڑوں میں صاف ہونے کے لئے چلاجاتا ہے پھر دائیں بطن دائیں اذن سے باہر دھکیل دیاجاتا ہے اور اس طرح دوران خون جاری رہتا ہے۔

قلب اگر تندرست ہے تو اس کی حرکات اور افعال درست رہیں گے جن سے حرارت اور قوت کا صحیح طریقہ پر پیدا ہوتی رہے گی اور صحت و شباب قائم رہے گا لیکن جب قلب کی حالت ِ جسمی خراب ہوجائے گی تو اس کی حرکات و افعال میں نقص واقع ہوجائے گا اور حرارت و قوت کی پیدائش میں فرق پیداہوجائے گا جس سے رفتہ رفتہ صحت بگڑ جائے گی اور شباب قائم نہیں رہ سکے گا۔

اعتراض

فرنگی طب کو طب یونانی پر اعتراض ہے کہ روح حیوانی کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ ہی دل کی بذت ِ خود کوئی حرکت ہے دل کی حرکات ہمیشہ اعصاب کے تحت ہوتی ہیں لیکن حیرت کا مقام ہے کہ فرنگی سائنس ایک طرف خلیات فعلی تسلیم کرتی ہے اور دوسری طرف ان سے خود انکار کرتی ہے۔ طب یونانی نے ان فعلی خلیات کی مختلف صورتوں کی مختلف قوتوں کے مختلف نام رکھ دئیے ہیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہوجائے مثلاً عضلاتی خلیات کے افعال سے جو قوت پیداہوتی ہے اس کا نام روح حیوانی ہے۔ جو اعصابی نسیج کے خلیات کے افعال سے جو قوت پیداہوتی ہےاس کو روح نفسانی ہے۔ اسی طرح قشری خلیات کے افعال سے جو قوت پیداہوتی ہےاس کو روح طبعی کہتے ہیں۔ ان تینوں ارواح کی قوتوں کو بالترتیب قوت حیوانی، قوت نفسانی اور قوت طبعی کہتے ہیں۔

قوت ِ مدافعت (Immunity)

فرنگی طب کا اعتراض ایک طرف کم علمی پر مبنی ہے اور دوسری طرف ان کےفقدان تحقیق پر دلالت کرتا ہے ۔ ان حقائق سے ثابت ہے کہ قوتیں خود بخود اعضاء میں پیداہوتی ہیں جیساکہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ ابھی تو فرنگی طب ان اعضاء کے زندہ ذرات کی ذاتی قوت پر حیران ہے اب جبکہ سائنس یہ ثابت کررہی ہے کہ غیر ذی حیات ذرات جسم بھی اپنے اندر قوت رکھتے ہیں اور وہ باقاعدہ پیداہورہی ہے اور وہ قوت اپنے افعال سے جسم میں طاقت دے رہی ہے تو اس میں حیرت کی انتہا نہ رہے گی۔

بہرحال یہ اب مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر عضو کی ایک ذاتی حرکت ہے اور اس میں اسی وجہ سے ذاتی قوت پیداہوتی ہے۔ یہی قوت اس عضو کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ اس کے فعل کو جس سے حفاظت کرتی ہے اس کا نام قوت مدافعت ہے۔ جب یہی قوت مدافعت کمزور ہوجاتی ہے تو افعال اعضاء بھی خراب ہوجاتے ہیں اور انسان زہریلی اشیاء اور کیفیات کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور امراض میں مبتلاہوجاتے ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ کمزوری اور بڑھاپا پیداہوجاتا ہے اور شباب رخصت ہوجاتا ہے۔

دماغ

اعصابی نسیج بھی فعلی نسیج ہیں اور ان سے دماغ و اعصاب بنتے ہیں جو حیاتی اعضاء میں شامل ہیں۔ اس کی ریاست مسلمہ ہے کیونکہ ظاہری وباطنی حواس ِ خمسہ کامبداء (سرچشمہ) اوراحساس و ادراک اور حرکات کامنبع ہیں یعنی قوت ہائے مذکورہ اسی کے دامن ِ فیض سے وابستہ ہیں اور یہی اعضاء ان قوتوں کے مربی اور سرپرست ہیں لہذا اگر ان میں کوئی خرابی واقع ہوجائے تو قوت ہائے مذکورہ کا شیرازہ درہم برہم ہوجاتا ہے۔

دماغ کا ایک طرف تعلق قلب وعضلات اور غدی پردے چڑھے ہوئے ہیں جن کو حجاب اور غشاء کہتے ہیں اور یہی صورت اور تعلق حرام مغز ، راس انخاع اور رومیغ کے ساتھ بھی ہے بلکہ تمام جسم کے اعصاب کا تعلق عضلات اور غدد کے ساتھ ہے، دماغ و اعصاب اپنے افعال کے لحاظ سےاحساس و ادراک اور انسانی قوتوں کے اعضاء ہیں ۔ اس احساس و ادراک اور نفسانی قوتوں سے عضلات اور غدد میں ایسی تحریکیں ہوتی ہیں جن سے ان کے افعال میں عملی صورت اور کمی و بیشی ضروری ہوتی ہے۔

اعتراض

فرنگی طب اور فرنگی سائنس کی تحقیقات ہیں کہ اعصاب دو قسم کے ہیں ایک احساسی اعصاب اور دوسرے حرکتی اعصاب ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اعصاب میں بالکل حرکت نہیں ہوتی ان کا کام احساس و ادراک اور نفسیاتی قوتیں عضلات اور دیگر غددکو تحریک ضرور دے دیتی ہیں جن سے ا ن میں حرکت پیداہوجاتی ہےورنہ اعصاب میں بذات ِ خود حرکت نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ اعصاب میں جو بجلی کی رو چلتی ہےمثبت نہیں ہے بلکہ منفی ہے۔ یعنی اس کاہر احساس و ادراک اور نفسیاتی قوت جسم کے اندر پھیلتی ہے باہر کی طرف نہیں آتی۔جس وقت فرنگی طب اور فرنگی سائنس ہماری تحقیقات کو سمجھے گی تواس کوا پنی غلطی کا احساس ہوگا۔ اس سے اہل علم اور صاحب ِ فن ضرور مستفید ہوسکتے ہیں۔

جگر

جسم جگر کی تکمیل قشری نسیج سے آتی ہے۔ قشری نسیج بھی فعلی خلیات سے بنتےہیں۔ اس کی حقیقت بھی مسلمہ ہےکیونکہ جسم میں غذاکی تکمیل و تحلیل اور تقسیم اس کے بغیر ناممکن ہےاور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خون سرخ بھی اسی جدوجہد سےقائم ہے۔

جگر غدد ہونے کی حیثیت سے جسم ِ انسان کے دیگر تمام غدد کی نسبت بہت بٖڑا ہےجس کی تشریح اور افعال کتب میں تشریح سے درج ہیں۔ ہم یہاں اس کے تین افعال اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔(1)۔ خون کو تکمیل تک پہنچانااور اس کو سرخ رنگنا۔ جب تک کیلوس یا کیموس جگر سے نہ گزرے اس وقت تک نہ وہ پختہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس میں سرخی پیداہوتی ہے۔(2)۔ صفرا بنانا، روغنی ، لحمی اور شکری اجزاء کا ہضم کرنا۔(3)۔حرارت ِ جسم کی حفاظت کرنا اور ضرورت کے مطابق اس کو جسم میں تقسیم کرنا۔

یہ سارے افعال اس کے ان خلیات سے انجام پاتے ہیں جن سے وہ بنا ہوا ہے۔ اس کا دماغ سے بہت گہرا تعلق ہے جس کا ثبوت اس حجاب و منشاء اور عصبی ریشوں سے چلتا ہے جو اس میں پھیلے ہوئے ہیں۔ دل ، دماغ کے افعال کا جگر پر اثرپڑتا ہے اور اس کے افعال کااثر بدن پرپڑتا ہے۔ صحت کے لئے اہم بات یہ ہے کہ جب وہ بگڑتی ہے تو اس کاپہلا اثر جگر پر پڑتا ہے۔ یہ حقیقت دیکھی گئی ہے کہ جن لوگوں کی جوانی دیرتک قائم رہتی ہے یا جن کی عمریں طویل ہوتی ہیں ان کے جگر اچھی حالت میں ہوتے ہیں۔ ان امور سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ جگر کے افعال کی ذاتی درستگی یا نظریہ غذاکے تحت جگر کو قیام شباب اور طویل عمری میں گہرا تعلق ہے۔

اعضاء کے افعال اور شباب و طویل عمری

یہ حقیقت تو مسلمہ ہے کہ جسم انسان کے اعضاء کے افعال درست ہوں تو صحت و جوانی قائم رہتی ہے۔ جس سے لامحالہ طویل عمری بھی ہوگی اور افعال الاعضاء کی درستی اعضاء کی درستی پر منحصر ہے۔ تندرست اعضاء کا دارومدارخلیات کی درست پر موقوف ہے اور خلیات میں قدرت نے فطری طورپر یہ استعداد پیداکی ہےکہ ان میں سے قوت کا ظہور ہوتا ہے۔

خلیات کی درستی افعال کا انحصار اور قوت کی پیدائش کا تعلق اس غذاپرہے جو خلیات کو ملنی چاہیے۔ لیکن خلیات ِ جسم انسان میں کئی قسم کے ہیں۔ اس لئے ہر ایک قسم کے لئے مناسب غذابدن انسان میں جانی چاہیے اس لئے قدرت نے اس نظام کوقائم رکھنے کے لئے جسم میں ایسی غذاکا انتظام کردیاہے جو ہروقت جسم میں بھری رہتی ہے اور اس سے ہر عضو اپنی غذا حاصل کرتا رہتا ہےوہ خون ہے اعضاء اور خون لازم و ملزوم ہیں۔ اعضاء غذاسے اول خون بناتے ہیں اور پھر اسی خون سے اپنی غذاحاصل کرتے ہیں۔ اگر اعضاء کے افعال میں خرابی واقع ہوتو خون میں بھی خرابی واقع ہو گی اورپھر وہی خراب خون اعضاء کے خلیات میں نقص پیداکردے گا۔ جن سے جسم میں زہریلے اجزاء پیداہونا شروع ہوجائیں گے جن سے خلیات کا نہ صرف نظام بگڑ جائے گا بلکہ خلیات کی پیدائش رک جائے گی جس سے خرابی صحت کے ساتھ ساتھ موت واقع ہوجاتی ہے۔

بجلی

کائنات میں قوت کے جو مظاہر ہیں ان میں شدت کے لحاظ سے بجلی کو سب پر اہمیت حاصل ہے۔ اس کی گرج و برق رفتاری اور جلاکر فنا کردینے کی تیزی کامقابلہ نہیں ہے۔ جس درخت یا مکان پر گرے تو اس کو جلاکرخاک کردے۔ انسان کی اس کے سامنے کیا مجال ہے۔ مگر خداوند ِ حکیم نے انسان کو وہ علم و عقل اور حکمت عطاکی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو ضرور قابو کرلیتا ہے۔ شیروبھیڑیااور ہاتھی و ریچھ سے خوفناک درندے اور سانپ و بچھو جیسے حشرات الارض سے انسان نے وہ کام لئے ہیں کہ دیکھ کرعقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اسی طرح جب انسان نے بجلی کی گرج و برق رفتاری اور جلا دینے کی قوت دیکھی تو اس کو بھی ایجاد کرلیا اور اس سے اپنی خدمات حاصل کرنی شروع کردیں۔ یہی بجلی اب اس کے گھر میں روشنی کرتی ہے، اس کا پنکھا چلاتی ہے، کمروں کو گرم رکھتی ہے، کھانا تیار کرتی ہے۔ دیگر سینکڑوں ہزاروں کاموں کے علاوہ اس کی تفریح کے لئے اس کا ریڈیوبھی چلاتی ہے۔ یہ نہ صرف موجودہ دور کی سب سے بڑی قوت ہے بلکہ ہر زمانے میں یہی قوت سب سے بڑی تسلیم کی جائے گی۔ ایٹم کی قو ت بھی جب تک بجلی پیدانہیں کرے گی وہ بھی بے معنی ہوکر رہ جائے گی۔ گویا دنیا کی اصلی قوت صرف بجلی ہے۔

بجلی کا سیل

بجلی کو آسانی سے سمجھنے کے لئے ایک بیٹری(Battery) کا سمجھ لینا زیادہ بہتر ہوگا۔ یہ بیٹری عام طورپر موٹروں و ریلوں اور تارگھروں میں اکثر آسانی سے نظر آتی ہے۔ ویسے بھی بیٹری بنانا کچھ مشکل نہیں ہےوہ آسانی سے بن جاتی ہے۔ ایک چینی یا مٹی کا روغنی لوٹا یا کوئی اور گلاس نما برتن لے لیں اس کو نصف تک ایسے محلول تیزاب گندھک سے بھر دیں جس میں تیزاب ایک حصہ پانی سات حصے ہو۔ اس کے بعد بجلی کی دو الگ الگ تاروں کولیں ایک کے ساتھ تانبے کاٹکڑا باندھ دیں اور پھر دونوں کو الگ الگ اس برتن میں لٹکا دیں۔ بس بجلی تیار ہے۔ اس مجموعہ کا نام برقی کیسہ(Electric Cell) ہے ۔

اس الیکٹرک سیل کی حقیقت یہ ہے کہ جب تانبے اور جست کی سلاخیں (ٹکڑے) تیزاب ملے پانی میں پڑتی ہے فوراً تیزاب کا اثر سلاخوں پر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ لیکن ان میں سے ایک پراثر زیادہ ہوتاہے اور دوسرے پر کم ہوتا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ کیمیائی تبدیلیاں برقی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ اس برقی صورت میں سے خود بخود برقی لہریں پیداہوکر سلاخوں کے ذریعے ان تاروں میں پہنچ جاتی ہیں جوان سلاخوں سے بندھی ہوئی ہیں۔

بجلی کیسے پیدا ہوتی ہے

یہاں پر قابل ِ غور بات یہ ہے کہ سیل میں بجلی کیسے پیداہوتی ہے؟ یہی ایک اہم مسئلہ ہے بجلی کا پیداہونا ہی قوت کا پیدا ہوناہے۔ جاننا چاہیے کہ جب دو مختلف دھاتوں کے ٹکڑے تیزاب ملے پانی میں ڈالے جاتے ہیں تو دھات کی سلاخوں پر تیزاب کا کیمیائی اثر شروع ہوجاتا ہے اور اس تیزابی مرکب میں قدرتی طورپرشوخی پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر اس میں لہریں اٹھنا شروع ہوجاتی ہیں پھر یہ لہریں ایک راستہ اختیارکرتی ہیں جس کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ نرم سلاخوں کی طرف سےلہر سخت سلاخ کی طرف چلی جاتی ہے۔ اس لئے سخت سلاخ والی تار کو مثبت(Positive) اور نرم سلاخ والی تار کومنفی(Negative) کہتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ برقی لہر منفی تار کی طرف سےچلتی ہے اور مثبت تار کی طرف جاری رہتی ہے۔ جب دونوں تاروں کو آپس میں ملایا جاتاہےتو ایک شعلہ پیداہوتا ہے۔ یہی بجلی و برق اورقوت ہے اس قوت سے جوجو کام چاہیں لے لیں۔ اس الیکٹرک سیل میں اس وقت تک بجلی پیداہوتی رہے گی جب تک اس میں دھاتوں کی سلاخیں سلامت ہیں یا اس پانی ملے تیزاب میں تیزاب کا اثر ختم نہیں ہوجاتا۔ بجلی کا پیداہونا کیمیائی قدرتی نتیجہ ہے۔ اس قوت کو زیادہ سیل بناکر ان کو آپس میں ملاکربہت زیادہ بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔ اسی اصول پر خشک بیٹری بھی تیار کی جاتی ہے جو اکثر جیب میں رکھی جاتی ہے مگر اس طریق پربجلی زیادہ پیدانہیں کی جاسکتی یعنی سیل کی بجلی محدود اور ہلکی قسم کی ہوتی ہے۔

رگڑ سے بجلی کا پیداہونا

دوسرا طریقہ جس سے بجلی پیداہوتی ہے وہ رگڑ(Action)کے اصول پر پیداہوتی ہے۔ یعنی جب دوچیزوں کوآپس میں رگڑا جائے توبجلی پیداہوتی ہے اس اصول پر”ڈینمو” تیار کیے جاتے ہیں۔جس کی تفصیل طویل ہے۔ مختصر یہ ہے کہ تانبے کی تاروں کوایک پہیے پر لپیٹ دیتے ہیں اور اس پہیے کوایک دوسرے پہیے کے اندر اس طرح حرکت دیتے ہیں کہ ان تاروں پر مسلسل رگڑقائم رہتی ہے جس سے بجلی پیداہوتی ہے کہ اس سے کئی شہروں کو روشن کیا جاسکتا ہےبلکہ ہر قسم کی شہری ضروریات پوری ہوسکتی ہیں۔

اس سلسلہ میں یہ امر بھی ذہن نشین کرلیں کہ اس جہان ِ اکبر و جہان ِ اصغر میں حرکت و حرارت اور قوت(Action, Heat And Energy) کا قانون جاری و ساری ہے ۔ یعنی جہاں پر حرکت یا رگڑ یا ٹکراؤ پیداہوتا ہے وہاں پر بجلی و برق اور روشنی و حرارت پیداہوجاتی ہے اور یہی قوت ہے۔ یہ دونوں جہان جن فطری قوانین پر رواں دواں ہیں ان کو قائم رکھنے کےلئے ہر گھڑی ، ہر مقام پر قدرتی طورپر حرکت و حرارت اورقوت کا نظام چل رہا ہے اور جب تک یہ نظام قائم ہے کائنات اور زندگی ہے۔

مادہ و قوت اور روح

یہ حقیقت ہے کہ قوت جو جہان ِ اکبر و جہان ِاصغر میں پیداہورہی ہے وہ بغیر مادہ کے ناممکن ہے ۔ جس مقام پر قوت اور بجلی پیداہورہی ہے چاہے وہ کیمیائی طور پر ہو، چاہے حرکت سے پیداہوچاہے نظام ِ شمسی اس کا ذریعہ ہووہاں پرمادہ مقدم ہے اور اس کےعلاوہ کسی ایسی قوت کا تصوربھی ضروری ہے جومادہ اور قوت کے نظام کو قائم رکھ سکے کیونکہ بغیر قوام کے نظام ِ جہاں ممکن نہیں ہے اس کا نام ہم روح رکھتے ہیں گویا جہاں پر بھی قوت کا تسلسل قائم ہےوہا ں پر مادہ و قوت اور روح تینوں موجود ہیں۔ ان میں سے اگر ایک بھی نفی کردیں تو قویٰ اور بجلی کی پیدائش فوراً ختم ہوجاتی ہے۔ گویا انسان جسم و قوت اور روح کامرکب ہے۔

جسم ہی سے قوت نکلتی ہے اور اسی کے عمل سے پیداہوتی ہے جسم کے ساتھ ہی اس کااظہار ہوتا ہے۔ بغیر جسم کے قوت کا کوئی نشان نظر نہیں آتا یہ جسم ِ انسانی ہویا حیوانی اور نباتاتی ہویا جماداتی بلکہ مشینی ہویا کیمیائی ہر مقام پر جہاں قوت نظر آتی ہے وہاں جسم کا ہونا ضروری ہے اور ہر قوت کے عمل میں ایک ترتیب و نظم اور قانون و اصول کام کرتا ہے۔ جس کے تحت وہ پیداہوتی ہے اور عمل کرتی ہے۔ گویا یونہی نہ پیداہوتی ہے اور نہ ہی اس کے عمل میں اندھا پن اوربے مقصد پن پایا جاتا ہے۔

اس حقیقت سے ثابت ہوا کہ اس کی ترتیب اور نظم یقیناً کسی قانون او ر اصول کے تحت ہے جہاں ترتیب و نظم اور قانون و اصول کام کرتا ہے وہاں لازم ہے کہ اس کا کوئی قوام ہو۔ اس لئے جسم و قوت کے ساتھ ایک تیسرے امرکوبھی تسلیم کرنا پڑتا ہے اور اس کا نام روح ہے۔ گویا جسم سے قوت پیداہوتی ہے اور روح اس قوت کے اعمال کی نگرانی کرتی ہے بلکہ جسم میں جو قوت پیداہوتی ہے اس کی بھی نگرانی کرتی ہے۔ اس لئے آج تک جسم اور روح صرف دو ہی امورکومانا گیا ہے اور قوت کا تعلق اور منبع بھی روح کو تسلیم کیا گیاہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمام قوتوں کا منبع جسم ہے۔ روح صرف نگران و قوام یا قانون کا حامل ہے جس سے جسم اور قوت کی نظم اور ترتیب قائم رہتی ہے۔ گویا روح ایک امریا حکم ہے جس کے تحت جسم اور قوتیں اپنا عمل شروع کردیتی ہیں اور جو کچھ اجسام اور قوتیں کرتی ہیں وہ ان کے ذاتی خواص ہوتے ہیں۔ ارواح ان کو قائم رکھتے ہیں۔ جہاں پراجسام اور قوتیں اپنے افعال پورے طورپر انجام نہیں دے سکتیں روح ان کو چھوڑ جاتی ہے یا جب روح اجسام اور قوتوں کو چھوڑ دیتی ہے ان کے افعال رک جاتے ہیں اس کا نام موت ہے۔ ان کی مثالیں بھی بیٹری ، ڈینمو اور نظام ِ شمسی سے پورے طورپر واضح ہیں مثلاً بیٹری جسم ہے اور اس میں سے جو بجلی پیدا ہورہی ہے وہ قوت ہے ۔لیکن یہ قوت اس وقت تک اپنا اظہار نہیں کرسکتی جب تک بجلی کی مثبت و منفی تاریں آپس میں مل کر شعلہ پیدانہ کردیں۔ روح کا پہلا عمل بجلی کی پیدائش کی صورت میں تھا اور وہ پیدا ہوکر ایک قانون کے تحت ترتیب سے چلنی شروع ہوگئی تھی پھر جب دونوں تاروں کو ملایا گیا تو ایک دوسرے حکم کے تحت وہاں شعلہ پیداہوگیا اور قوت کا اظہار شروع ہوگیا اور جب شعلہ ختم ہوجاتا ہےتو قوت ختم ہوجاتی ہےاور جب بیٹری پھوٹ جاتی ہے یاختم ہوجاتی ہے تو بجلی بھی ختم ہوجاتی ہے اور اس طرح قوت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ گویا قوت کا تعلق ایک طرف جسم کے ساتھ ہے تو دوسری طرف روح کے ساتھ ہے۔ لیکن اس حقیقت کو ضرور ذہن نشین رکھیں کہ قوتیں جسم ہی سے پیداہوتی ہیں جو روح کی نگرانی میں اپنے اعمال انجام دیتی ہیں۔ یہی صورت ڈینمو او رنظام ِ شمسی میں بھی قائم ہے۔وہاں بھی جسم و قوت اور روح تینوں کام کر رہے ہیں۔

یہاں پریہ حقیقت بھی ذہن نشین کرلیں اس کائنات میں موالید ِ ثلاثہ کا ہر جز چاہے وہ ذی حیات ہے، غیر ذی حیات ہے اپنی ایک خاص شکل رکھتا ہے۔ اس کی یہ شکل چند مخصوص عناصر سے ترتیب پاتی ہے گویا ہر شکل ایک دوسرے سے جدا اور الگ ہے۔ قدرت نے ہر شکل او جسم میں چند خواص پیداکردئیے ہیں وہ ان کے تحت اپنےافعال جاری رکھتی ہےیہ اس کے افعال بعض دیگر اجسام کے کبھی موافق ہوتے ہیں اور کبھی مخالف۔ جس سے کائنات میں ہمیشہ عمل اور رد عمل جاری رہتا ہے۔ یہی عمل اور رد ِ عمل قوت کا پیداہونا اور ختم ہوناہے اگر عمل کا رد عمل فطرت کے مطابق ہے تو اس میں زندگی اور ارتقاء جیسا کہ بیٹری بجلی پیدا ہونے کے بعد جب دو تاروں کو ملایا جاتا ہے تو ان دونوں کا ملنا عمل ہے اور ان کا رد عمل قوت ہے جس میں زندگی نظر آتی ہے اسی طرح ارتقاء زندگی کی منزلیں طے ہوتی ہیں۔

ان حقائق سے یہ امر ثابت کرنا ہے کہ روح ایک امر ناگزیر ہےجو جسم کی قوتوں سے فطرت کے مطابق عمل کرنے سے جاری ہوتا رہتا ہے اور یہی رب العالمین کا امر ہے۔ اگر اجسام اپنی صحیح شکل میں اپنی قوتوں کو پیداکریں اور وہ قوتیں فطرت کے عمل کے مطابقاپنا عمل جاری رکھیں توروح نہ صرف عدم سے امرمیں حکم ِ خداوندی کے مطابق پیداہوتی رہتی ہے بلکہ ارتقاء کی منزلیں بھی طے کرتی ہے جیسے اجسام کے خواص ہیں۔ ارواح کے بھی خواص قائم کر دئیے گئے ہیں گویا جسم اگر اجسام اور قوتوں کے اعمال سے ارواح کا ظہور یقینی ہے اور اجسام ختم ہوجائیں گے تو نہ قوتیں پیداہوں گی اور نہ ہی روح آمر ہو گی اور موت وارد ہوجائے گی۔ بس اسی عمل و رد عمل کو قرآن حکیم لفظ دین کہتا ہے۔ گویا زندگی اور کائنات کی روح فطرت کے مطابق عمل و رد عمل پر قائم ہے۔

مادہ و روح

اگر غور سے دیکھاجائے تو مادہ اور روح کا فرق کثافت اور لطافت کا ہے اور ان کا تعلق ہمیشہ قوتوں سے قائم رہا ہے۔ مادہ بغیر صورتوں کے نظر نہیں آ سکتا۔ اس کی یہ صورتیں عناصر و ارکان کی شکل میں ہوں یا موالید ِثلاثہ کے جس میں پائی جائیں ، لیکن اپنی اصلی صورت میں نظرنہیں آ سکتا۔ مادہ اپنی شکل و صورت میں ایک جسم ضرورہے مگر وہ ایک ہیولیٰ ہے جس کو مادہ کی ابتدا کہنا چاہیے۔ جب ہیولیٰ کی حقیقت پر غور کیاجائے تو اس کی اصل بھی قوت اور روح پرختم ہوتی ہے گویا مادہ کے اندر بھی روح کارفرما ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مادہ روح کی پیداوار ہے اور دونوں میں کثافت اور لطافت کا فرق ہے۔

اس پریہ اعتراض وارد ہوسکتا ہےکہ روح کی پیدائش پہلے ہوئی اور جسم بعد میں بنائے گئے ہیں ۔ یہ اعتراض یہاں پر وارد نہیں ہوسکتا کیونکہ پہلے ثابت کرچکے ہیں۔ مادہ میں روح پھونکی جاتی ہے یا روح کو امر کیاجاتاہے۔ یہاں یہ حقیقت ذہن نشین کرلینی چاہیےکہ ہرجسم اپنی ایک روح رکھتا ہے اور یہی روح ارتقائی درجات کی حیثیت سے ادنیٰ اور اعلیٰ درجات رکھتی ہے۔ جس طرح ادنیٰ و اعلیٰ حیثیت سے جمادات و نباتات اور حیوانات و انسانوں میں فرق پایاجاتا ہے اور پھر انسانوں میں ذہنی حیثیت سے درجے پائے جاتے ہیں اور نبوت کامقام انسانوں میں انتہائی اعلیٰ اور افضل نظر آتا ہے۔ نبوت بھی اب ختم ہوچکی ہے کیونکہ فطرت کا کوئی ایسا قانون باقی نہیں ہے جو اس کائنات میں رائج ہو اور اس کو نبوت نے واضح نہ کیا ہو۔ اس حقیقت کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو لوگوں کی نگاہ کائنات سے گزر کر آفاق تک جاتی ہے بلکہ آفاق سے بھی پرے جھانکتے ہیں۔ خداوند حکیم و خالق اور قادر ِ مطلق کی کرشمہ شازیاں دیکھتے ہیں۔

جسم خودکار روح ہے

ہم یہ ثابت کرچکے ہیں مادہ و روح سے اور جسم مادہ سے بنتا ہے اس لئے ہر ایک جسم وہ ذی حیا ت ہویا غیر ذی حیات ، اپنے اندر ایک نظام ِ زندگی رکھتا ہے اور ایٹم کی جدید تحقیقات نے بھی اس امر کو ثابت کردیاہےکہ ہر ذرہ اپنے اندر نظام ِ شمسی رکھتا ہے جو بذات ِ خود ایک زندگی ہے۔ اس لئے یہ مسلمہ حقیقت ہوئی کہ ہر جسم اپنے اندر روح رکھتا ہے اور دوسری طرف یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ہر جسم حیات اور ظاہر ی طورہر غیر ذی حیات بے شمار ذرات کا مجموعہ ہے۔ دونوں حقائق کو اگر ملایا جائے تو نئی حقیقت جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر جسم زندگی اور روح رکھنے والے ذرات کا مجموعہ ہے۔

قوت کی حقیقت

سوال پیداہوتا ہے کہ قوت کی اصلیت کیا ہے ؟ قوت کوئی ایسی شے نہیں ہے جس کو ہم مادی طورپر محسوس کرسکیں۔ اس کا اظہار ہمیشہ کسی طاقت کے فعل سے ہوتا ہے اور ہم زیادہ تر اس ادراک کرتے ہیں۔ البتہ بعض حالتوں میں لمس سے بھی محسوس کرسکتے ہیں۔ یہی قوت جب انسانوں میں پورے عروج پر ہوتی ہے تو ہم اس کو جوان کہتے ہیں۔ مثلاً وہ حسین نہ بھی ہوں ان کی جوانی ضرور خوبصورت نظر آتی ہے۔ اسی طرح جب حیوانات بلکہ پودوں میں بھی اس قوت کا اثر ہوتا ہے تو وہ بھی حسین نظر آتے ہیں۔ اس امر میں کوئی کلام نہیں ہے کہ عورت حسن و کشش اور شعریت کا مجسمہ ہے مگر جب اس پر بڑھاپا چھا جاتا ہے یعنی اس میں قوت ختم ہوجاتی ہے تو اس کا حسن و کشش اور شعریت بےمعنی ہوکر رہ جاتے ہیں ۔ قوت کا کمال یہ ہے کہ جب مرد عورت میں قوت پورے عروج پر ہوتی ہے تو اولاد پیداکر سکتے ہیں جو قوت کی عدم موجودگی میں تقریباً ناممکن ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان میں جب قوت قائم ہوتی ہے تو اس کے حواس ِ خمسہ ظاہری اور باطنی میں احساسات اور ادراکات کے علاوہ غوروفکر اور عقل و حرکت کا اظہار پورے طورپر ہوتا ہے اور جوں جوں انسان میں قوت کی کمی واقع ہوجاتی ہے اس کے قویٰ کمزور ہوتے جاتے ہیں اور ایک ایسا وقت آتا ہےکہ وہ حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتا، آخر جب یہی قوت ختم ہوجاتی ہے تو اس کوموت واقع ہوجاتی ہے۔ جب انسان کی قوت پورےعروج پر ہوتی ہےتو ہم اس کو جوان کہتے ہیں اور جب اس میں ضعف آناشروع ہوجاتا ہےتو ہم اس کو بڑھاپا کہتے ہیں۔ جب وہ بالکل ختم ہوجاتی ہےتو ہم اس کو موت کانام دیتے ہیں۔

ان حقائق سے پتا چلتا ہے کہ انسانی جسم ، قوت اور زندگی سے مرکب ہے۔ جسم بچپن سے لے کرموت تک بلکہ موت کے بعد بھی کچھ عرصہ تک قائم رہتا ہے اور زندگی میں بھی موت ظاہری طورپرکچھ کم و بیش نظر نہیں آتی مگر قوت ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس میں بچپن سے لے کر موت تک اکثر تغیرات نظر آتے ہیں۔ یہ کمی بیشی عمر وصحت اور غذاکی کمی سے نمایاں طورپر نظر آتی ہےاور یہ اکثر دیکھا گیاہے کہ اچھی صحت اور عمدہ غذاسے غیر معمولی جوان بلکہ پہلوان بن جاتے ہیں اور اگر بوڑھے انسانوں کو اچھی صحت اور عمدہ غذا قائم رہے تو وہ بھی جوان معلوم ہوتے ہیں۔ ان حقائق سے ثابت ہوا کہ قوت ضرور کوئی ایسی حقیقت ہے کس جس میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے اور صرف اسی قدر کافی نہیں سمجھا گیا ہے کہ انسان پیدائش کے بعد جیسی بھی صحت گزرے اس کو گزارتا جائے اور وہ اپنی قوت کی ترقی اور کمال کو نظرانداز کردے۔ جب کہ روزانہ تجربہ اور مشاہدہ سے پتا چلتا ہے کہ مریض تندرست ہوجاتے ہیں اور کمزور طاقت ور بلکہ پہلوان بن جاتے ہیں اورویسے پہلوان جو شیروں سے بھی لڑ جاتے ہیں۔ان مشاہدات و تجربات اور واقعات سے پتا چلتا ہےکہ قوت کوئی ایسی شے ضرور ہے جو بڑھائی اور قائم رکھی جاسکتی ہے تو پھر اس کو کیوں نہ بڑھایا جائے اور قائم رکھاجائے۔ اگر ہم قوت کو بڑھاسکیں اورقائم رکھ سکیں تو یقینی امرہے ہم عمر کوطویل اور شباب کو قائم رکھ سکنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس حقیقت کے بعد پھر وہی سوال سامنے آتا ہے کہ آخر قوت شے کیاہے؟

زندگی کےعلاوہ جب کائنات پرنظر ڈالتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ کائنات میں ہم جن اشیاء کو قوت کہتےہیں یا جن اشیاء میں قوت نظرآتی ہے وہ آگ، روشنی ، نور، برق، حرارت، ہواکا دباؤ اور پانی کی تیزی ہے اور انہی اشیاء پر یہ کائنات قائم ہے۔ کائنات میں ان اشیاء میں کمی بیشی واقع ہوتی رہتی ہےمگریہ چیزیں ایک دم ختم نہیں ہوجاتیں۔ ایسامعلوم ہوتا ہے کہ لاکھوں سالوں کی یہ بڑھیا کائنات ابھی جوان ہے اور اس کوسوائے کسی حادثہ کے موت نہیں آئے گی اور حادثہ بھی ایسی صورت میں ہوگا کہ یہ دنیا کسی ایٹم کے جل اٹھنے سے جل جائے یا کوئی ستارہ سے ٹکرا جائے بلکہ اگر کوئی ستارہ کسی ستارے کے بالکل قریب آجائے تو بھی کائنات یا وہ ستارہ تباہ ہوجائے گا۔ ان امور سے ثابت ہے کہ قدرت نے فطری طورپر کائنات کو چلانے کے لئے جو قوتیں پیداکی ہیں وہ کم و بیش ہونے کے بعد قدرتی طورپر پیدابھی ہوتی رہتی ہیں۔ اگر ہم اس کائنات کوجہاں اکبر کا نام دے دیں تو زندگی جس قسم کی بھی ہوجو اس جہانِ اکبر میں نظر آتی ہے اس کو جہان ِ اصغر کہا جاسکتا ہے۔ اگر جہان ِ اکبر اپنی قوتوں کو فطری طورپر پیداکرنے اورقائم رکھنے پر قادر ہے تو یقینی بات ہے کہ جہان ِ اصغر خصوصاً انسانیت میں بھی یہ قابلیت قدرتی طورپر ہونی چاہیے کہ وہ اپنی قوتوں کی کمی بیشی کو پورا کرتا رہے اور اس کی بھی موت سوائے حادثہ کے واقع نہ ہواور ہزاروں سالوں تک زندہ رہ سکے۔

نظام ِ شمسی کی قوت

قوت کی پیدائش کےلئے ایک ایسا نظام بھی قائم ہے جس کو "نظام ِ شمسی ” کہتے ہیں۔ یعنی "نظام ِ کشش و ثقل” یہ وہ نظام ہے جس پر ہر جہاں کو سورج، چاند اوردیگر ستارے زمین کے ساتھ نہ صرف قائم ہیں بلکہ ان میں گردش اور دوری حرکت جاری ہے ۔ یہ وہ قوت ہےجس پرنظام شمسی قائم ہے صرف ستاروں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس جہاں کے ہر ذرہ میں بھی پائی جاتی ہے۔ ایٹم (ابتدائی ذرہ) کی تحقیقات نے یہ ثابت کردیاہے کہ اس میں بھی نظام ِ شمسی پورا کا پورا پایا جاتا ہے۔ ایک طرف اس ابتدائی ذرہ (ایٹم) کا تعلق آپس میں اس جہانوں کے تمام ذروں کے ساتھ ہے اور دوسری طرف اس کا تعلق نظام ِ شمسی سے قائم ہے کہ سورج ، چاند اور دیگر ستاروں کی ہر حرکت جہاں زمین سے مناسبت رکھتی ہے وہاں زمین کے تمام ذروں کے ساتھ منسلک ہے۔ انسان جو کروڑوں حیوانی اور غیر حیوانی یعنی حیاتی اور غیر حیاتی ذروں کا مجموعہ ہے جس کو جہان ِ اصغر کہتے ہیں بدرجہ اولیٰ نظام ِ شمسی سے منسلک ہے او ر اپنی قوت کو حاصل کررہا ہے۔

نظام ِ جہان ِ اصغر

یہ کائنات و آفاق اور برہما جن قوانین اور قویٰ کے تحت چل رہا ہےبالکل انہی قوانین اور قویٰ کے تحت جسم انسان ، نفس اور من چل رہے ہیں اور اس کو نظام ِ اصغر کہتے ہیں۔ جس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ جس طرح جہان ِ اکبر میں بجلی و قوت کی پیدائش کیمیائی رگڑ اور کشش ثقل سے ہورہی ہے اسی طرح جہان ِ اصغر میں بھی یہ نظام قائم ہیں اور اس میں ہرگھڑی بجلی اور قوت پیداہورہی ہے۔(1)۔ انسان کا ہر حیوانی ذرہ ایک الیکٹرک سیل ہے۔(2)۔ جسم انسان میں خون گردش و حرکت اور رگڑ(Action) کے اصولوں پربجلی و قوت پیداکررہی ہے۔(3)۔ ہر غیر حیوانی ذرہ اپنے اندر نظام ِ شمسی رکھتا ہے اور ہر گھڑی غیر شعوری طورپر بجلی و قوت پیداکررہا ہے جب جہان ِ اکبرجہان ِ اصغر دونوں ایک قانون ِ فطرت و قدرت کے تحت قائم ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ جہان ِ اکبر تو قائم رہے اورجہان ِ اصغر بغیر حادثہ کے فنا ہوجائے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اب تک ایسا ہوتا آرہا ہےتو اس علم اور حقیقت کے بعد ان کمیوں اور کمزوریوں کا پتا چلانا چاہیے کہ جن کی وجہ سے نظام ِ جہان ِ اصغر میں خلل واقع ہوجاتا ہے اور وہ بغیر حادثہ کا صرف قوتوں کی کمی یا خرابی کی وجہ سے فنا ہوجاتا ہے۔ اگر ہم ان حقائق کو جان لیں تو یقینی امر ہے کہ اس جہان ِ اکبر کی طرح جس کے متعلق ہم کو یقین ہے کہ وہ بغیر حادثہ کے فنا نہیں ہوگا۔ یہ جہان ِ اصغر بھی بغیر کسی حادثہ کے فنا نہیں ہو سکتا اور انسانی عمر طویل شباب اور شباب ہمیشہ قائم رہ سکتا ہے۔

ذی حیات و غیر ذی حیات اجسام کا فرق

ذی حیات و غیر ذی حیات اجسام کا یہ فرق ہے کہ غیر ذی حیات اجسام میں جو ذرات ہیں ان کی زندگی صرف ایک نظام شمسی تک محدود ہے مگر ذی حیات اجسام میں اس کے علاوہ ایک دوسرا نظام حیوانی ذرات کا بھی پایا جاتا ہے جن کو خلیات(سیلز) کہتے ہیں ۔ دوسرے معنوں میں وہ بجلی کے چھوٹے چھوٹے سلیز(کیسے) ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دئیے گئے ہیں۔ ان سب میں زندگی ہے وہ سانس لیتے ہیں ، غذاجذب کرتے ہیں اور اپنے فضلات کا اخراج کرتے ہیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی مثل پیداکرتے ہیں۔ جن اجسام کو ذی حیات کہتے ہیں ان میں ایسے ذرات پائے جاتے ہیں جن میں حیوانی زندگی کے اثرات نظر آتے ہیں اور ان کی زندگی تسنیم و تغذیہ اور تصفیہ و تولد پر قائم ہے۔

خلیات ِ اجسام اور مسئلہ ارتقاء

ادنیٰ اقسام کے حیاتی اجسام کی زندگی ایک واحد خلیہ سے شروع ہوتی ہے اور ابتدائی واحد خلیہ میں صرف الحاقی مادہ پایا جاتا ہے اعلیٰ درجات کے خلیات جیسے نباتا ت و حیوانات اور انسان ہیں ۔ ان میں نہ صرف بے شمار خلیات پائے جاتے ہیں بلکہ ان کے اندر اعلیٰ خلیات جن کو فعلی خلیات کہتے ہیں ، پائے جاتے ہیں۔ جسم انسان جو اس کائنات کی ارتقائی زندگی ہے اس میں چار قسم کے خلیات اپنے ٹشوزبناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہی انسجہ ان کے جدا جدا جسم ہیں جن سے اعضائے جسم تیار ہوتے ہیں۔ ادنی ٰ خلیات میں صرف الحاقی نسیج پائے جاتے ہیں اور اعلیٰ خلیات میں ضرورت کے مطابق باقی خلیات کاپایا جانا ضروری ہے۔ جسم انسان کے انسجہ اعضاء حسب ذیل ہیں۔

تفصیل انسجہ

جسم ِ انسان میں جو چار قسم کے انسجہ پائے جاتے ہیں ان سے بدن کی جو تدوین ہوتی ہے اس کی تفصیل اس طرح ہے۔(1) عضلاتی انسجہ(Muscular Tissues) : اس سے تمام جسم کا گوشت و مچھلیاں بنتی ہیں بعض جگہ پردے جن کو حجاب کہتے ہیں۔ عضلات کا مرکز دل(Heart)ہے۔(2)اعصابی انسجہ(Neural Tissues) : ان سے تمام جسم کے اعصابی اعضاء اور بعض جگہ پر اعصابی پردے بنتے ہیں۔ اعصاب کا مرکز(Brain) ہے۔(3) قشری انسجہ(Epithelial Tissues) : ان سے تمام جسم کے غدد اور غشائے مخاطی کے پردے بنتے ہیں۔ ان کا مرکز(Liver) ہے۔بس یہی اعضاء فعلی خلیات سے بنتے ہیں اس لئے ان کو فعلی اعضاء یا اعضائے حیاتی کہتے ہیں۔ کیونکہ ان کے افعال سے ہی زندگی پیداہوتی ہے اور قائم رہتی ہے۔ ان میں سے کوئی عضو کمزور ہوجائے یا اس کے فعل میں خرابی واقع ہوتو امراض پیداہوجاتے ہیں اور اگر کوئی عضو بالکل ناکارہ ہوجائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔الحاقی انسجہ(Connective Tissues) : اس سے بنیادی اعضاء ہڈی و رباط اور اوتار بنتے ہیں۔ جسم میں جس سے اعضاء کو سہارا اور ان میں بھراؤ ہوتا ہے۔ ان اعضاء کو بنیادی اعضاء کہنا چاہیے بلکہ خلیات الحاقی کو بنیادی انسجہ کہنا چاہیے۔ ہماری تحقیقات میں باقی تمام خلیات انہی کی ارتقائی اور ترقی یافتہ صورت ہیں جو ہزاروں صدیوں میں جاکر تکمیل پذیر ہوئے۔ جب کبھی ہم نے نظریہ ارتقاء پر لکھا تو ذروں اور دیگر فرنگی تحقیق کی غلطیاں پیش کریں گے۔

ادنیٰ اجسام اور اعلیٰ اجسام ِ تولید کا فرق

فانی اور غیر فانی خلیہ بدن کے خلیات کی مزید تشریح بے حد دلچسپ ہے۔ کائنات میں جو جاندار مخلوق ہے اس کی ترکیب بدنی خلیات ہی سے عمل میں آتی ہے۔ ذی روح مخلوق کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اس کے جسم میں صرف ایک ہی خلیہ پائی جائے۔ جیساکہ بعض خوردبینی حیوانوں میں پائی جاتی ہے۔ جنہیں انگریزی میں پروٹوزوا(Protozoa) کہتے ہیں۔ کہلانے کوتو یہ حیوانات میں ضرور داخل ہیں مگر قدرت نے ان کے جسم میں کوئی نظام ِ عصبی یا دموی پیدانہیں کیا۔ ان کے مقابلے میں ذی روح مخلوق کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بے شمار خلیات مجتمع ہوکرانسانی جسم کو بنا دیں۔اس اعتبار سے حیوانی جسم کی اکائی خلیہ واحد سمجھنی چاہیے اور خواہ وہ اجتماعی صورت میں کسی ادنیٰ یا اعلیٰ حیوان اپنی انفرادی زندگی سے خالی نہیں ہوتی اور سب مل کرحیوان یاانسان کی زندگی کا بھی باعث بن جاتی ہیں۔

حیوانی خلیہ واحدہ لاکھوں برس سے صفحہ عالم پر موجود ہے اور اجتماعی زندگی میں اس نے کئی طرح کے اوصاف حاصل کرکے حیوانات کو درجہ بدرجہ بڑھایا ہے اور ان کی بے شمار مختلف انواع و اقسام پیداکردی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی انفرادی زندگی اور خصوصیتوں کو خیرباد نہیں کہی۔ پس لازم ہے کہ ہم ابتدائی خلیہ کا دقیق مطالعہ کریں اور اس کی خصوصیت حیات کو دیکھ کر ان قوانین زیست کا پتا لگائیں جو اعلیٰ حیوانات میں جاری و ساری ہیں۔

خلیہ واحدہ والے حیوانات کی ایک قسم میں وہ حیوانات پائے جاتے ہیں جو نباتی و حیوانی مطبوخ کی محقق کا موجب ہوتے ہیں ۔ انہیں انگریزی میں انفیوزورینز(Infusorians) کہتے ہیں۔ انہیں رقیق آنکھ سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہےکہ ان میں بھی حیوانات کی ضروری صفات موجود ہیں۔یہ حرکت کرتے ہیں اور حرکت کے اعضاء میں یاتو ایک جھالر سی پائی جاتی ہے۔ جس کی تاریں ہلتی جلتی رہتی ہیں یا عارضی ہاتھ پاؤں سے برآمد ہوجاتے ہیں۔ یہ اپنی خوراک یا تو نباتاتی ذروں سے حاصل کرتے ہیں یااپنے سے کمزور اور چھوٹے خلیہ واحدہ کے حیوانات کو کھا جاتےہیں۔ روشنی اور اندھیرے کابھی انہیں احساس ہے۔ آلاتی رکاوٹ یا کیمیائی خراش سے بھی یہ بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ہر وقت اولین مادہ حیات پیداکرتے رہتے ہیں، نشوونما پاتے اور تکثیر نوع کرتے ہیں۔ جس کی بدولت ابتدائے آفرینش سے اب تک ان کی نسل برابر قائم ہے۔ لیکن سوال پیداہوتا ہے کہ ان کی نسل کشی کیسے وقوع میں آتی ہے؟

سنیئے ! خلیہ واحدہ کے حیوانات کی تکثیر نوع نر اور مادہ عناصر کے ملنے سے نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کوئی نرومادہ نہیں ہوتے۔ بلکہ خلیہ کے اندر ہی حیات کی تمام قوتیں جمع ہوتی ہیں۔ جب یہ خلیہ کامل نشوونما کوپہنچ جاتا ہے تو پھٹ کے اس سے دو چھوٹے چھوٹے کیسے بن جاتے ہیں۔ جن میں زندہ رہنے اور نشوونماپانے کے تمام لوازم موجود ہوتے ہیں۔ بڑے خلیہ کی تقسیم سے ایک ذرہ تک ضائع نہیں ہوتا اور نہ مرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انفیوزورینز(Infusorians) حیوانات میں سے کبھی کوئی مردہ حیوان نہیں دیکھا گیا۔ وہ تقسیم کے ذریعے سے ہمیشہ ضرب کھاتے اور اپنی نوع کو قائم رکھتے ہیں۔ چنانچہ خلیہ واحدہ والے حیوانات بڑھاپے یا موت سے آشنا ہی نہیں۔ یہ اسی صورت میں ضائع ہوتے ہیں کہ کوئی دشمن انہیں کھا جائے یا انہیں خوراک نہ ملے یا جس مادے میں یہ موجود ہوں وہاں کوئی سِمّی مادے پیدا ہو جائیں وغیرہ وغیرہ۔ ان کے لئے حالات مناسب ہوں تو طبعی موت ان کے نزدیک نہیں آتی۔

از: حکیمِ انقلاب دوست محمد صابر ؔملتانی

ختم شد

کے متعلق: Zubair Hashmi

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

تحقیقات المجربات

 ﷽ تحقیقات المجربات خداوندِ حکیم آور ہادئ برحق کا ہزار ہزار شکر ہے کہ جس …

تحقیقاتِ علم الادویہ

﷽ علم الادویہ پیش لفظ علم خواص الاشیا خداوند علیم و حکیم کا انسانیت پر …

error: Content is protected !!